بہار شریعت

مارنے کے متعلق قسم کھانے کے متعلق مسائل

مارنے کے متعلق قسم کھانے کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: جو فعل ایسا ہے کہ اس میں مردہ و زندہ دونوں شریک ہیں یعنی دونوں کے ساتھ متعلق ہوسکتا ہے تواس میں زندگی و موت دونوں حالتوں میں قسم کا اعتبار ہے جیسے نہلانا کہ زندہ کو بھی نہلا سکتے ہیں اور مردہ کوبھی۔ اور جو فعل ایسا ہے کہ زندگی کے ساتھ خاص ہے اس میں خاص زندگی کی حالت کا اعتبار ہوگا مرنے کے بعد کرنے سے قسم ٹوٹ جائیگی یعنی اس فعل کے کرنے کی قسم کھائی۔ اور اگر نہ کرنے کی قسم کھائی اور مرنے کے بعد وہ فعل کیا تو نہیں ٹوٹے گی۔ جیسے وہ فعل جس سے لذت یا رنج یا خوشی ہوتی ہے کہ ظاہر میں یہ زندگی کے ساتھ خاص ہیں اگرچہ شرعًا مردہ بھی بعض چیزوں سے لذت پاتا ہے اور اسے رنج و خوشی ہوتی ہے مگر ظاہر بیں نگاہیں اس کے ادراک سے قاصر ہیں اور قسم کا مدار حقیقت شرعیہ پر نہیں بلکہ عرف پر ہے لہذا ایسے افعال میں خاص زندگی کی حالت معتبر ہے۔ اس قاعدہ کے متعلق بعض مثالیں سنو: مثلاً قسم کھائی کہ فلاں کو نہیں نہلائے گا یا نہیں اٹھائے گا یا کپڑا نہیں پہنائے گا اور مرنے کے بعد اسے غسل دیا یا اس کا جنازہ اٹھایا یا اسے کفن پہنایا تو قسم ٹوٹ گئی کہ یہ فعل اس کی زندگی کے ساتھ خاص نہ تھے۔ اور اگر قسم کھائی کہ فلاں کو مارونگا یا اس سے کلام کرونگا یا اس کی ملاقات کو جائوں گا یا اسے پیار کرونگا اور یہ افعال اس کے مرنے کے بعد کئے یعنی اسے مارا یا اس سے کلام کیا یا اس کے جنازہ یا قبر پر گیا یا اسے پیارکیا تو قسم ٹوٹ گئی کہ اب وہ ان افعال کا محل نہ رہا (درمختار ر، دالمحتار وغیرہا)

مسئلہ۲: قسم کھائی کہ اپنی عورت کو نہیں مارے گا اور اس کے بال پکڑ کر کھینچے یا اس کا گلا گھونٹ دیا یا دانت سے کاٹ لیا یا چٹکی لی اگر یہ افعال غصہ میں ہوئے تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر ہنسی ہنسی میں ایسا ہوا تو نہیں ۔ یونہی اگردل لگی میں مرد کا سر عورت کے سر سے لگا اوعورت کا سر ٹوٹ گیا تو قسم نہیں ٹوٹی (عالمگیری، بحر)

متعلقہ مضامین

مسئلہ۳: قسم کھائی کہ تجھے اتنا مارو ں گا کہ مرجائے ۔ ہزاروں گھونسے ماروں گا تو اس سے مراد مبالغہ ہے نہ کہ مار ڈالنا یا ہزاروں گھونسے مارنا۔ اور اگر کہا مارتے مارتے بیہوش کردوں گا یا اتناماروں گا کہ رونے لگے یاچلانے لگے یا پیشاب کردے تو قسم اس وقت سچی ہوگی کہ جتنا کہا اتنا ہی مارے اور اگر کہا کہ تلوار سے ماروں گا یہاں تک کہ مرجائے تو یہ مبالغہ نہیں بلکہ مار ڈالنے سے قسم پوری ہوگی۔(عالمگیری ، درمختار)

مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ اسے تلوار سے ماروں گا اور نیت کچھ نہ ہو اورتلوار پٹ کرکے اسے ماردی تو قسم پوری ہوگئی اور تلوار میان میں تھی ویسے ہی میان سمیت اسے ماردی تو قسم پوری نہ ہوئی ہاں اگر تلوار نے میان کو کاٹ کر اس شخص کو زخمی کردیا تو قسم پوری ہوگئی۔ اورگر نیت یہ ہے کہ تلوار کی دھار کی طرف سے مارے گا تو پٹ کر کے مارنے سے قسم پوری نہ ہوئی اوراگر قسم کھائی کہ اسے کلہاڑی یا تیر سے مارونگا اور اس کے بینٹ سے مارا تو قسم پوری نہ ہوئی ۔ (عالمگیری بحر)

مسئلہ۵: قسم کھائی کہ سو کوڑے مارو ں گا اور سو کوڑے جمع کر کے ایک مرتبہ میں مارا کہ سب اس کے بدن پر پڑے تو قسم سچی ہوگئی جبکہ اسے چوٹ بھی لگے اوراگر صرف چھوا دیا کہ چوٹ نہ لگی تو قسم پوری نہ ہوئی (بحر)

مسئلہ۶: کسی سے کہا اگر تم مجھے ملے اورمیں تمھیں نہ مارا تو میری عورت کو طلاق ہے اور وہ شخص ایک میل کے فاصلہ سے اسے دکھائی دیا یا وہ چھت پر ہے اوریہ اس پر چڑھ نہیں سکتا تو طلاق واقع نہ ہوئی (عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button