شرعی سوالات

لڑکا باپ کی پرورش میں ہو تو کاروبار میں شریک نہیں بلکہ معاون سمجھا جائے گا۔

لڑکا باپ کی پرورش میں ہو تو کاروبار میں شریک نہیں بلکہ معاون سمجھا جائے گا۔

اولاد اگر  باپ کی عیال میں نہ ہو تو مشترکہ کسب و اکتساب میں اس کی شریک ہو گی اور اگر عیال میں ہو تو فقط معاون

سوال:

 زید اپنے ماں،باپ ،بھائیوں کے ساتھ رہ کر کسب واکتساب کرتا رہا ۔تمام جائیداد میں شریک ملک تھا جیسا کہ عرف ہے کہ باپ بیٹے بھائی سب ساتھ رہ کر کسب واکتساب کرتے اور تمام زر ومال میں شریک ملک رہتے ہیں حتی کہ وقت ضرورت تمام جائیداد ومال تقسیم کر کے اپنا اپنا حصہ لے کر علیحدہ ہوجاتے ہیں اب زید کا انتقال ہوچکا ہےزید کے وارثوں کو اس مشترکہ جائیداد واموال سے حصہ ملے گا یانہیں؟

جواب:

اگر اصل کام باپ کا ہے اور لڑکا اس کا معین و مددگار ہے ،یہ بھی اس کے کام میں ہاتھ بٹاتا ہے جب تو جو کچھ حاصل ہوگا سب باپ کا ہے ،لڑکا مالک نہیں ہے بشرطیکہ لڑکا باپ کے عیال میں ہو،اسی کے ساتھ کھاتا ،پیتا،رہتا،سہتا ہو۔اور اگر لڑکا معین ومددگار کی حیثیت  نہ رکھتا ہو  بلکہ مستقل طور پر کام کرتا ہو تو کسب میں شریک ہوگا اس صورت میں زید کو جو کچھ حصہ ملے ان  میں سے آٹھواں حصہ اس کی زوجہ کو ملے گا۔

(فتاوی امجدیہ،با ب الشرکۃ،جلد2،صفحہ318،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button