احادیث قدسیہ

قیامت کے دن اللہ تعالی کے سائے میں پناہ ملنا

قیامت کے دن اللہ تعالی کے سائے میں پناہ ملنے کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں قیامت کے دن اللہ تعالی کے سائے میں پناہ ملنے کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

قیامت کے دن اللہ تعالی کے سائے میں پناہ ملنے کے متعلق حدیث قدسی:

 عَنْ أبي هُرَيرَةَ رَضي الله عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ الله  صلى الله عليه وسلم : "أنَّ الله تَعَالَى يَقُوْلُ يَوْمَ القِيَامَةِ: أيْنَ المُتَحَابُّوْنَ لِجَلاَلِي اليَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلْيِّ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلْيِّ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا:

میرے جلال کے سبب آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سایے میں جگہ دوں گا اور آج میرے سایے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے۔

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں اللہ تعالی کے سائے میں پناہ ملنے کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے”لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ“ترجمہ: تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی (الحاقہ : 18) لیکن یہاں سوال سے مقصود ان کی عزت افزائی اور لوگوں کو دکھانا ہے۔

حدیث شریف کا حوالہ:

صحیح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب ، باب في فضل الحب في الله ، جلد4، صفحہ1988، حدیث نمبر2566، دار إحياء التراث العربي ، بيروت

حدیث شریف کا حکم:

 یہ حدیث شریف صحیح ہے۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button