شرعی سوالات

قسطوں پر بیع جائز ہے ۔

قسطوں پر بیع جائز ہے ۔

عاقدین کا ایک قیمت پر متفق ہونا ضرور ہے

سوال:

میں اپنی گاڑی دس لاکھ روپے میں فروخت کرنا چاہتا ہوں ، ایک صاحب نے مجھے آ فر دی کہ پانچ لاکھ ابھی لے لیں اور دو ماہ بعد مزید ساڑھے پانچ لاکھ روپے لے لیں ، کیا یہ شرعا جائز ہے؟

جواب:

آپ نے جو صورت مسئلہ بیان کی ہے، اسے بیع بالتقسیط یعنی قسطوں پر خرید و فروخت) کہتے ہیں۔ لیکن اس کے جواز کی شرط یہ ہے کہ ایک قیمت ( مثلا آپ کی بیان کی ہوئی صورت میں ساڑھے پانچ لاکھ روپے)  پر عاقدین ( بائع و مشتری ) کا اتفاق ہو جائے، یہ نہ ہو کہ بائع کہے کہ نقد پانچ لاکھ روپے ہے اور ادھار ساڑھے پانچ لاکھ روپے ہے۔ یہ بیع مؤجل ہے اور اس میں مبیع (sold Item) بائع کی ملک میں دے دی جاتی ہے  اور یکمشت یا قسطوں میں قیمت کی ادائیگی کے لیے مدت طے کر لی جاتی ہے  اور اسلام ایفائے عہد  کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن اگر کسی وجہ سے خریدار قیمت بر وقت ادا نہ کر سکے تو اضافی مدت کے عوض قیمت نہیں بڑھائی جائے گی، ورنہ یہ سود شمار ہو گا۔

                                                                                                                                                                                                 (تفہیم المسائل، جلد 9، صفحہ 228، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button