شرعی سوالات

قرض پر غیر مشروط نفع کے حوالے سے ایک عبار ت کی وضاحت

سوال :

ما لا بد منہ  ترجمہ اردو ذکر بیع، تجارت وغیرہ میں درج ہے کہ ”حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم جب قرض ادا کرتے تھے تو بجائے ایک وسق کے دو وسق ادا کرتے تھے“ لہذا  کتاب مذکور کی عبارت سے ایک خیال یہاں پر یہ ہے کہ جب صاف کتاب بیع میں ایسی عبارت درج ہے تو مسلمان کو بلا شرط اس طور قرض دینے کو لینے والا ضرور کچھ فائدہ پہنچائے۔

جواب:

             جو کچھ ما لا بد منہ میں لکھا ہے بہت صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا مستحب ہے مگر اس وقت تک ہی مستحب ہے کہ جب کبھی قرض دار وقت اداء قرض اگر کچھ بھی زیادہ (نہ دے) تو قرض خواہ کچھ بھی نہ مانگے نہ شکایت کرے ورنہ قرض دہندہ یہ سمجھ کر دے گا کہ یہ ضرور وقت ادائیگی کچھ زیادہ دیتا ہے۔ اگر کبھی نہ دے گا  تو پھر حسب عرف تقاضا کر کے زیادہ لے لوں گا تو پھر بلا شبہ سود ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ اگر قرض لینے سے پیشتر کبھی کھانا نہیں کھلاتا تھا تو اب بوجہ قرض کھانا حرام ہے۔

(فتاوی دیداریہ، صفحہ259، مکتبہ العصر، گجرات)

(فتاوی دیداریہ، صفحہ267، مکتبہ العصر، گجرات)

(فتاوی دیداریہ، صفحہ269، مکتبہ العصر، گجرات

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button