شرعی سوالات

قرض دے کر بچوں کی فیس معاف کروانا بھی سود ہے ۔

سوال :

نارتھ ناظم آباد میں ایک اسکول نام’’ دی پیراڈائز اسکول‘‘ واقع ہے جس میں رواں تعلیمی سال کے آغاز میں ایک پیکج کا اعلان ہوا ہے ۔ اسکول کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ہمارے اسکول میں تعلیم حاصل کر نے والے بچوں کے والد ین پچیس ہزار رو پے اسکول میں جمع کر وا دیں تو وہ رقم انہیں سال کے اختتام پرمل جائے گی اور سال بھر ان بچوں سے سکول فیس بھی وصول نہیں کی جائے گی اور اگر والد ین پچیس ہزار روپے جمع نہیں کرواتے ہیں تو پھر انہیں ہر مہینے کی فیس ( ایک ہزار روپے) ادا کرنی ہوگی ۔ اسکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ:’’ ہم آپ کے بچوں کو بالکل فری تعلیم دے رہے ہیں لیکن اسکول کے اخراجات پورے کرنے ہیں اس کے لیے ہم کاروبار کر ر ہے ہیں ۔ لہذا آپ کا روبار کے لیے ہمیں کچھ رقم دیں ہم آپ کو پوری رقم ایک سال بعد لوٹاد یں گے‘‘۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ آیا سکول کی طرف سے دیئے جانے والے اس پیکج سے فائد اٹھا نا جائز ہے یانہیں؟

جواب:

            فی زمانہ لوگوں نے سود کھانے کے نئے نئے طریقے وضع کر لیے میں اور سودی طریقہ کار کے اچھے اچھے نام رکھ کر عوام الناس کو بیوقوف بنار ہے ہیں ۔ سوال میں جس پیکج کا ذکر کیا گیا ہے یہ سود ہے کیونکہ اسکول کی انتظامیہ کا یہ کہنا کہ ہم بچوں کوفری تعلیم دے رہے ہیں اور ادھار فقط کاروبار کے لیے لے رہے ہیں یہ محض ایک دھوکہ ہے ۔ کیونکہ اسکول کی انتظامیہ صرف اس بچے کی سال بھر کی فیس معاف کر رہی ہے جس کی طرف سے پچیس ہزار روپے جمع کرائے جار ہے ہیں اور جس بچے کی طرف سے یہ رقم جمع نہیں کروائی جارہی ہے اس سے ہر مہینے اسکول فیس لی جائے گی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ فیس کی معافی ادھار کے بدلے میں ہے اور ہر وہ ادھار جس کے بدلے میں پہلے سے طے شدہ زائد رقم ملے وہ سود ہوتی ہے ۔

اس کے علاوہ فقہ حنفی سے وابستہ تمام فقہا کی کتب میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ اگر کچھ رقم ادھار دی جائے اور اس کے بدلے میں کچھ معین ( پہلے سے طے شدہ) رقم حاصل کی جائے تو وہ زائد رقم سود ہے۔ سوال مذکور کے مطابق جب بچے کے والد ین پچیس ہزار روپے سکول کی انتظامیہ کو دیں گے تو وہ سال بھر کی فیس جو بارہ ہزار روپے بنتی ہے معاف کر دیں گے اور یہ نفع معین ہے گو یا یہ اب ایسا ہو گیا کہ پچیس ہزار روپے دئیے گئے اور ایک سال بعد 37 ہزار روپے واپس لے لیے اور ایسا کرنا بداہۃً سود ہے۔ لہذا یہ پیکج سود کی ایک شکل ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا حرام ہے ۔

(انوار الفتاوی، صفحہ444،فرید بک سٹال لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button