ARTICLES

قانون کے پیش نظرمحرم کاماسک لگاناکیسا؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوروناوائرس کے سبب ایک عرصے تک عمرہ کی ادائیگی کاسلسلہ موقوف رہااوراب بحمدہ تعالیٰ عمرہ اداکرنے کی اجازت تودے دی گئی ہے لیکن عمرہ کرنے والے کوماسک کااستعمال لازمی قراردے دیاگیاہے اوراس کے بغیرعمرہ کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی،تواب پوچھنایہ ہے کہ ایااس صورت میں ماسک لگاکرعمرہ اداکیاجاسکتاہے یا نہیں ،کیونکہ حالت احرام میں ماسک
لگاناشرعاناجائزوگناہ ہے ؟

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں یہ درست ہے کہ محرم کیلئے ماسک لگاناشرعاناجائزوگناہ ہے اورفقیر نے اس کی ممانعت پرتفصیلی فتوی بھی لکھاہے جو’’فتاویٰ حج و عمرہ ‘‘کے پندرہویں حصے میں موجودہے ، لیکن وہ حکم نارمل حالت میں ہے ،جبکہ موجودہ صورت حال میں چونکہ عمرہ کرنے والوں کوماسک کااستعمال لازمی قراردیاگیاہے اوراس کے بغیرانہیں عمرہ کرنے کی اجازت بھی نہیں ، اورپھرظاہرہے کہ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے ساتھ قانونی کاروائی بھی کی جائے گی،لہٰذاعمرہ کرنے والے ان حالات میں یقیناقانون کے اگے مجبور ومعذور ہیں اوربحالت عذرچہرہ چھپانا مباح یعنی جائزہے ،البتہ اسے پہننے کے سبب اگرچہرے کاچوتھائی یااس سے زائدحصہ چارپہریعنی بارہ گھنٹے یااس سے زائد لگاتارچھپارہا،تواس پردم لازم ہوگاجبکہ چارپہرسے کم وقت چھپارہنے کی صورت میں صدقہ فطر واجب
ہوگا،اورصدقہ فطراپنے وطن واپس اکر بھی دیاجاسکتاہے کیونکہ صدقہ حرم میں دیناضروری نہیں جبکہ دم سرزمین حرم پردینا ضروری ہے ۔ چنانچہ علامہ ابوزیدعبداللہ بن عمردبوسی حنفی متوفی430ھ لکھتے ہیں :

یباح حال العذر۔()

یعنی،حالت عذرمیں چہرہ چھپانامباح ہے ۔ اورجوباتیں احرام میں ناجائزہیں وہ اگرکسی عذرسے ہوں توگناہ نہیں ،مگر ان پرجوجرمانہ مقررہے اس کی ادائیگی لازم ہے ۔چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اورملاعلی قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں :

(المحرم اذا جنی… بعذر فعلیه الجزاء دون الاثم) فالصواب ان یقول : فلا بد من الجزاء علی کل حال، والتوبۃ فی بعض الافعال۔()

یعنی،جب محرم عذرکی وجہ سے جرم کرے تواس پرکفارہ لازم ہوگانہ کہ گناہ،پس درست یہ ہے کہ کہاجائے کہ کفارہ ہرحال میں لازم ہوگا،اورتوبہ بعض کاموں میں ہے ۔ اورامام اہلسنت امام احمدرضاخان حنفی متوفی1340ھ لکھتے ہیں : جوباتیں احرام میں ناجائزہیں وہ اگرکسی عذرسے یا بھول کرہوں توگناہ نہیں ،مگران پرجوجرمانہ مقررہے ہرطرح دیناائے گااگرچہ بے قصدہوں
سہوایاجبرایاسوتے میں ۔() اورصدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : محرم اگر بالقصد بلا عذر جرم کرے تو کفارہ بھی واجب ہے اور گنہگاربھی ہوا، لہٰذا اس صورت میں توبہ واجب کہ محض کفارہ سے پاک نہ ہوگا جب تک توبہ نہ کرے اور اگر نادانستہ یا عذر سے ہے تو کفارہ کافی ہے ۔ جرم میں کفارہ بہرحال لازم ہے ، یا د سے ہو یا بھول چوک سے ، اس کا جرم ہونا جانتا ہو یا معلوم نہ ہو،خوشی سے ہویامجبورا،سوتے میں ہو یا بیداری میں ،نشہ یا بے ہوشی میں یا ہوش میں ، اس نے اپنے اپ کیا ہو یا دوسرے نے اس کے حکم سے کیا۔() اورحالت احرام میں چہرہ چھپانے کی جزاءبیان کرتے ہوئے علامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اورعلمائے ہندکی ایک جماعت نے لکھاہے :

لو غطى المحرم راسه او وجهه يومًا فعليه دم، وان كان اقل من ذلك فعليه صدقة كذا في الخلاصة وكذا اذا غطاه ليلةً كاملةً سواء غطاه عامدًا او ناسيًا او نائمًا كذا في السراج الوهاج۔()

یعنی،اگرمحرم نے اپنے سریااپنے چہرے کوایک دن چھپایاتواس پردم لازم ہوگا،اور اگرایک دن سے کم چھپایاتواس پرصدقہ لازم ہوگااسی طرح’’خلاصۃ الفتاوی‘‘میں ہے اوراسی طرح جب وہ اسے مکمل رات چھپائے خواہ اس کاچھپاناجان بوجھ کرہویا بھول کریاپھرسونے کی حالت میں ہو،اسی طرح’’سراج الوھاج‘‘میں ہے ۔ اورامام اہلسنت امام احمدرضاخان حنفی متوفی1340ھ لکھتے ہیں : مرد سارا سریاچہارم یامردخواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یاچہارم ،چارپہریازیادہ لگاتارچھپائیں تودم ہے اورچہارم سے کم چارپہرتک یازیادہ لگاتارچھپائیں تودم ہے اورچہارم سے کم چارپہرتک یاچارسے کم اگرچہ ساراسریامنہ توصدقہ ہے اورچہارم سے کم کو چارپہر سے کم تک چھپائیں توگناہ ہے کفارہ نہیں ۔() لہٰذاعمرہ کرنے والے اگران حالات میں قانون کے پیش نظرماسک لگاتے ہیں تووہ گنہگارنہ ہوں گے البتہ اسے پہننے پرکفارہ واجب ہونے کی صورت میں اسے اداکرناہوگا،لیکن اس کے سبب عمرہ جیسی عظیم عبادت کوترک کرنے کا مشورہ اورحکم دیناقطعادرست نہیں کیونکہ عمرہ اگرچہ فی نفسہٖ ایک نفلی عبادت ہے لیکن یہ عام نفلی عبادت نہیں بلکہ ایک خاص نفلی عبادت ہے اورایسی نفلی عبادت جومنجرالی مداومۃ الفرائض والواجبات(فرائض وواجبات کی ہمیشگی کی طرف لے جانے والی) ہے یعنی ایسی نفلی عبادت ہے کہ جب اللہ کابندہ عمرہ کی ادائیگی سے واپس اتاہے تواس کی زندگی بدل جاتی ہے ، مشاہدہ سے یہ ثابت ہے کہ تارک نماز پابندنماز ہوجاتا ہے ،داڑھی منڈاداڑھی رکھ لیتاہے ،والدین کانافرمان فرمانبرداربن جاتاہے ،وغیرہ تولوگوں کوایسی عظیم نفلی عبادت سے صرف اس لئے روکناکہ ماسک لگاکرعمرہ کرنا ہوگا، ؎درست نہیں ۔ جبکہ یہ بات بھی ثابت ہے کہ عذرکی حالت میں چہرہ ڈھانپ سکتے ہیں اوراس کاگناہ بھی نہیں ۔ثانیایہ کہ سعودی حکومت کی طرف سے پابندی کے لگائے جانے کاکوئی ٹائم فریم بھی نہیں ،مثلایہ پابندی ایک ہفتہ یاایک ماہ یاایک سال کیلئے ہوگی،بلکہ یہ پابندی کوروناکے مرض کی وجہ سے لگائی گئی ہے اوراس مرض کے ختم ہونے کابھی کوئی ٹائم فریم نہیں یعنی یہ پابندی مرض کوروناکے اختتام تک لگائی گئی ہے ،مرض ختم ہوگاتوپابندی بھی ختم،توبالفرض اگریہ بیماری ایک سال تک یادوسال تک یاپانچ سال تک ختم نہیں ہوتی توپھراتنی مدت تک مسلمانوں کو عمرہ کی ادائیگی سے روکنادرست عمل ہوگا؟نہیں ہرگز نہیں ،اتنی عظیم عبادت سے مسلمانوں کوروکنادرست نہیں ۔بلکہ حکم وہی ہے جواوپرگزرا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب بدھ،18صفر1442ھ۔6،اکتوبر2020م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button