مضامین

قاعدہ الامور بمقاصدها: ہر کام کا حکم مقصد کے اعتبار سے ہوتا ہے

قاعدہ الامور بمقاصدها: ہر کام کا حکم مقصد کے اعتبار سے ہوتا ہے 

اس قاعدہ کو فقہاء کرام  نے مختلف صیغہ کیساتھ اپنی تالیفات میں ذکر کئے ہیں چنانچہ علامہ سرخسی اپنی کتاب المبسوط میں اس کو الأعمال بالنیات کے صیغہ سے ذکر کئے ہیں جو تقریبا  حدیث میں وارد آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا عین موافق ہے اور اکثر فقہاء کرام نے اسے پہلے  صیغہ کیساتھ ذکر کیا ہے  یہ قاعدہ  بنیادی طور پر دو کلمے  الأمور اور مقاصد سے مرکب جملہ اسمیہ ہے :

مفردات قاعدہ کے معانی:

الامور:

امر کی جمع  تکسیر ہے اور لغت میں اسکا معنى واقعہ , کام اور  حالت وغیرہ کے آتے ہیں. اللہ کا فرمان ہے: [الشورى: ٥٣] "سن لو ہر کام اللہ تعالى ہی کی طرف لوٹتے ہیں.”

نیز اللہ تعالى فرماتا ہے : [هود:٩٧] "فرعون کا کوئی بھی قول اور فعل درست نہیں تھا۔”

عربی زبان میں امر کا معنى حکم کے بھی آتاہے اور وہ یہاں مقصود نہیں ہے بلکہ یہاں  امر سے مراد اعضاء و جوارح کا عمل ہے چائے وہ زبان کا عمل قول ہو یا دل کا عمل  اعتقاد ہو یا اور کسی جوارح کا عمل فعل ہو .

مقاصد:

مصدر میمی مقصد کی جمع ہے جو قصد سے ماخوذ ہے  اور لغت میں اسے کئی معانی ہیں

  1. سیدھی راہ جیسے اللہ تعالى کا فرمان ہے: [النحل: ٩] یعنی:  اللہ تعالے پر سیدھی راہ کا بتاناہے اور بعض راہیں ٹیڑھی ہیں.
  2. افراط وتفریط کے بیچ درمیانہ طریقہ جیسے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے  : القصد القصد تبلغوا  یعنی تم ہر  قول وفعل میں درمیانہ راہ اختیار کرو اپنی مقصد کو پہنچ جاو گے .
  3. ارادہ , نیت اور عزم   اور اس قاعدے کا لفظ مقاصد سے یہی معنی مراد ہے .

قاعدہ کا اجمالی معنی:

بندے کے  ہر قول وفعل کا حکم  اور نتیجہ اس کے عزم وارادے اور نیت کے تابع ہے یا نیت کے مطابق ہے

قاعدہ کا مصدر اور اس کی دلیل:

اس قاعدہ کی بنیادی مصدر اور منبع آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان  : انما الأعمال بالنیات ہے, اور کتاب وسنت میں اس قاعدہ کی بہت ساری دلیلیں وارد ہیں ذیل میں چند دلیلیں ذکر کی جاتی ہے۔

قرآنی دلائل:

قرآن  کریم نیت کا لفظ وارد نہیں ہوا ہے تاہم اس میں ایسے الفاظ وارد ہوئے ہیں جو نیت اور ارادے کا عین معنی ہے اور اس قاعدہ کی تایید کرتے ہیں  چنانچہ ذیل میں چند قرآنی نصوص اور احادیث رسول پیش کی جاتی ہے جو اس قاعدہ پر دلالت  کرتی ہیں

  • [النساء: ١٠٠] یعنی   :جو کوئی اپنے گھر کو اللہ تعالى اور اس کے رسول  صلى اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کے واسطے چھوڑے  اور اسے موت آگھرے توبھی یقینا اس کا اجر وثواب اللہ تعالى کے ذمہ ثابت  ہو گیا اور اللہ تعالے بڑا بخشنے والا مہربان ہے .
  • [الأعراف: ٢٩]  یعنی:  آپ کہ دیجیئے کہ میرے رب نے انصاف اور ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھنے کا حکم دیا نیز یہ بھی حکم دیا کہ  عبادت کو صر ف اللہ تعالى ہی  واسطے خالص کرتے ہوئے اسی کو پکارو.
  • [البينة: ٥] یعنی: انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ  ایک سو ہو کرصرف اللہ تعالى کی عبادت کریں اسی کیلئے دین کو خالص رکھیں  اور نماز قائم کریں اور زکاۃ دیتے رہیں اور یہی سیدھا دین ہے.
  • آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :إن اللہ لا یقبل من العمل إلا ما کان خالصا وابتغی بہ وجہہ یعنی اللہ تعالى صرف بندوں کے انہیں اعمال کو قبول کرتا ہے جو صرف اور صرف اللہ تعالى کی رضا جوئی کیلئے کیا گیا ہو.

مذکورہ تمام نصوص میں  اللہ تعالى کی عبادت میں اخلاص پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور عمل میں اخلاص دل کی نیت  ہی سے پیدا ہوتا ہے لہذا عمل میں اخلاص کا حکم وجوب نیت پر دلالت کرتا ہے

قاعدہ مذکور کی اہمیت:

قاعدہ کی اہمیت اس قاعدہ کی دلیل اور مصدر  آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان : "إنما الأعمال بالنیات"کی اہمیت سے نمایاں اور واضح ہوتی ہے اور اس حدیث کی عظمت و شان پر تمام علماء کرام کا اتفاق ہے کہ یہ دین اسلام کا عظیم ستون اور مجموعہ احادیث کا این عظیم الشان حدیث ہے . چنانچہ اس حدیث کی عظمت کو بیان فرماتے ہوئے فن حدیث کے سالار کارواں

  • امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : لیس فی أخبار النبی صلى اللہ علیہ وسلم شیئ أجمع ولا اغنی ولا أکثر فائدہ منہ یعنی مجموعہ احادیث نبویۃ میں اسی کو ئی حدیث نہیں ہے جو اس حدیث سے زیادہ جامع اور فائدہ مند ہو اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عظیم کتاب صحیح البخاری کو اس حدیث سے آغاز کیا ہے .
  • عبد الرحمن بن مہدی فرماتے ہیں : ینبغی أن یجعل ہذا الحدیث رأس کل باب . یعنی ہر باب  کا آغاز اس حدیث سے کرنا چاہئے .
  • امام شافعی , احمد بن حنبل ,عبد الرحمن بن مہدی , ابن المدینی , ابو داود , اور دارقطنی رحمہم اللہ کا اتفاق ہے کہ صرف یہ حدیث شرعی علوم کا تہائی حصہ ہے ان میں بعض علماء کرام نے اس حدیث کو شرعی علوم کا چوتھا  حصہ قرار دیا ہے اور وہ اس حیثیت سے کہ شریعت اسلام کے تمام قواعد چار احادیث پر منخصر ہے ایک یہ حدیث دوم : من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ  سوم : الحلال بین والحرام بین  چہارم : إن اللہ طیب لا یقبل إلا طیبا اور بعض علماء کرام نے اس کی جگہ لا یؤمن أحدکم حتى یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ .

فقہاء کرام نے اس قاعدہ  کے لفظ الأمور بمقاصدہا کے بجائے الفاظ رسول صلى اللہ علیہ وسلم  إنما الأعمال بالنیات پر اکتفاء کیوں نہیں کئے؟

اس کا تین جواب ہے:

  1. بعض علماء کرام نے لفظ حدیث پر ہی اکتفاء کیا ہے .
  2. کلمہ نیات سے عام طور پر عبادات اور قرب الہی سے تعلق رکھے چیزیں مراد ہوتی ہے مقاصد سے عبادت , عادت اور معاملات سب مراد ہوتی ہے لہذا اس اعتبار سے مقاصد کا لفظ ینات کے لفظ سے زیادہ جامع اور شامل ہے .
  3. لفظ أمور کی دلالت عمومی أقوال وافعال پر لفظ اعمال سے زیادہ ظاہر ہے واللہ أعلم.

قاعدہ الامور بمقاصدها کی مثالیں:

اس قاعدہ کے تحت بہت سارے فقہی مسائل آتے ہیں ذیل میں چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں:

  1. دو آدمی ہے اور دونوں دن بھر ان تمام چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں جس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے لیکن ان میں سے ایک  شرعی روزہ کی نیت سے ان تمام چیزوں سے دور رہتا ہے اور دوسرا اس نیت دور رہتا ہے کہ اس کو شفا مل جائے کیونکہ ڈاکٹر نے اسے دن بھر ان تمام چیزوں سے  روکا ہے  لہذا دونوں کی نیت میں فرق ہونے کی وجہ سے ان کا حکم بھی بدل جائے گا چنانچہ روزہ کی نیت کرنے والے کو ثواب ملے گا اور محض شفا طلبی کی نیت کرنے والے   کو رزہ کا اجر وثواب نہیں ملے گا حالانکہ دونوں نے روزہ توڑنے والی چیزوں سے دن بھر دور رہا.
  2. کوئی شخص کسی گمشدہ  چیز کو اگر اس نیت سے اٹھاتاہے کہ وہ اس کا اعلان کرے گا اور جو اس مالک ہوگا  وہ آکے مجھ سے لے جائگا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اگر اس کو چھپانے اور ہڑپ لینے کی غرض سے اٹھاتا ہے تو وہ گناہگار ہو گا  حالانکہ دونوں  صورت میں کام کی شکل وصورت ایک ہی ہے یعنی گمشدہ  چیز کو اٹھانا لیکن مذکورہ دو صورت میں دونوں کی نیت ایک نہیں ہے لہذا دونوں کا حکم بھی الگ الگ ہوگا.
  3. پیغام دی ہوئی لڑکی کو دیکھنا  اگر نکاح کی سچی رغبت کی نیت سے دیکھ رہا ہے تو یہ جائز اور اگر محض لذت کی نیت ہو اور شادی کی رغبت نہ ہو تو وہ گناہگار ہوگا حالانکہ کہ دونوں صورت میں کام اور عمل ایک ہی ہے اور وہ ہے پیغام دی ہوئی لڑکی کو دیکھنا لیکن دونوں کی نیت  ایک دوسرے سے جدا گانہ ہے لہذا دونوں کا حکم بھی مختلف ہوگا.
  4. شریعت اسلام مین حج کی نیابت دلائل سے ثابت ہے اگر کوئی حج بدل صرف پیسہ کمانے کی غرض سے کرتاہے تو ان کو اجر وثواب تو دور کی بات ان کے خلاف شریعت خطرناک وعید آئی ہے۔ اللہ تعالى نے فرمایا: [هود: ١٥ – ١٦], یعنی : جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتے ہیں ہم ایسوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں بھر پور دیے دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کم نہیں کی جاتی ہاں یہی لوگ ہیں اخرت میں جن کیلئے سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہو گا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کے اعمال تھے وہ برباد ہوجائیں گے.

اور جس نے  اس غرض سے اس سے پیسہ لیا کہ اس پیسے کے ذریعے بآسانی  حج کے احکام وفرائض انجام دے  گا تو اس کو اجر وثواب ملے گا . چونکہ دونوں کی نیت میں فرق ہے لہذا حکم بھی مختلف ہوگا.

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button