ARTICLES

قارن کیلئے عمرے کے بعدحلق کروانے کاحکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص حج قران کااحرام باندھنے کے بعدحج تمتع کی نیت کرے اورپھرعمرہ کرنے کے بعد سرمنڈوالے توکیاوہ عمرہ کے احرام سے نکل جائے گااوراس پرکیالازم ہوگا؟ (سائل : c/oمفتی شہزادنعیمی صاحب،کھاراد،کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں وہ احرام سے نہیں نکلے گااوراس پردودم لازم ہوں گے کیونکہ یہ جنایت احرام ہے اوروہ جس طرح عمرہ کے احرام میں ہے اسی طرح حج کے احرام میں بھی ہے یہی وجہ کہ اس پردودم لازم ہوں گے ۔چنانچہ امام برہان الدین ابوالمعالی محمودبن صدرالشریعہ ابن مازہ بخاری حنفی متوفی616ھ اوران کے حوالے سے امام فریدالدین عالم بن علاء دہلوی حنفی متوفی786ھ لکھتے ہیں : فی المنتقی : ابن سماعۃ عن محمدٍ رحمہ اللہ تعالیٰ فی قارنٍ طاف، وسعی لعمرتہ، ثم حلق راسہ، فعلیہ دمان، وھذا لان العمرۃ فی حق القارن یبقی للحج فما دام احرام الحج باقیًا لا یتحلل عن احرام العمرۃ وان اتی بافعالھا، فکان الحلق جنایۃ علی احرامین۔[واللفظ للاول] ( ) یعنی،’’منتقیٰ‘‘میں ہے کہ ابن سماعہ،امام محمدعلیہ الرحمہ سے اس قارن کے بارے میں روایت کرتے ہیں جوعمرے کاطواف اورسعی کرکے سرمنڈوالے تواس پردودم لازم ہوں گے اوریہ اس وجہ سے کہ قارن کے حق میں حج کی وجہ سے عمرہ باقی ہوتاہے لہٰذاجب حج کااحرام باقی ہے تووہ عمرے کے احرام سے باہرنہیں ہوگااگرچہ وہ افعال عمرہ اداکرلے ،پس حلق کی وجہ سے جنایت دواحراموں پر واقع ہوگی۔ اورعلامہ شمس الدین ابوالعباس احمدبن ابراہیم حنفی متوفی710ھ لکھتے ہیں : لا یتحلل القارن بعد فعل العمرۃ بحلقٍ ولا تقصیرٍ، سواء کان معہ ھدی او لم یکن، وعند الظاھریۃ یجب علیہ التحلل اذا لم یکن معہ ھدی، وانما یتحلل عند اھل العلم یوم النحر۔ ( ) یعنی،قارن افعال عمرہ اداکرنے کے بعدحلق یاتقصیرکے ذریعے احرام سے باہرنہیں ہوگاچاہے اس کے ساتھ ہدی کاجانورہویانہ ہو، اورغیرمقلدین کے نزدیک اس پراحرام سے نکلناواجب ہے جبکہ اس کے ساتھ ہدی کاجانورنہ ہو ( ) اوراہل علم کے نزدیک وہ دسویں ذوالحجہ کواحرام سے باہرائے گا۔ اورعلامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی970ھ لکھتے ہیں : لا یتحلل بینھما بالحلق فلو حلق کان جنایۃ علی الاحرامین، اما علی احرام الحج فظاھر لان اوان التحلل فیہ یوم النحر، واما علی احرام العمرۃ فکذلک لان اوان تحلل القارن یوم النحر کما صرح بہ الامام محمد۔ قال الشارح : ویؤیدہ ان المتمتع اذا ساق الھدی وفرغ من افعال العمرۃ وحلق یجب علیہ الدم ولا یتحلل بذلک من عمرتہ بل یکون جنایۃ علی احرامھا مع انہ لیس محرمًا بالحج فھذا اولیٰ۔ ( ) یعنی،قارن حج و عمرہ کے درمیان سرنہ منڈائے ورنہ جنایت دواحراموں پرواقع ہوگی،احرام حج پر توظاہرہے کیونکہ حج میں احرام سے باہرانے کاوقت یوم نحرہے اورعمرے پرجنایت کامعاملہ بھی اسی طرح ہے کیونکہ قارن کے احرام سے باہرانے کاوقت یوم نحر ہے جیساکہ امام محمدعلیہ الرحمہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے ( )، شارح نے کہا : اوراس کی تائیداس مسئلے کی ذریعے ہوتی ہے کہ جب متمتع ہدی کاجانورلائے اورافعال عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد حلق کروائے تواس پردم واجب ہوتاہے اوروہ اس کے ذریعے اپنے احرام عمرہ سے باہرنہیں اتابلکہ عمرے کے احرام پرجنایت واقع ہوتی ہے حالانکہ اس نے حج کااحرام نہیں باندھاہوتاہے ،لہٰذایہاں بدرجہ اولیٰ احرام عمرہ پرجنایت واقع ہوگی۔ اوران ہی کے حوالے سے علامہ عبدالحمیدسباعی متوفی1220ھ لکھتے ہیں : یطوف للعمرۃ اولًا، ثم یسعی لھا، و لا یحلق، فلو حلق کان جنایۃ علی الاحرامین، لم یحل بحلقہ من عمرتہ، ولزمہ دمان؛ لجنایتہ علی الاحرامین۔( ) یعنی،قارن پہلے طواف عمرہ کرے پھرعمرے کی سعی کرے اورسرنہ منڈوائے ورنہ اس کے سبب دواحراموں پرجنایت واقع ہوگی، لیکن وہ حلق کی وجہ سے احرام عمرہ سے نہیں نکلے گااوراس پردودم لازم ہوں گے کیونکہ جنایت دواحراموں پرواقع ہوئی ہے ۔ اورجب اس نے حج قران کااحرام باندھ لیاہے تواب یہ حج تمتع کی نیت کرنے سے تبدیل نہیں ہوگا۔چنانچہ شیخ الاسلام مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں : چون صحیح گشت احرام لازم گردد مضی دروی وممکن نباشد خروج ازوی مگر باداء اعمال عبادتی کہ شروع نمودہ است دروی اگرچہ افساد کردہ است احرام بجماع الا در سہ مسئلہ۔ یکے انکہ فائت گردد حج بفوات وقوف عرفات کہ ان گاہ بیرون اید از احرام سابق باداء اعمال عمرہ۔ دویم انکہ احصار کردہ شد محرم را بعد از احرام حج یا عمرہ بسبب حبس سلطان یا بسبب مرض یا حدوث خوف در طریق کہ درین صورت ہا بیرون اید از احرام سابق بذبح ہدی کہ بفرستدان را بدست وکیل خود بسوی حرم تا ٓذبح کند او را وکیل بطریق نیابت ازوی در حرم وما ذبح در غیر حرم پس فائدہ ندارد نزد ما خلافًا للشافعی۔ سیوم انکہ جمع کردہ باشد در احرام واحد دو نسک متحدہ را چنانکہ دو حج یا دو عمرہ یا جمع نمود باشد دو نسک مختلفہ را اعنی حج و عمرہ را بطریق غیر مشروع چنانچہ جمع کرد مکی یا میقاتی بین النسکین المختلفین کہ درین مسائل واجب باشد برمحرم رفض احد النسکین وبیرون اید از احرام ان بمجرد نیت رفض در بعض صور وبرشروع در اعمال در بعض صور دیگر چنانکہ تفصیل ان مذکور سب در کتب مطولہ۔( ) یعنی،صحت احرام کے بعداسے مکمل کرنالازم ہوجاتاہے لہٰذاجس عبادت کیلئے احرام باندھاہے جب تک اس کے اعمال ادانہ کرلے احرام سے باہرنکلناممکن نہیں اگرچہ اس نے جماع کرکے احرام کوفاسدکردیاہو۔سوائے تین صورتوں میں اعمال کی ادائیگی کے بغیر بھی احرام سے نکل سکتاہے ۔پہلی صورت یہ ہے کہ وقوف عرفہ نہ کرسکنے کی وجہ سے حج فوت ہوگیاہو،اس وقت حج کے احرام سے افعال عمرہ کرکے باہر اسکتاہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ محرم کوحج یاعمرے کااحرام باندھنے کے بعدبادشاہ کے قید کردینے یا بیماری کے لاحق ہوجانے یا راستے کے پرخطرہوجانے کے سبب احصارپیش اجائے ۔اس صورت میں وہ احرام سے جب ہی باہرہوسکتاہے کہ کسی کواس بات کاوکیل بنائے کہ وہ اس کی طرف سے سرزمین حرم پرجانورکی قربانی کرے اورہمارے نزدیک غیرحرم میں ذبح کرنے کاکوئی فائدہ نہیں ہے برخلاف امام شافعی علیہ الرحمہ کے ۔تیسری صورت یہ ہے کہ ایک ہی احرام میں ایک جیسی دوعبادات کو جمع کرلے مثلًادوحج یادوعمرے کاایک ساتھ ہی احرام باندھے یادومختلف عبادات یعنی حج و عمرہ کاغیرمشروع طریقے پراحرام باندھے جیسے مکی یامیقاتی حج قران کااحرام باندھ لے توان صورتوں میں محرم پرواجب ہے کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کے احرام کو چھوڑدے اوربعض صورتوں میں تواحرام چھوڑنے کی نیت کرتے ہی احرام سے باہرہوجائے گااوربعض صورتوں میں افعال ادا کرنے کے بعداحرام سے نکلے گا،ان کی تفصیل بڑی کتابوں میں مذکورہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب یوم الجمعۃ،29/محرم
الحرام،1444ھ۔25/اگست،2022م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button