ARTICLES

قارن پر کب دو جزائیں لازم اتی ہیں ؟

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قارن پر کب دو جزائیں لازم اتی ہیں اور کب ایک جزاء لازم اتی ہے ، اس کے لئے اصول کیا ہے ؟

(السائل : محمد عرفان احمد)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اصول یہ ہے کہ وہ جنایت جو احرام سے متعلق ہو اس میں قارن پر دو جزائیں اور وہ افعال جو حج و عمرہ سے متعلق ہوں اس میں ایک جزاء لازم اتی ہے ، چنانچہ علامہ محمد بن عبد اللہ تمرتاشی حنفی متوفی 1004ھ لکھتے ہیں :

کل ما علی المفرد بہ دم بسب جنایتہ علی احرامہ فعلی القارن دمان و کذا الحکم فی الصدقۃ (54)

یعنی، جس قصور میں تنہا حج کرنے والے پر ایک دم واجب ہوتا ہے بسبب اس کے احرام پر جنایت کے تو اس فعل میں قارن پر دو دم واجب ہوتے ہیں (ایک حج کا اور دوسرا عمرہ کا) ایسا ہی حکم ہے وجوب صدقہ میں ۔ اس کے تحت علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

یعنی بفعل شیئٍ من محظوراتہ لا مطلقا، اذ لو ترک واجبا عن واجبات الحج او قطع نبات الحرم لم یتعدد الجزاء، لانہ لیس جنایۃ علی الاحرام (55)

یعنی، جنایت احرام سے اس چیز کا کرنا مراد ہے جو احرام کے ممنوعات سے ہے نہ کہ مطلقا (ہر طرح کی جنایت) کیونکہ اگر تنہا حج کرنے والا کوئی واجب فعل حج کے واجبات سے ترک کرے یا حرم کی گھاس کاٹے تو اس پر جزاء متعدد نہیں ہو گی (یعنی دو دم لازم نہیں ائیں گے ) اس لئے کہ جنایت احرام پر نہیں ۔ اور وہ کون سی چیزیں ہیں کہ جن میں ا یک دم اور دو دم لازم اتے ہیں اس کے بارے میں علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

ای : محظورات الاحرام، ای : ما حرم علیہ فعلہ بسبب نفس الاحرام لا من حیث کونہ حجًا او عمرۃ، و لا حرم بسبب غیر الاحرام و ذلک کاللبس و التطیب و ازالۃ شعر او ظفر، فخرج ما لو ترک واجبا، کما لو ترک السعی او الرمی او افاض قبل الامام او طاف جنبا او محدثا للحج او العمرۃ فان علیہ الکفارۃ، و لا تتعدد علی القارن لان ذٰلک لیس جنایۃ علی الاحرام، بل ھو ترک واجب من واجبات الحج او العمرۃ (56)

یعنی، محظورات احرام یعنی جس کام کا کرنا اس پر نفس احرام کے سبب سے حرام ہے نہ اس وجہ سے کہ وہ حج یا عمرہ ہے اور نہ غیر احرام (کسی امر) کے سبب سے حرام ہو اور وہ (جو احرام کے سبب سے حرام ہیں ) سلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، بال دور کرنا، ناخن تراشنا ہے پس اس سے نکل گیا جب اس نے کسی واجب کو ترک کیا، جیسا کہ اگر سعی یا رمی کو چھوڑ دے یا امام سے قبل (عرفات سے ) لوٹ ائے اور حالت جنابت میں یا بے وضو حج یا عمرہ کا طواف کرے تو اس پر کفارہ ہے جو قارن پر متعدد نہیں ہو گا اس لئے کہ یہ جنابت احرام پر نہیں ہے بلکہ وہ تو واجبات حج یا عمرہ میں سے ایک واجب کو ترک کرنا ہے ۔ اور بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کی صورت میں قارن پر صرف ایک دم لازم ائے گا، چنانچہ علامہ تمرتاشی حنفی اور علامہ حصکفی لکھتے ہیں :

الا المجاوزۃ المیقات غیر محرم فعلیہ دم واحد لانہ حینئذٍ لیس بقارنٍ (57)

یعنی، مگر میقات سے بغیر احرام کے گزرنے میں تو اس پر ایک دم لازم ہے کیونکہ اس وقت میں وہ قارن نہیں ہوا (اس لئے کہ اس نے اس وقت تک احرام نہیں باندھا)۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاثنین، 9 ذی قعدہ 1434ھ، 16 سبتمبر 2013 م 866-F

حوالہ جات

54۔ تنویر الابصار، کتاب الحج، باب الجنایات، ص170

55۔ الدر المختار، کتاب الحج، باب الجنایات، تحت قول التنویر : و کل ما علی … علی احرامہ، ص170

56۔ رد المحتار، کتاب الحج، باب الجنایات، مطلب : لا یجب الضمان بکسر الات اللھو، 2/701، 702

57۔ تنویر الابصار و الدر المختار، کتاب الحج، باب الجنایات، ص170

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button