ARTICLES

فقیر آفاقی اگر حج کر لے تو اُس کا فرض ادا ہو جائے گا

استفتاء : ۔کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ فقیر آفاقی اگر حج کر لے اِس طرح کہ کوئی اُسے لے جائے یا اُس کے اخراجات اس کے ہاتھ دئیے بغیر ادا کردے اور وہ فقیر اِس طرح حج کر لے تو اُس کا حج فرض ہو گا یا نفل اور مالدار ہونے کے بعد اُس پر فرض کی ادائیگی لازم ہو گی یا فقط اِس حج کی ادائیگی سے فرض اُس کے ذمے سے ساقط ہو گیا؟

(السائل : محمد عرفان ضیائی،خادم جمعیت اشاعت اہلسنّت)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : فقیر آفاقی (106)جب فرض کی نیت سے یا مطلق نیت کے ساتھ حج کرے گا تو اُس کا فرض ادا ہو جائے گا ،مالدار ہونے کے بعد اُس پر حج لازم نہ ہو گا۔قرآن کریم میں ہے :

{وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً} الآیۃ (107)

ترجمہ : ’’اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اُس تک چل سکے ‘‘۔ (کنز الایمان) اور استطاعت وُجوب کی شرط ہے نہ کہ جواز اور حج کے فرض سے واقع ہونے کی شرط ، جو فقیر کے حق میں کہا جاسکے کہ اُس کا حج ادا نہیں ہوا، لہٰذا فقیر اگر حج کر لے تو اُس کا فرض ادا ہو جائے گا۔ فقہاء کرام نے سواری اور توشہ پر قُدرت کے بارے میں تصریح کی ہے کہ یہ وُجوب کی شرطیں ہیں ، چنانچہ علامہ عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان المدعو شیخی زادہ حنفی متوفی 1078 لکھتے ہیں :

وہُمَا مِن شُروطِ الوُجوبِ عندَ الفُقَھائِ (108)

یعنی، وہ دونوں فقہاء کے نزدیک وجوب کی شروط سے ہیں ۔ اور مُلّا علی القاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

السادس : الاستطاعۃ(110) وہی شرط الوجوب لاشرط الجواز، و الوقوع عن الفرض، حتی لو تکلّف الفقیر و حجّ و نوی حجّ الفرض أو أطلق جاز لہ، و سقط عنہ فرضہ (109)

یعنی، چھٹی شرط استطاعت ہے اور یہ وُجوب کی شرط ہے ،جواز اور حج کے فرض واقع ہونے کی شرط نہیں ہے ، حتی کہ اگر فقیر تکلّف کرے اور حج کرلے اور فرض حج کی نیت کر لے یا مطلق نیت کرلے تو اسے جائز ہے اور اُس کا فرض اُس سے ساقط ہو جائے گا۔ اور مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور حارثی ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

شرط پنجم استطاعت ست : و آن شرطِ وُجوب ست نہ شرطِ صحتِ اداء، نہ شرطِ وقوع از فرض تا آنکہ اگر تکلّف کرد فقیرے و حج کرد در حالِ فقر و نیّت کرد مرحج فرض را یا آنکہ نیّت کرد مطلق حج را جائز گردد حج اُو و ساقط گردد از وے فرض (110)

یعنی، پانچویں شرط استطاعت ہے : اوریہ وُجوب کی شرط ہے ، صحتِ اداء کی شرط نہیں اور نہ ہی حج کے فرض سے واقع ہونے کی شرط ہے ، یہاں تک کہ کوئی فقیر اگر تکلّف کر لے اور حالتِ فقر میں حج کر لے اور حج میں خاص فرض کی نیت کرے یا مطلق حج کی نیت کرے تو اس کا حج جائز ہو جائے گا اور اس سے فرض ساقط ہو جائے گا۔ اور فقہائِ احناف میں سے کسی نے اِس کا خلاف نہیں کیا ، یعنی کسی نے استطاعت کوصحتِ اداء کی شرط قرار نہیں دیا او رنہ ہی کسی نے یہ کہا کہ یہ حج کے فرض سے واقع ہونے کی شرط ہے چنانچہ اما م کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن ہمام حنفی متوفی 861ھ(111) لکھتے ہیں ، اور اُن سے فقیہ عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان شیخی زادہ متوفی 1078ھ (112)نقل کرتے ہیں :

واعلَم أَنَّ القُدرۃ علی الزَّادِ و الرَّاحِلَۃِ شرطُ الوُجوبِ لا نعلَمُ عن أحدٍ خلافَہُ.

یعنی، جان لے کہ توشہ اور سواری پر قُدرت حج کے وُجوب کی شرط ہے (فقہاء کرام میں سے ) ہم کسی سے اِس کا خلاف نہیں جانتے ۔ اور یہ اہلیت کی شرط نہیں ہے چنانچہ اما م کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں :

بخلافِ اشتراطِ الزَّادِ و الرَّاحِلَۃِ فی حقّ الفقیر فإنہ للتیسیر لا الأہلیۃ فوجب علی فُقَرَائِ مکۃ (113)

یعنی، بخلاف فقیر کے حق میں توشہ و سواری کی شرط کرنے کے پس تحقیق وہ شرط آسانی کے واسطے ہے نہ کہ اہلیت کے واسطے تو فُقرائِ مکہ پر حج واجب ہے ۔ جیسے فقیر اگر پیدل چل کر مکہ مکرمہ پہنچے اور حج کر لے تو اُس کا فرض ادا ہو جائے گا اور مالدار ہونے کے بعد اُس پر حج لازم نہیں ہو گا چنانچہ قاضی القضاۃ امام فخر الملۃ و الدین حسن بن منصوراُ وز جندی حنفی متوفی 592 ھ (114) لکھتے ہیں اور ان سے علامہ نظام الدین حنفی متوفی 1161ھ (115) نقل کرتے ہیں :

و الفقیر إذا حجّ ماشیاً ثم أیسر فلا حجّ علیہ

یعنی، فقیر نے جب پیدل حج کیا پھر وہ غنی (مالدار) ہوا تو اُس پر (دوبارہ) حج کرنا لازم نہیں ۔ اور امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں :

قالوا : لو تحمل العاجز عنہما فحجّ ماشیاً یسقط عنہ الفرض، حتی لو استغنی لا یجب علیہ أن یحجّ (116)

یعنی، فقہاء کرام نے فرما یا کہ سواری اور توشہ سے عاجز شخص جب (مشقّت) برداشت کر لے او رپیدل حج کر لے تو اُس سے حج کافرض ساقط ہو جائے گا، یہاں تک کہ اگر وہ مالدار ہوا تو اُس پر (دوبارہ) حج کرنا واجب نہ ہو گا۔ جب پیدل حج کر لینے والے فقیر آفاقی کا فرض ادا ہو جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ شخص جسے دوسرا شخص اپنے خرچ پر لے گیا اور وہ اپنا کچھ خرچ کئے بغیروہاں پہنچ گیا اور اُس نے فرض کی نیّت سے یا مطلق نیّت سے حج کر لیا تو اُس کا فرض ادا ہو گیا۔ اور معذور افراد پر حج فرض نہیں اگرچہ مالدار ہوں ، یہی ظاہر الروایۃ ہے ، چنانچہ علّامہ جلا ل الدین خوارزمی کرلانی حنفی لکھتے ہیں :

و أمَّا فی ظاہر الرّوایۃ عنہ أنہ لا یجب الحجّ علی الزمن و المفلوج، والمقعد و مقطوع الرجلین و إن ملکوا الزاد و الراحلۃ، وہو روایۃٌ عنہما، حتی لا یجب الاحجاج علیہم بمالہم (117)

یعنی، مگر امام اعظم رضی اللہ عنہ سے ظاہر روایت میں ہے کہ لُولے ، لنگڑے ، مفلوج پر اور وہ جس کے دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں اُس پر حج فرض نہیں ، اگرچہ یہ لوگ توشہ اور سواری کے مالک ہوں اور یہی صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے حتی کہ اُن پر اپنے مال سے حج کروانا لازم نہیں ۔ او راگر یہ لوگ فرض کی ادائیگی کی نیّت سے حج کر لیں اور بعد میں اللہ تعالیٰ اُن کو صحت عطا فرما دے تو اُن پر (دوبارہ) حج کی ادائیگی لازم نہیں ، چنانچہ صاحبِ ہدایہ برہان الدین امام ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

من سقط عنہ، فرض الحجّ لزمانہ أو مرضہ أو لکونہ مقعدًا أو مفلوجاً فحجّ علٰی تلک الحالۃ، یقع حجہ عن حجّۃ الإسلام إذا کان حرّاً عاقلاً بالغًا، فإنہ کالفقیر إذا حجّ، ثم استغنی (118)

یعنی، جس شخص پر سے فرض حج ساقط ہو گیا اُس کے لُولے ہونے کی وجہ سے یا اُس کے مرض کی وجہ سے یا اس کے لنگڑے ہونے کی وجہ سے یا اس کے فالج زدہ ہونے کی وجہ سے ، اور اُس نے اپنی اسی حالت میں حج کر لیا تو اس کا اس حال میں حج کرنا حجِ اسلام واقع ہو جائے گا جب کہ وہ آزاد ،عاقل ،بالغ ہو۔ پس وہ فقیر کی مثل ہے جب اُس نے (اپنے حالِ فقر میں ) حج کیا پھر مالدار ہوا۔ اور امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن ہمام(119) اور علّامہ زین الدین ابن نجم حنفی (120)لکھتے ہیں :

و من الفُروعِ : أنہ لو تکلّف ہٰؤلائِ الحجّ بأنفسہم سقَطَ عَنْہم، و معنی ہذا أنہم لو صحّوا بعد ذالک لا یجب علیہم الأداء، لأن سقوط الوجوب عنہم لدفع الحرج فإذا تحمَّلُوہ وَقَعَ عن حجّۃ الإسلام کالفقیر إذَا حجّ ہذا و اللفظ للفتح

یعنی، فروعات میں سے ہے کہ اگر یہ (یعنی معذور ) لوگ خود حج کا تکلّف کر لیں تو (فرض) اُن سے ساقط ہو جائے گا، اور اِس کے معنی یہ ہیں کہ اُس کے بعد اگر وہ صحیح ہو گئے تو اُن پر حج کی ادائیگی واجب نہیں ، کیونکہ اُن سے وُجوب کا سقوط دفعِ حرج کے لئے تھا، پس جب انہوں نے اِس حرج کو برداشت کر لیا تو اُن کا حج حجۃ الاسلام واقع ہو گیا، جیسے فقیر جب یہ حج کر لے (تو اُس سے فرض ساقط ہو جاتا ہے ، مالدار ہونے کے بعد اُسے حج لاز م نہیں ہوتا)۔ لہٰذا جب بیماروں او راپاہجوں کا حج فرض ادا ہو جاتا ہے تو اُس فقیر کا حج بطریقِ اَولیٰ ادا ہو جائے گا جسے کوئی اپنے خرچے پر سفرِ حج پر لے گیا اور اُس نے حج کر لیا،چنانچہ علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ صاحبِ بحر کی عبارت ’’کالفقیر إذا حج‘‘ کے تحت لکھتے ہیں :

أی : فإنّہ یسقط عنہ الفرض حتی لو استغنی لا یجب علیہ أن یحجّ (121)

یعنی، فقیر نے جب حج کیا تو اُس سے فرض ساقط ہو جائے گا، یہاں تک کہ اگر وہ مالدار ہو گیا اُس پر لازم نہ ہو گا کہ وہ (دوبارہ) حج کرے ۔ اور فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ فقیر آفاقی جب مکہ مکرمہ پہنچ جائے تو وہ مثل مکی کے ہو جاتا ہے اور اُس کے حق میں ثبوتِ استطاعت کے لئے سواری کی شرط باقی نہیں رہتی، کیونکہ مکی کے حق میں سواری شرط نہیں ، چنانچہ امام ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی لکھتے ہیں :

و لیس من شرط الوجوب علی أہل مکۃ و من حولہم الراحلۃ، لأنہ لا تلحقہم مشقّۃ زائدۃ فی الأداء، فأشبہ السعی إلی الجمعۃ (122)

یعنی، اہلِ مکہ اور اُس کے ارد گرد رہنے والوں پر سواری شرطِ وُجوب سے نہیں ، کیونکہ اُن کو حج کی ادائیگی میں زائد مُشقّت لاحق نہیں ہوتی، پس (حج اُن کے لئے ) جمعہ کی طرف سعی کے مشابہ ہے ۔ اور علامہ فخر الدین عثمان بن علی زیلعی حنفی متوفی 743 ھ لکھتے ہیں :

و لیس من شرط الوجوب علی أہل مکۃ، و من حولہم الراحلۃ لأنہم لا یلحقہم مشقّۃ، فأشبہ السعی إلی الجمعۃ (123)

یعنی، اہلِ مکہ اور اس کے ارد گرد رہنے والوں پر سواری شرطِ وجوب میں سے نہیں ، کیونکہ ان کو مُشقّت لاحق نہیں ہوتی، پس (حج اُن کے لئے ) جمعہ کی طرف سعی کے مشابہ ہو گیا۔ اور علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم ابن نجیم حنفی متوفی 1005ھ لکھتے ہیں : أما المکّی فلا تشترط الراحلۃ فی حقّہ، لأنہ لا یلحقہ المشقّۃ بالمشی فأشبہہ السعی ألی الجمعۃ (124) یعنی، مگر مکی تو اُس کے حق میں سواری شرط نہیں ، کیونکہ چلنے سے اُسے مُشقت لاحق نہیں ہوتی تو (اس کے لئے حج ) جمعہ کی طرف سعی کرنے کے مشابہ ہے ۔ اِس لئے مکی پر سواری نہ ہونے کے باوجودحج فرض ہے ، چنانچہ امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن ہمام متوفی 861ھ لکھتے ہیں :

فإن کان مکّیاً أو داخل المیقات فعلیہ الحجّ، و إن لم یقدر علی الراحلۃ (125)

یعنی، اگر مکی ہے یا میقات کے اندر رہنے والا تو اس پر حج لازم ہے اگرچہ و ہ سواری پر قادر نہ ہو۔ لہٰذا اس طرح استطاعت اُس فقیر کے حق میں بھی متحقّق ہو گئی جو مکہ معظمہ پہنچ گیا اور اُس پر حج فرض ہو گیا،اگر کوئی کہے کہ فقیر میں تو استطاعت نہ تھی تو اُس کا حج فرض کیسے ادا ہو گا تو اُس کا جواب یہ ہے کہ جب تک وہ وہاں نہ گیا تھا تو وہ مستطیع نہ تھا اور اُس پر حج بھی فرض نہ تھا جب وہاں پہنچ گیا تو وہ مستطیع ہوا اور اُس پر حج فرض ہو گیا، جب اُس نے حج کیا تو فرض ادا ہو گیا، فقہاء کرام نے اِس مسئلہ کو مسافر کی نماز کے باب میں بھی ذکر کیا ہے چنانچہ اِس باب میں بحث کاآغاز یوں ہے کہ امام شافعی نے مسافر کی نماز کے بارے میں فرمایا کہ اُس کا فرض تو چار رکعت میں ہے روزے کا اعتبار کرتے ہوئے ، قصر رُخصت ہے جب کہ احناف نے فرمایا ’’مسافر کا فرض ہی دو رکعت ہے او ردلیل یہ ہے کہ شفع ثانی نہ قضا کیا جاتا ہے او رنہ ہی مسافر نمازی اُس کے ترک پر گنہگار ہوتا ہے اور یہی شفع ثانی کے نفل ہونے کی دلیل ہے بر خلاف روزے کے کیونکہ سفر میں چھوڑا ہوا روزہ قضا کیا جاتا ہے ۔‘‘ (126) تو اس پر دو اعتراض وارد ہوئے ، دوسرا اعتراض یہ ہے ، چنانچہ امام اکمل الدین محمد بن محمود بابرتی حنفی متوفی 786ھ لکھتے ہیں :

و الثّانی : أَنَّ الفقیر لو لم یحجّ لیس علیہ قضاء و لا إثم، و إذا حجّ کان فرضاً، فلم یکن ما ذکرتم آیۃ النافلۃ

یعنی، دوسرا یہ کہ فقیر اگر حج نہ کرے تو نہ اُس پر قضاء ہے اور نہ گناہ، اور اگر حج کر لے تو اُس کا حج فرض واقع ہو جاتا ہے ، تو جو تم نے ذکر کیا وہ نفل ہونے کی دلیل نہ بنا۔ اور اِس کے جواب میں لکھتے ہیں :

و الثّانی : بأنہ لما أتی مکۃ صار مستطیعاً فیفترضُ علیہ، و یأثم بترکہ کالأغنیاء (127)

یعنی، دوسرے کا جواب یہ کہ فقیر جب مکہ آیا تو مستطیع ہو گیا اور حج اس پر فرض ہو گیا اور وہ ترک کرنے سے مالداروں کی مثل گنہگار ہو گا۔ او رعلامہ جلال الدین خوارزمی کرلانی حنفی اسی بحث میں لکھتے ہیں :

فإن قیل : یشکل علی ہذا الفقیر الذی یحجّ حجّۃ الإسلام فإنہا تقع فرضاً و مع ذلک أنہ لو لم یأت بہا لم یکن علیہ قضاء، و لا إثم لعدم الاستطاعۃ۔ قلنا : لما أتی مکۃ صار مستطیعاً فیفترض علیہ حتی أنہ لو ترکہا یأثم کما یفترض علی الأغنیاء المستطیعین فی الآفاق (128)

یعنی، پس اگر اعترض کیا جائے یہ مشکل ہے اُس فقیر پر جو حجۃ الاسلام کرے تو اُس کا حج فرض واقع ہو جاتا ہے باوجویکہ اگر وہ (فقیر) حج نہ کرے تو عدمِ استطاعت کی وجہ سے تو نہ اُس پر قضاء ہے او رنہ گناہ۔ ہم (اس کے جواب میں ) کہتے ہیں : فقیر جب مکہ آیا تو مستطیع ہو گیا اور اُس پر حج فرض ہو گیا، یہاں تک کہ وہ اُسے ترک کرے گا تو گنہگار ہو گا جیسا کہ آفاق میں استطاعت رکھنے والے مالداروں پر فرض ہے ۔ اور مخدوم محمد جعفر بن مخدوم عبدالکریم بوبکانی حنفی (من أعیان القرن العاشر الھجری) نقل کرتے ہیں :

فی ’’ الخوارزمی‘‘ فی باب المسافر، الفقیر الذی یحجّ حجّۃ الإسلام یقع فرضاً، لأنہ لما أتی مکۃ صار مستطیعاً فیفرض علیہ حتی لو ترکھا یأثم، و فی ’’عقد اللآلی‘‘ : و من حجّ وھو فقیر ، ثم استغنی لم یجب علیہ حجّۃ أخریٰ (129)

یعنی، ’’خوارزمی‘‘(130) کے باب المسافر میں ہے کہ فقیر حجۃ الاسلام کرتا ہے تو اُس کا حج فرض واقع ہو جاتا ہے ، کیونکہ جب وہ مکہ آیا تو مُستطیع ہو گیا اور اس پر حج فرض ہو گیا، یہاں تک کہ اگر ترک کرے تو گنہگار ہو گا۔ اور ’’عقد اللآلی‘‘ میں ہے کہ جو شخص حج کرے اِس حال میں کہ وہ فقیر ہو ، پھر مالدار ہو جائے تو اس پر دوسرا حج واجب نہ ہو گا۔ لہٰذا ثابت ہو گیا کہ فقیر جب فرض کی نیّت یا مطلق نیت سے حج کرے گا تو اُس کا فرض ادا ہو جائے گا ۔ مالدار ہونے کی صورت میں اُس پر دوبارہ حج فرض نہ ہو گا۔ چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

اگر حج کرد فقیر در حال فقر خود بعد ازاں غنی گشت جائز باشد حج سابق مر اُو را از حج اسلام، و ہمین ست حکم بر شخصے کہ واجب نباشد حج بروے در حالی و ادا کندوی حج را دران حال و بعد ازاں واجب شود حج دیگر بروی مگر چہارکس صبی، و مجنون، بندہ، وکافر (131)

یعنی، فقیر اگر اپنی حالتِ فقر میں حج کر لے ، اُس کے بعد مالدا رہو جائے تو اُس کا سابق حج (جو اُس نے حالتِ فقر میں کیا) حجِ اسلام سے جائز ہو جائے گا، اور یہی حکم ہے ہر اُس شخص کا جس پر کسی حال میں حج واجب نہ ہو او روہ اُسی حال میں حج کر لے ، اُس کے بعد اُس پرحج واجب ہو جائے (تو اُس پر حج لازم نہ ہو گا) مگر چار قسم کے لوگ اِس حکم میں داخل نہیں : (1) بچہ، (2) مجنون، (3) غلام، (4) کافر۔ لہٰذا اُسے چاہئے کہ وہ فرض کی ادائیگی کی نیّت سے حج کرے تاکہ اُس کا فرض ادا ہو جائے اور اگر وہ مطلق نیّت سے حج کرے گا تو بھی فرض ادا ہو جائے گا مگر جب اُس نے نفل کی نیت کی تو اس کا حج نفل ہو گا کیونکہ اُس کا حج فرض تب واقع ہو گا جب وہ نفل یا نذر کی نیّت نہ کرے ، چنانچہ امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن ہمام لکھتے ہیں :

بخلاف الفقیر إذا حجّ حیث یقع عن الفرض إن لم ینو النفل مع أنہ لا یأثم بترکہ،لأنہ افترض علیہ حین صار داخل المواقیت (132)

یعنی، بر خلاف فقیر کہ جب وہ حج کرے تو ا س کا حج فرض واقع ہوتا ہے اگر وہ نفل کی نیت نہ کرے باوجویکہ وہ ترکِ حج کی وجہ سے گنہگارنہیں ہوتا، کیونکہ اس پر حج اس وقت فرض ہوا جب وہ داخل المواقیت ہوا۔ اور مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

آنچہ گفتیم کہ اگر حج کرد فقیرے در حال فقر اُو یا کسی کہ واجب نیست حج بروی در حال عدم وجوب حج براُو و بعد ازان غنی شُد یا واجب گشت حج بروی جائز گردد حج اُو از حج اسلام، آن وقتی ست کہ نیّت کردہ باشد در وقت احرام خود حج فرض را یا مطلق حج را، اما اگر تقیید نمود بحج نفل یا نذر پس واقع نہ گردد حج سابق از حج ِ اسلام (133)

یعنی ، ہم نے جو یہ کہا کہ فقیر اگر اپنی حالتِ فقر میں حج کرے یا وہ شخص جس پر حج واجب نہیں وہ حالت عدم وجوبِ حج میں حج کرے اُس کے بعد وہ مالدار ہو جائے یا اُس پر حج واجب (فرض) ہو جائے تو اس کا حج (سابقہ) حجِ اسلام سے جائز ہو جائے گا، یہ اُس وقت ہے کہ اُس نے اپنے احرام کے وقت حجِ فرض یا مطلق حج کی نیت کی ہو، اور اگر اُس نے اپنے حج کو نفل یا نذر (مَنَّت) کے ساتھ مقید کر لیا تو اُس کا سابق حج، حجِ اسلام واقع نہ ہو گا۔ اور استطاعت کے تحقّق کی وجہ سے جو حج اُس کے ذمے فرض ہوا وہ باقی رہے گا چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی ’’لباب المناسک‘‘(134) میں اور اُس کی شرح میں ملا علی القاری (135) لکھتے ہیں اور اُن سے علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی (136) نقل کرتے ہیں :

فی ’’اللباب‘‘ : الفقیر الآفاقی إذا وصل إلی میقات فہو کالمکّی قال شارحہ… و لیفید أنہ یتعین علیہ أن ینوی حج الفرض لیقع عن حجۃ الإسلام و لا ینوی نفلاً علی زعم أنہ فقیر لا یجب علیہ الحج و ہو آفاقی، فلما صار کالمکّی وجب علیہ، فلو نوی نفلاً لزمہ الحجّ ثانیاً، و لو أطلق یصرف إلی الفرض و اللفظ للقاری

یعنی، ’’لباب‘‘ میں ہے کہ فقیر آفاقی جب میقات کو پہنچ گیا تو وہ مثل مکی کے ہے ، اس کے شارح (مُلّا علی القاری) فرماتے ہیں … چاہئے کہ (مندرجہ بالا عبارت) اِس کا فائدہ دے کر اُس پر متعین ہو گیا کہ وہ حج فرض کی نیّت کرے تاکہ اُس کا حج حجۃ الاسلام واقع ہو جائے ، اِس زعم کی بناء پر کہ وہ فقیر ہے ، اُس پر حج فرض نہیں وہ نفل کی نیّت نہ کرے کیونکہ اُس پر حج فرض نہ تھا اِس حال میں کہ وہ آفاقی تھا ، پس جب وہ مکی کی مثل ہو گیا تو جب اُس پر فرض ہو گیا، پس اگر اُس نے نفلی حج کر لیا تو اُس پر واجب ہے کہ وہ دوبارہ حج کرے (137) او راگر مطلق حج کیا تو (اُس کا حج) فرض حج کی طرف پھر جائے گا (یعنی فرض حج ادا ہو جائے گا)۔ مخدوم عبدالواحد سوستانی حنفی متوفی 1224ھ سے یہی سوال ہوا تو آپ نے لکھا کہ ا س کا حج فرض واقع ہو گا چنانچہ وہ سوال اور اُس کا جواب مندجہ ذیل ہے :

سوال : ما قولُہم فی حجّ الفقیر الآفاقی ہل یقع حجّہ عن الفرض إذا أیسر أم لا ؟ بینوا توجروا جواب : الظاہر أنہ یقع عن الفرض لما فی ’’خزانۃ المفتین‘‘ : الفقیر إذا حجّ ماشیاً ثم أیسر لا حجّ علیہ، و فی ’’العالمگیریۃ ‘‘الفقیر إذا حجّ ماشیاً ثمّ أیسر لا حجّ علیہ ، کذا فی ’’فتاویٰ قاضی خان‘‘، فی ’’عقد اللآلی‘‘ و من حجّ وہو فقیر ثم استغنی لم یجب علیہ حجّۃ أخریٰ انتہیٰ، فإن قلت : قدر تقرّر أن الحریّۃ و البلوغ و القدرۃ علی الزاد و الراحلۃ کلّہا شرائط الوجوب کما فی ’’العالمگیریۃ‘‘ و غیرہا، و قد ذکروا أن الصبی و العبد لو حجّا، ثم زال الصبا و الرّق فعلیہما حجّۃ الإسلام، ففی ’’خزانۃ المفتین‘‘ لو حجّ الصبی کان علیہ حجّۃ الإسلام إذا بلغ، و لو حجّ قبل العتق مع المولی لا یجوز عن حجّۃ الإسلام و علیہ الحجّ إذا اعتق انتہیٰ، فما الفرق بین الفقیر و أخویہ بعد اشتراک جمیعہم فی عدم وجود شرط الوجوب فی حقّہم حیث حجّ الأول من الفرض دون أخویہ، قلت لم أر إلی الآن من تصدّی للفرق بینہم لکن یمکن أن یقال فی وجہ الفرق بینہما : أن الفقیر إذا حضر فی أشہر الحجّ بمکۃ یصیر الحجّ فرضا ً علیہ بعارض الحضور لوجود الاستطاعۃ کما فی ’’فرائض الإسلام‘‘ حیث قال : قد یصیرالحجّ فرضاً بعارض علی غیر المستطیع کنذرٍ و قضائٍ بعد فواتٍ، أو فسادٍ، أو إحصارٍ بعد ما شرع فیہ بمباشرۃ الإحرام أو دخول الفقیر أول مرّۃ فی أشہر الحجّ بمکۃ أو داخل المواقیت و لو بغیر إحرام کما صرّح بہ الملا علی القاری فی شرح ’’المنسک المتوسط‘‘ فی موضعین منہ، انتہیٰ، فیوجہ حجّ الفقیر بعد حضورہ بمکۃ بصفۃ الفرضیۃ فیقع عن حجۃ الإسلام و أما الصبیّ و العبد فلا یجب علیہما الحجّ أصلاً و لو کانا بمکۃ فلو حجّا یکون تطوّعاً فلا یقوم مقام الفرض، لأن الصبیّ غیر مکلّف و الحجّ عبادۃ و العبادات بأسرّہا موضوعۃ عن الصبیان کما فی ’’الہدایۃ ‘‘فحجّہ یکون تطوّعاً صرّح بہ فی ’’العالمگیریۃ‘‘ حیث قال : لو أن الصبیّ حجّ قبل البلوغ لا یکون ذالک من حجّۃ الإسلام و یکون تطوّعاً و فی ’’فرائض الإسلام ‘‘لا یقع حجّ الصبیّ و لو عاقلاًعن الفرض بل یقع نفلاً انتہیٰ، و العبد و إن کان مکلّفاً بسائر الفرائض لکن لعدم ملکہ وفوت حق المولی لا یجب علیہ الحجّ و لو کان بمکۃ صرّح بہ فی ’’البحر‘‘ حیث قال : و لا حجّ علی عبدٍ (138) أو مدبّرٍ أو أم ولدٍ أو مکاتبٍ أو مبعضٍ أو ماذونٍ فی الحجّ و لو کان بمکۃ لعدم ملکہ لفوات حق المولی، و المولی و إن أذن لہ فحقّہ إعارۃ منافعہ و الحج لا تجب بقدرۃٍ عاریۃٍ انتہیٰ فیقع حجّہ نفلاً صرّح بہ فی ’’فرائض الإسلام‘‘ حیث قال لو حجّ المملوک کلاّ أو بعضًا ولو بإذن مالکہ لا یقع فرضاً بل نفلاً، انتہیٰ، و قد تقرّر أن النفل لا یقوم مقام الفرض، و أیضاً قد ورد التصریح فی الحدیث بعدم اعتداد حجّ الصبیّ و العبد ،عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال : قال رسول اللہ ﷺ : ’’أَیُّمَا صَبِیِّ حَجَّ، ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ، فَعَلَیْہِ أَنْ یَّحُجَّ حِجَّۃً أُخْریٰ، وَ أَیُّمَا أَعْرَابِیٌّ حَجَّ، ثُمَّ ہَاجَرَ، فَعَلَیْہِ أَنْ یَّحُجَّ حَجَّۃً أُخْریٰ، وَ أَیُّمَا عَبْدٍ حَجَّ، ثُمَّ أُعْتِقَ، فَعَلَیْہِ أَنْ یَحُجَّ حَجَّۃً اُخْریٰ‘‘ رواہ الحاکم، و قال : صحیح علی شرط الشیخین، و المراد بالأعرابی الذی لم یہاجر من لم یسلم کما فی ’’الفتح‘‘ ، و فی
’’الہدایۃ‘‘ إنما شرط الحرَّیۃ و البلوغ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام : ’’أَیُّمَا عَبْدٍ حَجَّ عَشْرَ حِجَجٍ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَیْہِ حِجَّۃُ الْإِسْلَامِ، وَ أَیُّمَا صَبِیِّ حَجَّ عَشْرَ حِجَجٍ، ثُمَّ بَلَغَ فَعَلَیْہِ حَجَّۃُ الْإِسْلَامِ، انتہیٰ‘‘، و بما حرّرنا ظہر الفرق بین الفقیر فی قیام حجّہ مقام الفرض، و بین العبد و الصبی فی عدم وقوع حجّہما من حجّۃ الإسلام من وجہین، أحدہما عقلی و ہوأن الفقیر و إن لم یجب علیہ الحجّ لعدم استطاعتہ لکن إذا حضر بمکۃ فی موسم الحجّ فقد وجب علیہ ہناک فیقع حجّہ فرضاً فیقوم مقام حجّۃ الإسلام ویؤیّدہ ما فی ’’متانۃ الروایات‘‘ فی ’’الخوارزمی‘‘ : الفقیر الذی یحجّ حجّۃ الإسلام یقع فرضاً لأنہ لما أتی مکۃ صار مستطیعاً فیفرض علیہ حتی لو ترکہا یأثم، و أما الصبیّ و العبد فلا یجب علیہما الحجّ أصلاً سواء کانا بمکۃ أو غیرہا فلا یقوم حجّہما مقام الفرض، و الفرق أن الفقیر یجب علیہ الحجّ بمکۃ لوجود الاستطاعۃ، و العبد و الصبیّ لم یجب علیہما و لو کانا بمکۃ لعدم التکلیف فی الصبیّ و عدم الملکیۃ و فوت حق المولی فی العبد، و الثانی نقلی : وہو وجود الحدیث الناطق بوجوب حجۃ أخری فی العبد و الصبیّ و عدم وجود مثل ذلک فی الفقیر فافہم فإنہ نفیس لا یوجد فی کتاب۔ واللّہ الملہم للصواب (139)

یعنی ، سوال : فقیر آفاقی کے بارے میں فقہاء کرام کا کیا فرمانا ہے جب وہ مالدار ہو جائے تو کیا اُس کا حج فرض واقع ہو جائے گا یا نہیں ؟ بیان کیجئے اور اجر پائیے ۔ جواب : ظاہر ہے کہ اُس (فقیر آفاقی) کا حج ِ فرض واقع ہو گا ، اِس لئے کہ ’’خزانۃ المفتین‘‘(140)میں ہے کہ فقیر آفاقی جب پیدل حج کر لے پھر مالدار ہو جائے تو اس پر حج لازم نہیں ہے اور ’’فتاویٰ عالمگیریہ ‘‘(141)میں ہے کہ فقیر جب پیدل حج کر لے پھر مالدار ہو گیا تو اس پر حج لازم نہیں ہے ، اسی طرح ’’فتاویٰ قاضی خان‘‘(142) میں ہے ۔ ’’عقد اللآلی‘‘ میں ہے کہ جس نے حج کیا اِس حال میں کہ وہ فقیر تھا پھرمالدار ہو گیا تو اُس پر دوسرا حج واجب نہیں ہو گا۔ انتہیٰ، فَاِنْ قُلْتَ : (پس اگر تو اعتراض کرے ) کہ ثابت ہے کہ آزادی ، بلوغ اور زا د و سواری پر قدرت تمام وُجوبِ حج کی شرائط ہیں جیسا کہ ’’عالمگیریہ‘‘(143) وغیرہا میں ہے اور انہوں نے ذکر کیا کہ بچہ اور غلام اگر حج کر لیں پھر (بلوغت سے ) بچپن اور (آزادی سے ) غلامی زائل ہو جائے تو اُن دونوں پر حجۃ الاسلام لازم ہے ۔ تو ’’خزانۃ المفتین‘‘(144)میں ہے کہ بچے نے اگر حج کیا تو جب بالغ ہو تو اُس پر حجۃ الاسلام لازم ہے ، اور غلام نے آزادی سے قبل اپنے مولیٰ کے ساتھ حج کیا تو اس کا حج حجۃ الاسلام سے جائز نہیں اور اس پر حج لازم ہے جب وہ آزاد ہو، انتہیٰ۔ تو اُن کے حق میں شرطِ وُجوب کے نہ پائے جانے کے اشتراک کے بعد فقیر اور دوسروں (یعنی بچہ اور غلام) میں کیافرق ہے ؟ جب کہ پہلے کا (یعنی فقیر کا حالتِ فَقر میں کیا ہوا حج) فرض سے ہے سوائے دوسروں کے ۔ قُلْتُ (میں کہتا ہوں ) کہ میں نے اب تک کسی کو نہیں دیکھا کہ کوئی اِن میں فرق بیان کرنے کے درپے ہوا ہو، لیکن ممکن ہے اِن میں فرق کی وجہ کے بیان میں کہا جائے کہ فقیر جب حج کے مہینوں (یعنی شوال، ذو القعدہ، اور ذوالحجہ کے دس دنوں ) میں مکہ حاضر ہوا تو اُس پر حضور (مکہ) کے عارض ہونے ، استطاعت کے پائے جانے کی وجہ سے حج فرض ہو گیا جیسا کہ( مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی، متوفی1174ھ نے اپنی کتاب)’’فرائض الإسلام‘‘(145)میں ہے کہا کہ کبھی غیرمُستطیع(استطاعت نہ رکھنے والے ) پر کسی عارض کی وجہ سے حج فرض ہو جاتا ہے جیسا مَنّت سے اور فواتِ حج کے بعد قضاء سے یا فساد حج کے بعد قضاء سے یا احرام باندھنے کے بعد محصور ہوجانے سے ، یا حج کے مہینوں میں فقیر کے مکہ معظمہ یا مواقیت کے اندر داخل ہونے کی وجہ سے اگرچہ داخلہ بغیر احرام کے ہو جیسا کہ ملا علی القاری نے ’’شرح المنسک المتوسط‘‘ (146) میں اس کی دو جگہ تصریح کی ہے ، انتہیٰ۔ تو فقیر کا حج مکہ مکرمہ حاضر ہونے کے بعد صفتِ فرضیت کے ساتھ ہو جاتا ہے اور حجۃ الاسلام سے واقع ہو تا ہے مگر بچہ اور غلام تو ان پر اصلاً حج فرض نہیں اگرچہ وہ دونوں مکہ معظمہ میں ہوں ،پس اگر وہ حج کریں گے تو ان کا حج نفل واقع ہو گا اور نفل فرض کے قائم مقام نہیں ہوتا کیونکہ بچہ غیر مکلف ہے اور حج عبادت ہے اور عبادت اصلاً بچوں سے اٹھائی گئی ہیں جیسا کہ ’’ہدایہ‘‘ (147) میں ہے تو اس کا حج نفل واقع ہو گا، ’’فتاویٰ
عالمگیریہ‘‘(148)میں اِس کی تصریح کی جب کہ کہا ’’بچہ اگر بلوغ سے قبل حج کرے تو اس کا حج حجۃ لاسلام نہ ہو گا اور وہ نفل ہوتا ہے ۔ اور (مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی کی کتاب) ’’فرائض الإسلام‘‘(149) میں ہے کہ بچے کا حج فرض واقع نہیں ہوتا اگرچہ بچہ عاقل ہو بلکہ اس کا حج نفل واقع ہوتا ہے ، انتہیٰ۔ اور غلام اگرچہ تمام فرائض کامُکلَّف ہے لیکن اُس کی عدمِ ملک اور حقِ مولیٰ کے فوت ہونے کی وجہ سے اُس پر حج واجب نہیں اگرچہ وہ مکہ معظمہ میں ہو۔ ’’بحر الرائق‘‘(150)میں اس کی تصریح کی جب کہ کہا کہ عبد (غلام) یا مُدبَّر یا اُمِّ ولد یا مُکاتَب، مُبعض، ماذون فی الحج پر حج نہیں عدمِ ملک او رحقِ مولیٰ کے فوات کی وجہ سے اگرچہ وہ مکہ معظمہ میں ہو، مولیٰ نے اگرچہ اُس کی اجازت دے دی ہو تو اُس کا حق اُس کے منافع کا اعارہ ہے اور حج عاریۃً لی ہوئی قدرت سے واجب نہیں ہوتا، انتہیٰ۔ تو اس کا حج نفلی واقع ہو گا اس کی (مخدوم ہاشم ٹھٹھوی نے ) ’’فرائض
الإسلام‘‘(151) میں تصریح کی جب کہ فرمایا اگر کُلی یا جزوی مملوک نے حج کیا اگرچہ اپنے مالک کے اِذن سے کیا تو اس کا حج فرض واقع نہ ہوا بلکہ نفل ہوا، انتہیٰ۔ اور ثابت ہے کہ نفل فرض کے قائم مقام نہیں ہوتا اور حدیث شریف میں بچے اور غلام کے حج کو (فرض سے ) شمار نہ کرنے کی تصریح بھی وارد ہوئی ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا : ’’جس بچے نے حج کیا پھر وہ بالغ ہوا تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا حج کرے ، اور جس اعرابی نے حج کیا پھر اس نے ہجرت کی تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا حج کرے اور جس غلام نے حج کیا پھر وہ آزادہوا تو اُس پر لازم ہے کہ دوسرا حج کرے ‘‘۔ اسے امام حاکم نے روایت کیا(152) اورفرمایا کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے ، اور اعرابی سے مراد وہ ہے جس نے نہ ہجرت کی نہ اسلام لایا، جیسا کہ ’’فتح القدیر‘‘(153) میں ہے اور ’’ہدایہ‘‘(154) میں ہے کہ حُریت اور بلوغ کی شرط نبی کریم اکے اس فرمان کی وجہ سے ہے کہ ’’جس غلام نے دس حج کئے پھر آزاد ہوا تو اُس پر حَجۃ الاسلام لازم ہے ، جس بچے نے دس حج کئے پھر بالغ ہوا تو اُس پر حَجۃ الاسلام لازم ہے ‘‘، انتہیٰ۔ اور جو ہم نے تحریر کیا اُس سے فقیر کا حج فرض کے قائم مقام ہونے اور غلام اوربچے کا حج حجۃ الاسلام سے واقع نہ ہونے کے مابین فرق دو وُجوہ سے ظاہر ہو گیا، اُن میں سے ایک وجہ عقلی ہے اور وہ یہ کہ فقیر پر اگرچہ اُس کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اُس پر حج واجب نہیں لیکن جب وہ موسمِ حج میں مکہ حاضر ہوا تو اس پر وہاں واجب ہو گیا اور اس کا حج فرض واقع ہوا تو حَجۃ الاسلام کے قائم مقام ہو جائے گا اور اس کی تائید اس سے ہو جاتی ہے جو ’’متانۃُ الروایات‘‘(155) میں ہے : ’’خوارزمی‘‘(156) میں ہے کہ فقیر حجۃ الاسلام کرتا ہے تو فرض واقع ہو جاتا ہے کیونکہ جب وہ مکہ آیا تو مُستطیع ہو گیا تو اس پر حج فرض ہو گیا یہاں تک کہ اگر وہ اُسے ترک کرے گا تو گنہگار ہو گا، مگر بچہ اور غلام تو اُن پر اصلاً حج فرض نہیں ، چاہے وہ دونوں مکہ میں ہوں یا غیر مکہ میں تو ان کا حج فرض کے قائم مقام نہ ہو گا۔ اور فرق یہ ہے کہ بے شک فقیر پر حج مکہ میں وجودِ استطاعت کی وجہ سے واجب ہے اور غلام اور بچے پر واجب نہیں اگرچہ وہ دونوں مکہ میں ہوں ، بچے میں مُکلّف نہ ہونے کی وجہ سے اور غلام میں عدم ملکیت اور مولیٰ کا حق فوت ہو جانے کی وجہ سے ۔ دوسری وجہ نقلی ہے اور وہ حدیث شریف جو غلام اور بچے کے حق میں (غلام کے آزاد ہونے اور بچے کے بالغ ہونے کے بعد)دوسرے حج کے وُجوب کے ساتھ ناطق ہے اور فقیر کے حق میں اُس کی مثل کا عدمِ وُجود ہے (یعنی اُس کی مثل کوئی حدیث شریف موجود نہیں ہے )۔ پس خوب سمجھ کیونکہ یہ ایک نفیس مسئلہ ہے جو کسی کتاب میں نہیں پایا جاتا۔ واللہ الملہم للصواب

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعۃ 8شوال المکرم 1427 ھ، 1نوفمبر 2006 م (239-F)

حوالہ جات

106۔ یعنی جو حُدودِ میقات سے باہر کا رہنے والا ہو۔

107۔ ال عمران : 3/97

108۔ مجمع الأنھر شرح ملتقی الأبحر، کتاب الحج، 1/385

109۔ لباب المناسک ،باب شرائط الحج، ص63

110۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب شرائط الحج، تحت قولہ : السادس الاستطاعۃ، ص55

111۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالۃ، فصل دویم دربیان شرائط حج، نوع اول در ذکر شرائط وُجوب حج، ص25

112۔ فتح القدیر، کتاب الحج، تحت قولہ : ثم قیل ھو، 2/329

113۔ مجمع الأنھر، کتاب الحج، تحت قولہ : وقدرۃ زاد وراحلۃ، 1/385

114۔ فتح القدیر، کتاب الحج، تحت قولہ : لقولہ علیہ الصّلاۃ والسّلام : أیما عبد،2/325

115۔ فتاوی قاضی خان علی ھامش الفتاوی الھندیۃ، کتاب الحج، 1/281۔282

116۔ الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الأول ،فی تفسیر الحج وفرضیتہ ووقتہ الخ، ص217

117۔ فتح القدیر، کتاب الحج، تحت قولہ : ثم قیل ھو، ص329

118۔ الکفایۃ شرح الھدیۃ مع فتح القدیر، کتاب الحج، تحت قولہ : وأما المقعد، 2/326

119۔ کتاب التجنیس والمزید، کتاب الحج، مسئلۃ (1294)، 2/461

اورانہی میں سے ہے کہ ’’اس میں فقہ یہ ہے کہ ان لوگوں پر حج ان پر شفقت کی وجہ سے واجب نہیں ہے تاکہ انہیں حرج لاحق نہ ہو ، پس جب انہوں نے کرلیا توظاہر ہوگیا اس میں اُن پر حرج نہیں ہے پس واجب ثابت ہوجائے گا۔

120۔ فتح القدیر، کتاب الحج، تحت قولہ : وکذا صحۃ الجوارح، 2/327

121۔ البحرالرائق، کتاب الحج، تحت قولہ : بشرط حریۃ الخ، 2/546

122۔ منحہ الخالق علی البحر الرائق، کتاب الحج، تحت قولہ : کالفقیر اذا الخ، 2/546

123۔ الھدایۃ کتاب الحج، تحت قولہ : لا یجب فی العمر الا سرۃ واحدۃ، 1۔2/162

124۔ تبین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الحج، تحت قولہ : لیس من شرط الوجوب الخ، 2/239

125۔ النھر الفائق شرح کنزالدقائق، کتاب الحج، تحت قولہ : وقدرۃ زاد وراحلۃ، 2/56

126۔ فتح القدیر، کتاب الحج، تحت قولہ : عن المسکن و مالا بال منہ، 2/322

127۔ الھدایۃ، کتاب الصلاۃ، باب المسافر، مع قولہ : فرض المسافر الخ، 1۔2/96، بتغیر یسیر

128۔ العنایۃ شرح الھدایۃ، کتاب الصّلاۃ، باب صلاۃُ السفر، 1/429، (2/6)

129۔ المتانۃ فی المرمۃ عن الخزانۃ، کتاب الحج، ص383

130۔ الکفایۃ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، تحت قولہ : ولئا أن الشفع الثانی الخ، 2/6،7

131۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرّسالۃ، فصل دویم درمیان شرائط حج، نوع دویم در ذکر شرائط وجوب ادا الحج، ص34

132۔ فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، تحت قولہ : وھذا ایۃ النافلۃ، 2/6

133۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالۃ، فصل دویم دربیان شرائط حج، نوع دویم در ذکر شرائط ووجوب ادائِ حج، ص34

134۔ لباب المناسک، باب شرائط الحج، ص63

135۔ المسلک المتقسط فی المنسک، باب شرائط الحج، ص56۔57

136۔ ردُّ المحتار، کتاب الحج، مطلب : فیمن حج بمال حرام، تحت قولہ : للآفاقی تنبیہ، 3/525۔526

137۔ اور امام شافعی کے نزدیک اگر فقیر آفاقی نے نفل کی نیت کی توبھی حج فرض سے واقع ہوگا۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب شرائط الحج، تحت قولہ : الفقیر الآفاقی الخ، ص57)

138۔ وفی البحر الرائق ولو مدّبّراً أو أم ولد أو مکاتباً أو مبعضاً أو مأذونا۔ (کتاب الحج، 2/544)

139۔ فتاوی واحدی، کتاب الحج، 1/333،334

140۔ خزانۃ المفتین، کتاب الحج : ق47/ب

141۔ الفتاوی الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الاول فی تفسیرہ وفرصیتہ الخ، 1/217

142۔ قاضیخان علی ھامش الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الحج، 1/281۔282

143۔ الفتاوی الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الأول فی تفسیرہ وفرصیتہ الخ، 1/217

144۔ خزانۃ المفتین، کتاب الحج، ق47/أ، ب

145۔ فرائض الاسلام ، الکتاب الثانی فی الفروض العملیۃ، الباب الأھلہ فی الفروض العین، القسم الأول : فی الفروض الأرکان الخ، الفصل السادس عشر فی الفروض المتعلقۃ بالحج، ص199

146۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب شرائط الحج، تحت قولہ : السادس الاستطاعۃ، وتحت قولہ : و الفقیر الآفاقی الخ، ص57

147۔ الھدایۃ، کتاب الحج، 1۔2/ 161، وفیہ لأنہ عبادۃ والعبادات بأسرھا موضوعۃ عن الصبیان

148۔ الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الأول : فی تفسیرہ فرضیتہ الخ، 1/217

149۔ فرائض الاسلام، الکتاب الثانی فی الفروض العملیۃ، الباب الأول علی الفروض العین : القسم الأول فی فروض الأرکان، الفصل السّادس عشر فی فروض الحج، الصنف : الثالث، ص209

150۔ البحرالرائق، کتاب الحج، تحت قولہ : بشرط حریۃ الخ، 2/544

151۔ فرائض الاسلام، الکتاب الثانی فی الفروض العملیۃ، الباب الأول علی الفروض العین : القسم الأول فی فروض الأرکان، الفصل السّادس عشر فی فروض الحج، الصنف : الثالث، ص209

152۔ المستدرک للحاکم، کتاب المناسک، باب حج الصبۃ والاعرابی،برقم : 1812، 2/144، بلفظ آخر

153۔ فتح القدیر، کتاب الحج، تحت قولہ : لقولہ علیہ السلام أیما بعد، 2/325

154۔ الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، کتاب الحج، 1۔2/161

155۔ المتانۃ فی المرمۃ عن الخزانۃ، کتاب الحج، ص383

156۔ الکفایۃ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، تحت قولہ : ولئا أن الشفع الثانی الخ، 2/6،7

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button