مضامین

فقہی قواعد کی تاریخ تدوین کا خاکہ اور اہم کتب

فقہی قواعد کی تاریخ تدوین کا خاکہ اور قواعد فقہیہ کی مرحلہ وار اہم کتب کا تذکرہ

فقہی قواعد  کی تاریخ تدوین کا خاکہ اور اہم کتب

فقہی قواعد کی تاریخ کو ہم تین مراحل میں تقسیم کر سکتے ہیں :

پہلا مرحلہ : آغاز اور نشونما  کا مرحلہ.

دوسرا مرحلہ : فروغ اور تدوین کا مرحلہ.

تیسرا مرحلہ : رسوخ اور تنسیق کا مرحلہ.

پہلا مرحلہ : آغاز اور نشونما کا مرحلہ.

ہر شرعی علم کا  اساسی زمانہ تشریعی  دور ہوتا ہے اور قواعد فقہیہ کا وجود معنى اور مدلول کے اعتبار سے  تشریعی دور میں پایا جاتا ہے   قران مجید کے بعض الفاظ نیز احادیث مبارکہ کے بعض جملے فقہی قواعد یا شرعی قواعد کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ قواعد فقہیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مختصر اور بہترین اسلوب  میں ڈھالا ہوا ہوتا ہے اور قران کریم  تو سب سے زیادہ فصیح وپر بلیغ  اور حسن اسلوب کا مجسم ہے اسی طرح  کلام رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا عالم تو یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو جوامع الکلم  کی صفت عطا فرمائی تھى.

چند احادیث رسول صلى اللہ علیہ وسلم جو قواعد کی حیثیت رکھتے ہیں

  • آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إنما الأعمال بالنيات.
  • آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: الخراج بالضمان .
  • آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا ضرر ولا ضرار .
  • آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : البينة على المدعي واليمين على من أنكره غیرہ .

اگر آپ سنت مطہرہ کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو  اس طرح کے قواعد سے سنت نبوی  پر نظر آئے گا

نیز اس طرح کے اقوال جو قواعد کی حیثیت رکھتى ہے صحابہ کرام اور تابعین عظام کے کلام اور فتاوے میں بھی عیاں نظر آتاہے ہم نیچے صحابہ کرام کے چند اقوال نقل کر رہے ہیں .

  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مقاطع الحقوق عند الشروط .
  • حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : كل شيئ في القرآن أو أو فهو مخير , كل شيء فإن لم تجدوا فهو الأول فالأول.
  • حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : من قاسم الربح فلا ضمان عليه .

اسی طرح سے تابعین عظام کے بھی کچھ ایسے اقوال ملتے ہیں جو قواعد کی حیثیت رکھتے ہیں.

  • قاضی شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں : من ضمن مالا فله ربحه  اسی طرح  ان کا فرمان ہے: لا يقضى على غائب.
  • ابراہیم نخعی کا بیان ہے : كل قرض جر نفعا فهو ربا.
  • عطاء رحمہ اللہ کا فرمان ہے :إذا اختلف قول الراهن والمرتهن فالقول قول الراهن”  

 اس طرح کے بہت سارے ایسے الفاظ فقہاء اور مفتیان کرام کے زبان پہ جاری ہوتے ہیں جو قواعد اور ضوابط کا کردار ادا کرتے ہیں, واضح رہے کہ مذکورہ بالا کے   اکثر نقول قاعدہ سے زیادہ ضابطہ کی تعریف ان پر بہت زیادہ فٹ آتی ہے .

  دوسرا مرحلہ : فروغ اور تدوین کا مرحلہ.

مختلف اسلوب کے الفاظ جو فقہی قواعد کی حیثیت رکھتے ہیں فقہاء کرام اور مجتہدین کی عام گفتگو  ان کے  حلقہ درس وتدریس کے دوران تیسری صدی کے آخر اور چوتھی صدی کے آغاز  تک   ان کی زبانوں میں جاری رہے

جب چوتھے صدی ہجری میں تقلید کا پودا اپنی ساخت   پر کھڑا ہونا شروع کردیا  اور لوگوں کے وہم وگمان کى مطابق اجتہاد کی روشنی بجھنے لگی اور علماء کرام کے عزائم ماند پڑ گئے لوگ اپنے اپنے مذہب کی تایید اور نصرت میں مر مٹنے  لگے  اور تقلید کی مالا پہنے کی وجہ سے جب ان کے لئے نئے مسائل کو امام کے بتائے  اقوال سے تخریج کرنے کے سوا اور کچھ راہیں نظر نہ آئی  تو انہوں نے اپنے ائمہ کى اقوال کو قواعد اور ضواب۔  کی حیثیت دینے کو کوشش کی اور اسی کے مطابق مسائل کو قیاس کرتى جلے گئے

یہاں تک کہ سب سے پہلے امام ابو الحسن الکرخی [ متوفی ۳۴۰ھ] نے کتابی شکل میں فقہی قواعد کو ایک جگہ جمع کیا  اور اس کو  "الأصول التي عليها مراد كتب "کے نام سے موسوم کیا جو اصول کرخی کے نام سے مشہور ہے

امام علائی شافعی اور ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں کہ امام ابو طاہر الدباس جو چوتھی صدی ہجری کے فقہاء میں سے ہیں انہوں نے مذہب امام ابو حنیفہ کے سترہ اہم قاعدے کو جمع کیا  اور چونکہ وہ نا بینا تھے  اسلئے ہر رات جب لوگ نماز پڑھ کر مسجد سے  نکل جاتے تھے تو  وہ مسجد میں بیٹھ کر زبانی ان قواعد کو دہراتے تھے لیکن یہ سارے قواعد مدون نہیں تھے .

پھر امام محمد بن حارث الخشنی مالکی [ متوفی۴۶۱ھ] آئے اور ” أصول الفتيا” کے نام سے قواعد کی ایک کتاب لکھی پھر اس کى بعد ابو زید الدبوسی [ متوفی ۴۳۰ھ] نے” تأسيس النظر” کے نام سے فقہی قواعد میں ایک اور کتاب تصنیف کی اس بعد اس فن تالیف وتصنیف کا سلسلہ جاری ہو گیا  چنانچہ امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی [متوفی ۵۴۰ھ]”إيضاح القواعد” کے نام سے امت کو ایک نیا تحفہ دیا پھر علامہ محمد بن ابراہیم الجاجرمی السہلکی [ متوفی ۶۱۳ھ] نے "القواعد في فروع الشافعي” تألیف کی اس کےبعد امام عز الدین بن عبد السلام آئے اور” قواعد الأحكام في مصالح الأنام "کے نام سے ایک بہت ہی مشہور ومعروف کتاب مرتب کئے   پھر اس کے بعد علامہ محمد بن عبد اللہ بن راشد البکری القفصی [ متوفی ۶۸۵ھ] آئے اور انہوں نے بھی”  المذهب في ضبط قواعد المذهب " کے نام ایک کتاب تصنیف کی.

پھر اس کے اٹھویں صدی ہجری کا آغاز ہوتا ہے جو فقہی قواعد کی تدوین  کا سنہرا زمانہ شمار کیا جاتاہے   جس میں شافعی علماء کرام نے اس فن بڑے ہی کر وفر کیساتھ اس فن کو اجاگر کیا نیز دوسرا مذاہب کے علماء کرام بھی اس میں شرکت کی اور تالیف وتصنیف کا سلسلہ رواں دواں رہا  ہم ذیل میں اس صدی کے اہم اور مشہور تالیفات کا ذکر کررہے  ہیں.

  • الأشباه والنظائر     ابن الوکیل شافعی [۷۱۶ھ] کی.
  • القواعد النورانية  شیخ الاسلام ابن تیمیہ [متوفی ۷۲۸ھ] کی.
  • كتاب القواعد  مقری مالکی [۷۵۸ھ] کی.
  • المجموع المذهب في ضبط قواعد المذهب امام علائی شافعی [ متوفی۷۶۱ھ] کی.
  • الأشباه والنظائر تاج الدین سبکی [ متوفی ۷۷۱ھ] کی.
  • الأشباه والنظائر جمال الدین اسنوی [ متوفی ۷۷۲ھ] کی.
  • المنثور في القواعد  بدر الدین زرکشی [ متوفی ۷۹۴ھ] کی .
  • تقريرالقواعد و تحرير الفوائد   ابن رجب حنبلی [ متوفی ۷۹۵ھ] کی.

اس کے بعد نویں صدی ہجری فقہی قواعد کی تالیف اور تصنیف میں ایک نرالی   رنگ لاتی ہے ہم ذیل میں اس میں تالیف شدہ  چند اہم اور معروف کتابوں کا نام ذکر کر رہے ہیں.

  • الأشباه والنظائر علامہ ابن الملقن [ متوفی ۸۰۵ھ] کی .
  • أسنى المقاصد في تحرير القواعد محمد بن محمد زبیری [۸۰۸ھ] کی.
  • القواعد المنظومة  ابن الہائم مقدسی [متوفی ۸۱۵ھ] کی.
  • كتاب القواعد تقی الدین حصنی [۸۲۹ھ] کی.
  • نظم الذخائر في الأشباه والنظائر عبد الرحمن بن علی مقدسی جو شقیر کے نام سے مشہور ہیں  [۸۷۶ھ] کی.
  • القواعد والضوابط ابن عبد الہادی [متوفی ۸۸۰ھ] کی.

پھر دسویں صدی ہجری میں بھی اس فن میں بہت ساری کتابیں لکھی گئی  مگر ان میں دو کتاب کو بہت ہی زیادہ شہرت ملی  وہ دو کتاب یہ ہیں:

  • الأشباه والنظائر علامہ سیوطی شافعی[متوفی ۹۱۱ھ] کی.
  • الأشباه والنظائر ابن نجیم حنفی [ متوفی ۹۷۰ھ] کی.

واضح رہے کہ اس مرحلے میں اس فن کی جتنی کتابیں لکھی گئ ہیں وہ محض فقہی قواعد پر مشتمل نہیں ہے بلکہ قواعد فقہیہ کے ساتھ ساتھ اصولی قواعد اور دیگر فقہی فنون پر بھی مشتمل ہیں.

تیسرا مرحلہ : رسوخ اور تنسیق  کا  مرحلہ.

یہ مرحلہ گیارہویں صدی ہجری کے آغاز سے شروع ہوتاہے  جس میں  سابقہ دو مرحلے  کے منشر قواعد کو  اصولی قواعد اور دیگر چیزوں سے الگ کر کے  خالص قواعد فقہیہ کو حسن پیرائے  اور پر کشس عبارت کے قالب میں ڈھال کر اس کی شرح اور فقہی مسائل کو اس پر تخریج کی گئی ہے چنانچہ اس مرحلہ میں تیرہویں صدی ہجری کے اخیر میں  [۱۲۸۷ھ] ” مجلة الأحكام العدلية”کے نام سے ایک عظیم کتاب نمودار ہوتی ہے جس کا مقدمہ ۹۹  فقہی  قواعد پر مشتمل ہے

نیز اس مرحلہ میں اس فن کی ایسی کتابیں تالیف کی گئی جو اس فن کی کسی خاص اور متعین کتاب  جیسے   الاشبابہ والنظائر سیوطی اور ابن نجیم کی یا مجلۃ الأحکام العدلیہ سے تعلق رکھتی ہیں .

چنانچہ سیوطی کی کتاب الأشابہ والنظائر سے متعلق متعدد کتابیں لکھی گئی منجملہ ان میں سے چند کتابیں ذیل  میں ذکر کی جاتی ہے.

  • الفرائد البهية في القواعد الفقهية تہامی حسینی کی ہے جس میں انہوں نے الاشباہ والنظائر کو نظم بنا کر پیش کیا. اس نظم کی تقریبا پانچ سے زیادہ شرح لکھی گئی ہے.
  • الأقمار المضية في القواعد الفقهية ضیاء الدین  عبدالہادی اھدل کی ہے جو سیوطی کی کتاب  الأشباہ والنظائر کی تلخیص ہے.

ابن نجیم کی کتاب الاشباہ والنظائر سے متعلق لکھی گئی کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ڈاکٹر یعقوب باحسین نے اس سلسلے میں  چالیس کتابوں کا نام گنایاہے ان میں سے چند کتاب مندرجہ ذیل ہیں.

  • ذخيرة الناظر شرح الأشباه والنظائر  طوری حنفی کی کتاب ہے جو ابن نجیم کا شاگرد ہے.
  • غمز عيون البصائر شرح الأشباه والنظائر احمد بن محمد الحموی المصری کی جو ابن نجیم کی کتاب کی شرح ہے.

مجلۃ الاحکام العدلیۃ سے متعلق لکھی گئی چند کتابیں یہ ہیں.

  • شرح المجلة  سلیم رستم باز کی یہ مجلہ کی ایک متمیز اور واضح شرح ہے جو توسع کے پاک ہے یہی وجہ ہے کہ یہ لوگوں میں بہت مقبول ہے.
  • درر الحكام شرح مجلة الأحكام علی حیدر کی جو ترکی میں لکھی گئی  بعد میں اس کا عربی ترجمہ کیا گیا.
  • شرح القواعد الفقهية  شیخ احمد  زرقا کی.

پھر اس کے بعد ایسی تالیفات نمودار ہوئی جو کسی خاص کتاب سے متعلق نہ ہو ان میں سے چند کتابوں نام مندرجہ ذیل ہیں .

  • مجامع الحقائق شرح منافع الدقائق ابو سعید محمد بن مصطفے    خادمی کی ہے  در اصل یہ کتاب اصول فقہ میں ہے مگر مولف نے کتاب کے خاتمہ میں تقریبا ۱۴۵ فقہی قواعد جمع کیا ہے .
  • الفوائد البهية في القواعد الفقهية شیخ محمود بن محمد ابن حمزہ دمشقی کی .
  • قواعد الفقه شیخ عمیم الاحسان بنغلادیشی کی.
  • منظومة القواعد الفقهية  شیخ عبد الرحمن بن ناصر سعدی کی.
  • إيضاح القواعد الفقهية شیخ عبد اللہ بن سعید حضرمی کی.
  • الوجيز في إيضاح قواعد الفقه الكلية  محمد صدقی بورنو کی.
  • القواعد الفقهية شیخ علی بن احمد ندوی کی.
  • القواعد الفقهية   ڈاکٹر محمد حمود وائلی کی.
  • النظريات الفقهية ڈاکٹر محمد وہبہ زحیلی کی.
  • القواعد الفقهية للفقه الإسلامي احمد محمد الحصری کی.
  • موسوعة القواعد الفقهية  محمد صدقی بورنو کی.
  • القواعد الفقهية الكبرى ما تفرع عنها شیخ صالح بن غانم سدلان کی.

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button