ARTICLES

فرض یانفل حج کے لئے بلااجازت شوہرنکلنے کاحکم

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی خاتون پرحج فرض تھااوراسے محرم جیسے باپ یابھائی وغیرہمابھی میسرہے کہ جس کے ساتھ وہ حج کوجاسکتی ہے تواسے حج کوجانے کے لئے شوہرکی اجازت ضروری ہے یا نہیں اوراگرنفلی حج ہوتو کیاحکم ہوگا؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں فرض حج کے لئے اس خاتون کوشوہرکی اجازت مل جائے توبہتر ہے اوراگراجازت نہ ملے تواسے بلااجازت جانابھی جائزہے بشرطیکہ وہ اپنے محرم کے ساتھ جائے ۔چنانچہ علامہ فرید الدین عالم بن علاءانصاری دہلوی متوفی786ھ لکھتے ہیں : اذا وجدت محرما،ولا یاذن لھا زوجھا ان تخرج فلھا ان تخرج بغیر اذنہ فی حجۃ الاسلام۔ ( ) یعنی،جب عورت محرم پائے اوراس کاشوہراسے حج کے لئے نہ نکلنے دے توعورت کے لئے جائزہے کہ وہ فرض حج میں اس کی اجازت کے بغیرنکلے ۔ علامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اورعلمائے ہندکی جماعت نے لکھاہے : عند وجود المحرم كان عليها ان تحج حجة الاسلام، وان لم ياذن لها زوجها۔ ( ) یعنی،محرم موجودہونے کے وقت عورت پرلازم ہے کہ وہ فرض حج کرے ،اگرچہ اس کاشوہراسے اجازت نہ دے ۔ اورنفلی حج کے لئے بلااجازت شوہرجاناجائزنہیں ہے ۔چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی اورعلمائے ہندکی جماعت نے لکھاہے : فی النافلة لا تخرج بغير اذن الزوج۔( ) یعنی،نفلی حج میں عورت بلااجازت شوہرنہ نکلے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم جمعرات،13رمضان1441ھ۔7مئی2020م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button