شرعی سوالات

غیر مملوک کی بیع باطل ہے

سوال:

بیع میں مندرجہ ذیل شرائط ہوں تو بیع کا کیا حکم ہو گا؟

  1. یہ مال تیار کر کے پرافٹ اس صورت میں دیا جائے گا کہ وہ اس کی ادائیگی دو ماہ کے اندر کر دے۔
  2. ایک ماہ میں ادائیگی کر دے تو خریدار کو 2 فیصد اور جلد ادائیگی کی صورت میں 4 فیصد چھوٹ دی جائے گی۔
  3. اگر خریدار ادائیگی نہ کر سکے تو اس کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

کمپنی کو چمڑا بیچتا ہوں لیکن وہ میرے قبضے میں نہیں ہوتا کہ میں کمپنی سے طے کر لیتا ہوں ۔ اس کا حکم کیا ہے

جواب:

شریعت نے خرید و فروخت اور تمام معاملات میں ایسی شرائط مقرر کی ہیں کہ جن پر عمل کرنے سے آپس میں اختلاف اور جھگڑے پیدا نہ ہوں لہذا خرید و فروخت کے تفصیلی مسائل  حدیث  و فقہ میں بیان کر دیئے۔ ان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے ۔ وہ چیز فروخت نہ کرو جو تمھارے قبضہ میں نہ ہو۔ سوال میں مذکورہ صورت یہ ہے کہ وہ چمڑے جن کو فروخت کیا جاتا ہے ، وہ فروخت کرنے والے کی ملکیت میں نہیں ہیں۔ یہ بیع باطل ہے اور سخت گناہ ہے۔ لہذا اگر پہلے خرید لیں اس کے بعد فروخت کریں تو فروخت کرنے والے کو شریعت نے یہ اختیار دیا ہے کہ نقد کی قیمت اور رکھے اور ادھار کی قیمت اور مقرر کرے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ ادھار کی مدت متعین کر دی جائے۔ لہذا یہ کر سکتا ہے کہ یہ چیز نقد سو روپے کی ہے اگر ایک مہینے بعد قیمت دو تو ایک سو پانچ روپے کی ہے۔ اگر دو ماہ کے بعد قیمت دو تو ایک سو دس روپے کی ہے۔ غرض یہ کہ جتنی مدت زیادہ ہو، اتنی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے۔ مگر سوال میں جو صورت بعد میں لکھی ہے کہ اگر وہ لیٹ کریں تو دو فیصد یا چار فیصد جرمانہ لیا جائے گا یہ ناجائز ہے۔ شریعت میں مال پر جرمانہ جائز ہی نہیں ہے۔ ہاں کوئی شخص کسی کا مال برباد کر دے تو اس مال کی قیمت لی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ کسی دوسری غلطی پر مال سے جرمانہ جائز نہیں ہے۔ لہذا اس میں بھی یہ تبدیلی کر دیں  کہ جرمانے کا لفظ نہ بولیں بلکہ خریدار کو بتائیں کہ اگر تم اس کے بعد ایک ماہ اور لیٹ کرو گے تو اس چیز کی قیمت اتنی زیادہ ہو گی اسی طرح ہر مہینے پر اس کی قیمت بڑھا کر متعین کر لیں تو یہ جائز ہے۔

(وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 263، بزم وقار الدین، کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button