شرعی سوالات

غیر مسلم ممالک میں انشورنس کروانا اورحربی کفار کا مال لینا جائز ہے ۔

سوال:

 غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے لئے سود دینا یا لینا کیسا؟وہاں انشورنس کے کیا احکام ہیں؟ ملخصا

جواب:

 مال حربی غیر معصوم مباح ہے، جب مسلم اس پر غدر و خیانت کے سوا اس کی رضا سے قبضہ کر لے تو مالک ہو جاتا ہے۔ لہذا اس میں ربو جاری ہی نہیں ہوتی۔ اور اس میں دونوں صورتیں برابر ہیں مسلمان کو نفع پہنچے یا حربی کو۔

نمبر 5 کا معاملہ ذرا سنگین ہے مگر چونکہ اب پاکستانی بینک بھی سود نہیں کہتے منافع کے نام سے دیتے ہیں تو ظاہر یہی ہے کہ یہ ایک مضاربت کی صورت ہےگو فاسد ہی ہو تو قبضے سے ملک ثابت ہو جاتا ہے اور پاکستانی بینکوں کے ہوتے ہوئے غیر مسلم بینکوں کی طرف میلان سے قومی اور ملکی وقار سخت مجروح ہوتا ہے جو اس سے بھی برا ہےبہرحال مجھے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ مضاربت کی بناء پر ہے۔

(فتاوی نوریہ، جلد 4، صفحہ  175، دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور، ضلع اوکاڑہ)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button