ARTICLES

غیرمحرم افاقی کاجدہ میں اورپھرجدہ سے حرم میں پہنچنا

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میرے ایک دوست ہیں وہ(2009)میں حج کمیٹی کے ہمراہ حاجیوں کی خدمت کے لئے گئے تھے ان کویہاں سے یہ نہ بتایاگیاتھاکہ انہیں کس جگہ خدمت کے لئے رکھاجائے گا، انہیں ’’ہند‘‘سے جدہ لے جایاگیا،اورپھروہاں سے حرم،تواس دوران وہ حرم میں بلااحرام ہی پہنچے ،پھرمکہ میں انہیں کہاگیاکہ اپ احرام باندھ کر عمرہ کرلو،توکیااس صورت میں ان پردم لازم ہواہے ؟واضح رہے کہ جب وہ یہاں سے روانہ ہوئے توان کومعلوم ہی نہ تھاکہ انہیں حرم لے جائیں گے ،یونہی جب وہ جدہ پہنچے تب بھی انہیں حرم جانے کی خبرنہ تھی،لیکن جب وہ حرم میں پہنچے توانہیں حرم میں انے کی اطلاع ہوئی۔

(سائل : ڈاکٹرساحل اشرفی،انڈیا)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں میقات تجاوزکرتے وقت اگران کاارادہ مکہ مکرمہ یاحرم میں داخل ہونے کاتھا،توان پریقیناایک دم لازم ہے اگرچہ ان کاحج یاعمرہ کاارادہ نہ تھا،کیونکہ بلااحرام مکہ مکرمہ یاحر م میں داخل ہونے والے افاقی پرنہ صرف حج یاعمرہ کرنالازم ہوتاہے بلکہ اس پربلااحرام میقات تجاوزکرنے کادم یا لوٹنابھی لازم ہوتا ہے ۔ چنانچہ امام برہان الدین ابوالمعالی محمودبخاری حنفی متوفی616ھ لکھتے ہیں :

اذا دخل الافاقي مكة بغیر احرام،وهو لا يريد الحج و العمرة،فعليه لدخول مكة اما حجة او عمرة ؛لانه لزمه الاحرام اذا بلغ الميقات على قصد دخول مكة، والاحرام انما يكون بحجة او عمرة، فلزمه الاحرام باحدهما،وما وجب على الانسان لا يسقط الا بادائه،فان احرم بالحج او العمرة من غير ان يرجع الى الميقات،فعليه دم لترك حق الميقات۔()

یعنی،افاقی جب بلااحرام مکہ میں داخل ہو،اس حال میں کہ وہ حج اورعمرہ کاارادہ نہ رکھتاہو،تواس پردخول مکہ کی وجہ سے حج یاعمرہ کرنا لازم ہوگاکیونکہ جب وہ میقات پہنچاتھاتواسے مکہ میں داخل ہونے کے ارادے پراحرام لازم تھا،اوراحرام حج یا عمرہ کاہوتاہے ،پس اسے ان دونوں میں سے ایک کااحرام لازم تھا،اورجوانسان پرواجب ہوجائے وہ ساقط نہیں ہوتامگر اس کی ادائیگی کے سبب،پھراگرمیقات کی طرف لوٹے بغیرحج یاعمرہ کااحرام باندھ لیاتواس پرمیقات کے حق کوچھوڑنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا۔ اورعلامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اورملاعلی قاری حنفی لکھتے ہیں :

(من دخل)ای من اھل الافاق (مکۃ) اوالحرم (بغیر احرام فعلیہ احد النسکین)ای من الحج اوالعمرۃ، وکذا علیہ دم المجاوزۃ اوالعود۔()

یعنی،جوافاقی بلااحرام مکہ مکرمہ یاحرم میں داخل ہوجائے ، تو اس پردومناسک میں سے ایک لازم ہوگایعنی حج یاعمرہ کرنا، اوراسی طرح اس پربلااحرام میقات تجاوزکرنے کادم یا لوٹنابھی لازم ہوگا۔ اورعلامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اورعلمائے ہندکی جماعت نے لکھا ہے :

لا يجوز للافاقي ان يدخل مكة بغير احرامٍ نوى النسك او لا ولو دخلها فعليه حجة او عمرة كذا في محيط السرخسي۔()

یعنی،افاقی کے لئے جائزنہیں کہ وہ بلااحرام مکہ میں داخل ہو، چاہے نسک کی نیت کی ہویانہیں اوراگرداخل ہوگیاتواس پر حج یاعمرہ کرنالازم ہوگااسی طرح’’محیط سرخسی‘‘میں ہے ۔ اوراگرمیقات تجاوزکرتے وقت مذکورشخص کاارادہ حل میں کسی مقام پر جانے کاتھاجیسے جدہ،توان پراحرام لازم نہ
تھااورپھروہاں سے حج یاعمرہ کاارادہ نہ ہونے کی صورت میں بلااحرام حرم میں انابھی جائزتھا۔ چنانچہ امام جلال الدین بن شمس الدین خوارزمی حنفی متوفی 767ھ لکھتے ہیں :

اذا قصد دخول الحل لا یلزمہ الاحرام لانہ حینئذٍ یکون کاھل الحل کالبستانی لہ ان یدخل مکۃ بغیر احرامٍ، ثم من قصد مجاوزۃ میقاتٍ واحدٍ فلہ ذلک بغیر احرامٍ کالافاقی یقصد الحل او الحلی یقصد مکۃ او المکی یخرج الی الحل ولا یجاوز المیقات ثم یعود الی مکۃ۔()

یعنی،افاقی جب حل میں داخل ہونے کاارادہ کرے تواسے احرام لازم نہیں ہے کیونکہ اس وقت وہ حل والے کی مثل ہوگا جیسے بستانی،اس کے لئے بلااحرام مکہ میں داخل ہوناجائزہے ،پھرجوایک میقات تجاوزکرنے کاارادہ کرے تواس کے لئے بلااحرام میقات تجاوزکرناجائزہے جیسے افاقی حل کاقصدکرے یاحلی مکہ مکرمہ کاقصدکرے یامکی حل کی طرف نکلے اور میقات سے باہرنہ جائے پھروہ مکہ کی طرف لوٹ ائے ۔ اورعلامہ علاءالدین حصکفی حنفی متوفی1088ھ لکھتے ہیں :

لو قصد موضعًا من الحل كخليصٍ وجدة حل له مجاوزته بلا احرامٍ، فاذا حل به التحق باهله فله دخول مكة بلا احرامٍ، وهو الحيلة لمريد ذلك الا لمامورٍ بالحج للمخالفة۔()

یعنی،اگرحل میں کسی جگہ جیسے خلیص اورجدہ کاقصدکیا،تواسے بلا احرام میقات سے گزرناحلال ہے پھرجب وہ اس میں اتر گیاتواس کے اہل کے ساتھ لاحق ہوگیاپس اس کے لئے بلااحرام مکہ میں داخل ہوناجائزہے اوریہ اس کے لئے حیلہ ہے جو اس کاارادہ کرے مگرجسے حج کاحکم کیاگیاہوکیونکہ اس میں مخالفت ہے ۔ اورصدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہوبلکہ میقات کے اندرکسی اورجگہ مثلاجدہ جاناچاہتاہے تواسے احرام کی ضرورت نہیں پھروہاں سے اگرمکہ معظمہ جانا چاہے تو بغیراحرام جاسکتاہے ،لہٰذا جو شخص حرم میں بغیراحرام جانا چاہتا ہے وہ یہ حیلہ کرسکتا ہے بشرطیکہ واقعی اس کا ارادہ پہلے مثلا جدہ جانے کاہو۔ نیز مکہ معظمہ حج اورعمرہ کے ارادہ سے نہ جاتا ہو،مثلا تجارت کے لیے جدہ جاتا ہے اور وہاں سے فارغ ہوکرمکہ معظمہ جانے کاارادہ ہے اور اگرپہلے ہی سے مکہ معظمہ کا ارادہ ہے تو اب بغیر احرام نہیں جاسکتا۔ جوشخص دوسرے کی طرف سے حج بدل کو جاتا ہو اسے یہ حیلہ جائز نہیں ۔() اور اس ارادے میں میقات سے گزرنے کاوقت معتبرہے ۔چنانچہ علامہ سید محمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

المعتبر القصد عند المجاوزۃ لا عند الخروج من بيته۔()

یعنی،ارادہ میقات سے گزرتے کرتے وقت کامعتبرہوگانہ کہ اپنے گھر سے نکلتے وقت کا۔ لیکن دوسری صورت میں اگرانہوں نے عمرہ کااحرام حرم سے باندھ کراداکیاتھا،توپھران پرتوبہ کے ساتھ ایک دم ضرورلازم ہے ،خواہ ان کے لئے بلااحرام مقام حل سے حرم اناجائزتھایانہیں ،کیونکہ حرم میں داخل شخص اگرعمرہ کا احرام حرم سے باندھ لے تووہ گناہ گارہوتاہے اوراس پردم لازم ہوتاہے مگرجبکہ وہ حل کی جانب لوٹ کر’’تلبیہ‘‘کہہ لے ،تواس پردم لازم نہ ہوگا۔ چنانچہ شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی1174ھ لکھتے ہیں : کسی کہ داخل حرم ست اگراحرام بست ازحل برای حج یا ازحرم برای عمرہ اثم گردد و لازم باشد بروے کہ عود کند بسوی مکان مشروع برائے احرام واگرعود نہ کرد لازم گردد دم بروے ۔() یعنی،اگرحرم میں داخل شخص حج کااحرام’’حل‘‘سے یاعمرہ کااحرام’’حرم‘‘ سے باندھے تووہ گناہگارہوگااوراس پرلازم ہوگاکہ وہ احرام کے لئے مشروع جگہ لوٹے ،اوراگرنہ لوٹا،تواس پردم لازم ہوگا۔ اورعلامہ شامی لکھتے ہیں :

فلو عكس فاحرم للحج من الحل او للعمرة من الحرم لزمه دم الا اذا عاد ملبيًا الى الميقات المشروع له كما في’’اللباب‘‘وغيره۔()

یعنی،اگرالٹ کیایعنی مکی نے حج کااحرام’’حل‘‘سے یاعمرہ کااحرام ’’حرم‘‘ سے باندھاتواس پردم لازم ہوگا،مگریہ کہ وہ اپنے مشروع میقات کی طرف لوٹ کر ’’تلبیہ‘‘کہے ،جیساکہ’’لباب‘‘وغیرہ میں ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

جمعرات،27رمضان1441ھ۔21مئی2020م

حوالہ جات

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button