شرعی سوالات

غسل میت تدفین سے تھوڑی دیر پہلے دیں یاوفات کے فوراً بعد؟

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ غسل میت تدفین سے تھوڑی دیر پہلے دیں یاوفات کے فوراً بعد؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

           غسل میت میں حتی المقدور جلدی کرنی چاہیے۔تحفۃ الفقہاء میں ہے”المستحب ان یعجل فی جہازہ ولا یؤخر لقولہ علیہ السلام عجلوا موتاکم”

ترجمہ: تجہیز (غسل و کفن)میں جلدی کرنا مستحب ہے،تاخیر نہ کی جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایااپنے فوت شدگان کے ساتھ جلدی کرو ۔

                         (تحفۃ الفقہائ،صفحہ113،وحیدی کتب خانہ،پشاور)

                           واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button