عورت کے سجدہ کا طریقہ احادیث کی روشنی میں

عورت کے سجدہ کا طریقہ

عورت کے سجدہ کا طریقہ

سوال: جس طرح عورتیں نماز پڑھتی ہیں اس میں عورت کے سجدہ کا طریقہ یعنی سجدہ بالکل جھک کر کرنا اور بازو زمین کے ساتھ لگانا ،اس کی کوئی دلیل نہیں ہے نہ قرآن پاک میں نہ احادیث میں ۔ میں نے جتنی ریسرچ کی ہے  اس میں  مجھے تو کوئی ریفرنس نہیں ملا، اس لیے عورتوں کو بھی سجدہ مردوں کی طرح کرنا چاہیے کہ پیٹ رانوں سے اور ران پنڈلیوں سے علیحدہ ہو جائے اور کہنیاں  زمین سے اوپر ہوں۔

جواب:

اگر کوئی ریفرینس نہ ملے تو مزید علم حاصل کرنا چاہیے یا اہل علم سے پوچھنا چاہیے تاکہ صحیح بات پتا چل جائے نہ کہ اس بات کا ہی انکار کر دیا جائے۔ یہ روش قرآن پاک کے بھی خلاف ہے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ”اگر تمہیں علم نہیں تو اہل علم سے پوچھو“ اللہ تعالی تو یہ حکم ارشاد فرما رہا ہے اور آپ پوچھے بنا ہی غلط حکم بیان کر رہی ہیں۔ یہ بھی تو دیکھیں کہ آخر شروع سے لے کر اب تک ساری مسلمان  عورتیں ایسا ہی کر ہی ہے اور انہیں کوئی نہیں روک رہا ،  کچھ ریفرنس ہو گا تو ہی ایسا ہو رہا ہے۔ شریعت اسلامیہ بہت حساس ہے  ہمیں ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے کہ جو اس میں رد و بدل کا سبب بنے۔ (اور آخر  یہ ریسرچ ہے کتنی ؟ کیا احادیث کی ساری کتابیں دیکھ لیں؟  اگر صرف مشہور مشہور کتابیں بھی دیکھیں ہوتی تو  آپ کو عورت کے سجدہ کا طریقہ کے متعلق احادیث مل جاتیں۔ اس لیے اپنی کم علمی کی وجہ سے کوئی ایسا حکم صادر نہ فرمائیں کہ جو اسلام کی تبدیلی کا باعث بنے۔)

مردوں اور عورتوں کی نماز میں فرق ہے اور یہ بات بہت زیادہ احادیث میں بیان ہوئی ہے، اتنی زیادہ کہ بہت سے فقہا و محدثین  ((مثلاً امام بخاری کے استاد)) نے اس بات پر کئی باب ( چیپٹر) بیان فرمائے۔ حدیث میں کچھ احکام مردوں کے ساتھ خاص ہیں اور کچھ عورتوں کے ساتھ ۔  مکمل بات اسی وقت ہی پتا چلتی ہے جب تمام احادیث معلوم ہوں کیونکہ کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو حکم ارشاد فرماتے تھے اور کبھی عورتوں کو۔ فقط ایک دو احادیث کو ماننا اور باقی احادیث کو نہ ماننا منافقین کا طریقہ کار تھا۔

آپ نے نماز میں عورت کے سجدہ کے طریقے کے متعلق کہا ہے کہ ایک بھی حدیث نہیں ہے لیکن اس بارے میں بھی بہت ساری واضح  اور مستند احادیث   مروی ہیں جس میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ عورت سمٹ کر نماز پڑھے اور اپنے اعضا کو الگ الگ نہ کرے۔ اور اس حکم کی حکمت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمائی کہ اس میں عورت کے لیے زیادہ پردہ ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے صحابہ و تابعین سے بھی یہی حکم مروی ہے کہ عورت زمین سے سمٹ کر سجدہ کرے۔  ذیل میں عورت کے سجدہ کے طریقے سے متعلق کچھ احادیث بیان کر رہا ہوں انہیں پڑھ لیں ۔ اللہ تعالی ہمیں مزید علم حاصل کرنے اور اسلام پر پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

عورت کے سجدہ کا طریقہ ، احادیث کی روشنی میں :

(1)      السنن الکبری للبیہقی میں ہے:’’ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مر علی امرء تین تصلیان فقال:اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الارض فان المرء ۃ لیست فی ذلک کالرجل‘‘ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے والی دو عورتوں کے پاس سے گزرے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا جب تم دونوں سجدہ کرو تو اپنا کچھ حصہ زمین سے لگا لو کیونکہ عورت اس معاملے میں مرد کی طرح نہیں ہے ۔    ((السنن الکبری للبیہقی ،ابوب صفۃ الصلوٰۃ،باب من ذکر صلاۃ وہو فی أخری،جلد2،صفحہ315،دار الکتب العلمیۃ، بیروت))

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم:

(2)        امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاد محترم ابن شیبہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں: ’’عن علی قال إذا سجدت المرأۃ فلتحتفر ولتضم فخذیہا‘‘ترجمہ:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ (عورت کے سجدہ کا طریقہ یہ ہے کہ ) جب عورت سجدہ کرے تو سمٹ جائے اور اپنی رانوں کو ملا لے۔ ((مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلوات ،المرأۃ کیف تکون فی سجودہا؟،جلد1،صفحہ241،مکتبۃ الرشد ،الریاض))

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ:

(3)      ایک اور  روایت میں حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے  مروی ہے’’عن ابن عباس أنہ سئل عن صلاۃ المرأۃ، فقال تجتمع وتحتفر‘‘ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے جب عورت کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ سمٹ کر نماز پڑھے۔  ((مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلوات ،المرأۃ کیف تکون فی سجودہا،جلد1،صفحہ241،مکتبۃ الرشد ،الریاض))

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ:

(4)      حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’إذا جلست المرأۃ فی الصلاۃ وضعت فخذہا علی فخذہا الأخری فإذا سجدت ألصقت بطنہا فی فخذیہا کأستر ما یکون لہا، وإن اللہ تعالی ینظر إلیہا ویقول:یا ملائکتی أشہدکم أنی قد غفرت لہا‘‘جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ران کے اوپر ران رکھ کر بیٹھے اورجب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں سے چپکا لے اس طرح کہ اس کے لئے زیادہ سے زیادہ پردہ ہوجائے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! گواہ ہو جاؤ کہ میں نے اس کو بخش دیا ہے۔  ((کنز العمال،کتاب الصلوٰۃ،صلاۃ المرأۃ من الإکمال،جلد7،صفحہ920،مؤسسۃ الرسالۃ ،بیروت))

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ:

(5)      امام بیہقی کی السنن الکبری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: عن أَبِيْ سَعِیْدٍالْخُدْرِيِّ رضي الله عنه صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰه صلی الله علیه وسلم أَنَّه قَالَ: کَانَ یَأْمُرُالرِّجَالَ أَنْ یَّتَجَافُوْا فِيْ سُجُوْدِهِمْ وَ یَأْمُرُالنِّسَاءَ أَنْ یَّتَخَفَّضْنَ. ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو یہ حکم ارشاد فرماتے تھے کہ وہ سجدے میں اپنی رانوں کو پیٹ سے نہ ملائیں اور عورتوں کو یہ حکم ارشاد فرماتے تھے کہ سمٹ کر سجدہ کریں۔  ( (السنن الکبریٰ، جلد ،2صفحہ222.223 ، باب ما یستحب للمرأة))

عورت کے سجدہ کا طریقہ  ، تابعین کے اقوال کی روشنی میں:

حضرت حسن اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہما:

(6)      مصنف عند الرزاق میں حضرت حسن اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہما کا فرمان یوں نقل ہے: عن الحسن وقتادة قالا: إذا سجدت المرأة؛ فإنها تنضم ما استطاعت ولاتتجافي لكي لاترفع عجيزتها. حضرت حسن اور حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنھما کا ارشاد ہے: عورت کے سجدہ کا طریقہ یہ ہے کہ  جب سجدہ کرے تو جتنا ہو سکے سکڑ جائے اور زمین سے الگ نہ ہو تاکہ اس کی پشت نہ اٹھے۔  ((مصنف عبدالرزاق، جلد 3، صفحہ49 ))

حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ

(7)      حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے:’’عن إبراہیم، قال إذا سجدت المرأۃ فلتلزق بطنہا بفخذیہا، ولا ترفع عجیزتہا، ولا تجافی کما یجافی الرجل‘‘ترجمہ: حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جب عورت سجدہ کرے تو رانوں کو پیٹ سے ملا لے، اپنی سرین نہ اٹھائے، مردوں کی طرح اعضا علیحدہ علیحدہ کر کے نماز نہ پڑھے۔  ((مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الصلوات ،المرأۃ کیف تکون فی سجودہا،جلد1،صفحہ242،مکتبۃ الرشد،الریاض))

امام مجاہد تابعی رحمہ اللہ

(8)      مصنف ابن ابو شیبہ میں امام مجاہد تابعی رحمہ اللہ سے  منقول ہے: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ بَطْنَهُ عَلَى فَخِذَيْهِ إِذَا سَجَدَ كَمَا تَصْنَعُ الْمَرْأَةُ” ترجمہ: حضرت مجاہد رحمہ ﷲ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مرد جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکھے، جیسا کہ عورت رکھتی ہے۔((مصنف ابن أبي شیبة، رقم الحديث 2704))

حضرت عطاء رحمہ اللہ:

(9)      مصنف عبد الرزاق میں ہے: عن عطاء قال: … إذا سجدت فلتضم يديها إليها، وتضم بطنها وصدرها إلى فخذيها، وتجتمع ما استطاعت. ترجمہ: حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت سجدہ کرے تو اپنے بازو اپنے جسم کے ساتھ ملا لے، اپنا پیٹ اور سینہ اپنی رانوں سے ملا لے اور جتنا ہو سکے سمٹ کر سجدہ کرے۔ ((مصنف عبدالرزاق ج3ص50رقم5983))

(10)    عورتوں کے سمٹ کر سجدہ کرنے کے بارے میں امام ابو داؤد نے اپنی کتاب المراسیل میں یزید بن حبیب سے روایت کیا:’’ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مر علی امرأتین تصلیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی بعض الارض فان المرأۃ لیست فی ذالک کرجل‘‘حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو عورتوں کے پاس سے گذرے جو نماز پڑھ رہیں تھیں، آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ اس مسئلہ میں عورت کا حکم مرد کی طرح نہیں ہے۔ ((کتاب المراسیل لابی داؤد،صفحہ55،المطبعۃ العلمیہ،لاہور))

عورت کے سجدہ کا طریقہ

خلاصہ کلام:

ان احادیث، صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال  کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی ہے عورت کے سجدہ کا طریقہ مردوں سے مختلف ہے ۔ یعنی  عورت سمٹ کر سجدہ کرے گی  اور اپنی بازو زمین کے ساتھ لگائے گی۔ اسی کا شریعت اسلامیہ حکم دیتی ہے۔ اسلام کے ہر حکم میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے  اور اس حکم کی حکمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرما دی  کہ اس میں عورت کا پردہ زیادہ ہے۔

Leave a Reply

Right Menu Icon