ARTICLESشرعی سوالات

عورت کے بال چھوٹے بڑے ہوں تو تقصیر کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی مُحرمہ کے بال چھوٹے بڑے ہوں اور سب سے چھوٹے بال کانوں کی لَو تک ہوں تو اس صورت میں تقصیر میں کوئی رعایت ہے جب کہ اُس کی کثرت سے عمرہ کرنے کی خواہش بھی ہو؟

(السائل : C/O محمد فیاض، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : تقصیر میں چوتھائی سر کے بالوں سے کتروانا ضروری ہے چنانچہ علامہ امام فخر الدین عثمان بن علی زیلعی حنفی متوفی 743ھ (239) اور علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی 970ھ (240)لکھتے ہیں اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ (241)نقل کرتے ہیں :

و المرادُ بالتّقصیرِ أنْ یأخُذَ الرَّجُلُ و المَرأَۃُ من رُؤوس شَعرِ رُبع الرّأسِ مقدارَ الأنمِلَۃِ، و اللّفظ للزّیلعی

یعنی، تقصیر سے مراد یہ ہے کہ مرد اور عورت اپنے سروں سے چوتھائی سر سے ایک پورے کی مقدار بال لیں ۔ علماء کرام نے لکھا ہے کہ پورے سے کچھ زائد کتروائے تاکہ چوتھائی بالوں میں سے ہر بال ایک پورے کی مقدار کٹ جائے کیونکہ اکثر بال چھوٹے بڑے ہوتے ہیں چنانچہ امام علاؤ الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی متوفی 587ھ لکھتے ہیں :

قالوا : یجبُ أن یزیدَ فی التَّقصیرِ علی قدَرِ الأنمِلَۃِ، لأَنَّ الواجبَ ہذا القدرُ من أطرافِ جمیعِ الشِّعر، و أطرافُ جمیعِ الشَّعرِ لا یَتَساوی طولُہا عادۃً، بل تتفاوتُ، فلو قصّر قدرَ الأنمِلَۃِ لا یصیرُ مستوفیاً قدرَ الأنمِلَۃِ من جمیعِ الشَّعرِ بل مِن بعضِہ فوجَبَ أن یَزیدَ علیہ حتَّی یستیقنَ باستیفائِ قدرِ الواجبِ، فیخرجُ عن العُہدۃ بیقینٍ (242)

یعنی، فقہاء کرام نے فرمایا کہ واجب ہے کہ تقصیر میں پورے کی مقدار سے زیادہ کرے کیونکہ یہ مقدار تمام بالوں کے اطراف سے واجب ہے ، اور تمام بالوں کے اطراف کی لمبائی عادۃً برابر نہیں ہوتی بلکہ اس لمبائی میں تفاوُت ہوتا ہے ، پس اگر ایک پورے کی مقدار تقصیر کرے گا تو تمام بالوں سے پورے کی مقدار کو پوری کرنے والا نہیں ہو گا بلکہ بعض بالوں سے ، پس واجب ہوا کہ اس مقدار پر تقصیر میں زیادہ کرے تاکہ واجب مقدار کی تقصیر یقینی ہو جائے پس یقین کے ساتھ عُہدا برا ہو جائے ۔ اور علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی نقل کرتے ہیں :

قالوا : یجبُ أن یزیدَ فی التَّقصِیرِ علی قَدرِ الأَنْمِلَۃِ حَتَّی یَستَوفِیَ قدرَ الأَنْمِلَۃِ مِن کلِّ شعرۃٍ برأسِہ لأَنَّ أطرافَ الشَّعرِ غیرُ مُتساویۃٍ عادۃً (243)

یعنی، فقہاء کرام نے فرمایا کہ واجب ہے کہ تقصیر میں پورے کی مقدار سے کچھ زیادہ کر لے تاکہ اُس کے سر کے ہر بال سے پورے کی مقدار پوری ہو جائے کیونکہ عادۃً بالوں کے سرے برابر نہیں ہوتے ۔ لہٰذا چوتھائی سر کے بالوں سے پورے کی مقدار پوری کرنے کے لئے عورت کو چاہئے کہ اپنی پوری چٹیا پکڑ کر اُس میں سے ایک پورے سے کچھ زائد کاٹ لے کیونکہ چٹیا میں عموماً چوتھائی سر کے بالوں سے زائد بال ہوتے ہیں ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، 3 ذوالحجۃ1429ھ، 1 دیسمبر 2008 م667-F

حوالہ جات

240۔ البحر الرائق، کتاب الحج، باب الإحرام، تحت قولہ : ثمَّ احلق أو قصِّر الخ، 2/606

241۔ رَدُّ المحتار علی الدُّرِّ المختار، کتاب الحج، مطلب : فی رمی الجمرۃ العَقَبۃ، تحت قولہ : بأن یأخذ إلخ، 3/611

242۔ بدائع الصنائع، کتاب الحجّ، فصل فی مقدارِ الواجبِ فی الحلقِ، 3/101

243۔ البحر الرائق، کتاب الحجّ، باب الإحرام، تحت قولہ : ثُمَّ احلق أو قصِّر الخ، 2/606

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button