ARTICLESشرعی سوالات

عورت کے بال تقصیر کے قابل نہ ہوں تو احرام سے کیسے نکلے ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی خاتون کے بال اگر کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے گر گئے ہوں اور نئے نکلنے والے بال اتنے چھوٹے ہوں کہ تقصیر کے قابل نہ ہوں تو احرام حج یا عمرہ سے باہر نکلنے کے لئے وہ کیا کرے گی؟

(السائل : محمد عرفان ضیائی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : حلق یا تقصیر حج و عمرہ کے واجبات سے ہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ واجبات حج کے بیان میں لکھتے ہیں :

حلق یا قصر رُبع رأس در وقت ارادۂ تحلّل از احرام (217)

یعنی،احرام سے باہر نکلنے کے ارادے کے وقت سر کے چوتھے حصے کا حلق یااس کی تقصیر (واجب ہے )۔ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں : میں نے ’’فتح القدیر‘‘ (218) میں دیکھا کہ فرمایا :

إن الحلق عند الشافعی غیرُ واجبٍ، وہو عندنا واجبٌ، لأن التحلُّلِ الواجب لا یکونُ إلاّ بہ (219)

یعنی، حلق امام شافعی کے نزدیک واجب نہیں ہے اور وہ ہمارے نزدیک واجب ہے کیونکہ تحلُّل واجب (احرام سے باہر نکلنا جو کہ واجب ہے ) اس کے سوا نہیں ہوتا۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی دوسرے مقام پر لکھتے ہیں :

شرط خروج از احرام حج و عمرہ حلق رُبع سر یا قصر رُبع اوست در وقتِ حلق (220)

یعنی، احرام حج و عمرہ سے نکلنے کی شرط حلق کے وقت چوتھائی سر کے حلق یا چوتھائی سر کی تقصیر ہے ۔ اور حلق مردوں کے لئے مسنون ہے جب کہ عورتوں کے لئے مکروہ ہے ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبداللہ بن قاضی ابراہیم سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و الحلق مسنون للرجال (أی أفضل) و مکروہ للنساء (221)

یعنی، حلق مردوں کے لئے مسنون ہے (یعنی افضل ہے ۔ مُلّا علی قاری) اور عورتوں کے لئے مکروہ ہے ۔ اور تقصیر مردوں کے لئے مباح ہے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی لکھتے ہیں :

و قصر مباح است برائے ایشان (222)

یعنی، تقصیر مردوں کے لئے مباح ہے ۔ اور عورتوں کے لئے صرف تقصیر ہے چنانچہ امام شمس الدین ابو بکر محمد سرخسی لکھتے ہیں :

و لا حلق علیہا، إنما علیہا التقصیر، ہکذا روی عن رسول اللہ ﷺ أنہ نہی النساء عن الحلق و أمرہنّ بالتقصیر عند الخروج من الإحرام (223)

یعنی، عورتوں پر حلق نہیں ہے اس پر صرف تقصیر ہے اسی طرح رسول اللہ ا سے مروی ہے کہ آپ نے عورتوں کو حلق سے منع فرمایا اور انہیں احرام سے نکلنے کے وقت تقصیر کا حکم فرمایا۔ اور تقصیر عورتوں کے لئے واجب ہے کیونکہ حلق یا تقصیر خود حج و عمرہ کے واجبات میں سے ہیں ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اور مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

’’و التقصیر مباح لہن‘‘ و الظاہر أنہ مستحب لہنّ لتقریرہ ﷺ فعل بعض الصحابۃ لہ و دعائہ لہنّ ’’و مسنون‘‘ أی مؤکّد ’’بل واجب لہنّ‘‘ (224)

یعنی، تقصیر عورتوں کے لئے مباح ہے اور (مُلّا علی قاری فرماتے ہیں ) ظاہر ہے کہ وہ عورتو ں کے لئے مستحب ہے کیونکہ آپ ا نے بعض صحابہ کے عمل (تقصیر) کو ثابت رکھا اور عورتوں کے لئے دعا فرمائی اور مسنون ہے یعنی سنّت مؤکّدہ ہے ، بلکہ واجب ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی لکھتے ہیں :

قصر مسنون بلکہ واجب است بر ایشان (225)

یعنی، تقصیر عورتوں کے لئے مسنون بلکہ واجب ہے ۔ مندرجہ بالا عبارات میں تقصیر کو عورتوں کے لئے مُباح، مسنون اور واجب لکھا گیا ہے جب کہ حلق کو ان کے لئے مکروہ لکھا ہے اور مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ عورتوں کے حق میں تقصیر کے وجوب کی علّت کے بیان میں کراہت تحریمی کی تصریح کی گئی ہے چنانچہ مُلّا علی قاری حنفی علامہ رحمت اللہ سندھی کے قول ’’بل واجب لہنّ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں :

لکراہۃ الحلق کراہۃ تحریم فی حقّہنّ إلا لضرورۃ (226)

یعنی، مصنّف کا قول کہ تقصیر عورتوں کے لئے واجب ہے کیونکہ حلق عورتوں کے حق میں کراہت تحریمی کے ساتھ مکروہ ہے مگر یہ کہ کوئی شرعی ضرورت ہو۔ اور پھر فقہاء کرام نے حلق کو عورتوں کے لئے حرام بھی لکھا ہے اور وہاں حرام سے مراد حرام ظنّی ہے جس سے مراد مکروہ تحریمی ہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی لکھتے ہیں :

و اماّ زنان پس حلق حرام است برائے ایشان (227)

یعنی، مگر عورتیں تو حلق اُن کے لئے حرام ہے ۔ اور امام شمس الدین سرخسی نے عورتوں کے لئے حلق سے ممانعت کی روایت کا ذکر کرنے کے بعد لکھا :

و لأن الحلق فی حقّہا مُثلۃٌ، و المُثلۃ حرامٌ، و شعر الرأس زینۃ لہا کاللحیۃ للرّجل فکما لا یحلق الرّجل لحیتہ عند الخروج من الإحرام لا تحلق ہی رأسہا (228)

یعنی، اور اس وجہ سے کہ حلق عورت کے حق میں مُثلہ ہے اور مُثلہ حرام ہے اور عورت کے سر کے بال اس کے لئے زینت ہیں جیسے داڑھی مرد کے لئے زینت ہے تو جس طرح مرد احرام سے نکلنے کے وقت ڈاڑھی نہیں منڈوائے گا اسی طرح عورت اپنے سر کے بال نہیں منڈوائے گی۔ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :

و ہذا فی حقِّ الرَّجُل، و یکرہ للمرأۃ، لأنہ مُثلَۃٌ فی حقّہا کحلقِ الرَّجُل لحیَتُہ (229)

یعنی، حلق کا مسنون ہونا یہ مرد کے حق میں ہے اور حلق عورت کے لئے مکروہ (تحریمی) ہے کیونکہ حلق عورت کے حق میں مُثلہ (خلقت اللہ کو تبدیل کرنا) ہے جیسے مرد کا اپنی داڑھی کو مونڈنا۔ مندرجہ بالا عبارت میں عورت کے حلق کو مرد کی داڑھی منڈوانے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور مُلّا علی قاری داڑھی کے بارے میں لکھتے ہیں : و فیہ أنہ ورد فی السنّۃ إصلاح اللحیۃ بما یزید علی القبضۃ فلا یکون أخذہما مُثلۃٌ بل حلقہا مُثلۃٌ یعنی، سنّت میں وارد ہے داڑھی جو ایک مشت سے زائد ہو تو اس کا لینا مُثلہ نہیں بلکہ داڑھی کا مونڈنا مُثلہ ہے ۔ چند سطریں آگے لکھتے ہیں :

و لأن حلق اللّحیۃ من باب المُثلۃ، ولأن ذلک تشبیہ بالنّصاریٰ (230)

یعنی، کیونکہ داڑھی منڈوانا مُثلہ کے باب سے ہے ، اور اس لئے کہ (اس میں ) نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہے ۔ اور شرع نے داڑھی منڈوانے کو مُثلہ قرار دیا جو کہ حرام ہے اور نصاریٰ کے ساتھ مشابہت قرار دیا وہ بھی حرام ہے اور عورت کے سر منڈوانے کو مرد کے داڑھی منڈوانے کے ساتھ مشابہت دی گئی یعنی جیسے مرد کو داڑھی منڈوانا حرام ہے اسی طرح عورت کو سر منڈوانا حرام ہے سوائے ضرورت شرعیہ متحقّق ہونے کے جیسا کہ مُلّا علی قاری کا قول ’’إلا لضرورتہنّ‘‘ سے ضرورت شرعیہ متحقّق ہونے کے وقت رُخصتِ حلق ثابت ہے ۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ صورت مسؤلہ میں عورت سر نہیں منڈوائے گی کہ اُسے شرعاً ایسا کرنا حرام ہے اور تقصیر وہ کروا نہیں سکتی کہ بال اتنے بڑے نہیں ہیں کہ تقصیر کے قابل ہوں ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ وہ شرعاً معذور ہے ۔ اگر احرام سے نکلنے کے لئے حلق یا تقصیر واجب ہے تو مذکورہ عورت کے حق میں حلق حرام یعنی مکروہ تحریمی ہے یعنی جس فعل کا کرنا واجب ہے تو اس کا ترک مکروہ تحریمی ہے اور جس فعل کا کرنا مکروہ تحریمی ہے اس کا ترک واجب ہے ۔ مذکورہ عورت اگر حلق کو ترک کرتی ہے تو کراہت تحریمی لازم آتی ہے اور اگر کر لیتی ہے تو بھی کراہت تحریمی کا ارتکا ب ہوتا ہے یعنی فعل و ترک دونوں صورتوں میں کراہت تحریمی کے ارتکاب سے نہیں بچ سکتی تو ایسی صورت میں اُسے مجبور و معذور ہی قرار دیا جائے گا کہ اگر وہ حلق کو ترک کر دیتی ہے تو اس میں وہ مجبور و معذور قرار دی جائے گی اور اگر حلق کروا لیتی ہے جو کہ اس کے حق میں حرام قرار دیا گیا ہے تو اس میں بھی وہ مجبور و معذور قرار دی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عورت ایسی صورت میں کس کو چھوڑے ، بہر صورت اس سے کسی ایک واجب کا ترک ہو گا، جب ہم نے فقہائِ احناف کی عبارات کو دیکھا تو ہمیں دونوں صورتوں میں رُخصت کے اقوال ملے کہ یہاں فقہاء کرام نے عورت کے لئے حلق حرام اور مکروہ تحریمی قرار دیاہے وہیں ’’إلا لضرورۃ‘‘ لکھ کر ضرورت شرعی پائے جانے کے وقت رُخصت دے دی جیسا کہ ’’المسلک المتقسّط‘‘ (ص253) میں مُلّا علی قاری نے لکھا ہے ۔ اسی طرح جہاں فقہاء کرام نے حلق یا تقصیر کو واجب قرار دیا ہے وہیں عذر شرعی پائے جانے کے وقت اس واجب کے ترک کی رُخصت بھی دی ہے جیسا کہ ’’لباب المناسک و عباب المسالک‘‘ ’’مجامع المناسک و نفع الناسک‘‘ ’’المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط‘‘ اور ’’حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب‘‘ میں ہے ۔ اب جب دونوں میں فعل و عدم فعل اور ترک و عدم ترک برابر ہو گئے تو ایسی صورت میں کسی ایک کو کرنے اور دوسرے کو ترک کرنے کے لئے ترجیح و عدم ترجیح کے لئے غور کرنا پڑا۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ حج و عمرہ میں حلق کا وجوب خالص اللہ عزّ و جلّ کا حق ہے اور عورت کا اپنے بالوں کو نہ منڈوانا واجب ہے کیونکہ عورت کو سر منڈوانے سے نبی انے منع فرمایا اور فقہاء کرام نے اسے مُثلہ قرار دیا، اس لئے منڈوانا مکروہ تحریمی ہے تو اس واجب کے ساتھ بندے کا حق متعلق ہے وہ خصوصی طور پر شادی شُدہ عورت کے لئے اس کے شوہر کا حق کیونکہ بال زینت ہیں اور زینت شوہر کا حق ہے اسی لئے شرع نے بیوی کے ترکِ زینت پر شوہر کو اُسے سرزنش کرنے کا حق دیا ہے ، تو ایسی صورت میں بندے کے حق کی پاسداری اور اللہ عز ّو جلّ کے حق کو عذر کی وجہ سے چھوڑ دینا اَولیٰ ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ وہ عورت حلق نہیں کروائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب اس نے حلق یا تقصیر کی وجہ سے ترک کیا تو وہ گنہگار نہ ہوئی کیونکہ یہ ترک عمداً قصداً نہیں بلکہ ایک شرعی عُذر کی بنا پر ہے اور گُناہ تو تب ہو گا جب ترک قصداً ہو چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

چون ترک کرد بطریق تعمّد آثم باشد اگرچہ دم دہد و مرتفع نگردد آن اثم بغیر توبہ (231)

یعنی، واجب کو جب عمداً ترک کرے گا تو گنہگار ہو گا اگرچہ دَم دے دے ، اس کا گُناہ سچی توبہ کے بغیر نہ اُٹھے گا۔ اور علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبداللہ سندھی لکھتے ہیں :

لکن العامد آثم (232)

یعنی، عامد(یعنی عمداً تارک) گنہگار ہے ۔ اور یہاں عمداً ترک نہیں بلکہ ایک شرعی حق کی وجہ سے ہے لہٰذا وہ گنہگار نہ ہو گی۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ ترکِ واجب کی وجہ سے اس پر دَم لازم آئے گا جیسا کہ واجبات کا یہی حکم ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں :

و حکم الواجبات لزوم الجزاء بترک واحد منہما و جواز الحج سواء ترکہ عمداً أو سہواً (233)

یعنی، حکم واجبات کا ان میں سے کسی ایک کے ترک پر لزوم جزاء (یعنی دَم) اور جوازِ حج ہے چاہے اسے عمداً ترک کرے یا سہواً (234) لیکن اس قاعدہ سے چند واجبات کے ترک پر لزومِ جزاء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ کسی عُذر کی وجہ سے حلق کو ترک کر دے چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں :

و یستثنیٰ من ہذا الکلی ترک الحلق لعذر ملخصاً (235)

یعنی، اس کلیہ سے عُذر کی بنا پر ترکِ حلق کو مستثنیٰ کیا گیا ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

آنچہ گفتم کہ بترک واجب لازم آید دم استثناء کردہ اند علماء ازوے دہ عدد واجبات را، ہشتم آنکہ ترک کند حلق را بعُذ رے چنانکہ وجود علتے در سر (236)

یعنی، وہ جو میں نے کہا کہ ترکِ واجب پر دَم لازم آئے گا، علماء کرام نے اس سے دس عدد واجبات کا استثناء کیا ہے (کہ جِن کے ترک پر دَم لازم نہیں آتا) اُن میں سے آٹھواں یہ ہے کہ کسی (معقول) عُذر کی بنا پر حلق (و تقصیر) کو ترک کر دے جیسا کہ سر میں کوئی عِلّت ہو (جیسے پھوڑے ، پھنسیاں وغیرہ اور بال اتنے چھوٹے ہوں کہ تقصیر بھی نہ ہو سکے ) اور عُذر سے مراد ایسا عُذر کہ شرع نے اُسے معتبر رکھا ہو چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی کی ’’لُباب‘‘ میں عبارت ’’و ترک الواجب بعُذر‘‘ (یعنی واجب کا کسی عذر کی وجہ سے ترک) کے تحت مُلّا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

أی معتبر شرعاً (237)

یعنی، وہ عذر جو شرعاً معتبر ہو۔ اور یہ بھی ہے کہ وہ عذر بندوں کی جہت سے نہ ہو چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

أن المراد بالعُذرِ ما لا یکونُ من جہۃ العباد، حیث قال عند قول اللباب : و لو فاتَہُ الوقوف بمزدلفۃَ بإحصارٍ فعلیہ دمٌ : ہذا غیرُ ظاہرٍ، لأن الإحصار من جملۃِ الأعذار إلّا أن یقال : إن ہذا مانعٌ من جانبِ المخلوق، فلا یُؤَثِّر (238)

یعنی، (شارح مُلّا علی قاری نے جو ذکر کیا اس پر دلالت کرتا ہے کہ) عذر سے مراد وہ عذر ہے جو بندوں کی جہت سے نہ ہو اس حیثیت سے کہ (شارح نے علامہ رحمت اللہ سندھی کے ) ’’لُباب‘‘ میں قول ’’اور اگر اس کے محصر ہونے کی وجہ سے وقوفِ مزدلفہ فوت ہو گیا تو اس پردَم ہے ‘‘ پر فرمایا، یہ غیر ظاہر ہے کیونکہ اِحصار من جملہ اَعذار میں سے ہے ، مگر یہ کہا جائے کہ یہ مانع مخلوق کی جانب سے ہے لہٰذا (سقوطِ دم میں ) مؤثر نہ ہو گا۔ اور صورت مسؤلہ میں عُذر مخلوق کی جانب سے نہیں ہے بلکہ شرع کی جانب سے ہے کہ اس صورت میں شرع مطہر نے عورت کو حلق کے ذریعے اس واجب کی ادائیگی سے روکا کہ اس کے حق میں حرام قرار دے دیا لہٰذا یہ عُذر اُن میں سے ہے کہ جنہیں شرع نے معتبر رکھا ہے ۔ اور تیسرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ خاتون جب حلق نہیں کرائے گی کہ اُسے حلق ممنوع ہے اور تقصیر وہ کروا نہیں سکتی تو احرام سے باہر کس فعل سے ہو گی یعنی احرام سے نکلنے کے لئے اُسے کچھ کرنا ہو گا یا خود بخود احرام سے باہر ہو جائے گی عمرہ میں سعی کے بعد اور حج میں رمی یا ذبح کے بعد کیونکہ اگر حج افراد کر رہی ہے تو دس ذوالحجہ کو رمی جمرہ عقبہ کے بعد اور اگر حج تمتّع یا قِران کر رہی ہے تو ذبح (یعنی قربا نی) کے بعد۔ چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

اگر متعذر گشتند ہر دو اعنی حلق و قصر معاً بسبب آنکہ در سر علتے دارد و مویش نیز از مقدارسر انگشت کمتر اند پس ساقط گشتند ہر دو از ازوی و حلال گشت از احرام بعد فراغ رمی جمار بغیر قیام چیزے دیگر مقام حلق و لازم نباشد بروی چیزے از دم و صدقہ زیرانکہ ترک نمودہ است واجب را بعذر (239)

یعنی، اگر قصر و حلق سر میں کسی علّت کی وجہ سے دونوں ایک ساتھ مُتعذّر ہو جائیں او راس کے سر کے بال بھی ایک پورے سے کم ہوں تو دونوں (یعنی قصر و حلق) میں سے ہر ایک اس سے ساقط ہو جائے گا اور وہ رمی جمرہ سے فراغت کے بعد (حج افراد میں ) حلق کی جگہ کسی دوسری چیز کے قیام کے بغیر احرام سے نکل جائے گا (اور حج تمتّع، قِران میں دم شکر (یعنی قربانی) کے ذبح ہونے کے بعد) اور اس پر دَم و صدقہ میں سے کوئی چیز لازم نہ ہو گی کیونکہ اس نے واجب کو عُذر کے سبب ترک کیا ہے ۔ اور فقہاء کرام نے ایسی صورت میں محظوراتِ احرام کے اِرتکاب میں تاخیر کو افضل قرار دیا ہے چنانچہ امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن الہمام حنفی متوفی 861ھ لکھتے ہیں :

و الأحسن لہ أن یؤخّر الإحلال إلی آخر الوقت من أیام النحر، و لا شیٔ علیہ إن لم یؤخّرہ (240)

یعنی، بہتر یہ ہے کہ اِحلال کو ایام نحر کے آخری دن تک مؤخّر کرے اور مؤخّر نہ کرے تو اس پر کچھ (لازم) نہیں ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی لکھتے ہیں :

و لیکن افضل در حق وی آنست کہ ارتکاب ننماید محظورات احرام را از لبس مخیط، تطبیب و غیر آن تا روزِ اَخیر از ایام نحر زیرانکہ شاید کہ زائل گردد عُذر او در یک ساعت و لیکن این تاخیر واجب نباشد بروی (241)

یعنی، اس کے حق میں افضل یہ ہے کہ محظوراتِ احرام جیسے سِلے ہوئے کپڑے ، خوشبو وغیرہما کے استعمال کا ایام قربانی کے آخر تک ارتکاب نہ کرے کہ شاید اس کا عُذر ایک گھڑی میں زائل ہو جائے لیکن یہ تاخیر اُس پر واجب نہیں ہے ۔ اور صورت مسؤلہ میں جو عذر ہے وہ ایسا نہیں کہ جس کے زوال کا امکان ہو، ویسے بھی یہ تاخیر افضل ہے نہ کہ واجب۔ اور اگر بال اتنے ہو گئے ہوں تقصیر ہو سکتی ہے کہ ایک پورے کی مقدار کاٹے جا سکتے ہوں تو بہر صورت کاٹنے ہوں گے ۔ یہ ایسا مسئلہ تھا کہ جس کی تصریح کُتُبِ مناسک میں اور کُتُب فقہ میں مجھے نظر نہیں آئی، اللہ عز ّوجلّ کی توفیق سے میں نے اس کا حل پیش کیا ہے ، چاہئے کہ اسے محفوظ رکھا جائے کہ ضرورت کے وقت کام ہے اور جو حکم میں نے لکھا ہے اگر حق ہے تو من جانب الحق ہے ورنہ میری طرف سے ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت،6ذی الحجۃ 1428ھ، 15دیسمبر 2007 م (New 18-F)

حوالہ جات

217۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالۃ، فصل سیوم در بیان فرائض و واجبات الخ، برقم : 12، ص43

218۔ فتح القدیر، کتاب الحج، باب الإحرام، تحت قولہ : ولنا أن مایکون محللاً الخ، 2/388

219۔ ردّ المحتار،کتاب الحج، مطلب : فی فروض الحج و واجباتہ، تحت قول التنویر : والحلق أو التقصیر، 3/539

220۔ حیاۃ القلوب، باب اول دربیان احرام، فصل دہم در بیان کیفیت خروج از احرام، ص102

221۔ لباب المناسک، باب مناسک منی، فصل فی الحلق والتقصیر، ص153

222۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب ہشتم دربیان آنچہ متعلق است از مناسک منی، کتاب المناسک، باب القران، ص31

223۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب القران، 2۔4/31

224۔ لباب المناسک، باب مناسک منیٰ، فصل فی الحلق و التقصیر، ص324

225۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب ہشتم دربیان آنچہ متعلق است ازمناسک منی، فصل ششم در مسائل حلق وتقصیر، ص324

226۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب مناسک منیٰ، فصل فی الحلق و التقصیر، ص324

227۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب ہشتم در بیان آنچہ متعلق است از مناسک منیٰ، فصل ششم در مسائل حلق و قصر، ص206

228۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب القِران،2/4/31

229۔ رد المحتار، کتاب الحج، مطلب : فی رمی جمرۃ العقبۃ، تحت قول التنویر : حلقہ أفضل، 3/612

230۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب مناسک منیٰ، فصل فی الحلق و التقصیر، ص321

231۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالۃ، فصل سیوم در بیان فرائض و واجبات الخ، اما واجبات حج،ص45

232۔ لُباب المناسک، باب فرائض الحج…الخ، فصل فی واجباتہ، ص72

233۔ لُباب المناسک، باب فرائض الحج….الخ، فصل فی واجباتہ، ص72

234۔ و فی شرحہ : خطائً ترک کرے یا بھولے سے ، لا علمی میں ترک کرے یا جانتے ہوئے ۔

235۔ لُباب المناسک، باب فرائض الحج…الخ، فصل فی واجباتہ، ص72

236۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، مقدمۃ الرسالۃ، فصل سیوم دربیان فرائض و واجبات الخ، اما واجبات حج، ص45

237۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب فرائض الحج، وواجباتہ وسننہ…الخ، فصل : فی واجبات الحج، ص102

238۔ ردالمحتار، کتاب الحج، باب الجنایات، تحت قول التنویر : لو نا سیاً الخ، تتمہ، 3/653

239۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب ہشتم دربیان آنچہ متعلق است از مناسک منیٰ، فصل ششم در مسائل حلق و قصر، ص206

240۔ فتح القدیر، باب الإحرام، تحت قولہ : لقولہ علیہ السلام، 2/386

241۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب ہشتم در بیان آنچہ متعلق است از مناسک منی، فصل ششم در مسائل حلق، ص206

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button