ARTICLES

عورت کا بہن اوربہنوئی کے ہمراہ سفرحج پرجاناکیسا؟

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میاں بیوی حج پرجارہے ہیں توکیاان کے ساتھ اس کی سالی یعنی بیوی کی بہن بھی جاسکتی ہے ؟اورکیااس کابہنوئی عورت کامحرم بن جائے گایعنی جبکہ اس کے ساتھ اس کی بیوی موجودہے ؟کیونکہ ہم نے علمائے کرام سے سناہے کہ اگربیوی ساتھ میں توپھرسالی بھی ساتھ جاسکتی ہے ۔

(سائل : محمدطارق،کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں مذکورہ خاتون بہنوئی کے ہمراہ سفرحج پرنہیں جاسکتی اگرچہ بہن ساتھ ہے ،کیونکہ عورت کوایک دن(یعنی تقریبا30کلومیٹر)کے سفرپرمحرم کے بغیرجانامنع ہے ۔چنانچہ علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں :

روي عن ابي حنيفة وابي يوسف كراهة خروجها وحدها مسيرة يومٍ واحدٍ، وينبغي ان يكون الفتوى عليه لفساد الزمان شرح اللباب ويؤيده حديث الصحيحين «لا يحل لامراةٍ تؤمن بالله واليوم الاخر ان تسافر مسيرة يومٍ وليلةٍ الا مع ذي محرمٍ عليها»۔()

یعنی،امام اعظم ابوحنیفہ اورامام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے تنہاعورت کیلئے ایک دن کے سفرکی کراہت مروی ہے ، اورفسادزمانہ کی وجہ سے اسی روایت پرفتویٰ دیناچاہیے (شرح لباب)اوراس روایت کی تائید’’صحیح بخاری‘‘اور’’صحیح مسلم‘‘ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ’’اللہ تعالیٰ اورقیامت کے دن پرایمان رکھنے والی عورت کے لئے حلال نہیں کہ وہ ایک دن اورایک رات کی دوری پرسفرکرے مگر محرم کے ساتھ‘‘۔() اورامام اہلسنت امام احمدرضاخان حنفی متوفی1340ھ لکھتے ہیں : عورت میں اتنی بات زیادہ ہے کہ اسے بغیرشوہریا محرم کے ساتھ لیے ،سفرکوجاناحرام ہے ،اس میں کچھ حج کی خصوصیت نہیں ،کہیں ایک دن کے راستہ پربے شوہریامحرم جائے گی توگنہگارہوگی۔() اوربہنوئی محرم نہیں کیونکہ محرم وہ مردہوتاہے جس سے ہمیشہ کے لئے عورت کانکاح حرام ہو۔ چنانچہ شیخ الاسلام مخدوم محمدہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی1174ھ لکھتے ہیں : مراد بہ محرم کسی ست کہ حرام باشد بروی نکاح ان زن بر وجہ ابد برابر ست۔() یعنی،محرم سے مرادوہ شخص ہے جس سے عورت کانکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے ۔ اورصدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لیے ا س عورت کانکاح حرام ہے ،خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو،جیسے باپ،بیٹا،بھائی وغیرہ یا دودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو،جیسے رضا عی بھائی،باپ،بیٹاوغیرہ یا سسرالی رشتہ سے حرمت ائی، جیسے خسر،شوہرکابیٹاوغیرہ۔() اوربہنوئی کاسالی سے نکاح کرناہمیشہ کے لئے حرام نہیں بلکہ بیوی کی وفات کے بعدیااسے طلاق دے اورعدت گزرجائے تواس کی بہن یعنی اپنی سالی سے نکاح کرسکتاہے ۔ چنانچہ علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ نقل کرتے ہیں :

(سئل) فی رجلٍ ماتت زوجتہ المدخول بھا ولھا اخت فھل لہ تزوج اختھا بعد موتھا بیومٍ (الجواب) نعم کما فی الخلاصۃ عن الاصل للامام محمد وکما فی مبسوط صدر الاسلام کما نقلہ عنہ القھستانی والمحیط للامام السرخسی والبحر والتتارخانیۃ عن السراجیۃ وفتاوی الانقروی وقدری افندی ومؤید زادہ و مجمع الفتاوی و صرۃ الفتاوی و مجمع المنتخبات و نھج النجاۃ و غیرھا من الکتب المعتمدۃ واما ما عزی الی النتف من وجوب العدۃ علیہ فلا یعتمد علیہ۔()

یعنی،ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاگیاجس کی مدخولہ زوجہ فوت ہوگئی تھی اوراس کی بہن ہے تواس شخص کیلئے اپنی بیوی کے فوت ہونے کے بعداس کی بہن سے اسی دن نکاح کرناجائزہے ؟جوابافرمایا : ہاں جیساکہ’’خلاصۃ الفتاوی‘‘میں امام محمدکی’’کتاب الاصل‘‘کے حوالے سے ہے اورجیساکہ صدرالاسلام کی’’مبسوط‘‘ میں ہے ،جیساکہ اسے ’’قہستانی‘‘نے ان سے نقل کیاہے اور’’محیط‘‘، ’’بحرالرائق‘‘ اور’’فتاویٰ تاتارخانیہ‘‘میں ’’سراجیہ‘‘،’’فتاویٰ انقروی‘‘،’’قدری افندی‘‘ ، ’’مؤید زادہ‘‘،’’مجمع الفتاویٰ‘‘،’’صرۃ الفتاویٰ‘‘،’’مجمع المنتخبات‘‘،’’نہج النجاۃ‘‘اوراس کے علاوہ معتمدکتب سے منقول ہے اورجوشوہرپرعدت واجب ہونے کو ’’النتف‘‘ کی طرف منسوب کیاگیاہے پس اس پراعتمادنہیں کیاجائے گا۔ اورعلامہ نظام الدین حنفی متوفی1161ھ اورعلمائے ہندکی ایک جماعت نے لکھاہے : لا يجوز ان يتزوج اخت معتدته سواء كانت العدة عن طلاقٍ رجعي او بائنٍ او ثلاثٍ او عن نكاحٍ فاسدٍ او عن شبهة۔() یعنی،بیوی کوطلاق دی اوروہ عدت میں ہے تواس کی بہن سے نکاح جائز نہیں ہے خواہ طلاق رجعی کی عدت میں ہویابائن کی یاتین طلاق کی یانکاح فاسدکی یا شبہ کی وجہ سے وطی کی عدت میں ہو۔ اورامام اہلسنت امام احمدرضاخان حنفی متوفی1340ھ لکھتے ہیں : جب عورت مرجائے یااسے طلاق دے اورعدت گزرجائے توسالی سے نکاح جائزہے ۔() لہٰذاثابت ہواکہ بہنوئی محرم نہیں ہے کیونکہ اس سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں ہے ،اس سے نکاح صرف بہن کے نکاح میں ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے جب بہن فوت ہوجائے یااسے طلاق ہوجائے توبعدگزرنے عدت کے اس سے نکاح جائزہوتاہے ۔جب بہنوئی محرم نہیں ہے تواس کے ساتھ سفربھی جائزنہیں ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button