ARTICLESشرعی سوالات

عورت سفر حج میں بیوہ ہو جائے تو مناسکِ حج ادا کرے یا نہ

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورت سفر حج میں بیوہ ہو جائے تو کیا اس کو عدت کی حالت میں منیٰ عرفات او رمدینہ طیبہ وغیرہ جانا جائز ہے ؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : اگر دورانِ حج یا حج سے قبل کسی عورت کا شوہر قضائِ الٰہی سے انتقال کر جائے تو اس عورت کا کوئی محرم موجود ہو تو اس کے ساتھ حج پورا کرے اگر محرم نہ ہو تو گروپ کی ایسی عورتوں کے ساتھ حج پورا کرے جو خدا ترس اور دیندار ہوں اور مقررہ مدت کے بعد گھر پہنچ کر عدت کے بقیہ ایام گھر پر پورے کرے ۔ فقہ حنفی میں حکم تو یہ ہے کہ عورت اگر اپنے شوہر کے ساتھ سفر پر ہو اور سفر میں اس کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت کا گھر اگر مدتِ سفر پر نہ ہو تو اسے چاہئے گھر لوٹ آئے اور عدت کو پورا کرے اور اگر گھر اور جہاں کا قصد ہے دونوں مدتِ سفر پر ہوں تو کسی جانب سفر کو اختیار کرنا بے مُحرِم کے حرام ہے کہ اس جگہ اگر عزت و آبرو کے ساتھ رہنا میسر ہو تو اسے کسی محرم کے آنے تک یا دوسرا نکاح کرنے تک اسی جگہ رہنے کا حکم دیا جاتا ، اگر اس جگہ کوئی شناسا نہ ہو کہ رہنے کا بندوبست ہو سکے یا وہاں رہنے میں عزت و آبرو کا خطرہ ہو یا قانونی طور پر مسائل ہوں جن کی بناء پر وہاں رہنا دشوار ہو تو مجبوری اور ضرورت میں اسے مذہب غیر پر عمل کی وقتی اجازت دی جائے گی اور وہ یہ ہے کہ امام شافعی علیہ الرحمہ کے مذہب کے مطابق وہ اپنے قافلہ کے معتمد و ثقہ عورتوں کو تلاش کرے اور ان کے ساتھ سفر کو جاری رکھے یا وطن واپس آ جائے ، دونوں کا اختیارہے ۔ اور جو عورت جدّہ پہنچ کر بیوہ ہو گئی اسے بے مُحرِم وطن واپس لوٹنا حرام ہے ، البتہ مکہ مکرمہ جدّہ سے سفر شرعی کی دُوری پر نہیں لہذا مکہ مکرمہ چلی جائے اور حج کے بعد وہیں ٹھہرے تاکہ اس کا کوئی مُحرِم اس کو لینے کے لئے وطن سے پہنچ جائے اور اگر مُحرِم نہ ہو یا جانے آنے کے لئے تیارنہ ہو یا ایسا ہے کہ اسے دین کا کوئی لحاظ پاس نہیں ہے اور کوئی صورت نظر نہ آئے ، مذہب غیر پر عمل کرے جیسا کہ فتاویٰ رضویہ میں ہے :

کانت کمن أبانھا زوجھا أو مات عنہا و لو فی مصرٍ و لیس بینہا و بین مصرھا مدۃ سفر رجعت و لو بین مصرہا مدۃ و بین مقصدھا أقل مضت اھ۔

یعنی، کسی عورت کو اثنائے سفر شوہر نے بائن طلاق دے دی یا انتقال کر گیا اور اس عورت اور اس کے وطن کے درمیان مدّتِ سفر نہیں ہے تو وہ لوٹ آئے (233) اور اگر وطن کے لئے مسافت سفر ہے مقصد کے لئے مسافتِ سفر نہیں تو سفر جاری رکھے ۔ (234) لیکن اس رخصت شرعی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپنی صوابدید پر کسی عذر کو ضرورت مان لیا جائے یا کسی عام مجبوری کو ضرورت مان لیا اور مذہب غیر پر عمل کر لیا، شرعی طور پر جب تک ضرورت متحقق نہ ہو مذہب غیر پر عمل جائز نہیں اگرچہ چاروں مذاہب برحق ہیں لیکن جو جس مذہب کا مقلِّدہے اس پر اسی کی تقلید واجب ہے ھکذا فی ’’فتاوی یورپ‘‘، (ص331)۔ (235)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 29شوال المکرم 1427 ھ 22نوفمبر 2006م (222-F)

حوالہ جات

233۔ پھراس کاحکم محصر ہ کا ہوگا یعنی جب حدودِ حرم میں اس کی طرف سے دم کاجانور ذبح ہوگاتووہ احرام سے باہر ہوگی۔(مناسک،فصل فی بعث الھدی،ص587)

234۔ فتاوی رضویہ ، کتاب الحج، شرائط الحج، مسئلہ : 305، 10/707

235۔ فتاوی یورپ، کتاب الحج والزیارۃ، شوہر یا محرم اگر درمیان سفر فوت ہوجائے ، ص231

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button