ARTICLESشرعی سوالات

عورت حالتِ حیض میں طوافِ زیارت کر لے تو حج کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے ساتھ خواتین میں سے ایک خاتون کے ایام چل رہے ہیں ، اس وجہ سے طوافِ زیارت نہ کر سکی اور وقتِ روانگی بھی قریب ہے ، امید نہیں کہ پاک ہو سکے اور یہ طواف فرض ہے ، اس صورت اس فرض کو ادا کرنے کے لئے اگر طوافِ زیارت کر لے تو فرض ادا ہو جائے گا یا نہیں ؟

(السائل : ایک حاجی ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسی صورت پیش آ جائے تو روانگی مؤخّر کروانی چاہئے اور ائیر لائن والے ، پاکستانی سفارت خانے والے ، مکتب کے معلّم اور مؤسسہ والے ، سب کے سب اس اضطراری امر اور عورت کی مجبوری کو بخوبی سمجھتے ہیں کیونکہ چاروں مذاہب میں حتی کہ وہاں کے مقامی علماء کے ہاں بھی طوافِ زیارت کئے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا اور پھر کوئی حالتِ حیض میں طوافِ زیارت کے جواز کے قائل بھی نہیں اور پھر یہ مسئلہ کثیر الوقوع بھی ہے ، اس لئے روانگی مؤخّر کروانا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ اور بسا اوقات عورت روانگی مؤخّر کروانے پر راضی نہیں ہوتی تو اس صورت میں اُسے سمجھایا جائے کہ تیرا حج پورا نہیں ہوا کیونکہ حج کا ایک فرض ابھی باقی ہے ۔ اور تیرے یہاں آنے ، اتنا سفر کرنے ، مشقّت اٹھانے ، اتنا روپیہ خرچ کرنے کا کیا مقصد جب حج ہی پورا نہ ہو۔ اور جو فرض باقی ہے اس کو ادا کئے بغیر عورت مرد پر کبھی حلال نہیں ہوتی۔ اس طرح کی باتیں کر کے اُسے راضی کیا جائے اور سوال میں جس صورت کے بارے میں پوچھا گیا ہے اسے انتہائی مجبوری کی حالت میں اختیار کیا جائے جب اور کوئی چارہ نہ ہو۔ اور صورت مسؤلہ میں جواب یہ ہے کہ وہ عورت اگر اسی حال میں طواف کر لے تو اس کا فرض ادا ہو جائے گا اور بدنہ بھی لازم ہو گایعنی اس پر لازم ہے کہ ایک گائے یا اونٹ اس حال میں طوافِ زیارت کرنے کے جرمانے کے طور پر حدودِ حرم میں ذبح کروائے اور ساتھ توبہ بھی کرے کہ اس حال میں طواف کرنا گناہ ہے ۔ چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

جائز است مرزن حائض را اداء جمیع افعال حج و عمرہ از احرام ووقوف عرفات و سعی بین الصفا و المروۃ و غیر آن الاّ طوافِ کعبہ کہ آن جائز نیست و مراد بعدم جواز طواف مر حائض را حرمت فعل او ست نہ عدم صحت او اصلاً۔ لہٰذا علامہ ابن امیر الحاج در ’’منسک‘‘ خود گفتہ کہ اگر حائض گشت زنے قبل از اداء طوافِ زیارت و عزم کردند رفقاء او بر رجوع بسوئے وطن قبل از طہارت پس بیا ید آن زن نزد عالمے و بپر سد کہ آیا من طواف کنم یا نہ و اگر من طواف کنم صحیح گردد حج من یانہ۔ باید کہ جواب دادہ شود او را بآن کہ جائز نیست ترا دخولِ مسجد و نہ طواف و اگر داخل شُدی و طواف کردی معصیت کردی و آثم گشتی و لیکن صحیح افتد حج تو ولازم آمد بر تو ذبح بدنہ یعنی اشتر یا گاوے و این مسئلہ کثیر الوقوع است کہ متحیر میشوند زنان دروی ا ھ و مولانا علی قاری در ’’شرح منسک متوسط‘‘ آوردہ کہ اگر طوافِ زیارت کرد زنے در حالت حیض صحیح گردد طواف در حق سقوط فرضیت و لازم آید بروے ذبح بدنہ و عاصیہ گردد بسبب دخولِ مسجد و طواف بغیر طہارت و واجب باشد بروے اعادہ آن طواف مع الطہارۃپس اگر اعادہ کرد ساقط گردد بدنہ از وے وواجب باشد بروے توبہ از معصیت اگرچہ بدنہ دہد ا ھ (226)

یعنی، حائضہ عورت کو حج و عمرہ کے تمام افعال جیسے احرام، وقوفِ عرفات، سعی سب کرنا جائز ہے سوائے طوافِ کعبہ کے کہ وہ جائز نہیں اور جائز نہ ہونے سے مراد اس کے فعل کا حرام ہونا ہے نہ یہ کہ اصلاً ادا ہی نہیں ہو گا، چنانچہ علامہ ابن امیر الحاج نبے اپنی ’’منسک‘‘ میں لکھا طوافِ زیارت کی ادائیگی سے قبل کسی عورت کو حیض آ جائے اور اس کے رفقاء اس کے پاک ہونے سے قبل وطن لوٹنے لگیں تو وہ عورت کسی عالم کے پاس آ کر مسئلہ دریافت کرے کہ ایسی حالت میں طواف کروں یا نہ کروں اور اگر کر لوں تو میرا حج صحیح ہو جائے گا یا نہیں ، تو اسے جواب میں بتانا چاہئے کہ تمہارا مسجد حرام میں داخل ہونا اور طواف کرنا جائز نہیں ۔ اگر تم نے ایسا کر لیا تو گناہ کیا اور گنہگار ہوئیں لیکن تمہارا حج صحیح ہو گیا اور تم پر بدنہ یعنی ایک اونٹ یا گائے کو ذبح کرنا لازم ہے اور یہ مسئلہ اکثر درپیش آتا ہے اور عورتو ں کو بڑی پریشانی ہوتی ہے 1ھ۔ علّامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 993ھ اور مُلا علی قاری لکھتے ہیں : کہ اگر حیض والی طوافِ زیارت کر لے تو سقوطِ فرضیت کے لئے یہ طواف صحیح ہو جائے گا اور اس پر بدنہ (اونٹ یا گائے کو) ذبح کرنا لازم آئے گا اور مسجد میں بغیر پاکی کے داخل ہونے اور ناپاکی کی حالت میں طواف کرنے کا گناہ ہو گا۔ او رپاکی کی حالت میں اس طواف کا اعادہ اس پر لازم ہو گا۔ اگر اس نے اعادہ کر لیا تو یہ قربانی اس سے معاف ہو جائے گی، اور قربانی کے باوجود اس گناہ پر توبہ اس پر لازم ہو گی اھ۔ (227)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، 19ذوالحجۃ 1427ھ، 8ینایر 2007 م (353-F)

حوالہ جات

226۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول، فصل پنجم دربیان کیفیت احرام زن، ص83۔84

227۔ لباب المناسک و شرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات وأنواعھا، النوع الخامس : الجنایات فی أفعال الحج، فصل فی طواف الزیارۃ للحائض، ص496

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button