احادیث قدسیہ

عمل کیے بغیر ہی اس کا اجر

عمل کیے بغیر ہی اس کا اجر ملنے کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں عمل کیے بغیر ہی اس کا اجر ملنے کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی پے۔

عمل کیے بغیر ہی اس کا اجر ملنے کے متعلق حدیث قدسی:

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أوْسٍ رَضِيَ الله عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله – صلى الله عليه وسلم – يَقُوْلُ: "إن الله عَزَّ وَجَلَّ يَقُوْلُ إذَا ابتلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي وَصَبَرَ عَلَى مَا ابتلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُوْمُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أمُّهُ مِنَ الخَطَايَا وَيَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلحَفَظَةِ إِنِّي قَدْ قيَّدتُ عَبْدِي هَذَا وَابْتَلَيْتُهُ فَأَجْرُوا لَهُ مَا كُنْتُمْ تُجْرُوْنَ لَهُ وَهُوَ صَحِيْحٌ

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے  نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا  کہ اللہ تعالی   ارشادفرماتا ہے:

جب میں اپنے مومن بندے کو کسی آزمائش میں مبتلا کروں اور وہ اس حالت میں بھی میرے حمد کرے اور اس آزمائش پر صبر کرے  تو وہ اپنے بستر سےگناہوں سے پاک ایسے اٹھے گا جیسے پیدائش کے وقت تھااور اللہ تعالی کراماً کاتبین سے فرمائے گا:”میں نے اپنے بندے کو اس آزمائش میں مبتلا کیا ہے(جس کی وجہ سے اس کی عبادت میں کمی آ گئی ہے)  لہذا اس کے نامہ اعمال میں وہی اعمال لکھو جو اس کی حالت صحت میں لکھتے تھے۔“

حدیث قدسی کی تشریح:

یہاں عمل کیے بغیر ہی اس کا اجر کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے گئے ہیں۔

  1. اس حدیث میں ”میرا مومن بندہ“ فرمایا کیونکہ منافق یا کافر آزمائش پر صبر بھی نہیں کر پاتا۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:”اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ(۱۹) اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ(۲۰) وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ(۲۱)“ترجمہ:بےشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبراحریص جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والااور جب بھلائی پہنچے  تو روک رکھنے والا ۔

اللہ تعالی نے منافقین کی اسی روش کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍۚ- فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ نِ اطْمَاَنَّ بِهٖۚ- وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ-انْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ۫ۚ -خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَؕ- ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ترجمہ: اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں  پھر اگر اُنہیں کوئی بھلائی بن گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آ پڑی منہ کے بل پلٹ گئے دنیااور آخرت دونوں کا گھاٹا  یہی ہے صریح نقصان ۔

  1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندہ مومن آزمائش میں صبر تو کرتا ہی ہے لیکن اس تکلیف کی حالت میں اللہ تعالی کی حمد بھی کرتا ہے۔
  2. حالت صحت میں انسان جو نیک اعمال کرتا تھا اور بیماری کی وجہ سے نہیں کر پاتا اس کا ثواب بھی اللہ تعالی  اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے جبکہ حالت بیماری میں جو گناہ کرتا تھا  اور بیماری کی وجہ سے نہیں کیا اس کا گناہ نہیں لکھا جاتا۔

حدیث شریف کا حوالہ:

مسند احمد بن حنبل، حديث شداد بن أوس رضي الله عنه ، جلد28، صفحہ344، حدیث نمبر 17118، موسسۃ الرسالۃ، بیروت

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند صحیح ہے

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button