ARTICLES

عمرہ کی سعی سے قبل حلق کروانے کاحکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی نے طواف کے بعد حلق کروالیا اور بعد میں سعی کی تو کیا حکم ہے ؟اور اگر دم کی صورت بنتی ہے تووہ غریب ہونے کی وجہ سے اسے ادا نہیں کرسکتا یہاں تک اسے عمرہ بھی کسی نے کروایا ہے تو ایسے شخص کے لئے کیا حکم شرع ہوگا وضاحت فرمادیں ؟ (السائل : حسن رضا )

جواب

متعلقہ مضامین

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ۔صورت مسؤلہ میں ایسے شخص کی سعی درست ہوگئی البتہ اس پر وقت سے قبل احرام کھولنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا۔ چنانچہ ملاعلی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں : لو طاف ثم حلق ثم سعی صح سعیہ،وعلیہ دم لتحللہ قبل وقتہ ۔(146) یعنی،اگر کسی نے طواف کرنے کے بعد حلق کیاپھر اس کے بعد سعی کی تو اس کی سعی درست ہوگئی اور اس پروقت سے قبل احرام کھولنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا۔ اور دم لازم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ شخص واجب کی ادائیگی پر سبقت لے گیا ہے ۔ چنانچہ ملاعلی قاری لکھتے ہیں : وسبقہ علی اداء واجبہ۔(147) یعنی،(دم لازم ہونا )واجب کی ادائیگی پر سبقت لے جانے کی وجہ سے بھی ہے ۔ واضح رہے کہ یہ شخص واجب کی ادائیگی پر سبقت اس طرح لے گیا ہے کہ اس نے سعی سے قبل حلق کرلیا ہے حالانکہ واجب یہ ہے کہ عمرہ کی سعی حالت احرام میں حلق یا تقصیر سے قبل ادا ہو۔ چنانچہ شمس الائمہ امام ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل سرخسی حنفی متوفی 490ھ لکھتے ہیں : والسعی من اعمال العمرۃ فعلیہ ان یاتی بہ قبل التحلل بالحلق۔(148) یعنی،سعی کرنا عمرہ کے اعمال سے ہے تو عمرہ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ حلق کے ذریعے احرام سے باہر نکلنے سے قبل سعی کرے ۔ اورملاعلی بن سلطان محمدقاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں : سعی العمرۃ لا یشترط وجودہ بعد حلقہ،بل یجب تحققہ قبل حلقہ۔(149) یعنی،حلق کے بعد عمرہ کی سعی کرنے میں احرام کا ہوناشرط نہیں بلکہ حلق (یا تقصیر)سے قبل احرام کا ہونا واجب ہے ۔ البتہ یہ یاد رہے کہ ایسے شخص پر دم اسی صورت میں لازم ہوگاجبکہ اس نے بلا عذر ایسا کیا ہوچاہے وہ غریب ہو اور یہ جرم بلا عذر ہی واقع ہوا ہے لہذا اسے جرم غیراختیاری قرار نہیں دیاجائے گااور جرم غیر اختیار ی کے بارے میں صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : جہاں دم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جوؤں کی سخت ایذا کے باعث ہوگا تو اسے جرم غیر اختیاری کہتے ہیں ۔(150) لہٰذا اسے بہر صورت دم دینا ہوگا ابھی نہیں دے سکتا توزندگی بھر اسے کے ذمے رہے گا اسے ادا کرنا ہی ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب یوم الخمیس،20ربیع الاخر 1440ھ۔26دسمبر2018م FU-69

حوالہ جات

(146) المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب السعی بین الصفا والمروۃ،فصل فی شرائط صحۃ السعی، وھی سبعۃ،الثالث : تقدیم الاحرام علی السعی،تحت قولہ : سعی العمرۃ فلا یشترط فیہ وجودہ،ص248

(147) المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب السعی بین الصفا والمروۃ،فصل فی شرائط صحۃ السعی، وھی سبعۃ،الثالث : تقدیم الاحرام علی السعی،تحت قولہ : سعی العمرۃ فلا یشترط فیہ وجودہ،ص248

(148) کتاب المبسوط للسرخسی،کتاب المناسک،باب السعی بین الصفا والمروۃ،2/47

(149) المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط،باب الجنایات وانواعھا،،فصل فی الجنایۃ فی السعی، تحت قولہ : یعود باحرام جدیدٍ،ص504

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button