ARTICLES

عمرہ کی ادائیگی سے روکے جانے والے محرم کے لئے حکم جبکہ وہ مکہ مکرمہ میں ہو؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو لوگ مکہ مکرمہ میں احرام عمرہ کی حالت میں ہیں ،اورحکومت وقت کی جانب سے انہیں عمرہ کی ادائیگی سے روک دیاگیاہے ،ان کے لئے کیاحکم ہے ،بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ دم دے کراحرام سے باہراجائیں ،اوربہت سے محرم حضرات تو وہ ہیں کہ جن کے پاس دم کی ادائیگی کے لئے پیسے بھی نہیں ،ظاہرہے ہرایک کے پاس اتنے پیسے تونہیں ہوتے ہیں ،توان کے لئے دم دے کراحرام سے
باہراناتوبہت مشکل ہو جائے گا،حالانکہ اج طواف توکھول دیاگیاہے ،لیکن عمرہ والوں کے لئے نہیں کھولا ہے ،برائے کرم اپ اس بات کی رہنمائی فرمائیں ،کہ جولوگ حالت احرام میں ہیں ، اورانہیں طواف اورسعی کی ادائیگی سے روک دیاگیاہے ،ان کے لئے ازروئے شرع کیاحکم ہے ؟ (سائل : C/Oحضرت مولاناعبدالحبیب عطاری صاحب)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں جولوگ حالت احرام میں ہیں اورانہیں طواف کعبہ سے روک دیاگیاہے ،ان میں سے ہرایک شرعا محصر ہے ، یادرہے کہاحصار ہمارے نزدیک جیسے حج میں متحقق ہوتا ہے ،ویسے ہی عمرہ میں بھی ہوتاہے ۔ چنانچہ امام برہان الدین ابوالحسن علی بن ابی بکرمرغینانی حنفی متوفی593 ھ لکھتے ہیں : الاحصار عنها يتحقق عندنا. وقال مالك – رحمه الله – : لا يتحقق؛ لانها لا تتوقت. ولنا ان النبي – عليه الصلاة والسلام – واصحابه – رضي الله عنهم – احصروا بالحديبية وكانوا عمارًا؛ ولان شرع التحلل لدفع الحرج وهذا موجود في احرام العمرة۔( ) یعنی،عمرہ میں احصارمتحقق ہوتاہے اور امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ عمرہ میں احصارمتحقق نہیں ہوتا؛ کیونکہ عمرہ مؤقت نہیں ہے ،اورہماری دلیل یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺاور اپ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کومقام حدیبیہ میں روک دیاگیا تھا،اس حال میں کہ وہ عمرہ کرنے والے تھے ،اوراس لئے کہ احرام سے باہر انے کامشروع ہوناحرج کودور کرنے کے لئے ہے ،اوریہ احرام عمرہ میں موجود ہے ۔ علامہ ابوبکربن علی حنفی متوفی800ھ لکھتے ہیں : ان الاحصار منها متحقق وقال مالك لا يتحقق لانها لا تتوقت ، لنا ان «النبي – صلى الله عليه وسلم – واصحابه احصروا بالحديبية وكانوا عمارًا فحلق النبي – صلى الله عليه وسلم – وامر اصحابه بذلك۔( ) یعنی،عمرہ میں احصارمتحقق ہوتاہے اور امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ عمرہ میں احصارمتحقق نہیں ہوتا کیونکہ عمرہ مؤقت نہیں ہے ،اورہماری دلیل یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺاور اپ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کومقام حدیبیہ میں روک دیاگیا تھا،اس حال میں کہ وہ عمرہ کرنے والے تھے ،تو نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریمﷺ نے حلق فرمایا،اوراپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کواسی کاحکم ارشاد فرمایا۔ اورقاضی ومفتی مکہ مکرمہ امام ابو البقاءمحمد بن احمد حنفی متوفی ٨٥٤ھ لکھتے ہیں : الاحصار کما یکون عن الحج یکون عن العمرة وقال مالک : لایتحقق الاحصاربالعمرۃ لعدم تحقق الفوات،ولناقولہ تعالیٰ : {فان احصرتم فما استيسر من الهدي}[البقرۃ : 196]ای فانۡ احصرتمۡ عن اتمام الحج والعمرۃ،فعلیکم ماتیسر من الھدی۔ ( ) یعنی،احصارجس طرح حج میں متحقق ہوتاہے ،اسی طرح عمرہ میں بھی ہوتاہے ،اورامام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : کہ عمرہ میں احصارمتحقق نہیں ہوتا کیونکہ عمرہ کافوت ہونا متحقق نہیں ہوتا،اور ہماری دلیل باری تعالیٰ کافرمان{پھر اگرتم روکے جاؤتوقربانی بھیجو جومیسرائے }[البقرۃ : 196]ہے ،یعنی پھراگرتمہیں حج و عمرہ کوپوراکرنے سے روک دیاجائے ،تو (احرام سے نکلنے کے لئے )تم پرقربانی کا جانور لازم ہے جوتمہیں میسرائے ۔ واضح رہے ،عمرہ میں احصارمتحقق ہونے کے لئے ضروری ہے کہ محرم کو طواف کعبہ سے روک دیاجائے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اورملاعلی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں : (وفی العمرۃ)ای والاحصارفیھا ھو المنع (عن الطواف) ای بعد الاحرام(….لا غیر) اذ لیس فیھا رکن الا الطواف بخلاف الحج فان معظم ارکانہ الوقوف۔( ) یعنی،عمرہ میں احصارطواف سے روک دینا ہے یعنی احرام کے بعد،یہ حکم عمرہ کے علاوہ نہیں ہے ، کیونکہ عمرہ کا رکن طواف ہی ہے بخلاف حج کے ،پس بے شک حج کے ارکان میں سے بڑا رکن وقوف عرفہ ہے ۔ اورملاعلی قاری لکھتے ہیں : {فان احصرتم}[البقرة : 196] اي حبستم ومنعتم عن البیت والوقوف او عن الکعبۃ فی العمرۃ من جھۃ عدوومرض وغیرھما کذھاب النفقۃ وموت المحرم للمراۃ ونحۡوھما {فما استيسر من الهدي}[البقرة : 196] ای : فعلیکم انۡ اردتم التحلل ما تیسر من جنس الھدی الشامل للابل والبقرۃ والشاۃ / بشرط انۡ تذبح فی الحرم لقولہ تعالی : {ولا تحلقوا
رءوسكم}[البقرة : 196]ای : وانتم محرمون {حتى يبلغ الهدي محله}[البقرة : 196] ای : مکانہ الذی یجب ان ینحر فیہ وھو الحرم لقولہ تعالیٰ : هديا بالغ الكعبة [المائدة : 95]. ( ) یعنی،پھراگرتمہیں حج میں خانہ کعبہ اوروقوف عرفہ سے یاعمرہ میں فقط خانہ کعبہ سے دشمن اوربیماری اوران دونوں کے علاوہ کسی جہت سے روک دیاجائے ،جیسے نفقہ کاچلے جانا اور عورت کے لئے محرم کی وفات اور ان دونوں کی مثل{ توقربانی بھیجو جومیسرائے }[البقرۃ : 196]یعنی : پھر اگرتم احرام سے باہرانے کاارادہ کرو،تو تم پر لازم ہے جوتمہیں میسر ائے یعنی ہدی کی جنس سے ، جواونٹ،اور گائے ،اوربکری کو شامل ہے ،اس شرط کے ساتھ کہ اسے حرم میں ذبح کیاجائے اللہ تعالیٰ کے فرمان {اور اپنے سرنہ منڈاؤ}[البقرۃ : 196]یعنی اس حال میں تم لوگ حالت احرام میں ہو{جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے }[البقرۃ : 196]یعنی : ہدی کی جگہ جس میں نحر کرناواجب ہے ،اوروہ جگہ حرم ہے ،اللہ تعالیٰ کے فرمان{یہ قربانی ہوکعبہ کوپہنچتی }[المائدۃ : 95]کیوجہ سے ۔ اورحج میں احصارمتحقق ہونے کے لئے ضروری ہے کہ محرم کو وقوف عرفہ اورطواف سے روک دیاجائے یعنی دونوں رکنوں کی ادائیگی سے ،اگرچہ محصر حرم میں ہویا مکہ مکرمہ میں ہو،یہی صحیح قول ہے ۔ چنانچہ علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمدحنفی متوفی710ھ اورعلامہ زین الدین بن ابراہیم حنفی متوفی970ھ لکھتے ہیں : (قوله : ومن منع بمكة عن الركنين فهو محصر، والا لا) اي، وان قدر على احدهما فليس بمحصرٍ؛ لانه اذا منع عنهما في الحرم فقد تعذر عليه الاتمام فصار كما اذا احصر في الحل، واذا قدر على الطواف فلان فائت الحج يتحلل به والدم بدل عنه في التحلل، واما ان قدر على الوقوف فلما بينا، وقد قيل في المسالة خلاف بين ابي حنيفة وابي يوسف والصحيح ما تقدم من التفصيل كذا في النهاية، وهو اشارة الى رد ما في المحيط حيث جعل ما في المختصر من التفصيل رواية النوادر، وان ظاهر الرواية ان الاحصار بمكة عنهما ليس باحصارٍ؛ لانه نادر، ولا عبرة به۔ ( ) یعنی،جسے مکہ میں دو(2)ارکان کی ادا ئیگی سے روک دیا جائے ،پس وہ محصر ہے ،اوراگرایسانہ ہوتونہیں ، یعنی اگر وہ ان دونوں میں سے کسی ایک (1)پر قادر ہو،تو محصر نہیں ہوگا؛کیونکہ جب وہ حرم میں دونوں ارکان کی ادائیگی سے روک دیا گیا،تو اس پرمکمل کرنا متعذر ہوگیا،پس وہ حل میں روکے گئے شخص کی مثل ہو گیا ،اور جب وہ طواف پرقادر ہوگاتو بے شک حج کو فوت کرنے والاطواف کے ذریعے احرام سے باہر ہوگااور دم اس کی جانب سے تحلل کے حق میں بدل ہوگا،اور بہر حال اگروہ وقوف پر قادر ہوگا،تو اس کے لئے وہ ہے جوہم نے بیان کیااورتحقیق کہا گیا ہے کہ اس مسئلہ میں امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہما کے درمیان اختلاف ہے اورصحیح وہ ہے جس کی تفصیل گزر چکی ہے جیسا کہ نہایہ میں ہے ،اور اس میں اشارہ ہے اس کے رد کی طرف جو محیط میں ہے اس حیثیت سے کہ انہوں نے نوادر کی روایت کو مختصر میں تفصیل سے بیان کیاہے اورظاہر الروایہ میں ہے کہ مکہ میں ان دونوں (یعنی وقوف عرفہ اور طواف زیارت)سے روک دیا جانابھی احصار نہیں کیونکہ یہ نادر ہے اور نادرکا اعتبار نہیں ۔ علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں : ومن احۡصر فی الحرم او بمکۃ وھو ممنوۡع عن الطواف والوقوف فھو محرم کما اذا احۡصر فی الحل وان قدر علیھا جمیعًا او قدر علی احدھما لیس بمحصرٍ فی ظاھر الروایۃلانہ ان قدر علی الوقوف فقد امن فوات الحج وان قدر علی الطواف یصبر حتی یفوت الحج فیتحلل بافعال العمرۃ ولادم علیۡہ ولاعمرۃ فی القضاء وقد قیۡل ان فی ھٰذہ المسۡئلۃ خلافا بین ابی حنیۡفۃ وابی یوسف وھو ما روی عن ابی یوۡسف انہ قال سالت ابا حنیفۃ رضی اللٰہ عنہ عن المحرم یحۡصر فی الۡحرم فقال لایکون محصرًا قلت المۡ یحصر النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللٰہ علیہ وسلم وصحابہ بالحدیبیۃ وھی من الحرم فقال نعم لٰکن کانت حینئذٍ دار الحرب واما الان ففی دار الاسلام والمنع فیہ عن جمیع افعال الحج نادر فلا یعتبر فلایتحقق الاحصار ففی ھٰذہ الروایۃ لایکون محصرا وان کان ممنوعا منھما وقال ابی یوسف اماعنۡدی فالاحصار بالحرم فھو متحقق اذا غلب العدو علی مکۃ حتی حال بینھا وبین البیت وفی الطرابلسی واذا دخل مکۃ واحصر لایکون محصرا ذکر الجواب فی الاصل مطلقا وذکر محمد فی النوادر مفصلا فقال انۡ کان یمکنہ الوقوف والطواف لم یکن محصرا والا فھو محصرا قالوا والصحیح ان التفصیل المذکور قول الکل وھو انہ کان یقدر علی الوقوف اوعلی الطواف لایکون محصرا او ان لم یقدر علی واحدٍ منھما یکون محصرا ذکرہ الجصاص وغیرہ وصححہ القدوری وصاحب الھدایۃ والکافی والبدائع وغیرھم قال فی الفتح والذی یظھر من تعلیل منع الاحصار فی الحرم تخصیصہ بالعدو واما ان احصر فیہ بغیرہ فالظاھر تحققہ علی قوۡل الکل واللٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعۡلم۔( ) یعنی، اور جسے حرم یا مکہ مکرمہ میں روک دیا گیا ہو،اور اسے طوا ف اور وقوف عرفہ سے روک دیا گیا ہو،تو وہ شخص محصر ہے ،جیساکہ جب کسی کوحل میں روک دیاجائے تووہ محصرہوتاہے ،اوراگر وہ طواف اور وقوف عرفہ پر قادر ہو یا ان دونوں میں کسی ایک پر،تو ظاہر الروایہ کے مطابق ایساشخص محصر نہیں ہوگا،کیونکہ اگر وہ شخص وقوف عرفہ پر قادر ہوگا ،تو حج کے فوت ہونے سے امن ہوگا،اور اگر وہ طواف پر قادر ہوگا،تو وہ شخص صبر کرے یہاں تک کہ حج فوت ہوجائے ،پھروہ افعال عمرہ کے ذریعے احرام سے باہراجائے ،اوراس پر نہ توکوئی دم لازم ہوگا اور نہ ہی عمرہ کی قضاء،اورتحقیق کہاگیاہے کہ اس مسئلہ میں امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے درمیان اختلاف ہے اور وہ یہ ہے جوامام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیاگیاہے : انہوں نے کہاکہ میں نے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیاتھاجسے حرم میں روک دیاجائے ،توامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ وہ محصر نہیں ہوگا،میں نے عرض کیا : کیانبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور اپ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مقام حدیبیہ میں نہیں روکاگیاتھا،حالانکہ حدیبیہ حرم سے ہے ؟توامام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ،لیکن اس وقت وہ دارالحر ب تھا اوراب دارالاسلام میں ہے اور حرم میں تمام افعال حج سے روک دینے کی صورت نادر ہے ،پس نادرکااعتبارنہیں کیاجائے گا،لہذا حرم میں احصار متحقق نہیں ہوگا،پس اس روایت میں ہے کہ وہ محصر نہیں ہوگا،اگرچہ وقوف عرفہ اورطواف سے روک دیا جائے ،اورامام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : رہا میرے نزدیک،پس حرم میں احصارمتحقق ہوگا،جبکہ دشمن مکہ مکرمہ پر غالب ہوں یہاں تک کہ اس کے اور بیت اللہ شریف کے درمیان حائل ہوں اورطرابلسی میں ہے : اورجب محرم مکہ میں داخل ہو،اوراسے روک دیاجائے تووہ محصرنہیں ہوگا،انہوں نے جواب کو اصل میں مطلقا ذکرکیاہے ،اور امام محمدرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے نوادرمیں مفصل طورپر ذکر فرمایا ہے ،پس انہوں نے فرمایاہے کہ اگراسے وقوف اور طواف پرقدرت ہو،تو وہ محصر نہیں ہوگا،اوراگرایسانہ ہو،تووہ محصر ہوگااور فقہاءرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے فرمایا ہے : اورتمام کے قول کے مطابق مذکورتفصیل صحیح ہے ،اور وہ یہ ہے کہ اگروہ وقوف عرفہ یاطواف پرقادرہو،تومحصر نہیں ہوگا،اوراگروہ ان دونوں میں سے کسی ایک پربھی قادرنہ ہو،تووہ محصرہوگا،اسے امام جصاص رازی وغیرہ نے ذکر کیاہے ،اورامام قدوری،صاحب ہدایہ،صاحب کافی اورصاحب بدائع وغیرہم نے اس قول کو صحیح قراردیا ہے اورصاحب فتح القدیر نے فتح القدیرمیں فرمایاہے : اورحرم میں ممانعت احصارکی تعلیل سے ظاہرہوتاہے ،اس کی تخصیص دشمن کے ساتھ ہے اوراگروہ حرم میں دشمن کے علاوہ کے سبب روک دیاجائے ،توتمام فقہاء کے قول پر ظاہر احصار کا متحقق ہوناہی ہے .واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم مذکورہ عبارات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ صحیح اورتفصیلی قول کے مطابق مکہ مکرمہ میں بھی احصارمتحقق ہوسکتاہے ،فرق صرف یہ ہے کہ حج میں احصار متحقق ہونے کے لئے ضروری ہے کہ محرم دو رکنوں کی ادائیگی سے روک دیاجائے ،جبکہ عمرہ میں احصارمتحقق ہونے کے لئے محرم کوفقط طواف کعبہ سے روک دیاجاناکافی ہے ،لہذادلائل وبراہین کی روسے واضح ہواکہ جولوگ احرام عمرہ میں ہیں اورانہیں طواف کعبہ سے روک دیاگیاہے ،ان میں سے ہرایک شرعا محصر ہے ۔ محصراحرام سے باہرکیسے ائے ؟ محصر احرام سے باہراناچاہے تواس کاطریقہ یہ ہے کہ وہ حرم میں دم یعنی ایک بکرا(اس میں نر،مادہ،دنبہ،بھیڑ،نیزگائے یا اونٹ کاساتواں حصہ سب شامل ہیں ،کما فی رفیق الحرمین)بھیج دے ،جب قربانی ہو جائے گی ،اس کا احرام کھل جائے گا یا قیمت بھیج دے کہ وہاں جانور خرید کر ذبح کر دیا جائے ،بغیر اس کے احرام نہیں کھل سکتا ،جب تک مکہ معظمہ پہنچ کر طواف و سعی و حلق نہ کرلے ، روزہ رکھنے یا صدقہ دینے سے کام نہ چلے گا اگرچہ قربانی کی استطاعت نہ ہو،البتہ یہ ضروری امر ہے کہ جس کے ہاتھ قربانی بھیجے اس سے ٹھہرا لے کہ فلاں دن فلاں وقت قربانی ذبح ہو اور وہ وقت گزرنے کے بعد احرام سے باہر ہوگا پھر اگر اسی وقت قربانی ہوئی جو ٹھہرا تھا یا اس سے پیشتر فبہا اور اگر بعد میں ہوئی اور اسے اب معلوم ہواتو ذبح سے پہلے چونکہ احرام سے باہر ہوا، لہذا دم دے ۔ چنانچہ علامہ شمس الدین ابوبکرمحمدسرخسی حنفی متوفی490 ھ لکھتے ہیں : (قال)رضي الله عنه- الاصل في حكم الاحصارقوله تعالى {واتموا الحج والعمرة لله فان احصرتم} [البقرة : 196] اي منعتم من اتمامهما {فما استيسر من الهدي} [البقرة : 196] شاةٍ تبعثونها الى الحرم لتذبح ثم تحلقون لقوله تعالى {ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله} [البقرة : 196] فعلى المحصر اذا كان محرمًا بالحج ان يبعث بثمن هديٍ يشترى له بمكة فيذبح عنه يوم النحر فيحل عن احرامه، وهذا قول علمائنا رحمهم الله تعالى ان هدي الاحصار مختص بالحرم، وعلى قول الشافعي – رضي الله عنه – لا يختص بالحرم، ولكن يذبح الهدي في الموضع الذي يحصر فيه، وحجته في ذلك حديث ابن عمر – رضي الله عنهما – «ان النبي – صلى الله عليه وسلم – خرج مع اصحابه – رضي الله عنهم – معتمرًا فاحصر بالحديبية فذبح هداياه وحلق بها، وقاضاهم على ان يعود من قابلٍ فيخلوا له مكة ثلاثة ايامٍ بغير سلاحٍ فيقضي عمرته» فانما «نحر رسول الله – صلى الله عليه وسلم – الهدي في الموضع الذي احصر فيه» ، ولانه لو بعث بالهدي لا يامن ان لا يفي المبعوث على يده او يهلك الهدي في الطريق، واذا ذبحه في موضعه يتيقن بوصول الهدي الى محله، وخروجه من الاحرام بعد اراقة دمه فكان هذا اولى، وحجتنا في ذلك قوله تعالى {ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله} [البقرة : 196] والمراد به الحرم بدليل قوله تعالى {ثم محلها الى البيت العتيق} [الحج : 33] بعدما ذكر الهدايا ولان التحلل باراقة دمٍ هو قربة واراقة الدم لا يكون قربةً الا في مكان مخصوصٍ، وهو الحرم او زمانٍ مخصوصٍ، وهو ايام النحر ففي غير ذلك المكان والزمان لا تكون قربةً، ونقيس هذا الدم بدم المتعة من حيث انه تحلل به عن الاحرام، وذلك يختص بالحرم فكذا هذا ، واما ما روي فقداختلفت الروايات في نحر رسول الله – صلى الله عليه وسلم – الهدايا حين احصر فروي «انه بعث الهدايا على يدي ناجية لينحرها في الحرم حتى قال ناجية : ماذا اصنع فيما يعطب منها؟ قال انحرها واصبغ نعلها بدمها،واضرب بها صفحة سنامها، وخل بينها وبين الناس، ولا تاكل انت ولا رفقتك منها شيئًا»،وهذه الرواية اقرب الى موافقة الاية قال الله تعالى {هم الذين كفروا وصدوكم عن المسجد الحرام والهدي معكوفًا ان يبلغ محله} [الفتح : 25] فاما الرواية الثانية ان صحت فنقول : الحديبية من الحرم فان نصفها من الحل ونصفها من الحرم، ومضارب رسول الله- صلى الله عليه وسلم – كانت في الحل، ومصلاه كان في الحرم فانما سيقت الهدايا الى جانب الحرم منها، ونحرت في الحرم فلا يكون للخصم فيه حجة، وقيل ان النبي – صلى الله عليه وسلم – كان مخصوصًا بذلك لانه ما كان يجد في ذلك الوقت من يبعث الهدايا على يده الى الحرم۔( ) یعنی،امام سرخسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حکم احصارمیں اصل باری تعالیٰ کافرمان{اور حج اورعمرہ کواللہ کے لئے پوراکرو،پھراگرروکے جاؤ}ہے ،یعنی تمہیں حج اورعمرہ کوپوراکرنے سے روک دیاجائے {توقربانی بھیجو جومیسرائے }محصر احرام سے باہرانے کے لئے جانب حرم ایک بکری بھیجے تاکہ وہ حرم میں ذبح کی جائے ،پھرتم باری تعالیٰ کے فرمان{اور اپنے سرنہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے }کی وجہ سے سرمنڈاؤ،پس محصرپرلازم ہے کہ جب وہ حج کے احرام میں ہوتوہدی کی قیمت بھیج دے تاکہ اس کے لئے مکہ مکرمہ میں ہدی کوخریدکریوم نحرمیں اس کی جانب سے ذبح کیاجائے ،پھروہ اپنے احرام سے باہرا جائے گا،اوریہ ہمارے علماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کاقول ہے ،کہ دم احصار حرم کے ساتھ مختص ہے ،جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک دم احصار حرم کے ساتھ خاص نہیں ہے ،لیکن ہدی کواسی جگہ میں ذبح کیاجائے گاجس میں روکا گیا ہو، اورامام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس میں دلیل ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺاپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے اورانہیں حدیبیہ میں روک دیاگیا،توانہوں نے اپنی قربانیوں کوذبح فرمایااورحدیبیہ ہی میں حلق بھی کروایا،اوراپنے عمرہ کو اگلے سال لوٹ کرقضاء بھی کیا،پس ان کے لئے مکہ مکرمہ کوتین روز کے لئے
بغیرہتھیارکے خالی کیاگیا،توانہوں نے اپنے عمرہ کومکمل فرمایا،تو نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریمﷺ نے قربانی کواسی جگہ میں نحرفرمایاتھاجس میں روکاگیاتھا،اوریہ اس لئے تھاکہ اگرمحصر ہدی کوکسی کے ساتھ بھیجے تو اس بات سے امن نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے ہی ہاتھ سے پوراکرے یاوہ راستے ہی میں ہدی ہلاک کردے ،اورجب اسے اسی جگہ میں ذبح کرے گا،توہدی کا اپنے ٹھکانے پہنچنایقینی ہوجائے گا،اوراس کااحرام سے نکلنادم احصار کوبہانے کے بعدہی ہوگاتویہ اولیٰ ہوگا،اورہماری دلیل اس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان{اور اپنے سرنہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے }ہے ،اور ٹھکانے سے مرادحرم ہے ،اس کی دلیل باری تعالیٰ کا فرمان{پھران کا بھیجناہے اس ازاد گھرتک}ہے ،بعد اس کے جو ذکر کیا ہدایا کو اوراس وجہ سے کہ تحلل خون بہانے کے ساتھ ہے اور یہ قربت یعنی نیکی ہے اور خون بہاناقربت واقع نہ ہوگامگرمخصوص جگہ میں اوروہ حرم ہے یا مخصوص زمانے میں اور وہ ایام نحر ہیں پس اس مکان اورزمانے کے علاوہ میں قربت واقع نہ ہوگی،اور ہم دم احصارکودم تمتع پرقیاس کرتے ہیں اس حیثیت سے کہ دم احصار کے ذریعے احرام سے باہرہوگا،اور دم تمتع حرم کے ساتھ خاص ہے اسی طرح یہ بھی(یعنی دم احصار)اور بہرحال جوروایت کیاگیاہے ،توتحقیق رسول اللہﷺ کا ہدایاکواس وقت نحرفرمانے میں روایتیں مختلف ہیں جب روکے گئے ،پس روایت کیا گیاہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریمﷺنے حضرت ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں ہدایاکو بھیجا کہ وہ انہیں حرم میں نحر کردیں ،حتی کہ حضرت ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہﷺ میں اس کاکیاکروں جوہدایا سے تھک جائے ،فرمایا تم اسے نحر کردینا،اوراس کی جوتی کواس کے خون میں بھگوکراس کے پہلوپرنشان لگادینا، اور اسے لوگوں کے درمیان چھوڑدینا،اورتم اس سے کچھ مت کھانااورنہ ہی تمہارے ساتھی اس سے کچھ کھائیں ،اوریہ روایت موافقت ایت کیجانب زیادہ قریب ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا : {وہ،وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور رکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے }بہرحال دوسری روایت اگرصحیح بھی ہوتوہم یہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ حرم سے ہے ،پس بے شک حدیبیہ کاادھاحصہ حل میں ہے اورادھاحصہ حرم میں ہے ،اوراللہ کے رسولﷺ کے شرکاء حل میں تھے اوران کامصلی حرم میں تھا،تو ہدایاکوحل سے جانب حرم لے جایاگیا،اورحرم میں نحر کیاگیا،لہذامدمقابل کے لئے اس میں حجت نہیں ہے ،اورکہاگیاہے کہ بے شک یہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا،کیونکہ اپﷺاس وقت میں اسے نہ پاتے تھے کہ جس کے ہاتھ ہدایا کوجانب حرم بھیجیں ۔ علامہ نظام الدین حنفی متوفی ١١٦١ھ اور علما ئے ہند کی جماعت نے لکھا ہے : حكم الاحصار فهو ان يبعث بالهدي او بثمنه ليشتري به هديًا ويذبح عنه وما لم يذبح؛ لا يحل وهو قول عامة العلماء سواء شرط عند الاحرام الاهلال بغير ذبحٍ عند الاحصار او لم يشترط، ويجب ان يواعد يومًا معلومًا يذبح عنه فيحل بعد الذبح ولا يحل قبله حتى لو فعل شيئًا من محظورات الاحرام قبل ذبح الهدي يجب عليه ما يجب على المحرم اذا لم يكن محصرًا… المحصر اذا كان لا يجد الهدي ولا ثمنه لا يحل بالصوم عندنا، كذا في السراج الوهاج ان حل في يوم وعده على ظن انه ذبح هديه عنه في ذلك اليوم ثم علم انه لم يذبحه كان محرمًا وعليه دم لاحلاله قبل وقته۔( ) یعنی،احصارکاحکم یہ ہے کہ وہ ہدی یااس کی قیمت حرم میں بھیج دے تاکہ وہ ہدی خریدکرمحصرکی جانب سے ذبح کردے ،اورجب تک وہ ذبح نہ کرے گا، محصر احرام سے باہرنہیں ائے گااوریہی اکثرعلماءکاقول ہے ،خواہ احرام کے وقت احصار کی صورت میں ذبح کے بغیراحرام سے باہرانے کی شرط لگائی ہویانہیں ، اور محصر پر واجب ہے کہ وہ اس سے معلوم دن میں اس کی جانب سے ذبح کردینے کاوعدہ لے ، پھرمحصرذبح کے بعداحرام سے باہراجائے گااوراس سے پہلے وہ احرام سے باہرنہ ہوگا،یہاں تک کہ اگرمحصرنے ہدی کے ذبح ہونے سے قبل ممنوعات احرام میں سے کسی کام کاارتکاب کیا،تواس پروہ واجب ہوگاجومحرم پرواجب ہوتاہے جبکہ محصرنہ ہو،…محصرجب ہدی نہ پائے اورنہ ہی ہدی کی قیمت تووہ ہمارے نزدیک روزے سے حلال نہیں ہوگا،اسی طرح سراج الوھاج میں ہے ،اگرمحصر اس کے وعدہ والے دن کے مطابق اس گمان پراحرام سے باہراگیاکہ اس نے محصرکی ہدی کومعلوم دن میں اس کی جانب سے ذبح کرچکاہوگا،پھرمحصرکومعلوم ہواکہ اس نے ذبح نہیں کیاہے ، تووہ محرم ہی ہوگا،اورمحصرپروقت سے پہلے حلال ہونے کے سبب ایک دم لازم ہوگا ۔ اورصدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : محصر کویہ اجازت ہے کہ وہ حرم کوقربانی بھیج دے ،جب قربانی ہو جائے گی ،اس کا احرام کھل جائے گا یا قیمت بھیج دے کہ وہاں جانور خرید کر ذبح کر دیا جائے بغیر اس کے احرام نہیں کھل سکتا ،جب تک مکہ معظمہ پہنچ کر طواف و سعی و حلق نہ کرلے ، روزہ رکھنے یا صدقہ دینے سے کام نہ چلے گا اگرچہ قربانی کی استطاعت نہ ہو، یہ ضروری امر ہے کہ جس کے ہاتھ قربانی بھیجے اس سے ٹھہرا لے کہ فلاں دن فلاں وقت قربانی ذبح ہواور وہ وقت گزرنے کے بعد احرام سے باہر ہوگا پھر اگر اسی وقت قربانی ہوئی جو ٹھہرا تھا یا اس سے پیشتر فبہا اور اگر بعد میں ہوئی اور اسے اب معلوم ہوا تو ذبح سے پہلے چونکہ احرام سے باہر ہوا، لہذا دم دے ۔( ) اور فی زمانہ موبائل كے ذريعے معلوم كیا جاسكتا ہے كہ دم کا جانور ذبح ہوگيا ہے یا نہیں اور پھردم ادا ہو جانے کے بعد محصر ممنوعات احرام میں سے کسی کام کا بھی ارتکاب کرے گا تو اس پر کوئی جزاء لازم نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ گنہگار ہوگا۔ اورجولوگ احرام سے باہرائیں گے ،ان میں سے ہرایک پرحلق/تقصیر واجب ہے ،کیونکہ جسے حرم میں روک دیا جائے ،اس پرحلق /تقصیرواجب ہوتاہے ۔ چنانچہ علامہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں : ذكر ابو بكرٍ الرازي ان عند ابي حنيفة ومحمدٍ رحمهما الله تعالى انما لا يحلق المحصر اذا احصر في الحل اما اذا احصر في الحرم يحلق؛ لان الحلق عندهما مؤقت بالحرم۔( ) یعنی،ابوبکررازی نے ذکرکیاہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد رحمھما اللہ تعالیٰ کے نزدیک محصر حلق نہیں کروائے گا جبکہ اسے روکاگیاہوحل میں بہرحال اگرحرم میں روکاگیاہوتو وہ حلق کروائے گاکیونکہ ان دونوں کے نزدیک حلق حرم کے ساتھ مؤقت ہے ۔ علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں : قيده المصنف في الكافي بما اذا احصر في الحل اما اذا احصر في الحرم فيحلق اتفاقًا۔( ) یعنی،مصنف نے کافی میں قیدلگائی ہے کہ جب اسے حل میں روک دیاجائے ،بہرحال جب اسے حرم میں روک دیاجائے تووہ بالاتفاق حلق کروائے گا۔ علامہ ابو الاخلاص حسن بن عمارشرنبلالی حنفی متوفی1069ھ لکھتے ہیں : اذا احصر في الحرم فعليه الحلق كذا في المصفى۔( ) یعنی،جب اسے حرم میں روک دیاجائے ،تو اس پرحلق لازم ہے جیساکہ مصفی میں ہے ۔ اورعلامہ سید محمد ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں : اما في الحرم فالحلق واجب.اهـ.قال في الشرنبلالية. كذا جزم به في الجوهرة والكافي، وحكاه البرجندي عن المصفى بقيل فقال : وقيل انما لا يجب الحلق على قولهما اذا كان الاحصار في غير الحرم، اما فيه فعليه الحلق۔( ) یعنی،بہرحال حرم میں توحلق واجب ہے ،شرنبلالیہ میں فرمایاکہ اسی طرح جوہرہ اورکافی میں اس پرجزم فرمایاہے ،اور برجندی نے اسے مصفی سے قیل کے ساتھ نقل فرمایاہے ،پس امام برجندی نے فرمایا : اورکہاگیاہے کہ حلق واجب نہیں ہوگاان دونوں کے قول پر جبکہ احصار غیر حرم میں ہو،بہرحال اگر احصار حرم میں ہوتواس پرحلق لازم ہوگا۔ اوران میں سے ہرایک حلق/تقصیر یقینا ہدی کے ذریعے احرام سے باہر انے کے بعدکروائے گا،کیونکہ حالت احرام میں سرسے پاؤں تک کہیں سے کوئی بال کسی طرح جدا کرنا حرام ہے ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان حنفی متوفی1340ھ لکھتے ہیں : (حالت احرام میں )سرسے پاؤں تک کہیں سے کوئی بال کسی طرح جدا کرنا (حرام ہے )۔ ( ) اوریہ یادرہے کہ ہدی کے ذریعے احرام سے باہرانے والوں میں سے ہر شخص پرجب وہ چاہے ،اس عمرہ کے بدلے ایک(1)عمرہ کرنا ہوگا،کیونکہ محصر جب ہدی کے ذریعے احرام عمرہ سے باہرائے ،تواس کی جگہ ایک (1)عمرہ کرنامحصر پرلازم ہوتاہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اور ملاعلی قاری حنفی لکھتے ہیں : (وان کان) ای المحصر(معتمرا فعلیہ عمرۃ لاغیر)وقضاؤھا فی ای وقت شاء، لانہ لیس لھاوقت معین۔ ( ) یعنی، اورا گر محصر نے عمرے کا ارادہ کیاتھا تواس پر عمرہ ہوگا اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا اور وہ اس عمرے کی کسی بھی وقت میں قضاء کرے گا اس لئے کہ عمرہ کا کوئی وقت معین نہیں ہوتا۔ اورصدرالشریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : اگر احرام عمرہ کاتھا توصرف ایک عمرہ کرناہوگا۔( ) خلاصہ کلام یہ کہ جولوگ حالت احرام میں ہیں اورانہیں طواف کعبہ سے روک دیاگیاہے ،ان میں سے ہرایک شرعا محصر ہے ،اورجولوگ احرام سے باہر اناچاہیں ان میں سے ہرایک پردم احصارکی ادائیگی کے بعدحلق/تقصیر واجب ہے ،نیزہدی کے ذریعے احرام سے باہرانے والوں میں سے ہرشخص پرجب وہ چاہے ،اس عمرہ کے بدلے ایک(1)عمرہ بھی کرنالازم ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم 7مارچ2020

حوالہ جات

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو لوگ مکہ مکرمہ میں احرام عمرہ کی حالت میں ہیں ،اورحکومت وقت کی جانب سے انہیں عمرہ کی ادائیگی سے روک دیاگیاہے ،ان کے لئے کیاحکم ہے ،بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ دم دے کراحرام سے باہراجائیں ،اوربہت سے محرم حضرات تو وہ ہیں کہ جن کے پاس دم کی ادائیگی کے لئے پیسے بھی نہیں ،ظاہرہے ہرایک کے پاس اتنے پیسے تونہیں ہوتے ہیں ،توان کے لئے دم دے کراحرام سے
باہراناتوبہت مشکل ہو جائے گا،حالانکہ اج طواف توکھول دیاگیاہے ،لیکن عمرہ والوں کے لئے نہیں کھولا ہے ،برائے کرم اپ اس بات کی رہنمائی فرمائیں ،کہ جولوگ حالت احرام میں ہیں ، اورانہیں طواف اورسعی کی ادائیگی سے روک دیاگیاہے ،ان کے لئے ازروئے شرع کیاحکم ہے ؟ (سائل : C/Oحضرت مولاناعبدالحبیب عطاری صاحب)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں جولوگ حالت احرام میں ہیں اورانہیں طواف کعبہ سے روک دیاگیاہے ،ان میں سے ہرایک شرعا محصر ہے ، یادرہے کہاحصار ہمارے نزدیک جیسے حج میں متحقق ہوتا ہے ،ویسے ہی عمرہ میں بھی ہوتاہے ۔ چنانچہ امام برہان الدین ابوالحسن علی بن ابی بکرمرغینانی حنفی متوفی593 ھ لکھتے ہیں : الاحصار عنها يتحقق عندنا. وقال مالك – رحمه الله – : لا يتحقق؛ لانها لا تتوقت. ولنا ان النبي – عليه الصلاة والسلام – واصحابه – رضي الله عنهم – احصروا بالحديبية وكانوا عمارًا؛ ولان شرع التحلل لدفع الحرج وهذا موجود في احرام العمرة۔( ) یعنی،عمرہ میں احصارمتحقق ہوتاہے اور امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ عمرہ میں احصارمتحقق نہیں ہوتا؛ کیونکہ عمرہ مؤقت نہیں ہے ،اورہماری دلیل یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺاور اپ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کومقام حدیبیہ میں روک دیاگیا تھا،اس حال میں کہ وہ عمرہ کرنے والے تھے ،اوراس لئے کہ احرام سے باہر انے کامشروع ہوناحرج کودور کرنے کے لئے ہے ،اوریہ احرام عمرہ میں موجود ہے ۔ علامہ ابوبکربن علی حنفی متوفی800ھ لکھتے ہیں : ان الاحصار منها متحقق وقال مالك لا يتحقق لانها لا تتوقت ، لنا ان «النبي – صلى الله عليه وسلم – واصحابه احصروا بالحديبية وكانوا عمارًا فحلق النبي – صلى الله عليه وسلم – وامر اصحابه بذلك۔( ) یعنی،عمرہ میں احصارمتحقق ہوتاہے اور امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ عمرہ میں احصارمتحقق نہیں ہوتا کیونکہ عمرہ مؤقت نہیں ہے ،اورہماری دلیل یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺاور اپ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کومقام حدیبیہ میں روک دیاگیا تھا،اس حال میں کہ وہ عمرہ کرنے والے تھے ،تو نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریمﷺ نے حلق فرمایا،اوراپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کواسی کاحکم ارشاد فرمایا۔ اورقاضی ومفتی مکہ مکرمہ امام ابو البقاءمحمد بن احمد حنفی متوفی ٨٥٤ھ لکھتے ہیں : الاحصار کما یکون عن الحج یکون عن العمرة وقال مالک : لایتحقق الاحصاربالعمرۃ لعدم تحقق الفوات،ولناقولہ تعالیٰ : {فان احصرتم فما استيسر من الهدي}[البقرۃ : 196]ای فانۡ احصرتمۡ عن اتمام الحج والعمرۃ،فعلیکم ماتیسر من الھدی۔ ( ) یعنی،احصارجس طرح حج میں متحقق ہوتاہے ،اسی طرح عمرہ میں بھی ہوتاہے ،اورامام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : کہ عمرہ میں احصارمتحقق نہیں ہوتا کیونکہ عمرہ کافوت ہونا متحقق نہیں ہوتا،اور ہماری دلیل باری تعالیٰ کافرمان{پھر اگرتم روکے جاؤتوقربانی بھیجو جومیسرائے }[البقرۃ : 196]ہے ،یعنی پھراگرتمہیں حج و عمرہ کوپوراکرنے سے روک دیاجائے ،تو (احرام سے نکلنے کے لئے )تم پرقربانی کا جانور لازم ہے جوتمہیں میسرائے ۔ واضح رہے ،عمرہ میں احصارمتحقق ہونے کے لئے ضروری ہے کہ محرم کو طواف کعبہ سے روک دیاجائے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اورملاعلی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں : (وفی العمرۃ)ای والاحصارفیھا ھو المنع (عن الطواف) ای بعد الاحرام(….لا غیر) اذ لیس فیھا رکن الا الطواف بخلاف الحج فان معظم ارکانہ الوقوف۔( ) یعنی،عمرہ میں احصارطواف سے روک دینا ہے یعنی احرام کے بعد،یہ حکم عمرہ کے علاوہ نہیں ہے ، کیونکہ عمرہ کا رکن طواف ہی ہے بخلاف حج کے ،پس بے شک حج کے ارکان میں سے بڑا رکن وقوف عرفہ ہے ۔ اورملاعلی قاری لکھتے ہیں : {فان احصرتم}[البقرة : 196] اي حبستم ومنعتم عن البیت والوقوف او عن الکعبۃ فی العمرۃ من جھۃ عدوومرض وغیرھما کذھاب النفقۃ وموت المحرم للمراۃ ونحۡوھما {فما استيسر من الهدي}[البقرة : 196] ای : فعلیکم انۡ اردتم التحلل ما تیسر من جنس الھدی الشامل للابل والبقرۃ والشاۃ / بشرط انۡ تذبح فی الحرم لقولہ تعالی : {ولا تحلقوا
رءوسكم}[البقرة : 196]ای : وانتم محرمون {حتى يبلغ الهدي محله}[البقرة : 196] ای : مکانہ الذی یجب ان ینحر فیہ وھو الحرم لقولہ تعالیٰ : هديا بالغ الكعبة [المائدة : 95]. ( ) یعنی،پھراگرتمہیں حج میں خانہ کعبہ اوروقوف عرفہ سے یاعمرہ میں فقط خانہ کعبہ سے دشمن اوربیماری اوران دونوں کے علاوہ کسی جہت سے روک دیاجائے ،جیسے نفقہ کاچلے جانا اور عورت کے لئے محرم کی وفات اور ان دونوں کی مثل{ توقربانی بھیجو جومیسرائے }[البقرۃ : 196]یعنی : پھر اگرتم احرام سے باہرانے کاارادہ کرو،تو تم پر لازم ہے جوتمہیں میسر ائے یعنی ہدی کی جنس سے ، جواونٹ،اور گائے ،اوربکری کو شامل ہے ،اس شرط کے ساتھ کہ اسے حرم میں ذبح کیاجائے اللہ تعالیٰ کے فرمان {اور اپنے سرنہ منڈاؤ}[البقرۃ : 196]یعنی اس حال میں تم لوگ حالت احرام میں ہو{جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے }[البقرۃ : 196]یعنی : ہدی کی جگہ جس میں نحر کرناواجب ہے ،اوروہ جگہ حرم ہے ،اللہ تعالیٰ کے فرمان{یہ قربانی ہوکعبہ کوپہنچتی }[المائدۃ : 95]کیوجہ سے ۔ اورحج میں احصارمتحقق ہونے کے لئے ضروری ہے کہ محرم کو وقوف عرفہ اورطواف سے روک دیاجائے یعنی دونوں رکنوں کی ادائیگی سے ،اگرچہ محصر حرم میں ہویا مکہ مکرمہ میں ہو،یہی صحیح قول ہے ۔ چنانچہ علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمدحنفی متوفی710ھ اورعلامہ زین الدین بن ابراہیم حنفی متوفی970ھ لکھتے ہیں : (قوله : ومن منع بمكة عن الركنين فهو محصر، والا لا) اي، وان قدر على احدهما فليس بمحصرٍ؛ لانه اذا منع عنهما في الحرم فقد تعذر عليه الاتمام فصار كما اذا احصر في الحل، واذا قدر على الطواف فلان فائت الحج يتحلل به والدم بدل عنه في التحلل، واما ان قدر على الوقوف فلما بينا، وقد قيل في المسالة خلاف بين ابي حنيفة وابي يوسف والصحيح ما تقدم من التفصيل كذا في النهاية، وهو اشارة الى رد ما في المحيط حيث جعل ما في المختصر من التفصيل رواية النوادر، وان ظاهر الرواية ان الاحصار بمكة عنهما ليس باحصارٍ؛ لانه نادر، ولا عبرة به۔ ( ) یعنی،جسے مکہ میں دو(2)ارکان کی ادا ئیگی سے روک دیا جائے ،پس وہ محصر ہے ،اوراگرایسانہ ہوتونہیں ، یعنی اگر وہ ان دونوں میں سے کسی ایک (1)پر قادر ہو،تو محصر نہیں ہوگا؛کیونکہ جب وہ حرم میں دونوں ارکان کی ادائیگی سے روک دیا گیا،تو اس پرمکمل کرنا متعذر ہوگیا،پس وہ حل میں روکے گئے شخص کی مثل ہو گیا ،اور جب وہ طواف پرقادر ہوگاتو بے شک حج کو فوت کرنے والاطواف کے ذریعے احرام سے باہر ہوگااور دم اس کی جانب سے تحلل کے حق میں بدل ہوگا،اور بہر حال اگروہ وقوف پر قادر ہوگا،تو اس کے لئے وہ ہے جوہم نے بیان کیااورتحقیق کہا گیا ہے کہ اس مسئلہ میں امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہما کے درمیان اختلاف ہے اورصحیح وہ ہے جس کی تفصیل گزر چکی ہے جیسا کہ نہایہ میں ہے ،اور اس میں اشارہ ہے اس کے رد کی طرف جو محیط میں ہے اس حیثیت سے کہ انہوں نے نوادر کی روایت کو مختصر میں تفصیل سے بیان کیاہے اورظاہر الروایہ میں ہے کہ مکہ میں ان دونوں (یعنی وقوف عرفہ اور طواف زیارت)سے روک دیا جانابھی احصار نہیں کیونکہ یہ نادر ہے اور نادرکا اعتبار نہیں ۔ علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں : ومن احۡصر فی الحرم او بمکۃ وھو ممنوۡع عن الطواف والوقوف فھو محرم کما اذا احۡصر فی الحل وان قدر علیھا جمیعًا او قدر علی احدھما لیس بمحصرٍ فی ظاھر الروایۃلانہ ان قدر علی الوقوف فقد امن فوات الحج وان قدر علی الطواف یصبر حتی یفوت الحج فیتحلل بافعال العمرۃ ولادم علیۡہ ولاعمرۃ فی القضاء وقد قیۡل ان فی ھٰذہ المسۡئلۃ خلافا بین ابی حنیۡفۃ وابی یوسف وھو ما روی عن ابی یوۡسف انہ قال سالت ابا حنیفۃ رضی اللٰہ عنہ عن المحرم یحۡصر فی الۡحرم فقال لایکون محصرًا قلت المۡ یحصر النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللٰہ علیہ وسلم وصحابہ بالحدیبیۃ وھی من الحرم فقال نعم لٰکن کانت حینئذٍ دار الحرب واما الان ففی دار الاسلام والمنع فیہ عن جمیع افعال الحج نادر فلا یعتبر فلایتحقق الاحصار ففی ھٰذہ الروایۃ لایکون محصرا وان کان ممنوعا منھما وقال ابی یوسف اماعنۡدی فالاحصار بالحرم فھو متحقق اذا غلب العدو علی مکۃ حتی حال بینھا وبین البیت وفی الطرابلسی واذا دخل مکۃ واحصر لایکون محصرا ذکر الجواب فی الاصل مطلقا وذکر محمد فی النوادر مفصلا فقال انۡ کان یمکنہ الوقوف والطواف لم یکن محصرا والا فھو محصرا قالوا والصحیح ان التفصیل المذکور قول الکل وھو انہ کان یقدر علی الوقوف اوعلی الطواف لایکون محصرا او ان لم یقدر علی واحدٍ منھما یکون محصرا ذکرہ الجصاص وغیرہ وصححہ القدوری وصاحب الھدایۃ والکافی والبدائع وغیرھم قال فی الفتح والذی یظھر من تعلیل منع الاحصار فی الحرم تخصیصہ بالعدو واما ان احصر فیہ بغیرہ فالظاھر تحققہ علی قوۡل الکل واللٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعۡلم۔( ) یعنی، اور جسے حرم یا مکہ مکرمہ میں روک دیا گیا ہو،اور اسے طوا ف اور وقوف عرفہ سے روک دیا گیا ہو،تو وہ شخص محصر ہے ،جیساکہ جب کسی کوحل میں روک دیاجائے تووہ محصرہوتاہے ،اوراگر وہ طواف اور وقوف عرفہ پر قادر ہو یا ان دونوں میں کسی ایک پر،تو ظاہر الروایہ کے مطابق ایساشخص محصر نہیں ہوگا،کیونکہ اگر وہ شخص وقوف عرفہ پر قادر ہوگا ،تو حج کے فوت ہونے سے امن ہوگا،اور اگر وہ طواف پر قادر ہوگا،تو وہ شخص صبر کرے یہاں تک کہ حج فوت ہوجائے ،پھروہ افعال عمرہ کے ذریعے احرام سے باہراجائے ،اوراس پر نہ توکوئی دم لازم ہوگا اور نہ ہی عمرہ کی قضاء،اورتحقیق کہاگیاہے کہ اس مسئلہ میں امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے درمیان اختلاف ہے اور وہ یہ ہے جوامام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیاگیاہے : انہوں نے کہاکہ میں نے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیاتھاجسے حرم میں روک دیاجائے ،توامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ وہ محصر نہیں ہوگا،میں نے عرض کیا : کیانبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور اپ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مقام حدیبیہ میں نہیں روکاگیاتھا،حالانکہ حدیبیہ حرم سے ہے ؟توامام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ،لیکن اس وقت وہ دارالحر ب تھا اوراب دارالاسلام میں ہے اور حرم میں تمام افعال حج سے روک دینے کی صورت نادر ہے ،پس نادرکااعتبارنہیں کیاجائے گا،لہذا حرم میں احصار متحقق نہیں ہوگا،پس اس روایت میں ہے کہ وہ محصر نہیں ہوگا،اگرچہ وقوف عرفہ اورطواف سے روک دیا جائے ،اورامام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : رہا میرے نزدیک،پس حرم میں احصارمتحقق ہوگا،جبکہ دشمن مکہ مکرمہ پر غالب ہوں یہاں تک کہ اس کے اور بیت اللہ شریف کے درمیان حائل ہوں اورطرابلسی میں ہے : اورجب محرم مکہ میں داخل ہو،اوراسے روک دیاجائے تووہ محصرنہیں ہوگا،انہوں نے جواب کو اصل میں مطلقا ذکرکیاہے ،اور امام محمدرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے نوادرمیں مفصل طورپر ذکر فرمایا ہے ،پس انہوں نے فرمایاہے کہ اگراسے وقوف اور طواف پرقدرت ہو،تو وہ محصر نہیں ہوگا،اوراگرایسانہ ہو،تووہ محصر ہوگااور فقہاءرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے فرمایا ہے : اورتمام کے قول کے مطابق مذکورتفصیل صحیح ہے ،اور وہ یہ ہے کہ اگروہ وقوف عرفہ یاطواف پرقادرہو،تومحصر نہیں ہوگا،اوراگروہ ان دونوں میں سے کسی ایک پربھی قادرنہ ہو،تووہ محصرہوگا،اسے امام جصاص رازی وغیرہ نے ذکر کیاہے ،اورامام قدوری،صاحب ہدایہ،صاحب کافی اورصاحب بدائع وغیرہم نے اس قول کو صحیح قراردیا ہے اورصاحب فتح القدیر نے فتح القدیرمیں فرمایاہے : اورحرم میں ممانعت احصارکی تعلیل سے ظاہرہوتاہے ،اس کی تخصیص دشمن کے ساتھ ہے اوراگروہ حرم میں دشمن کے علاوہ کے سبب روک دیاجائے ،توتمام فقہاء کے قول پر ظاہر احصار کا متحقق ہوناہی ہے .واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم مذکورہ عبارات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ صحیح اورتفصیلی قول کے مطابق مکہ مکرمہ میں بھی احصارمتحقق ہوسکتاہے ،فرق صرف یہ ہے کہ حج میں احصار متحقق ہونے کے لئے ضروری ہے کہ محرم دو رکنوں کی ادائیگی سے روک دیاجائے ،جبکہ عمرہ میں احصارمتحقق ہونے کے لئے محرم کوفقط طواف کعبہ سے روک دیاجاناکافی ہے ،لہذادلائل وبراہین کی روسے واضح ہواکہ جولوگ احرام عمرہ میں ہیں اورانہیں طواف کعبہ سے روک دیاگیاہے ،ان میں سے ہرایک شرعا محصر ہے ۔ محصراحرام سے باہرکیسے ائے ؟ محصر احرام سے باہراناچاہے تواس کاطریقہ یہ ہے کہ وہ حرم میں دم یعنی ایک بکرا(اس میں نر،مادہ،دنبہ،بھیڑ،نیزگائے یا اونٹ کاساتواں حصہ سب شامل ہیں ،کما فی رفیق الحرمین)بھیج دے ،جب قربانی ہو جائے گی ،اس کا احرام کھل جائے گا یا قیمت بھیج دے کہ وہاں جانور خرید کر ذبح کر دیا جائے ،بغیر اس کے احرام نہیں کھل سکتا ،جب تک مکہ معظمہ پہنچ کر طواف و سعی و حلق نہ کرلے ، روزہ رکھنے یا صدقہ دینے سے کام نہ چلے گا اگرچہ قربانی کی استطاعت نہ ہو،البتہ یہ ضروری امر ہے کہ جس کے ہاتھ قربانی بھیجے اس سے ٹھہرا لے کہ فلاں دن فلاں وقت قربانی ذبح ہو اور وہ وقت گزرنے کے بعد احرام سے باہر ہوگا پھر اگر اسی وقت قربانی ہوئی جو ٹھہرا تھا یا اس سے پیشتر فبہا اور اگر بعد میں ہوئی اور اسے اب معلوم ہواتو ذبح سے پہلے چونکہ احرام سے باہر ہوا، لہذا دم دے ۔ چنانچہ علامہ شمس الدین ابوبکرمحمدسرخسی حنفی متوفی490 ھ لکھتے ہیں : (قال)رضي الله عنه- الاصل في حكم الاحصارقوله تعالى {واتموا الحج والعمرة لله فان احصرتم} [البقرة : 196] اي منعتم من اتمامهما {فما استيسر من الهدي} [البقرة : 196] شاةٍ تبعثونها الى الحرم لتذبح ثم تحلقون لقوله تعالى {ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله} [البقرة : 196] فعلى المحصر اذا كان محرمًا بالحج ان يبعث بثمن هديٍ يشترى له بمكة فيذبح عنه يوم النحر فيحل عن احرامه، وهذا قول علمائنا رحمهم الله تعالى ان هدي الاحصار مختص بالحرم، وعلى قول الشافعي – رضي الله عنه – لا يختص بالحرم، ولكن يذبح الهدي في الموضع الذي يحصر فيه، وحجته في ذلك حديث ابن عمر – رضي الله عنهما – «ان النبي – صلى الله عليه وسلم – خرج مع اصحابه – رضي الله عنهم – معتمرًا فاحصر بالحديبية فذبح هداياه وحلق بها، وقاضاهم على ان يعود من قابلٍ فيخلوا له مكة ثلاثة ايامٍ بغير سلاحٍ فيقضي عمرته» فانما «نحر رسول الله – صلى الله عليه وسلم – الهدي في الموضع الذي احصر فيه» ، ولانه لو بعث بالهدي لا يامن ان لا يفي المبعوث على يده او يهلك الهدي في الطريق، واذا ذبحه في موضعه يتيقن بوصول الهدي الى محله، وخروجه من الاحرام بعد اراقة دمه فكان هذا اولى، وحجتنا في ذلك قوله تعالى {ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدي محله} [البقرة : 196] والمراد به الحرم بدليل قوله تعالى {ثم محلها الى البيت العتيق} [الحج : 33] بعدما ذكر الهدايا ولان التحلل باراقة دمٍ هو قربة واراقة الدم لا يكون قربةً الا في مكان مخصوصٍ، وهو الحرم او زمانٍ مخصوصٍ، وهو ايام النحر ففي غير ذلك المكان والزمان لا تكون قربةً، ونقيس هذا الدم بدم المتعة من حيث انه تحلل به عن الاحرام، وذلك يختص بالحرم فكذا هذا ، واما ما روي فقداختلفت الروايات في نحر رسول الله – صلى الله عليه وسلم – الهدايا حين احصر فروي «انه بعث الهدايا على يدي ناجية لينحرها في الحرم حتى قال ناجية : ماذا اصنع فيما يعطب منها؟ قال انحرها واصبغ نعلها بدمها،واضرب بها صفحة سنامها، وخل بينها وبين الناس، ولا تاكل انت ولا رفقتك منها شيئًا»،وهذه الرواية اقرب الى موافقة الاية قال الله تعالى {هم الذين كفروا وصدوكم عن المسجد الحرام والهدي معكوفًا ان يبلغ محله} [الفتح : 25] فاما الرواية الثانية ان صحت فنقول : الحديبية من الحرم فان نصفها من الحل ونصفها من الحرم، ومضارب رسول الله- صلى الله عليه وسلم – كانت في الحل، ومصلاه كان في الحرم فانما سيقت الهدايا الى جانب الحرم منها، ونحرت في الحرم فلا يكون للخصم فيه حجة، وقيل ان النبي – صلى الله عليه وسلم – كان مخصوصًا بذلك لانه ما كان يجد في ذلك الوقت من يبعث الهدايا على يده الى الحرم۔( ) یعنی،امام سرخسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حکم احصارمیں اصل باری تعالیٰ کافرمان{اور حج اورعمرہ کواللہ کے لئے پوراکرو،پھراگرروکے جاؤ}ہے ،یعنی تمہیں حج اورعمرہ کوپوراکرنے سے روک دیاجائے {توقربانی بھیجو جومیسرائے }محصر احرام سے باہرانے کے لئے جانب حرم ایک بکری بھیجے تاکہ وہ حرم میں ذبح کی جائے ،پھرتم باری تعالیٰ کے فرمان{اور اپنے سرنہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے }کی وجہ سے سرمنڈاؤ،پس محصرپرلازم ہے کہ جب وہ حج کے احرام میں ہوتوہدی کی قیمت بھیج دے تاکہ اس کے لئے مکہ مکرمہ میں ہدی کوخریدکریوم نحرمیں اس کی جانب سے ذبح کیاجائے ،پھروہ اپنے احرام سے باہرا جائے گا،اوریہ ہمارے علماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کاقول ہے ،کہ دم احصار حرم کے ساتھ مختص ہے ،جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک دم احصار حرم کے ساتھ خاص نہیں ہے ،لیکن ہدی کواسی جگہ میں ذبح کیاجائے گاجس میں روکا گیا ہو، اورامام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس میں دلیل ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺاپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے اورانہیں حدیبیہ میں روک دیاگیا،توانہوں نے اپنی قربانیوں کوذبح فرمایااورحدیبیہ ہی میں حلق بھی کروایا،اوراپنے عمرہ کو اگلے سال لوٹ کرقضاء بھی کیا،پس ان کے لئے مکہ مکرمہ کوتین روز کے لئے
بغیرہتھیارکے خالی کیاگیا،توانہوں نے اپنے عمرہ کومکمل فرمایا،تو نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریمﷺ نے قربانی کواسی جگہ میں نحرفرمایاتھاجس میں روکاگیاتھا،اوریہ اس لئے تھاکہ اگرمحصر ہدی کوکسی کے ساتھ بھیجے تو اس بات سے امن نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے ہی ہاتھ سے پوراکرے یاوہ راستے ہی میں ہدی ہلاک کردے ،اورجب اسے اسی جگہ میں ذبح کرے گا،توہدی کا اپنے ٹھکانے پہنچنایقینی ہوجائے گا،اوراس کااحرام سے نکلنادم احصار کوبہانے کے بعدہی ہوگاتویہ اولیٰ ہوگا،اورہماری دلیل اس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان{اور اپنے سرنہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے }ہے ،اور ٹھکانے سے مرادحرم ہے ،اس کی دلیل باری تعالیٰ کا فرمان{پھران کا بھیجناہے اس ازاد گھرتک}ہے ،بعد اس کے جو ذکر کیا ہدایا کو اوراس وجہ سے کہ تحلل خون بہانے کے ساتھ ہے اور یہ قربت یعنی نیکی ہے اور خون بہاناقربت واقع نہ ہوگامگرمخصوص جگہ میں اوروہ حرم ہے یا مخصوص زمانے میں اور وہ ایام نحر ہیں پس اس مکان اورزمانے کے علاوہ میں قربت واقع نہ ہوگی،اور ہم دم احصارکودم تمتع پرقیاس کرتے ہیں اس حیثیت سے کہ دم احصار کے ذریعے احرام سے باہرہوگا،اور دم تمتع حرم کے ساتھ خاص ہے اسی طرح یہ بھی(یعنی دم احصار)اور بہرحال جوروایت کیاگیاہے ،توتحقیق رسول اللہﷺ کا ہدایاکواس وقت نحرفرمانے میں روایتیں مختلف ہیں جب روکے گئے ،پس روایت کیا گیاہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریمﷺنے حضرت ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں ہدایاکو بھیجا کہ وہ انہیں حرم میں نحر کردیں ،حتی کہ حضرت ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہﷺ میں اس کاکیاکروں جوہدایا سے تھک جائے ،فرمایا تم اسے نحر کردینا،اوراس کی جوتی کواس کے خون میں بھگوکراس کے پہلوپرنشان لگادینا، اور اسے لوگوں کے درمیان چھوڑدینا،اورتم اس سے کچھ مت کھانااورنہ ہی تمہارے ساتھی اس سے کچھ کھائیں ،اوریہ روایت موافقت ایت کیجانب زیادہ قریب ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا : {وہ،وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور رکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے }بہرحال دوسری روایت اگرصحیح بھی ہوتوہم یہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ حرم سے ہے ،پس بے شک حدیبیہ کاادھاحصہ حل میں ہے اورادھاحصہ حرم میں ہے ،اوراللہ کے رسولﷺ کے شرکاء حل میں تھے اوران کامصلی حرم میں تھا،تو ہدایاکوحل سے جانب حرم لے جایاگیا،اورحرم میں نحر کیاگیا،لہذامدمقابل کے لئے اس میں حجت نہیں ہے ،اورکہاگیاہے کہ بے شک یہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا،کیونکہ اپﷺاس وقت میں اسے نہ پاتے تھے کہ جس کے ہاتھ ہدایا کوجانب حرم بھیجیں ۔ علامہ نظام الدین حنفی متوفی ١١٦١ھ اور علما ئے ہند کی جماعت نے لکھا ہے : حكم الاحصار فهو ان يبعث بالهدي او بثمنه ليشتري به هديًا ويذبح عنه وما لم يذبح؛ لا يحل وهو قول عامة العلماء سواء شرط عند الاحرام الاهلال بغير ذبحٍ عند الاحصار او لم يشترط، ويجب ان يواعد يومًا معلومًا يذبح عنه فيحل بعد الذبح ولا يحل قبله حتى لو فعل شيئًا من محظورات الاحرام قبل ذبح الهدي يجب عليه ما يجب على المحرم اذا لم يكن محصرًا… المحصر اذا كان لا يجد الهدي ولا ثمنه لا يحل بالصوم عندنا، كذا في السراج الوهاج ان حل في يوم وعده على ظن انه ذبح هديه عنه في ذلك اليوم ثم علم انه لم يذبحه كان محرمًا وعليه دم لاحلاله قبل وقته۔( ) یعنی،احصارکاحکم یہ ہے کہ وہ ہدی یااس کی قیمت حرم میں بھیج دے تاکہ وہ ہدی خریدکرمحصرکی جانب سے ذبح کردے ،اورجب تک وہ ذبح نہ کرے گا، محصر احرام سے باہرنہیں ائے گااوریہی اکثرعلماءکاقول ہے ،خواہ احرام کے وقت احصار کی صورت میں ذبح کے بغیراحرام سے باہرانے کی شرط لگائی ہویانہیں ، اور محصر پر واجب ہے کہ وہ اس سے معلوم دن میں اس کی جانب سے ذبح کردینے کاوعدہ لے ، پھرمحصرذبح کے بعداحرام سے باہراجائے گااوراس سے پہلے وہ احرام سے باہرنہ ہوگا،یہاں تک کہ اگرمحصرنے ہدی کے ذبح ہونے سے قبل ممنوعات احرام میں سے کسی کام کاارتکاب کیا،تواس پروہ واجب ہوگاجومحرم پرواجب ہوتاہے جبکہ محصرنہ ہو،…محصرجب ہدی نہ پائے اورنہ ہی ہدی کی قیمت تووہ ہمارے نزدیک روزے سے حلال نہیں ہوگا،اسی طرح سراج الوھاج میں ہے ،اگرمحصر اس کے وعدہ والے دن کے مطابق اس گمان پراحرام سے باہراگیاکہ اس نے محصرکی ہدی کومعلوم دن میں اس کی جانب سے ذبح کرچکاہوگا،پھرمحصرکومعلوم ہواکہ اس نے ذبح نہیں کیاہے ، تووہ محرم ہی ہوگا،اورمحصرپروقت سے پہلے حلال ہونے کے سبب ایک دم لازم ہوگا ۔ اورصدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : محصر کویہ اجازت ہے کہ وہ حرم کوقربانی بھیج دے ،جب قربانی ہو جائے گی ،اس کا احرام کھل جائے گا یا قیمت بھیج دے کہ وہاں جانور خرید کر ذبح کر دیا جائے بغیر اس کے احرام نہیں کھل سکتا ،جب تک مکہ معظمہ پہنچ کر طواف و سعی و حلق نہ کرلے ، روزہ رکھنے یا صدقہ دینے سے کام نہ چلے گا اگرچہ قربانی کی استطاعت نہ ہو، یہ ضروری امر ہے کہ جس کے ہاتھ قربانی بھیجے اس سے ٹھہرا لے کہ فلاں دن فلاں وقت قربانی ذبح ہواور وہ وقت گزرنے کے بعد احرام سے باہر ہوگا پھر اگر اسی وقت قربانی ہوئی جو ٹھہرا تھا یا اس سے پیشتر فبہا اور اگر بعد میں ہوئی اور اسے اب معلوم ہوا تو ذبح سے پہلے چونکہ احرام سے باہر ہوا، لہذا دم دے ۔( ) اور فی زمانہ موبائل كے ذريعے معلوم كیا جاسكتا ہے كہ دم کا جانور ذبح ہوگيا ہے یا نہیں اور پھردم ادا ہو جانے کے بعد محصر ممنوعات احرام میں سے کسی کام کا بھی ارتکاب کرے گا تو اس پر کوئی جزاء لازم نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ گنہگار ہوگا۔ اورجولوگ احرام سے باہرائیں گے ،ان میں سے ہرایک پرحلق/تقصیر واجب ہے ،کیونکہ جسے حرم میں روک دیا جائے ،اس پرحلق /تقصیرواجب ہوتاہے ۔ چنانچہ علامہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں : ذكر ابو بكرٍ الرازي ان عند ابي حنيفة ومحمدٍ رحمهما الله تعالى انما لا يحلق المحصر اذا احصر في الحل اما اذا احصر في الحرم يحلق؛ لان الحلق عندهما مؤقت بالحرم۔( ) یعنی،ابوبکررازی نے ذکرکیاہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد رحمھما اللہ تعالیٰ کے نزدیک محصر حلق نہیں کروائے گا جبکہ اسے روکاگیاہوحل میں بہرحال اگرحرم میں روکاگیاہوتو وہ حلق کروائے گاکیونکہ ان دونوں کے نزدیک حلق حرم کے ساتھ مؤقت ہے ۔ علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں : قيده المصنف في الكافي بما اذا احصر في الحل اما اذا احصر في الحرم فيحلق اتفاقًا۔( ) یعنی،مصنف نے کافی میں قیدلگائی ہے کہ جب اسے حل میں روک دیاجائے ،بہرحال جب اسے حرم میں روک دیاجائے تووہ بالاتفاق حلق کروائے گا۔ علامہ ابو الاخلاص حسن بن عمارشرنبلالی حنفی متوفی1069ھ لکھتے ہیں : اذا احصر في الحرم فعليه الحلق كذا في المصفى۔( ) یعنی،جب اسے حرم میں روک دیاجائے ،تو اس پرحلق لازم ہے جیساکہ مصفی میں ہے ۔ اورعلامہ سید محمد ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں : اما في الحرم فالحلق واجب.اهـ.قال في الشرنبلالية. كذا جزم به في الجوهرة والكافي، وحكاه البرجندي عن المصفى بقيل فقال : وقيل انما لا يجب الحلق على قولهما اذا كان الاحصار في غير الحرم، اما فيه فعليه الحلق۔( ) یعنی،بہرحال حرم میں توحلق واجب ہے ،شرنبلالیہ میں فرمایاکہ اسی طرح جوہرہ اورکافی میں اس پرجزم فرمایاہے ،اور برجندی نے اسے مصفی سے قیل کے ساتھ نقل فرمایاہے ،پس امام برجندی نے فرمایا : اورکہاگیاہے کہ حلق واجب نہیں ہوگاان دونوں کے قول پر جبکہ احصار غیر حرم میں ہو،بہرحال اگر احصار حرم میں ہوتواس پرحلق لازم ہوگا۔ اوران میں سے ہرایک حلق/تقصیر یقینا ہدی کے ذریعے احرام سے باہر انے کے بعدکروائے گا،کیونکہ حالت احرام میں سرسے پاؤں تک کہیں سے کوئی بال کسی طرح جدا کرنا حرام ہے ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان حنفی متوفی1340ھ لکھتے ہیں : (حالت احرام میں )سرسے پاؤں تک کہیں سے کوئی بال کسی طرح جدا کرنا (حرام ہے )۔ ( ) اوریہ یادرہے کہ ہدی کے ذریعے احرام سے باہرانے والوں میں سے ہر شخص پرجب وہ چاہے ،اس عمرہ کے بدلے ایک(1)عمرہ کرنا ہوگا،کیونکہ محصر جب ہدی کے ذریعے احرام عمرہ سے باہرائے ،تواس کی جگہ ایک (1)عمرہ کرنامحصر پرلازم ہوتاہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی اور ملاعلی قاری حنفی لکھتے ہیں : (وان کان) ای المحصر(معتمرا فعلیہ عمرۃ لاغیر)وقضاؤھا فی ای وقت شاء، لانہ لیس لھاوقت معین۔ ( ) یعنی، اورا گر محصر نے عمرے کا ارادہ کیاتھا تواس پر عمرہ ہوگا اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا اور وہ اس عمرے کی کسی بھی وقت میں قضاء کرے گا اس لئے کہ عمرہ کا کوئی وقت معین نہیں ہوتا۔ اورصدرالشریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : اگر احرام عمرہ کاتھا توصرف ایک عمرہ کرناہوگا۔( ) خلاصہ کلام یہ کہ جولوگ حالت احرام میں ہیں اورانہیں طواف کعبہ سے روک دیاگیاہے ،ان میں سے ہرایک شرعا محصر ہے ،اورجولوگ احرام سے باہر اناچاہیں ان میں سے ہرایک پردم احصارکی ادائیگی کے بعدحلق/تقصیر واجب ہے ،نیزہدی کے ذریعے احرام سے باہرانے والوں میں سے ہرشخص پرجب وہ چاہے ،اس عمرہ کے بدلے ایک(1)عمرہ بھی کرنالازم ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم 7مارچ2020

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button