ARTICLESشرعی سوالات

عمرہ کر کے سر کا کچھ حصہ منڈایا تو احرام سے باہر ہوا یا نہیں

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے آج عمرہ کیا او رپورا سر نہیں منڈوایا بلکہ دونوں اطراف دائیں اور بائیں سے تھوڑی تھوڑی جگہ پر حلق کروا لیا میں اس طرح احرام سے باہر ہو گیا ہوں یا نہیں ، اگر نہیں تو اس کا کفّارہ کیا ہے جب کہ میرے سر کے بال بہت چھوٹے ہیں کیونکہ میں چند روز قبل عمرہ کر چکا ہوں ؟

(السائل : ایک حاجی، از لبیک حج گروپ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : جس کے سر پر ایک پورے سے کم بال ہوں اس کے لئے سر منڈوانا ہی ضروری ہوتا ہے لہٰذا صورت مسؤلہ میں سر منڈوانا متعین تھا اور حلق کی کم از کم مقدار چوتھائی سر ہے اگر کسی نے اس سے کم حلق کیا تو وہ احرام سے خارج نہ ہو گا، اس طرح ’’حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب‘‘ (باب ہشتم ، فصل ششم) میں ہے اور اب دیکھا جائے کہ پورے سر میں جتنے حصے کا حلق ہوا وہ سر کا چوتھا حصہ بنتا ہے تو کچھ لازم نہ ہو گا سوائے اس کے کہ خلافِ سنّت ہوا کیونکہ پُورے سر کا حلق ہمارے نزدیک سنّت ہے ، اور اگر حلق شدہ حصہ چوتھائی سر سے کم ہو تو اس حلق سے احرام سے نکلنا نہ پایا گیا پھر اگر حکم سے جہل کی بنا پر ممنوعاتِ احرام کا ارتکاب کیا تو ایک ہی دم لازم ہو گا ۔ اور اگر جانتا تھا کہ اس سے وہ احرام سے خارج نہ ہو گا پھر ممنوعاتِ احرام میں سے جِن جِن کا ارتکاب ہوا وہ احرام پر جنایتیں ہوں گی مثلاً صرف سلے ہوئے کپڑے پہنے ۔ یا سر ڈھکا، یا خوشبو لگائی، یا جماع کیا یا شہوت کے ساتھ بوس کنار یا چھونا پایا گیا۔ غرض یہ کہ جنایات کے کفّارے کے لزوم میں جنایتوں کو دیکھا جائے گا اور بعض میں مدت کو بھی دیکھا جائے گا جیسے سلے ہوئے کپڑے پہنے یا سر ڈھکا اور اسے چار پہر نہ گزرے تو ایک صدقہ اور دونوں کام کئے چار پہر نہ گزرے تودو صدقے ، اور حکم تفصیل بتانے پر بتایا جائے گا ۔ اور اس صورت میں حلق کروانا بھی لازم ہے ، اور توبہ بھی۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 2 ذوالحجہ 1427ھ، 22دیسمبر 2006 م (312-F)

حوالہ جات

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button