ARTICLESشرعی سوالات

عمرہ والا احرام کھول کر حلق یا قصر کرائے یا کھولنے سے قبل

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عمرہ کرنے والا افعال عمرہ سے فارغ ہو کر احرام کھول کر حلق یا قصر وغیرہ کرائے گا، یا حلق یا قصر کرانے کے بعد احرام کھولے گا؟

(السائل : ایک حاجی ، مکہ مکرمہ )

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : احرام کھولنے سے مراد اگر یہ ہے کہ مرد اُوپر کی چادر اُتار کر رکھدے تاکہ بال وغیرہ نہ لگیں پھر حلق یا قصر کرائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور صرف چادر کا اُتار دینا احرام کھولنا نہیں کہلاتا۔ اور اگر مراد یہ ہے کہ احرام کی چادریں اُتار کر سلے ہوئے کپڑے پہنے یا سر یا چہرہ ڈھانپ لے یا خوشبو لگا لے غرض یہ کہ ممنوعاتِ احرام کا ارتکاب شروع کر دے اس کے بعد حلق یا قصر کروائے تو یہ ممنوع و ناجائز ہے ، اُسے ممنوعاتِ احرام کے ارتکاب سے قبل حلق یا قصر کے ذریعے احرام سے فارغ ہونا پڑے گا ، اگر اس نے ایسا نہ کیا اورممنوعات کا ارتکاب پہلے شروع کر دیا، پھر دیکھا جائے گا کہ اس نے اپنی جہالت کی بنا پر حلال ہونے کی نیت سے ممنوعات احرام کا ارتکاب کیا ہے یا وہ جانتا ہے کہ محض احرام سے باہر ہونے کی نیت کر لینے سے وہ احرام سے باہر نہ ہو گا تو پہلی صورت میں ممنوعاتِ احرام کے ارتکاب پر ایک ہی جزاء لازم ہو گی، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

وواجب آید براین شخض دم واحد برائے جمیع آنچہ ارتکاب کرد، ہر چند کہ ارتکاب کرد جمیع محظورات را، متعدد نہ نشود بروے جزاء بہ تعدد جنایات چوں نیت کردہ است رفضِ احرام را (140)

یعنی، اس شخص پر تمام ممنوعاتِ احرام کے ارتکاب پر ایک ہی دم واجب ہو گا، چاہے اس نے جمیع ممنوعاتِ احرام کا ارتکاب کیا ہو۔ جب اس نے اِس سے احرام کھولنے کا ارادہ کر لیا تو جنایات کے تعدد سے جزائیں متعدد نہ ہوں گی۔ اور دوسری صورت میں جتنے جُرم ہوں گے اتنی ہی جزائیں اُس پر لازم ہوں گی۔ چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

اما کسی کہ می داند کہ خارج نشدہ ام من از احرام ازین قصد پس معتبر نباشد از وی قصدِ رفض و متعدد گردد جزاء بروی بہ تعدد جنایات اتفاقاً بیننا اور بین الشافعی (141)

یعنی، اگر کوئی یہ جانتا ہے کہ میں اس قصد سے احرام سے خارج نہ ہوں گا تو ایسے شخض کا ارادۂ رفض معتبر نہیں اور اس پر ہمارے اور امام شافعی کے نزدیک بالاتفاق ہر جنایت پر علیحدہ جزاء واجب ہو گی۔ لہٰذا اُسے چاہئے کہ حلق یا تقصیر سے قبل نہ سلے ہوئے کپڑے پہنے او رنہ خوشبو لگائے اسی طرح کسی بھی محظورِ احرام کا ارتکاب نہ کرے باقی صرف اوپر کی چادر اُتار کر رکھ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 24ذی القعدۃ1427ھ، 15دیسمبر 2006م (292-F)

حوالہ جات

140۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول، فصل دہم دربیان کیفیت خروج از احرام، ص103

141۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول، فصل دہم دربیان کیفیت خروج از احرام، ص103۔104

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button