ARTICLES

عمرہ میں سعی سے قبل نفلی طواف کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے مسجد عائشہ سے عمرہ کا احرام باندھا اور ا کر عمرہ کا طواف کیا، پھر ایک اور نفلی طواف کر لیا، بعد میں عمرہ کی سعی کر کے حلق کروایا، اب اس صورت میں اس پر کیا لازم ائے گا جب کہ اس نے عمرہ مکمل کرنے سے قبل نفلی طواف کر لیا ہے ؟

(السائل : حافظ بلال قادری، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں وہ شخص اسائت کا مرتکب ہوا اور اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ائے گا کیونکہ اگر وہ طواف عمرہ اور سعی کے درمیان سو جاتا یا کسی اور کام میں مشغول ہو جاتا تو اس پر دم لازم نہیں اتا، اسی طرح طواف عمرہ اور سعی کے درمیان وہ جب نفلی طواف میں مشغول ہوا تو اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ایا۔ یہ مسئلہ صراحۃً تو کسی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا مگر قارن کے بارے میں مذکو رہے کہ اگر وہ عمرہ کی سعی سے قبل طواف تحیۃ کر لے تو اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں اتا، چنانچہ شمس الائمہ ابو بکر محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی 483ھ لکھتے ہیں :

و لو انہ بین طواف العمرۃ و سعیہا اشتغل بنومٍ او اکلٍ لم یلزمہ دم، فکذا اذا اشتغل بطواف التحیۃ (85)

یعنی، اگر وہ طواف عمرہ اور اس کی سعی کے مابین سونے یا کھانے میں مشغول ہوا تو اس پر کچھ کفارہ لازم نہ ہو گا، پس اسی طرح اگر وہ طواف تحیۃ میں مشغول ہوا (تو بھی دم لازم نہ ہو گا)۔ اسی طرح اگر اس نے سعی کے بعد حلق یا تقصیر سے قبل نفلی طواف کیا ہوتا تو بھی اس پر کوئی کفارہ لازم نہ اتا، اگرچہ یہ بھی خلاف سنت ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الخمیس ، 19 ذوالحجۃ 1431ھ، 25نوفمبر 2010 م 695-F

حوالہ جات

85۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب الطواف، 2/4/34

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button