ARTICLESشرعی سوالات

عمرہ میں بغیر طواف کئے سعی و حلق کروانے والے کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے گروپ میں ایک شخص عمرہ کا احرام باندھ کر آیا اور اس نے طوافِ کعبہ کئے بغیر سعی کر لی اور حلق کروا کر کپڑے تبدیل کر لئے اور آ کر سو گیا، اس صورت میں اس پر کیا لازم ہو گا؟

(السائل : محمد صدیق، لبیک ٹورز، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اُس پر عمرہ کی قضاء اور دَم لازم ہو گا اور توبہ بھی کرنی ہو گی، کیونکہ عمرہ میں طواف اُس کا رُکن ہے ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

طواف العمرۃ ہو رکن فیہا

اس کے تحت مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

أی فرض فی أدائہا (242)

یعنی، طواف عمرہ اس میں رُکن ہے یعنی عمرہ کی ادائیگی میں فرض ہے ۔ اور طوافِ عمرہ کی ادائیگی کے بعد سعی واجب ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ لکھتے ہیں :

و بعدہ سعی أی واجب (243)

یعنی، اور اس کے بعد سعی ہے یعنی واجب ہے ۔ جب سعی طوافِ عمرہ کے بعد کی جائے تو وہ سعی عمرہ کے واجب سے شمار ہوتی ہے کیونکہ عمرہ میں سعی کا طوافِ عمرہ کے بعد واقع ہونا صحتِ سعی کی شرط ہے ، چنانچہ مُلّا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

قال المصنّف فی ’’الکبیر‘‘ (244) ولفظہ فی ’’الکبیر‘‘ و من شرائطہ أن یکون بعد الطواف أو بعد أکثرہ الخ و تقدیم الطواف علی السعی شرط لصحۃ السعی بالاتفاق اھ (245)

یعنی،( المسلک المتقسطکے متن ’’لُباب المناسک و عُباب المسالک‘‘ کے ) مصنّف (علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبداللہ سندھی حنفی) نے (مناسک حج پر اپنی دوسری کتاب) ’’منسک کبیر‘‘ (المسمّی بمجامع المناسک و نفع النّاسک) میں فرمایا (عمرہ میں ) طواف کا سعی پر مقدم ہونا بالاتفاق صحتِ سعی کی شرط ہے ۔ اس لئے اس کی سعی سے عمرہ کا یہ واجب بھی ادا نہ ہوا کیونکہ وہ سعی اپنی صحت کی شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے افعالِ عمرہ سے واقع نہ ہوئی۔کیونکہ جب شرط فوت ہو جائے تو مشروط بھی فوت ہو جاتا ہے ۔ اور حلق و تقصیر بھی عمرہ کے واجبات میں سے ہیں جب کہ وہ اپنے مشروع وقت میں واقع ہوں چنانچہ مُلّا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

و بإعتبار إیقاعہ فی وقتہ المشروع و ہو أن یکون بعد السعی فی العمرۃ واجب ملخصاً (246)

یعنی، اور اس کے اپنے مشروع وقت میں واقع ہونے کے اعتبار سے اور وہ یہ ہے کہ عمرہ میں (حلق و تقصیر) سعی کے بعد ہو۔ یہاں حلق اپنے مشروع وقت میں واقع نہیں ہوا کہ اس نے حلق اس سعی کے بعد نہیں کروایا جو سعی عمرہ کے واجب سے واقع ہوئی ہو بلکہ اس سعی کے بعد کروایا جو کہ سعی عمرہ کے واجبات سے شمار ہی نہیں کی گئی اور صورت مسؤلہ میں تو حلق اپنے وقت جواز میں بھی واقع نہیں ہوا اور عمرہ میں اس کے جواز کا وقت طوافِ عمرہ کے چار پھیروں کے بعد تھا، چنانچہ مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

قلت : ہو من حیث صحۃ وقوعہ فی وقت جوازہ، ہو ما بعد إیتانہ بالرُّکن الأعظم فی الحج، و بعد أکثر طوافہ فی العمرۃ شرط (247)

یعنی، میں کہتا ہوں وہ اپنے وقتِ جواز میں صحتِ وقوع کی حیثیت سے شرط ہے وہ یہ ہے کہ حج میں رُکنِ اعظم ( یعنی وقوفِ عرفہ) کے بعد اور عمرہ میں اکثر طواف کے بعد ہو۔ اسی طرح علامہ رحمت اللہ سندھی نے ’’لُباب‘‘ کے ’’باب مناسک منی‘‘ میں لکھا ہے ۔ (248) اور صورت مسؤلہ میں اس نے عمرہ کے رُکن کو ترک کیا کہ جس کا بدل اصلاً کوئی چیز نہیں ہو سکتی اس پر لازم تو یہ تھا کہ وہ اس صورت میں پہلے فرض طواف کو ادا کرتا پھر سعی کرتا تاکہ وہ سعی عمرہ کی سعی شمار ہوتی اور وقت سے قبل حلق کا دَم دے دیتا مگر اس نے حلق اور دیگر محظوراتِ احرام کا ارتکاب تحلُّل کی نیت سے کیا ہے تو اُسے نئے احرام کے ساتھ عمرہ کی قضا اور دَم لازم ہو گا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، ذی الحجۃ 1428ھ، 14دیسمبر 2007 م (New 15-F)

حوالہ جات

242۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب أنواع الأطوفۃ وأحکامھا، ص252

243۔ لُباب المناسک، باب أنواع الأطوافۃ واحکامھا، ص109

244۔ مجامع المناسک، باب السعی بین الصفا والمروۃ، فصل فی شرائط صحۃ السعی، ص136،نسخۃ فی المحمودیۃ وص202 أفغانستان

245۔ المسلک المتقسّط، باب العمرۃ، ص654

246۔ المسلک المتقسّط، باب فرائض الحج، فصل فی واجباتہ، ص99

247۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب فرائض الحج، فصل فی واجباتہ، ص99

248۔ لُباب المناسک و عُباب المسالک ، باب مناسک منی، فصل فی زما ن للحلق و مکانہ و شرائط جوازہ، ص155

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button