بہار شریعت

عقد میں خیار شرط کے متعلق مسائل

عقد میں خیار شرط کے متعلق مسائل

احادیث:

حدیث۱: صحیح بخاری ومسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہ حضور اکرم ﷺنے فرمایا بائع ومشتری میں سے ہرایک کو اختیار حاصل ہے جب تک جدا نہ ہوں ( یعنی جب تک عقد میں مشغول ہوں عقد تمام نہ ہواہو) مگر بیع خیار (کہ اس میں بعد عقد اختیار رہتا ہے )۔

متعلقہ مضامین

حدیث۲: امام بخاری ومسلم حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا بائع ومشتری کو اختیار حاصل ہے جب تک جدانہ ہوں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور عیب کو ظاہر کردیں ان کے لئے بیع میں برکت ہوگی اور اگر عیب کو چھپائیں اور جھوٹ بولیں بیع کی برکت مٹادی جائے گی۔

حدیث۳: ترمذی وابوداؤد ونسائی بروایت عمر وبن شعیب عن ابیہ عن جدہ راوی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا بائع ومشتری کو خیار ہے جب تک جدا نہ ہوں مگر جبکہ عقد میں خیار ہواور ان میں کسی کو یہ درست نہیں کہ دوسرے کے پاس سے اس خوف سے چلاجائے کہ اقالہ کی درخواست کرے گا۔

حدیث۴: ابوداؤدنے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ بغیر رضا مندی دونوں جدا نہ ہوں ۔

حدیث۵: بیہقی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ارشاد فرمایا کہ خیار تین دن تک ہے ۔

مسائل فقہیہ:

مسئلہ۱ : بائع مشتری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قطعی طور پر بیع نہ کریں بلکہ عقد میں یہ شرط کردیں کہ اگر منظور نہ ہواتو بیع باقی نہ رہے گی اسے خیار شرط کہتے ہیں اور اس کی ضرورت طرفین کو ہواکرتی ہے کیونکہ کبھی بائع اپنی نا واقفی سے کم داموں میں چیز بیچ دیتا ہے یا مشتری اپنی نا دانی سے زیادہ داموں سے خریدلیتا ہے یا چیز کی اسے شناخت نہیں ہے ضرورت ہے کہ دوسرے سے مشورہ کرکے صحیح رائے قائم کرے اور اگر اس وقت نہ خریدے تو چیز جاتی رہے گی یا بائع کو اندیشہ ہے کہ گاہک ہاتھ سے نکل جائے گا ایسی صورت میں شرع مطہر نے دونوں کو یہ موقع دیا ہے کہ غور کرلیں اگرنامنظورہوتو خیار کی بنا پر بیع کو نامنظور کریں ۔

مسئلہ۲: خیار شرط بائع ومشتری دونوں اپنے اپنے لئے کریں یا صرف ایک کرے یا کسی اور کے لئے اس کی شرط کریں سب صورتیں درست ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عقد میں خیار شرط کا ذکر نہ ہومگر عقد کے بعد ایک نے دوسرے کو یا ہرایک نے دوسرے کو یا کسی غیر کوخیار دیدیا ۔عقد سے پہلے خیار شرط نہیں ہوسکتا یعنی اگر پہلے خیار کا ذکر آیا مگر عقدمیں ذکر نہ آیا نہ بعدعقد اس کی شرط کی مثلاًبیع سے پہلے یہ کہدیا کہ جو بیع تم سے کروں گا اس میں میں نے تم کو خیار دیا مگر عقد کے وقت بیع مطلق واقع ہوئی تو خیار حاصل نہ ہوا۔(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۳: خیار شرط ان چیزوں میں ہوسکتا ہے ۔(۱)بیع(۲)اجارہ(۳)قسمت(۴)مال سے صلح(۵)کتابت(۶)خلع میں جبکہ عورت کے لئے ہو(۷)مال پر غلام آزاد کرنے میں جبکہ غلام کے لئے ہو آقا کے لئے نہیں ہوسکتا(۸)راہن کے لئے ہوسکتا ہے مرتہن کے لئے نہیں کیونکہ یہ جب چاہے رہن کو چھوڑ سکتا ہے خیار کی کیا ضرورت(۹)کفالت میں مکفول لہ اورکفیل کیلئے ہوسکتا ہے (۱۰)ابرامیں ہوسکتا ہے مثلاًیہ کہا کہ میں نے تجھے بری کیا اورمجھے تین دن تک اختیار ہے (۱۱)شفعہ کی تسلیم میں بعد طلب مواثبت خیار ہوسکتا ہے ۔ (۱۲)حوالہ میں ہوسکتا ہے (۱۳)مزارعۃ(۱۴)معاملہ میں ہوسکتا ہے ۔

اور ان چیزوں میں خیار نہیں ہوسکتا ۔ (۱) نکاح (۲)طلاق(۳)یمین(۴)نذر(۵)اقرار عقد(۶)بیع صرف(۷)سلم(۸)وکالت ۔ (بحر)

مسئلہ۴: پوری مبیع میں خیار شرط ہویا مبیع کے کسی جزمیں ہو مثلاً نصف یا ربع میں اور باقی میں خیار نہ ہو دونوں صورتیں جائز ہیں اور اگر مبیع متعدد چیزیں ہوں ان میں بعض کے متعلق خیار ہواوربعض کے متعلق نہ ہو یہ بھی درست ہے مگر اس صورت میں یہ ضرورہی کہ جس کے متعلق خیار ہو اس کومتعین کردیا گیا ہو او رثمن کی تفصیل بھی کردی گئی ہو یعنی یہ ظاہر کردیاگیا ہوکہ اس کے مقابل میں یہ ثمن ہے مثلاًدو(۲) بکریاں آٹھ روپے میں خریدیں اور یہ بتادیاگیا کہ اس بکری میں خیار ہے اور اس کا ثمن مثلاً تین روپے ہے۔( درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۵: اگر بائع ومشتری میں اختلاف ہوایک کہتا ہے خیار شرط تھا دوسرا کہتا ہے نہیں تھا تو مدعی خیار کو گواہ پیش کرنا ہوگا اگریہ گواہ نہ پیش کرے تو منکر کا قول معتبرہوگا۔( درمختار)

مسئلہ۶: خیار کی مدت زیادہ سے زیادہ تین دن ہے اس سے کم ہوسکتی ہے زیادہ نہیں ۔ اگر کوئی ایسی چیز خریدی ہے جو جلد خراب ہوجانے والی ہے اورمشتری کو تین دن کا خیار تھا تو اس سے کہا جائے گا کہ بیع کوفسخ کردے یا بیع کو جائز کردے۔ اور اگر خراب ہونے والی چیز کسی نے بلاخیار خریدی اور بغیر قبضہ کے اور بغیر ثمن ادا کئے چل دیااور غائب ہو گیاتو بائع اس چیز کو دوسرے کے ہاتھ بیع کرسکتا ہے اس دوسرے خریدار کو یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی خریدنا جائز ہے ۔(خانیہ ، درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۷: اگر خیار کی کوئی مدت ذکر نہیں کی صرف اتنا کہا مجھے خیار ہے یا مدت مجہول ہے مثلاًمجھے چند دن کا خیار ہے یا ہمیشہ کے لئے خیار رکھا ان سب صورتوں میں خیار فاسد ہے یہ اس صورت میں ہے کہ نفس عقد میں خیار مذکور ہواورتین دن کے اندر صاحب خیار نے جائز نہ کیا ہواور اگرتین دن کے اندر جائز کردیا تو بیع صحیح ہوگئی اور اگر عقد میں خیار نہ تھا بعد عقدایک نے دوسرے سے کہا تمھیں اختیار ہے تو اس مجلس تک خیار ہے مجلس ختم ہوگئی اور اس نے کچھ نہ کہا تو خیار جاتا رہا اب کچھ نہیں کرسکتا ۔( عالمگیری، ردالمحتار)

مسئلہ۸: تین دن سے زیادہ کی مدت مقرر کی مگر ابھی تین دن پورے نہ ہوئے تھے کہ صاحب خیار نے بیع کو جائز کردیا تو اب یہ بیع درست ہے اور اگرتین دن پورے ہوگئے اور جائز نہ کیا تو بیع فاسد ہوگئی ۔(ہدایہ وغیرہ )

مسئلہ۹: مشتری نے بائع سے کہا اگر تین دن تک ثمن ادا نہ کروں تو میرے اور تیرے درمیان بیع نہیں یہ بھی خیار شرط کے حکم میں ہے یعنی اگر اس مدت تک ثمن ادا کردیا بیع درست ہوگئی ورنہ جاتی رہی اور اگر تین دن سے زیادہ مدت ذکر کرکے یہی لفظ کہے اور تین دن کے اندر ادا کردیا تو بیع صحیح ہوگئی اور تین دن پورے ہوچکے تو بیع جاتی رہی ۔(دررغرر)

مسئلہ۱۰: بیع ہوئی اور ثمن بھی مشتری نے دیدیا اور یہ ٹھہرا کہ اگر تین دن کے اندر بائع نے ثمن پھیر دیا تو بیع نہیں رہے گی یہ بھی خیار شرط کے حکم میں ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۱: تین دن کی مدت بھی مگر اس میں سے ایک دن یا دودن بعدمیں کم کردیا تو خیار کی مدت وہ ہے جو کمی کے بعد باقی رہی مثلاًتین دن میں سے ایک دن کم کردیا تو اب دوہی دن کی مدت ہے یہ مدت پوری ہونے پر خیار ختم ہوگیا۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۲: بائع نے خیار شرط اپنے لئے رکھا ہے تو مبیع اس کی ملک سے خارج نہیں ہوئی پھر اگر مشتری نے اس پر قبضہ کرلیا چاہے یہ قبضہ بائع کی اجازت سے ہو یا بلا اجازت اور مشتری کے پاس ہلاک ہوگئی تو مشتری پر مبیع کی واجبی قیمت تاوان میں واجب ہے اور اگر مبیع مثلی ہے تومشتری پر اس کی مثل واجب ہے اور اگر بائع نے بیع فسخ کردی ہے جب بھی یہی حکم ہے یعنی قیمت یا اس کی مثل واجب ہے اور اگر بائع نے اپنا خیار ختم کردیا اور بیع کو جائز کردیا یا بعد مدت وہ چیز ہلاک ہوگئی تو مشتری کے ذمہ ثمن واجب ہے یعنی جودام طے ہواہے وہ دینا ہوگا۔اگر مبیع بائع کے پاس ہلاک ہوگئی تو بیع جاتی رہی کسی پر کچھ لینا دینا نہیں ۔اور بیع میں کوئی عیب پیدا ہوگیا تو بائع کا خیار بدستور باقی ہے مگر مشتری کو اختیار ہوگا کہ چاہے پوری قیمت پر مبیع کو لے لے یا نہ لے ۔ اور اگر بائع نے خود اس میں کوئی عیب پیدا کردیا ہے تو ثمن میں اس عیب کی قدر کمی ہوجائے گی ۔مشتری پر جس صورت میں قیمت واجب ہے اس سے مراد اس دن کی قیمت ہے جس دن اس نے قبضہ کیا ہے ۔(درمختار، ردالمحتاروغیرہما)

مسئلہ۱۳: بائع کو خیار ہو تو ثمن ملک مشتری سے خارج ہو جاتا ہے مگر بائع کی ملک میں داخل نہیں ہوتا۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۴: مشتری نے اپنے لئے خیار رکھا ہے تو مبیع بائع کی ملک سے خارج ہوگئی یعنی اس صورت میں اگر بائع نے مبیع میں کوئی تصرف کیا ہے تو یہ تصرف صحیح نہیں مثلاًغلام ہے جس کو آزاد کردیا تو آزاد نہ ہوااور اس صورت میں اگر مبیع مشتری کے پاس ہلاک ہوگی تو ثمن کے بدلے میں ہلاک ہوئی یعنی ثمن دینا پڑے گا۔( درمختار)

مسئلہ۱۵: مبیع مشتری کے قبضہ میں ہے اور اس میں عیب پیدا ہوگیا چاہے وہ عیب مشتری نے کیاہویا کسی اجنبی نے یا آفت سماویہ سے یا خودمبیع کے فعل سے عیب پیدا ہوا بہر حال اگر خیار مشتری کو ہے تو مشتری کو ثمن دینا پڑے گااور بائع کو ہے تو مشتری پرقیمت واجب ہے اور بائع یہ بھی کرسکتا ہے کہ بیع کو فسخ کردے اور جو کچھ عیب کی وجہ سے نقصان ہوااس کی قیمت لے لے جبکہ وہ چیز قیمتی ہواور اگروہ چیز مثلی ہے تو بیع کو فسخ کرکے نقصان نہیں لے سکتا ۔(درمختار)

مسئلہ۱۶: عیب کا یہ حکم اس وقت ہے جب وہ عیب زائل نہ ہوسکتا ہو مثلاًہاتھ کاٹ ڈالااور اگر ایسا عیب ہو جو دور ہوسکتا ہو مثلاًمبیع میں بیماری پیدا ہوگئی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ عیب اندرون مدت زائل ہوگیا تو مشتری کا خیار بدستورباقی ہے مدت کے اندر مبیع کو واپس کرسکتا ہے اور مدت کے اندر عیب دور نہ ہوا تو مدت پوری ہوتے ہی مشتری پر بیع لازم ہوگئی کیونکہ عیب کی وجہ سے مشتری پھیر نہیں سکتا اور بعد مدت اگرچہ عیب جاتارہے پھر بھی مشتری کو حق فسخ نہیں کہ بیع لازم ہوجانے کے بعد اس کا حق جاتا رہا۔( درمختار وغیرہ)

مسئلہ۱۷: خیار مشتری کی صورت میں ثمن ملک مشتری سے خارج نہیں ہوتا اور مبیع اگرچہ ملک بائع سے خارج ہوجاتی ہے مگر مشتری کی ملک میں نہیں آتی پھر بھی اگر مشتری نے مبیع میں کوئی تصرف کیا مثلاًغلام ہے جس کو آزاد کردیا تو یہ تصرف نافذ ہوگا اور اس تصرف کو اجازت بیع سمجھاجائے گا۔(ہدایہ وغیرہ)

مسئلہ۱۸: مشتری اور بائع دونوں کو خیار ہے تونہ مبیع ملک بائع سے خارج ہوگی نہ ثمن ملک مشتری سے پھر اگر بائع نے مبیع میں تصرف کیا تو بیع فسخ ہوجائے گی اور مشتری نے ثمن میں تصرف کیا اور وہ ثمن عین ہو( یعنی از قبیل نقود نہ ہو) تو مشتری کو جانب سے بیع فسخ ہے ۔(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۱۹: اس صورت میں کہ دونوں کو خیار ہے اندرون مدت ان میں سے کوئی بھی بیع کو فسخ کرے فسخ ہوجائے گی اور جو بیع کوجائز کردے گا اس کاخیار باطل ہوجائے گایعنی اس کی جانب سے بیع قطعی ہوگئی اور دوسرے کاخیار باقی رہے گااور اگر مدت پوری ہوگئی اور کسی نے نہ فسخ کیا نہ جائز کیا تو اب طرفین سے بیع لازم ہوگئی ۔(درمختار،ردالمحتا)

مسئلہ۲۰: جس کے لئے خیار ہے چاہے وہ بائع ہویا مشتری یا اجنبی جب اس نے بیع کو جائز کردیا تو بیع مکمل ہوگئی دوسرے کو اس کا علم ہویانہ ہوالبتہ اگر دونوں کوخیار تھا تو تنہا اس کے جائز کردینے سے بیع کی تمامیت نہ ہوگی کیونکہ دوسرے کو حق فسخ حاصل ہے اگر یہ فسخ کردے گا تو اس کا جائز کرنا مفیدنہ ہوگا۔( درمختار)

مسئلہ۲۱: بائع کو خیار تھا اور اندرون مدت بیع فسخ کردی پھر جائز کردی اورمشتری نے اسکو قبول کرلیا تو بیع صحیح ہوگئی مگر یہ ایک جدید بیع ہوئی کیونکہ فسخ کرنے سے پہلے بیع جاتی رہی اور اگر مشتری کو خیار تھا اور جائز کردی پھر فسخ کی اور بائع نے منظور کرلیا تو فسخ ہوگئی اوریہ حقیقہً اقالہ ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۲۲: صاحب خیار نے بیع کو فسخ کیا اس کی دو (۲) صورتیں ہیں قول سے فسخ کرے تو اندرون مدت دوسرے کو اس کا علم ہوجانا ضروری ہے اگر دوسرے کو علم ہی نہ ہویا مدت گزرنے کے بعد اسے معلوم ہواتو فسخ صحیح نہیں اور بیع لازم ہوگئی اور اگر صاحب خیار نے اپنے کسی فعل سے بیع کو فسخ کیا تو اگرچہ دوسرے کو علم نہ ہوفسخ ہوجائے گی مثلاً مبیع غلام ہے اسے آزادکردیا یا بیچ ڈالا یاکنیز ہے اس سے وطی کی یا اس کا بوسہ لیا یا مبیع کو ہبہ کرکے یا رہن رکھ کر قبضہ دیدیایا اجارہ پر دیا یا مشتری سے ثمن معاف کر دیا یا مکان کسی کو رہنے کے لئے دے دیا اگرچہ بلا کرایہ یا اس میں نئی تعمیر کی یا کہگل کی یا مرمت کرائی یا ڈھادیا یا ثمن میں ( جبکہ عین ہو)تصرف کرڈالا ان صورتوں میں بیع فسخ ہوگئی اگرچہ اندرون مدت دوسرے کو علم نہ ہوا(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۲۳: جس کے لئے خیار ہے اس نے کہا میں نے بیع کو جائز کردیا یا بیع پرراضی ہوں یا اپنا خیار میں نے ساقط کردیا یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ کہے تو خیار جاتا رہا اور بیع لازم ہوگئی اور اگر یہ الفاظ کہے کہ میرا قصد لینے کا ہے یا مجھے یہ چیز پسند ہے یا مجھے اس کی خواہش ہے تو خیار باطل نہ ہوگا۔( عالمگیری،ردالمحتار)

مسئلہ۲۴: جس کے لئے خیار تھا وہ اندرون مدت مرگیا خیار باطل ہوگیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے مرنے کے بعد وارث کی طرف خیار منتقل ہو کہ خیار میں میراث نہیں جاری ہوتی۔ یونہی اگر بیہوش ہوگیا یا مجنون ہوگیا یا سوتارہ گیا اور مدت گزر گئی خیار باطل ہوگیا ۔مشتری کو بطور تملیک قبضہ دیا بائع کا خیار باطل ہوگیا اور اگر بطور تملیک قبضہ نہ دیا بلکہ اپنا اختیار رکھتے ہوئے قبضہ دیا خیار باطل نہ ہوا۔(عالمگیری، درمختار)

مسئلہ ۲۵: مبیع متعددچیزیں ہیں ا ور صاحب خیار یہ چاہتا ہے کہ بعض میں عقد کوجائز کرے اور بعض میں نہیں یہ نہیں کرسکتا بلکہ کل کی بیع جائز کرے یا فسخ ۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۶: مشتری کو خیار ہے تو جب تک مدت پوری نہ ہولے بائع ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا اور بائع کو بھی تسلیم مبیع پر مجبور نہیں کیا جاسکتا البتہ اگر مشتری نے ثمن دے دیا ہے تو بائع کو مبیع دینا پڑے گا یونہی اگر بائع نے تسلیم مبیع کردی ہے تو مشتری کو ثمن دینا پڑیگامگر بیع فسخ کرنے کاحق رہے گا یونہی اگر بائع کو خیار ہے اورمشتری نے ثمن ادا کردیا ہے اورمبیع پر قبضہ چاہتا ہے توبائع قبضہ سے روک سکتا ہے مگر ایسا کرے گاتو ثمن پھیرنا پڑے گا۔(عالمگیری)

مسئلہ۲۷: ایک مکان بشرط خیار خریدا تھا اس کے پڑوس میں ایک دوسرامکان فروخت ہوا مشتری نے شفعہ کیا خیار باطل ہوگیا اور بیع لازم ہوگئی ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۲۸: بائع یامشتری نے کسی اجنبی کو خیار دیدیا تو ان دونوں میں سے جس ایک نے جائز کردیا خیار جاتا رہا اور بیع کو فسخ کردیافسخ ہوگئی اور ایک نے جائز کی دوسرے نے فسخ کی تو جو پہلے ہے اس کاہی اعتبار ہے اور دونوں ایک ساتھ ہوں تو فسخ کو ترجیح ہے یعنی بیع جاتی رہی ۔(درمختار)

مسئلہ۲۹: دوچیزوں کو ایک ساتھ بیچا مثلاًدو غلام یا دو کپڑے یا دوجانوران میں ایک میں بائع یا مشتری نے خیار شرط کیا اس کی چارصورتیں ہیں جس ایک میں خیار ہے وہ متعین ہے یا نہیں اور ہر ایک کا ثمن علیحدہ علیحدہ بیان کردیا گیا ہے یا نہیں اگر محل خیار متعین ہے اور ہر ایک کا ثمن ظاہر کردیاگیا تو بیع صحیح ہے باقی تین صورتوں میں بیع فاسد ۔اور اگر کیلی یا وزنی چیز خریدی اور اس کی نصف میں خیار شرط رکھایا ایک غلام خریدا اور نصف میں خیار رکھا تو بیع صحیح ہے ثمن کی تفصیل کرے یا نہ کرے ۔( درمختار ، عالمگیری)

مسئلہ۳۰: کسی کو وکیل بنایا کہ یہ چیز بشرط الخیار بیع کرے اس نے بلاشرط بیچ ڈالی یہ بیع جائز ونافذ نہ ہوئی اور اگر بشرط الخیار خریدنے کے لئے وکیل کیا تھا وکیل نے بلا شرط خریدی تو بیع صحیح ہوگئی مگر وکیل پر نافذہوگی مؤکل پر نافذنہ ہوئی ۔(فتح وغیرہ )

مسئلہ ۳۱: دوشخصوں نے ایک چیز خریدی اوران دونوں نے اپنے لئے خیار شرط کیا پھر ایک نے صراحۃً یا دلالۃًبیع پر رضامندی ظاہر کی تو دوسرے کا خیار جاتا رہا یونہی اگر دو شخصوں نے کسی چیز کو ایک عقد میں بیع کیا اور دونوں نے اپنے لئے خیار رکھا پھر ایک بائع نے بیع کو جائز کردیا تو دوسرے کا خیار باطل ہوگیا اسے رد کرنے کا حق نہ رہا ۔(درمختار)

مسئلہ۳۲: ایک عقد میں دوچیزیں بیچی تھیں اور اپنے لئے خیار رکھا تھا پھر ایک میں بیع کو فسخ کردیا تو فسخ نہ ہوئی بلکہ بدستور خیارباقی ہے یونہی ایک چیز بیچی تھی اور اس کے نصف میں فسخ کیا تو بیع فسخ نہ ہوئی اور خیار باقی ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۳: صاحب خیار نے یہ کہااگر فلاں کام آج نہ کروں تو خیار باطل ہے تو خیار باطل نہ ہوگااور اگر یہ کہا کل آئندہ میں میں نے خیار باطل کیا یا یہ کہ جب کل آئے گاتو میرا خیار باطل ہوجائے گا تو دوسرا دن آنے پر خیار باطل ہوجائے گا۔(عالمگیری)

مسئلہ۳۴: بائع کو تین دن کا خیار تھا اور مبیع پر مشتری کو قبضہ دیدیا پھر مبیع کو غصب کرلیا تو اس فعل سے نہ بیع فسخ ہوئی نہ خیار باطل ہوا۔( عالمگیری)

مسئلہ۳۵: شرط خیار کے ساتھ کوئی چیز بیع کی تقابض بدلین ہوگیا پھر بائع نے اندرون مدت بیع فسخ کردی تو مشتری مبیع کوتاواپسی ثمن روک سکتا ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۳۶: ایک شخص نے شرط خیار کے ساتھ مکان بیع کیا مشتری نے بائع کو کچھ روپیہ یا کوئی چیز دی کہ بائع اپنا خیار ساقط کردے اور بیع کو نافذکردے اس نے ایسا کردیا یہ جائز ہے اور جو کچھ دیا ہے ثمن میں شمار ہوگا۔یونہی اگرمشتری کے لئے خیار تھا اور بائع نے کہا کہ اگر خیار ساقط کردے تو میں ثمن میں اتنی کمی کرتا ہوں یا مبیع میں یہ چیز اور اضافہ کرتا ہوں یہ بھی جائز ہے ۔( خانیہ)

مسئلہ۳۷: ایک چیز ہزار روپے کو بیچی تھی مشتری نے بائع کو اشرفیاں دیں پھر بائع نے اندرون مدت بیع کو فسخ کردیا تومشتری کو اشرفیاں واپس کرنی ہوں گی اور اشرفیوں کی جگہ روپیہ نہیں دے سکتا۔(عالمگیری)

مسئلہ۳۸: مشتری کے لئے خیار ہے اور اس نے مبیع میں بغرض امتحان کوئی تصرف کیا اور جوفعل کیا ہو وہ غیر مملوک میں بھی کرسکتا ہوتو ایسے فعل سے خیار باطل نہیں ہوگا اور اگر وہ فعل ایسا ہو کہ امتحان کے لئے اس کی حاجت نہ ہویا وہ فعل غیر مملوک میں کسی صورت میں جائز ہی نہ ہوتو اس سے خیار باطل ہوجائے گا۔مثلاًگھوڑے پر ایک دفعہ سوار ہوا یا کپڑے کو اس لئے پہنا کہ بدن پر ٹھیک آتا ہے یا نہیں یا لونڈی سے کام کرایا تا کہ معلوم ہوکہ کا م کرنا جانتی ہے یا نہیں تو ان سے خیار باطل نہ ہوااور دوبارہ سواری لی یا دوبارہ کپڑا پہنا یا دوبارہ کام لیا تو خیار ساقط ہوگیااور اگر گھوڑے پر ایک مرتبہ سوار ہوکر ایک قسم کی رفتارکا امتحان لیا دوبارہ دوسری رفتار کے لئے سوار ہوایا لونڈی سے دوبارہ دوسرا کام لیا تو اختیار باقی ہے ( عالمگیری)

مسئلہ۳۹: گھوڑے پر سوار ہوکر پانی پلانے لے گیایا چارہ کے لئے گیا یا بائع کے پاس واپس کرنے گیا اگر یہ کام بغیر سوار ہوئے ممکن نہ تھے تو اجازت بیع نہیں خیار باقی ہے ورنہ یہ سوار ہونا اجازت سمجھا جائے گا۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۰: زمین خریدی اس میں مشتری نے کاشت کی تو اس کا خیار باطل ہوگیا اوربائع نے کاشت کی تو بیع فسخ ہوگئی ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۱: بشرط خیار مکان خریدا اور اس میں پہلے سے رہتا تھا تو بعد کی سکونت سے خیار باطل نہ ہوگا۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۴۲: مبیع میں مشتری کے پاس زیادتی ہوئی اس کی دوصورتیں ہیں زیادت متصلہ ہے یا منفصلہ اور ہر ایک متولدہ ہے یا غیر متولدہ (۱)اگر زیادت متصلہ متولدہ ہے مثلاًجانور فربہ ہوگیا یا مریض تھا مرض جاتا رہا (۲)یا زیادت متصلہ غیر متولدہ ہے مثلاًکپڑے کو رنگ دیا یا سی دیا ستو میں گھی ملادیا (۳)یا زیادت منفصلہ متولدہ ہو مثلاًجانور کے بچہ پیدا ہو‘دودھ دوہا‘ اون کاٹی ان سب صورتوں میں مبیع کو رد نہیں کیاجاسکتا(۴) اور زیادت منفصلہ غیر متولدہ ہے مثلاًغلام تھا اس نے کچھ کسب کیا اس سے خیار باطل نہیں ہوتا پھر اگر بیع کو اختیار کیا تو زیادت بھی اسی کو ملے گی اور یبع کو فسخ کریگا تو اصل وزیادت دونوں کو واپس کرنا ہوگا۔( عالمگیری)

مسئلہ ۴۳: مشتری کو خیار تھا اور مبیع پر قبضہ کرچکا تھا پھر اس کو واپس کردیا بائع کہتا ہے یہ وہ نہیں ہے مشتری کہتا ہے کہ وہی ہے توقسم کے ساتھ مشتری کو قول معتبر ہے اور اگر بائع کو یقین ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جب بھی بائع ہی اس کا مالک ہوگیا اور یہ بائع کے طور پر بیع تعاطی ہوئی ۔( عالمگیری، درمختار)

مسئلہ۴۴: غلام کو اس شرط کے ساتھ خریداکہ باورچی یا منشی ہے مگر معلوم ہوا کہ وہ ایسا نہیں تو مشتری کو اختیار ہے کہ اسے پورے داموں میں لے لے یا چھوڑدے ۔(درمختار)

مسئلہ۴۵: بکری خریدی اس شرط کے ساتھ کہ گابھن ہے یا اتنا دودھ دیتی ہے تو بیع فاسد ہے اور اگر یہ شرط ہے کہ زیادہ دودھ دیتی ہے تو بیع فاسد نہیں ۔( درمختار)

مسئلہ۴۶: ایک مکان خریدا اس شرط پر کہ پختہ اینٹوں سے بنا ہوا ہے وہ نکلا خام یا باغ خریدااس شرط پرکہ اس کے کل درخت پھل دار ہیں ان میں ایک درخت پھل دار نہیں ہے یا کپڑا خریدااس شرط پر کہ کسم کا رنگا ہوا ہے وہ زعفران کا رنگا ہونکلاان سب صورتوں میں بیع فاسد ہے ۔ یا خچر خریدا اس شرط پر کہ مادہ ہے وہ نر تھا تو بیع جائز ہے مگر مشتری کو اختیار ہے کہ لے یانہ لے اور اگر نرکہہ کر خریدا اور مادہ نکلایا گدھا یا اونٹ کہہ کر خریدا اورنکلی گدھی یا اونٹنی تو ان صورتوں میں بیع جائز ہے اورمشتری کو خیار فسخ بھی نہیں کہ جنس مختلف نہیں ہے اورجو شرط تھی مبیع اس سے بہتر ہے ۔( درمختار، فتح القدیر)

مسئلہ۴۷: چند چیزوں میں سے ایک غیر معین کو خریدایوں کہا کہ ان میں سے ایک کو خریدتا ہوں تو مشتری ان میں سے جس ایک کو چاہے متعین کرلے اس کو خیار تعیین کہتے ہیں اس کے لئے چند شرطیں ہیں ۔اول یہ کہ ان چیزوں میں ایک کو خریدے یہ نہیں کہ میں نے ان سب کو خریدا۔دوم یہ کہ دو چیزوں میں سے ایک تین چیزوں میں سے ایک خریدے چار میں سے ایک خریدی تو صحیح نہیں ۔ سوم یہ کہ تصریح ہوکہ ان میں سے جوتو چاہے لے لے۔ چہارم یہ کہ اس کی مدت بھی تین دن تک ہونی چاہیے ۔پنجم یہ کہ قیمتی چیزوں میں ہو مثلی چیزوں میں نہ ہو۔ رہا یہ امر کہ خیار تعیین کے ساتھ خیار شرط کی بھی ضرورت ہے یانہیں اس میں علمأ کا اختلاف ہے بہر حال اگر خیار تعیین کے ساتھ خیار شرط بھی مذکور ہواور مشتری نے بمقتضائے تعیین ایک کو معین کرلیاتو خیار شرط کا حکم باقی ہے کہ اندرون مدت اس ایک میں بھی بیع فسخ کرسکتا ہے اور اگر مدت ختم ہوگئی اور خیار شرط کی رو سے بیع کو فسخ نہ کیا تو بیع لازم ہوگئی اورمشتری پر لازم ہوگا کہ اب تک متعین نہیں کیا ہے تو اب معین کرلے ۔(درمختار ، ردالمحتار، فتح)

مسئلہ۴۸: خیار تعیین بائع کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مشتری نے دویا تین چیزوں میں سے ایک کوخریدا اوربائع سے کہدیا کہ ان میں سے جو چاہے دیدے بائع نے جس ایک کو دیدیا مشتری کو اس کا لینا لازم ہو جائے گاہاں بائع وہ دے رہا ہے جو عیب دار ہے اور مشتری لینے پر راضی ہے تو خیر ورنہ بائع مجبور نہیں کرسکتا اور اگر مشتری عیب دارکے لینے پر تیار نہ ہواتو ان میں سے دوسری چیز لینے پر بھی بائع اب اس کو مجبور نہیں کرسکتا اوراگر دونوں چیزوں میں سے ایک بائع کے پاس ہلاک ہوگئی تو جوباقی ہے وہ مشتری پر لازم کرسکتا ہے ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۴۹: خیار تعیین کے ساتھ بیع ہوئی اورمشتری نے دونوں چیزوں پر قبضہ کیا تو ان میں ایک مشتری کی ہے اور ایک بائع کی جواس کے پاس بطور امانت ہے یعنی اگرمشتری کے پاس دونوں ہلاک ہوگیئں تو ایک کا جو ثمن طے پایا ہے وہی دینا پڑے گا ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۰: خیار تعیین کے ساتھ ایک چیز خریدی تھی اور مشتری مرگیا تو یہ خیار وارث کی طرف منتقل ہوگا یعنی وارث دونوں کو رد کرکے بیع فسخ کرنا چاہے ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ جس ایک کو چاہے پسند کرلے اور قبضہ دونوں پر ہوچکا ہے تو دوسری اس کے پاس امانت ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۵۱: بائع کے پاس دونوں چیزیں ہلاک ہوگئیں تو بیع باطل ہوگئی اور ایک باقی ہے ایک ہلاک ہوگئی تو جو باقی ہے وہ بیع کے لئے متعین ہوگئی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۵۲: مشتری نے دونوں پر قبضہ کرلیا ہے ایک ہلاک ہوگئی ایک باقی ہے تو جو ہلاک ہوئی وہ بیع کے لئے متعین ہوگئی اور جو باقی ہے وہ امانت ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۵۳: خیار تعیین کے ساتھ بیع ہوئی اور ابھی تک دونوں چیزیں بائع ہی کے قبضہ میں تھیں کہ ان میں سے ایک میں عیب پیدا ہوگیا اب مشتری کو اختیار ہے کہ عیب والی پورے داموں سے لے یا دوسری لے لے یا کسی کو نہ لے ۔دونوں میں عیب پیدا ہوگیا جب بھی یہی حکم ہے ۔اور اگر مشتری قبضہ کرچکا ہے اور ایک عیب دار ہوگئی تو یہ بیع کے لئے متعین ہے اور دوسری امانت اور دونوں عیب دار ہوگئیں اگر آگے پیچھے عیب پیدا ہوا تو جس میں پہلے عیب پیدا ہوا وہ بیع کے لئے متعین ہے اور ایک ساتھ دونوں میں عیب پیدا ہوا تو بیع کے لئے ابھی کوئی متعین نہیں جس ایک کو چاہے معین کرلے اور دونوں کو رد کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۵۴: دوکپڑے تھے اور قبل تعیین مشتری نے ایک کو رنگ دیا تویہی بیع کے لئے متعین ہوگیا ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۵۵: خریدار نے کسی چیز کا نرخ اور ثمن طے کرالیا مگر ابھی خریدوفروخت نہیں ہوئی اور چیز پر قبضہ کرلیا یہ چیز اس کی ضمان میں ہے ہلاک وضائع ہو جائے تو اس کا تاوان دینا ہوگا اور یہ تاوان اس شے کی واجبی قیمت ہوگا۔ خواہ یہ قیمت اتنی ہی ہو جتنا ثمن قرار پایا ہے یا اس سے زیادہ یا کم ہو۔( درمختار)

مسئلہ۵۶: گاہک نے بائع سے یہ ٹھہرالیا ہے کہ چیز ہلاک ہوجائے گی تو میں ضامن نہیں یعنی تاوان نہیں دونگااس صورت میں بھی تاوان دینا پڑے گا اور وہ شرط کرنا بیکار ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۵۷: مشتری نے کسی کو چیز خریدنے کے لئے وکیل کیا وکیل دام طے کرکے بغیر بیع کئے مؤکل کو دکھانے کے لئے لایا مؤکل کو دکھائی اس نے ناپسندکی اور واپس کردی وہ چیز وکیل کے پاس ہلاک ہوگئی وکیل پر تاوان ہوگا اور مؤکل سے رجوع نہیں کرسکتا ہاں اگرمؤکل نے کہدیا تھا کہ دام طے کرکے پسند کرانے کے لئے میرے پاس لاناتو جوکچھ وکیل نے تاوان دیا ہے مؤکل سے وصول کرے گا۔( خانیہ )

مسئلہ۵۸: خریدار نے دکان دار سے تھان طلب کیا اس نے تین تھان دیئے اور ہر ایک کا دام بتادیا یہ تھان دس(۱۰)کا ہے یہ بیس(۲۰) کا اور یہ تیس(۳۰) کاانہیں لے جاؤجوان میں پسند کرو گے تمھارے ہاتھ بیع ہے وہ تینوں مشتری کے پاس ہلاک ہوگئے اگر وہ سب ایک دم ہلاک ہوئے یا آگے پیچھے ضائع ہوئے مگریہ معلوم نہیں کہ پہلے کونسا ہلاک ہواتو ہر ایک تھان کی تہائی قیمت تاوان دیگااور اگرمعلوم ہے کہ پہلے فلاں تھان ضائع ہواتو اسی کا تاوان دیگا باقی دوتھان امانت تھے ان کا تاوان نہیں اور اگر دوہلاک ہوئے اور معلوم نہیں کہ پہلے کون ہلاک ہوا تو دونوں میں ہر ایک کی نصف قیمت تاوان دے اور تیسرا تھان امانت ہے اسے واپس کردے اور اگر ایک ہلاک ہواتو اس کاتاوان دے باقی دو تھان واپس کردے ۔( خانیہ )

مسئلہ۵۹: دام طے کرکے چیز کولے جانے سے تاوان اس وقت لازم آتا ہے جب اس کو خریدنے کے ارادہ سے لے گیا اور ہلاک ہوگئی ورنہ نہیں مثلاًدکاندار نے گاہک سے کہا یہ لے جاؤتمھارے لئے دس کوہے خریدار نے کہا لاؤ اس کو دیکھو ں گا یا فلاں شخص کو دکھاؤں گا یہ کہہ کر لے گیااور ہلاک ہوگئی تو تاوان نہیں یہ امانت ہے اور اگر یہ کہہ کر لے گیا کہ لاؤ پسند ہوگاتو لے لونگا اورضائع ہوگئی تو تاوان دینا ہوگا۔( ردالمحتار)

مسئلہ۶۰: دکاندار سے تھان مانگ کر لے گیا کہ اگر پسند ہواتو خرید لوں گااور اس کے پاس ہلاک ہوگیا تو تاوان نہیں اور اگر یہ کہہ کرلے گیا کہ پسند ہوگا تو دس روپے میں خرید لوں گا وہ ہلاک ہوگیا تو تاوان دینا ہوگا دونوں میں فرق یہ ہی ہے کہ پہلی صورت میں چونکہ ثمن کا ذکر نہیں یہ قبضہ بروجہ خریداری نہیں ہوااوردوسری میں ثمن مذکور ہے لہذا خریدار ی کے طور پر قبضہ ہے ۔(فتح القدیر)

مسئلہ۶۱: دام ٹھہر اکر بغیر بیع کئے جس چیز کو لے گیا وہ ہلاک نہیں ہوئی بلکہ اس نے خود ہلاک کی مثلاًکھانے کی چیز تھی اس نے کھالی کپڑا تھا اس نے قطع کراکے سلوالیا تو ثمن دینا ہوگا یعنی جو ٹھہراہے وہ دینا ہوگاہاں اگر بائع نے مشتری کی رضا مندی ظاہر کرنے سے پہلے یہ کہہ دیا کہ میں نے اپنی بات واپس لی اب میں نہیں بیچوں گااس کے بعد مشتری نے صرف کر ڈالا تو قیمت واجب ہے یا رضا مندی ظاہر کرنے سے پہلے مشتری مرگیا اس کے وارث نے صرف کیا جب بھی قیمت واجب ہے ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۶۲: دیکھنے یا دکھانے کے لئے لایا ہے اور یہ نہیں کہا ہے کہ پسند ہوگا تولے لونگا اور خرچ کرڈالا تو قیمت دینی ہوگی۔(ردالمحتار)

مسئلہ۶۳: ایک شخص نے دوسرے سے مثلاًہزار روپے قرض مانگے اور کوئی چیز رہن کے لئے اس کو دیدی اورابھی قرض اس نے نہیں دیا ہے کہ چیز ہلاک ہوگئی یہاں دیکھا جائے گاکہ قرض اور اس چیز کی قیمت میں کون کم ہے جو کم ہے اسی کے بدلے میں وہ چیز ہلاک ہوئی یعنی وہ چیز اگر گیارہ سو کی تھی تو ایک ہزار مرتہن کو اس کے معاوضہ میں دینے ہوں گے اور نو سو کی تھی تونوسو۔اور اگر راہن نے یہ کہا کہ یہ چیز رکھ لو اورمجھے قرض دیدو مگر قرض کی کوئی رقم بیان نہیں کی تھی اور چیز ہلاک ہوگئی تو کچھ تاوان نہیں ۔( ردالمحتار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button