بہار شریعت

عقائد متعلقہ ذات و صفاتِ الٰہی جَلّ جلا لہ

بہار شریعت جلد اول کے باب عقائد متعلقہ ذات و صفاتِ الٰہی جَلّ جلا لہ‘ کا تفصیلی خلاصہ

عقائد متعلقہ ذات و صفاتِ الٰہی جَلّ جلا لہ

 عقیدہ ۱ : اللہ ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں نہ ذات میں نہ صفات میں نہ افعال میں نہ احکام میں نہ اسما میں۔( قرآن کریم اصول بزددی ص ۲۸ و مسامرہ ص ۴۴ و سایرہ المعتمد ص ۴) کے واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود ضروری ہے عدم محال قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے ازلی کے بھی یہی معنی ہیں ــ۔ یعنی ہمیشہ رہے گا اور اسی کو ابدی بھی کہتے ہیں ۔( کتاب الاربعین ص ۳۹ ، شرح عقائد نسفی ص ۲۳ و ص ۲۶، مسامرہ ص ۲۲ و ص ۲۴)  وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کا عبادت و  پرستسش کی جائے۔ (قرآن کریم)۔
 عقیدہ ۲ : وہ بے پرواہ ہے کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اس کا محتاج ہے۔ (قرآن کریم سورہ اخلاص)
عقیدہ ۳ :    اس کی ذات کا اور اک عقلًا محال کو جو چیز سمجھ میں آتی ہے عقل اس کو محیط ہوتی ہے اور اس کو کوئی احاطہ نہیں کر سکتا البتہ اس کے افعال کے زریعے سے اجمالاً ا س کی صفات پھر ان صفات کے ذریعے سے معرفت ذات حاصل ہوتی ہے۔ (شرح عقائد ص ۲۰۳ )
 عقیدہ ۴ : اس کی صفتیں نہ عین ہیں یہ غیر یعنی صفات اسی ذات ہی کا نام ہو ایسا نہیں اور نہ اس سے کسی طرح نحوِ وجودمیں جدا ہو سکیں کہنفس ذات کی مقتدٰی  ہیں اور عین ذات کو لازم ۔ (نبراس ص ۱۹۱، شرح عقائد ص ۳۴، ص ۳۵ ، المعتمد ص ۵۱،)
عقیدہ ۵ : جس طرح اس کی ذات قدیم ازلی ابدی ہے۔ صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیں (شرح عقائد ص ۳۳، ص ۳۵)
عقیدہ ۶ : اس کی صفات نہ مخلوق ہیں نہ زیر قدرت داخل ۔ ( نبراس ص ۱۹۱)
عقیدہ ۷ : ذات و صفات کے سرا سب چیزیں حاذت ہیں یعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود  ہویئں ۔ (شرح عقائد ص ۳۳۔ ۳۵)
عقیدہ ۸ : صفاتِ الٰہی کو جو مخلوق کہے یا حادث بتا ئے گمراہ ہ و بد دین ہے۔
 عقیدہ ۹ : جو عالم میں سے کسی شے کو قدیم مانے یا اس کے حددث میں شک کرے کافر ہے۔
عقیدہ ۱۰ : نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا نہ اس کے لئے جو اس کا باپ یا بیٹا بتائے یا اس کے لئے بی بی ثابت کرے کافر ہے بلکہ جو ممکن بھی کہے گمراہ بد دین ہے۔ (قرآن کریم)۔
عقیدہ ۱۱ : وہ حّی ہے یعنی خود زندہ ہے اور سب کی زندگی اس کے ہاتھ میں ہے جسے جب چاہے زندہ کرے اور جب چاہے موت دے۔ (قرآن کریم)۔
عقیدہ ۱۲ : جو چیز محال ہے اللہ عزّوجل س سے پاک ہے کہ اس کی قدرت اسے شامل ہو کہ محال اسے کہتے جو موجود نہ ہو سکے اور جب مقدور ہو گا تو موجود ہو سکے گا۔ پھر محال نہ رہا ۔ اسے یوں سمجھو کہ دوسرا خدا محال ہے یعنی نہیں ہو سکتا تو نہ اگر زیرِ قدرت ہو تو موجود ہو سکے گا تو محال نہ رہا اور اس کہ محال نہ ماننا و حدانیت کا انکار ہے یونہی فنائے باری محال ہے۔ اگر تحتِ قدرت ماننا اللہ کی اُلو ہیت سے ہی انکار کرنا ہے ۔ (مسامرہ ص ۳۹۳)۔
عقیدہ ۱۳ : ہر مقدور کے لئے ضروری نہیں کہ موجود ہو البتہ ممکن ہونا ضوری ہے اگرچہ کبھی موجود نہ ہے۔ (المعتمد ص ۲۶،  المنتقد ص ۶۶)۔
عقیدہ ۱۴ : وُہ ہر کمال و خوبی کا جامع ہے اور ہر ا س چیز سے جس میں عیب و نقصان سے پاک ہے یعنی عیب و نقصان  کا اس میں ہونا محال ہے بلکہ جس بات میں نہ کمال ہو نہ نقصان وو بھی اس کے لئے محال مثلَا  جھوٹؔ،  دغا ؔ، خیانت ؔ،  ظلمؔ، جہلؔ، بے حیائیؔ  و غیر ھا عیوب اس پر قطعًّا محال ہیں ارس نہ کہنا کہ جھوٹ پر قدرت ہے بایں معنی کہ وہ خود جھو ٹ بول سکتا ہے۔ محال کو ممکن ٹھرانا ارس خدا کو عیبی ٹھرانا خدا سے انکار کرنا ہے اور نہ سمجھنا کہ محا لات پر قادر نہ ہو گا تو قدرت نا قص ہو جائے گا باطل محض ہے۔ (اصول بزددی ص ۲۰)  کہ اس میں قدرت کا کیا نقصان ، نقصان تو اس محال کا ہے کہ تعلق قدرت کی اس میں صلاحیت نہیں۔
عقیدہ ۱۵ :  حیات، قدرت، سننا، دیکھنا، کلام، علم، ارادہ  اس کے صفاتِ ذاتیہ ہیں مگر کانؔ،  آنکھ ؔ، زبان ؔ سے اس کا سننا دیکھنا ، کلام کرنا نہیں کہ یہ سب اجسام ہیں اور یہ سب اجسام ہیں اور اجسام سے وہ پاک ہر پستؔ سے پست آواز کو سننا  ہے ہر باریک سے باریک کو کہ خوربین سے محسوس نہ ہو۔ وہ دیکھتا ہے بلکہ اس کا دیکھنا اور سننا انہی چیزوں پر منحصر نہیں ہر موجود کو دیکھتا ہے اور ہر موجود کو سنتا ہے۔ (شرح عقائد ص ۳۸)۔
عقیدہ ۱۶ : مثل دیگر صفات کے کلام بھی قدیم ہے حادث و مخلوق نہیں جو قرآن عظیم کو مخلوق مانے ہمارے امام اعظم ودیگر ائمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اسے  کافر کہا بلکہ صحا بہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اس کی تکفیر ثابت ہے۔ (شرح عقائد و علی ا لقاری ص ۴۱مع حاشیہ، نبراس ص ۲۲۳ مع حاشیہ)۔
عقیدہ ۱۷ : اس کا کلام آواز سے پاک ہے اور یہ قر آ ن عظیم جس کو ہم اپنی زبان سے تلاوت کرتے مصاحف میں لکھتے ہیںاسی کا کلام بلا صوت ہے اور یہ ہمارا پڑھنا لکھنا اور یہ آواز حادث یعنی ہمارا پڑھنا حادث ہے اور جو ہم نے پڑھا قدیم اور ہمارا لکھنا حادث ہے اور جو ہم نے لکھا قدئم ہمارا سننا ہے  اور جو ہم نے سنا قدیم ہمارا حفظ کرنا حادث ہے اور جو ہم نے حفظ کیا قدیم یعنی متجلی قدیم ہے اور تجلی حادث ہے۔ (شرح عقائد ص ۴۲)۔
عقیدہ ۱۸ : اس  کا علم ہر شے کو محیط یعنی جزئیات کلیات موجودات معدودات ممکنات محالات سب کو ازل میں جانتا تھا اور اب جانتا ہے اورابدتک جانے گا اشیا  بدلتی ہیں اور اس کا علم نہیں بدلتا ۔ دلوں کے خطروں اور وسوسوں پر اس کو خبر ہے اور اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ (مسامرہ ص ۲۶، شرح عقائد ص ۴۲، شرح مواقف ص ۸)۔
عقیدہ ۱۹ : وہ غیب اور شہادۃ سب کو جانتا ہے علم ذاتی اس کا خاصہ ہے جو شخص علم ذاتی غیب خواہ شہادت کا غیر خدا کے لئے ثابت کرے کافر ہے۔ علم ذاتی کا یہ معنی کہ بے خدا کے دیئے خود حاصل ہو۔
عقیدہ ۲۰ : وہی ہر شے کا خالق ہے ذوات ہوں خواہ افعال سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ خالق کل شیئٍ قرآن کریم۔
عقیدہ ۲۱ : حقیقتًا ر وزی پہچانے والا وہی ہے ملائکہ وغیر ہم و سائل و دسائط ہیں۔ (قرآن کریم)۔
عقیدہ ۲۲ : ہر بھلائی اس نے اپنے علمِ ازلی کے موافق مقدّر فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جیسا کرنے والا تھا اور اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا ۔  زید کے ذمے برائی لکھی اس لئے کہ زید برائی کرنے والا تھا اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وو اس کے لئے بھلائی لکھتا تو اس کے علم یا اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا ۔ (المنتقد و غیرہ ص ۳۳ کتب عقائد)  تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی ﷺ کے اس اُمت کا مجوس بتایا۔
عقیدہ ۲۳ : قضا تین قسم ہے ۔
۱) مبرم ؔ حقیقی کہ علم الٰہی میں سے کسی شے پر معلّق نہیں۔ اور
۲) معلّق محض کہ صحف ملائکہ میں کسی شے پر اس کا معلّق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے۔ اور
۳)  معلّق  شبیہ بہ مبرم کہ صحف ملائکہ میں اس کی تعلیق مذکورہ نہیں اور علم الٰہی میں  تعلیق ہے ۔ وو جو مبرم وحقیقی ہے اس کی تبدیل نا ممتک ہے اکاب محبو بانِ خدا اگر اتفاقاً اس بارے میں عرض کرتے ہیں تو انہیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے ۔ ملائکہ قومِ لوط پر عذاب کے کر آئے تو انہیں سیدّنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا الکریم وعلیہ افضل الصّلو ۃ والتسلیم کہ رحمتِ محضہ تھے ان کا نام پاک ہی ابراہیم ہے  یعنی ابِ رحیم مہربان باپ ان کافروں کے بارے میں اتنے ساعی ہوئے کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے۔ان کا رب فرماتا ہے
                        یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ
ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں یہ قرآن عظیم نے ان بے دینوں کا رد فرمایا ۔ جو محبوبانِ خدا کو بارگاہِ عزّت میں کوئی وجاہت نہیں مانتے اور کہتے ہیں اس کے حضورکوئی دم نہیں مار سکتا حالانکہ ان کا رب عزوجل ان کی وجاہت اپنی بارگاہ میںظاہر فرمانے کو خود ان لفظوں سے ذکر فرماتا ہے کہ ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے مارے میں حدیث میں ہے شبِ معراج حضورِ اقدس ﷺ نے ایک آواز سنی کہ کوئی شخص اللہ عزوجل کے ساتھ بہت تیزی اور بلند آواز سے گفتگو کر رہا ہے حضورِ اقدس ﷺ نے جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام سے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں عرض کی موسٰی علیہ الصلاۃ والسلام ۔ فرمایا کیا اپنے رب پر تیز ہو کر گفتگو  کرتے ہیں عرض کی ان کا رب جانتا ہے کہ ان کے مزاج میں تیزی ہے  جب آئیہ کریمہ وَلَسَو’فَ یُعْطیْکَ فَتَرْضٰی
نازل ہوئی کہ( بیشک عنقریب تمہیں تمہارا رب اتنا عطا  فرمائے  گا  کہ تم راضی ہو جائو گے)۔
  حضوُرِ سّیدالمحبوبین ﷺ نے فرمایا۔
                                                                                   اِذًالّا ار’ضٰی وَ وَا حِد’‘مِّن’ اُمَّتیِ فِیْ النَّارِ                                        
(ایسا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایک اُمتی بھی آگ میں ہو)۔
یہ تو شانیں رفیع ہیں  پر رفعت عزت وجاہت ختم ہے صلوات اللہ تعالٰی و سلامہ علیہم مسلمان ماں باپ کا کچّا بچہ جو حمل سے گر جاتا ہے اس کے لئے حدیث میں فرمایا کہ روزِ قیامت اللہ عزوجل سے اپنے ماں باپ کی بخشش کے لئے ایسا جھگڑے گا جیسا قرض خواہ کسی قرض دار سے یہاں تک کے فرمایا جائے گا۔
                   ایُّھَا اسِّقْطُ المرَ ا غِمُ رَبَّہ‘
اے  کچے بچے اپنے رب سے جھگڑنے والے اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ لے اور ت میں چلا جا۔
خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا مگر ایمان والوں کے لئے بہت نافع اور شیاطین الانس کی خبا ثت کا دافع تھا کہنا بہ ہے کہ قومِ لوط پر عذاب قضائے مبرم حقیقی تھا ۔ خلیل اللہ علیہ الصّلاۃ والسُسلام اس میں جھگڑے تو انہیں ارشاد ہوا
یآٰ اِبْر’َاہِیْمُ اَعْرِض’ عَن’ ھَذَا اِنَّھمْ اٰ تِیھم عَذاَبٌ غَیرُ مَر’دُو’دٍ
 (  اے ابراہیم اس خیال میں نہ پڑو بیشک ان پر وو عذاب آنے والاہے جو پھرنے کا نہیں)
  اور وو جو ظاہر قضائے معلق ہے اس تک اکثر اولیاء کی رسائی ہوتی ہے ان کی دُعا سے اُن کیہمت سے ٹل جاتی ہے اور اور وو جو متوسط حالت میں ہے جسے
صُحفِ ملائکہ کے اعتبا ر سے مبرم بھی کہہ سکتے ہیں اس تک خال۔س اکابر کی رسائی ہوتی ہے حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی کو فرماتے ہیں قضائے مبرم کو رد کر دیتا ہوں اور اسی کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا :
اِنَّ الدُّعأ ئَ یَرُدُّ  القَضَا ئَ بَعدَمَا اُ’برِمَ 
بے شک دُعا قضائے مُبرم کوٹال دیتی ہے۔ (القرآن و الحدیث)۔
مسئلہ ۱ : قضا و قدر کے مسائل عام عقلون میں نہیں آسکتے  ان میں زیادہ غورو فکر کرنا سب ہلاکت ہے صدیق وفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس مسئلہ میں بحث کرنیسے منع  فرمائے گئے ۔(شرے عقائد مع نبراس) ما شما گنتی ہیں۔ اتنا سمجھ لو کہ اللہ تعلی نے آدمی کو مثل پتھر اور دیگر جمادات کے بے جس و حرکت نہیں پیدا کیا بلکہ اس کو ایک نوع اختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے بُرے بفع کو نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کر دیئے کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اسی قسم کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں اور اسی بنا پر اس پر مواخذہ ہے اپنے  آپ کو بلکل مجبوریا بالکل مختارسمجھنا دونوں گمراہی ہیں ۔
مسئلہ ۲ : بُرا کام کرکے تقدیرکی طرفنسبت کرنا اور مشیت الٰہی کے حوالہ کرنا بہت بُری بات ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ اچھا کام کرے اسے منجانب اللہ کہے اور جو برائی سر زدہو اس کو شامت نفس تصور کرے ۔
عقیدہ ۲۴ : اللہ تعالیٰ جہت و زمان و حرکت و سکون و شکل وصورت جمیع حوادث سے پاک ہے (مسامرہ و مسایرہ ص ۳۱۔ ص ۳۹۳)۔
عقیدہ ۲۵ : دنیا کی زندگی میں اللہ عزوجل کا دیدار نبی ﷺ کے لئے خاص ہے (المنتقد ۶۱) اور آخرت میں ہرسنی مسلمان کے لئے ممکن بلجکہ واقع رہا قلبی دیدار ہا خواب میں یہ دیگر انبیا علیہم السلام بلکہ اولیاء کیھ لئے بھی حاصل ہے۔ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں سو بار زیارت ہوئی۔ (المنتقد ص ۶۱، ۶۲)۔
عقیدہ ۲۶ : اس کا دیدار بلا کیف ہے یعنی دیکھیں کے اور یہنہیں کہہ سکتے کہ کیسے دیکھیں  گے جس چیز کو دیکھتے ہیں اس سے کچھ فاصلہ مسافت کا ہوتا ہے نزدیک یا دور وو دیکھنے والے سے کسی جہت میں ہوتگی ہے اوپر یا نیچے دہنے یا بائیں آگے یا پیچھے اس کادیکھنا اس سب باتوں سے پاک ہو گا پھر رہا یہ کہ کیونکر ہو گا یہی تو کہا جاتا ہے کہکیونکر کو یہاں دخلنہیں انشاء اللہ تعالیٰ جب دیکھیں گے اس وقت بتدیں گے اس کی سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک عقل پہنچتی ہے وہ خدا نہیں اور جو خدا ہے اس تک عقل رسانہیں اور وقت دیدار نگاہ اس کو احاطہ کرے یہ محال ہے۔
عقیدہ ۲۷ : وو جو چاہے جیسا چاہے کرے کسی کو اس پر قابو نہیں اور کوئی اس کے ارادے سے اسے باز رکھنے والا۔ اس کو نہ اُنگھ آئے نہ نیند، تمام جہان کا نگاہ رکھنے والا نہ تھکے نہ اُکتائے تمام عالم کا پالنے والا ماںباپ سے زیادہ مہربان  حلم والا اسی کی رحمت ٹوٹے ہوئے دلوں کا سہارا اسی کے لئے برائی اور عظمت ہے ماؤںکے پیٹ میں جیسی چاہے صورت بنانے والا۔  یصور کم فی الارحام کیف یشائُ گناہوں کو بخشنے والا توبہ قبول کرنے والا ۔ قہر و غضب فرمائے والا اس کی پکڑ نہایت سخت ہے جس سے بے اس کے چھڑائے  کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ فعال لمایرید و یفعل اللہ مایشاء یہ عقائد سب قران کریم اور اسمائے الہیہ کا ماحصل ہیں جو حدیث صحیح میں درج ہیں۔ وو چاہے تو چھوٹی چیز کو وسیع کر دے اور وسیع کو سمیٹ دے جس کہ چاہے بلند کر دے اور جس کو چاہے پست ذلیل کو عزت دے دے اور عزت والے کو ذلیل کر دے جس کو چاہے سیدھی راہ سے الگ کر دے جسے چاہے اپنا نزدیک بنالے اور جسے چاہے مردود کر دے جس کو چاہیہ دے اور جو چاہے چھین لے وو جو کچھ کرتا ہے ہا کرے گا عدل و انصاف ہے ظلم سے پاک و صاف ہے نہایت بلند ہ بالا ہے وو سب کو محیط ہے اس کا کا کئی احاطہ نہیں کر سکتا ۔ نفع و ضرر یسی کے ہاتھ میں ہیں مظلوم کی فریاد کو پہنچتا اور ظالم سے بدلا لیتا ہے اس کی مشیت اور ارادہ کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا مگر اچھے پر خوش ہوتا ہے اور بُرے سے ناراض۔ اس رحمت ؔ ہے کہ ایسے کام کا حکم نہیں فرماتا جو طاقت سے باہر ہے اللہ عنوجل پر ثواب یا عذاب یا بندے کے ساتھ لطف یا اس کے ساتھ وو کرنا جو اُ س کے حق میں بہتر ہو اس پر کچھ واجب نہٰن مالک علی الطلاق ہے جو چاہے کرے اور جو چاہے حکم دے ہاں اس نے اپنے کرم سے وعدہ فرما لیا ہے کہ مسلمانوں کو ت میں داخل فرمائے گا اور اس نے وعدہ فرمالیا ہے کہ کفر کے سوا ہر چھوٹے بڑے گناہ کو  جسے چاہے معاف فرمادے گا۔
عقیدہ ۲۸ : اس کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں ہیں جو فاعل کی طرف رجوع کرے نہ اُس فعل کے لئے غایت کہ غایت کا حاـصل بھی وہی غرض ہے اور نہ اس کے افعال علّت و سبب کے محتاج، اس نے اپنی حکمتِ بالغہ کے مطابق عالم اسباب میں مسّبیات کو اسباب سے ربط فرمادیا ہے آنکھ دیکھتی ہے کان سنتا ہے اـٓگ جلاتی ہے پانی پیاس بجھاتا ہے وو چاہے تو آنکھ سُنے کان دیکھے پانی جلائے آگ پیاس بجھائے نہ چاہے تو لاکھ آنکھیں ہون دن کو پہاڑ نہ سُوجھے، کڑور آگیں ہوں ایک تنکے پر داغ نہ آئے کس قہر کی آگ تھی جس میں ابرایرم علیہ الصّلاۃ والسلام کو کافروں نے ڈالا۔ کوئی پاس نہ جا سکتا تھا ۔ گو پھن میں رکھ کے پھینکا جب آگ کے مقابل پہنچے جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ابراہیم کچھ حاجت ہے فرمایا :
عِلْمُہ‘ بِحَالِیْ کَفَانِیْ عَنْ سُوئَ ا لِیْ
احتیاج خوک اـٓنجاچہ حاجت است اسشاد ہوا :
یاٰ نَا رُ کُوْ نِیْ بَر’دًا وً سَلٰماً عَلیٰ اِبرَاھِْیمْ
( اے آگ ٹھنڈی ہو جا ابراہیم پر )
اس ارشاد کو سُن کر روئے زمین پر جتنی آگیں تھیں سب ٹھندی ہو گئیں کہ شاید مجھی سے فرمایا جاتا ہو اور یہ تو ایسی ٹھنڈی ہوئی کہ علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس کے ساتھ وَّسلمٰاً کا لفط نہ فرمادیا جاتا کہ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی
ہو جا تو اتنی ٹھنڈی ہو جاتی کہ اس کی ٹھنڈک ایذا دیتی۔
ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button