بہار شریعت

عشرو خراج کے متعلق مسائل

عشرو خراج کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱ : زمین عرب اور بصرہ اور وہ زمین جہاں کے لوگ خود بخود مسلمان ہو گئے اور جو شیر قہراً فتح کیا گیا اور وہاں کی زمین مجاہدین پر تقسیم کر دی گئی یہ سب عشری ہیں ۔ اور بھی عشری ہونے کی بعض صورتیں ہیں جن کو ہم کتاب الزکاۃ میں بیان کر آئے۔ اور جو شہر بطور صلح فتح ہو یا جو لڑکر فتح کیا گیا مگر مجاہدین پر تقسیم نہ ہوا بلکہ وہاں کے لوگ برقرار رکھے گئے یا دوسری جگہ کے کافروہاں بسا دئیے گئے یہ سب خراجی ہیں ۔بنجر زمین کو مسلمان نے کھیت کیا اگر اس کے آس پاس کی زمین عشری ہے تو یہ بھی عشری اور خراجی ہے تو خراجی ۔

مسئلہ۲: زمین وقف کر دی تو اگر پہلے عشری تھی تواب بھی عشری ہے اور خراجی تھی تو اب بھی خراجی اور اگر بیت المال سے خرید کر وقف کی تو اب خراج نہیں اور عشری تھی تو عشرہے (ردالمحتار)

عشر وخراج کے مسائل بقدر ضرورت کتاب الزکاۃ میں بیان کر دیے گئے وہاں سے معلوم کر یں ان سے زائد جزئیات کی حاجت نہیں معلوم ہوتی لہذا انھیں پر اکتفا کریں ۔

تنبیہ: اس زمانہ کے مسلمانوں نے عشروخراج کو عموما چھوڑرکھا ہے بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے بہتیرے وہ مسلمان ہے جن کے کان بھی ان لفظوں سے آشنا نہیں جانتے ہی نہیں کہ کھیت کی پیداوار میں بھی شرع نے کچھ دوسروں کا حق رکھا ہے حالانکہ قرآن مجید میں مولی تعالی نے ارشاد فرمایا:

انفقوا من طیبت ما کسبتم و مما اخرجنا لکم من الارض

(خرچ کرو اپنی پاک کمائیوں سے اور اس سے کہ ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا)

اگر مسلمان ان باتوں سے واقف ہو جائیں تو اب بھی بہتیرے خدا کے بندے وہ ہیں جو اتباع شریعت کی کوشش کرتے ہیں جس طرح زکاۃ دیتے ہیں انھیں بھی اداکریں گے واللہ ھوالموفق۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button