مضامین

عرف کی اقسام

موضوع، سبب، مصدر، حکم، رواج وغیرہ کے اعتبار سے عرف کی اقسام کی تفصیلی وضاحت

عرف کو ہم کئی اعتبار سے تقسیم کر سکتے ہیں:

موضوع اور سبب کے اعتبار سے عرف کی قسمیں :

موضوع اور سبب کے اعتبار سے عرف کی دو قسمیں ہیں :

  1. قولی عرف :

’’ان العرف القولی ان تکون عادۃ اہل العرف یستعملون اللفظ فی معنی معین ولم یکن ذالک لغتہ العرف‘‘:عرف قولی یہ ہے کہ کسی لفظ کو عام لوگ ایک معین معنی میں استعمال کرتے ہوں اور لغت میں وہ ان معنوں میں مستعمل نہ ہو۔

یعنی لوگوں میں کسی کلمہ یا جملہ کا استعمال کسی خاص معنی میں اس طرح سے  رائج اور مشہور  ہو جائے کہ بول چال میں فوری طور پر وہی معنى سمجھا جائے۔ جیسے عربی بولنے والوں کے یہاں لفظ ولد صرف بیٹا کے معنی میں مشہور ہے حالانکہ لغت میں ولد کا معنى بیٹا بیٹی دونوں ہے, اسی طرح سے عرب کہتے ہیں: واللہ لا أضع قدمی فی بیت فلان   اس کا عرفی معنى ہے کہ میں فلاں کے گھر میں مطلقا داخل نہیں ہوں گا. اس کا دوسرا نام ”حقیقت عرفیہ“ بھی ہے۔

  1. عملی عرف :

’’واما العرف العملی فھواعتیاد والناس علی شیءِ حسن الافعال العادیۃ او معاملات المدینہ‘‘:عرف عملی یہ ہے کہ لوگ اپنے طبعی افعال یا تمدنی معاملات میں کسی خاص طرزیا کسی خاص طریقے کے عادی ہو جائیں۔

یعنی معاملات اور تصرفات میں کسی عمل کا اس طرح رائج ہو جانا کہ وہ کسی پر مخفی نہ ہو ، مثلاًکھانا،پینا،رہن سہن،کھیتی باڑی کے طریقے، کسی علاقے کا خاص لباس، کوئی خاص دن جب کام نہیں کیا جاتا اور غمی و خوشی کی محفلوں کے اوقات وغیرہ۔ جبکہ تمدنی معاملات میں کسی کا حق ثابت یا ساقط ہوتا ہے جیسے کسی منڈی میں باربرداری بائع کے ذمہ ہے تو کسی بازار میں مشتری اسکی ادائیگی کرتا ہے،وغیرہ۔ اسی طرح بیع معاطاۃ جس صرف فعل ہوتا ہے قولی إیجاب وقبول نہیں ہوتا ہے جو عام طور پر اس وقت رائج ہے  اسی طرح سے حکومی دفتروں میں  درازہ کھلا رہے تو بغیر إجازت کے داخل ہونا۔

عرف و رواج کی اس قسم میں جہاں جو طریقہ رائج ہو گا شریعت میں اسی کا اعتبار کیا جائے گا۔ کسی دوسرے شہر سے آنے والا شرعی طور پر مقامی عرف کا پابند سمجھا جائے گا اور کسی اختلاف کی صورت میں مقامی عرف و رواج کے مطابق ہی فتوی دیا جائے گا۔

مصدر کے اعتبار سے عرف کی تقسیم :

مصدر کے اعتبار سے عرف کی دو قسمیں ہیں :

  1. عرف عام :

جس عرف پر لوگوں کا تعامل ہوچکا ہو اور لوگ اس سے متعارف ہوں اور وہ اتناعام ہوگیا ہو کہ کسی خاص قوم اور خطہ کے ساتھ مخصوص نہ رہا ہو، مثلاً:  حمام میں اجرت دیکر غسل کرنا، یہ عمل اتنا عموم اختیار کرگیا ہے کہ یہ کسی خاص قوم یاکسی خاص علاقہ میں محدود نہ رہا، ہرجگہ لوگ اس پر عمل پیرا ہوگئے؛ حالانکہ اس میں ٹھہرنے کی مدت، پانی کے استعمال کی مقدار اور اجرت کی کوئی تعیین نہیں ہوتی ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ اسے ناجائز قرار دیا جائے لیکن ان سب چیزوں کی تعیین رواج کے حوالہ کردی گئی اور عرف ورواج کے مطابق اس عمل کو جائز قرار دیا گیا۔[1]

اسی طرح عرفِ عام عقد استصناع کے جواز کا ہے، استصناع کا مطلب ہے کسی چیز کے بنانے اور تیار کرنے کا آرڈر کسی کمپنی یافرد کو دینا، عقد بیع کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ مبیع فی الحال موجود ہو؛ لیکن استصناع کے اندر مبیع فی الحال موجود نہیں ہوتی ہے؛ لہٰذا شرطِ مذکور کے مفقود ہونے کی وجہ سے اس عقد کو صحیح نہیں ہونا چاہیے؛ لیکن عرف اور تعامل یہ رہا ہے کہ لوگ ہرزمانہ میں عقد استصناع کا معاملہ کرتے رہے ہیں، اس لیے فقہاء نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔

  1. عرف خاص:

وہ عرف ہے جو کسی خاص شہر یاملک یالوگوں کی ایک جماعت کا عرف ہو اور انہی کے یہاں وہ متعارف ورائج ہو، مثلاً بخاریٰ کا عرف یامصر وقاہرہ کا عرف یاتاجروں اور کاشتکاروں کا عرف وغیرہ وغیرہ، عرف کی اس قسم میں عرفِ عام کے مقابلہ میں قوت کم ہے؛ لیکن اس کے باوجود یہ فتاویٰ اور احکام پر اثرانداز ہوتا ہے؛ مگراس کا اثر اس وقت ظاہر ہوگا جب کہ نص موجود نہ ہو۔[2]

حکم کے اعتبار سے عرف کی اقسام :

حکم کے اعتبار سے عرف کی دو قسمیں ہیں :

  1. مقبول عرف :

وہ عرف ہے جو کسی نص شرعی کے خلاف نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں :

عرف محکَّم:          وہ عرف جس میں عرف باقی تمام شرطیں پائی جائیں.

عرف غیر محکَّم:     وہ عرف ہے جسمیں عرف کی دیگر تمام  شرطیں یا بعض شرطیں مفقود ہوں.

  1. فاسد عرف :

وہ عرف ہے جو شریعت کے مخالف ہو .

رواج اور شہرت کے اعتبار سے عرف کی اقسام:

رواج اور شہرت کے اعتبار سے عرف کی چار قسمیں ہیں :

  1. عرف مطرد :

وہ عرف ہے جسے اہل عرف کا ہر فرد جانتا ہو کسی کى یہاں مخفی نہ ہو :جیسے  ہمارے ملک کے عرف میں ہے کہ درزی ہی کپڑا سلنے کا سوت , بٹن اور کالر وغیرہ خرید کر لگائے اور اسکو ہر فرد جانتا ہے کسی سے یہ مخفی نہیں ہے .

  1. عرف غالب:

وہ عرف ہے جسے لوگ ترک کرنے سے زیادہ بکثرت استعمال کرتے ہوں.

  1. عرف مشترک :

وہ عرف ہے جس دونوں جانب [ چھوڑنا اور استعمال کرنا] لوگوں کے یہاں برابر ہو.

  1. عرف نادر :

وہ عرف ہے جس کا ترک کرنا ہی سماج میں استعمال سے زیادہ معروف ہو.

مذکورہ چار قسموں میں پہلی دو قسمیں معتبر اور معمول بہ ہیں اور آخری دو قسمیں غیر معتبر اور غیر معمول بہ ہیں.

عرف معتبر کی شرطیں :

فقہاء کرام نے عرف معتبر اور معمول بہ کی پانچ شرطیں بیان کی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

  1. عرف مطرد ہو یا غالب ہو مشترک اور نادر کے قبیل سے نہ ہو.
  2. معاملہ میں عرف کے خلاف صراحت شامل نہ ہو .
  3. معاملہ کے وقت اور گھڑی تک وہ عرف موجود اور رائج عمل ہو.
  4. وہ عرف نص شرعی کے خلاف نہ ہو.
  5. وہ عرف عام ہو خاص نہ ہو . مگر یہ شرط مختلف فیہ ہے. راجح یہ کہ یہ شرط نہیں ہے.

[1] : شامی ، ابن عابدین، رسائل ابن عابدین ، بیروت، جلد 2، صفحہ 114

[2] : المصدر السابق

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button