مضامین

عرف کسے کہتے ہیں؟ عرف کی تعریف

عرف کی لغوی و اصطلاحی تعریف

عرف کی لغوی تعریف:

لغوی اعتبار سے ’’عرف‘‘ کا اطلاق متعدد معنوں میں ہوتا ہے جیسے:

  1. بلند اور نمایاں چیز
  2. معرفت و جود وکرم
  3. بھلا اور پسندیدہ قول و عمل
  4. کسی کام کا مسلسل اور پے درپے ہونا
  5. کسی شے کا ایک دوسرے کے پیچھے آنا اس طور پر کہ ان میں سے بعض، بعض کے ساتھ متصل ہو۔
  6. سکون وطمانیت۔[1]

عرف کی اصطلاحی تعریف:

  1. بغیر کسی عقلی تعلق سے بار بار پیش آنے والے کام کو عادت یا عرف کہتے ہیں۔
  2. علامہ ہبۃ اللہ بیری نے شرح اشباہ میں مستصفی سے یہ تعریف نقل کی ہے:

العادۃ عبارۃ عما یستقر فی النفوس من الامرالمقبولہ عند الطبائع السلیمہ                      او

العادۃ والعرف ما یستقر فی النفوس من جہۃ العقول وتلفنۃ الطباع السلیمہ بالقبول

”عادت اور عرف وہ چیز ہے جو نفوس انسانی میں عقول سلیمہ کے اچھا سمجھنے کی وجہ سے رچ بس جائے اور سلیم طبیعتیں اسے قبول کریں۔“[2]

  1. "العرف ماتعارفہ جمہور الناس وساروا علیہ سواء کان قولاً اوفعلاً اوترکاً”۔ ترجمہ:عرف وہ امر ہے جولوگوں میں عام ہوجائے اور لوگ اس پر عمل پیرا ہوجائیں؛ خواہ وہ قول کے قبیل سے ہو یافعل وترک کے قبیل سے ہو۔

[1] : مجلہ مجمع الفقہ الاسلامی،۵/۲۶۳۵

[2] : شامی ، ابن عابدین، رسائل ابن عابدین ، بیروت، جلد 3، صفحہ 112

مفتی، نظام الدین رضوی، فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول، صفحہ 186، ستمبر 2014ء؛ والضحا پبلی کیشنز

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button