ARTICLESشرعی سوالات

طہر متخلّل میں کئے گئے نفلی طوافوں کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت کو ماہواری آئی اور چند دن کے بعد بند ہو گئی اور اُس نے غسل کے بعد نماز شروع کر دی اور طواف بھی کئے ایک آدھ دن گزرنے کے بعد دس دن کے اندر اُسے دوبارہ ماہواری شروع ہو گئی تو اِس صورت میں کیا حکم ہے ؟

(السائل : شکیل علی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ماہواری کی کم از کم مدت تین دن تین راتیں ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن دس راتیں ہیں چنانچہ علامہ علاؤالدین حصکفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

أقلُّہ ثلاثۃ أَیّامٍ بلَیَالِیْہا الثّلاثِ و أکثرُ عشرۃ بعشر لیالٍ کذا رواہ ’’الدّار قطنی‘‘ (125) وغیرہ ملخصاً (126)

یعنی، اُس کے کم از کم تین دن ساتھ تین راتوں کے اور اس کے زیادہ سے زیادہ دس دن ساتھ دس راتوں کے ہیں ، اسی طرح ’’دار قطنی‘‘ وغیرہ نے روایت کیا ہے ۔ اور عورت عادت کے ایام میں جو بھی دیکھے گی وہ ماہواری میں شمار ہو گی سوائے خالص سفیدی کے اگرچہ اس مدّت میں کبھی خون آئے اور کبھی نہ آئے پوری مدّت ماہواری ہی شمار کی جائے گی کیونکہ اول اور آخر کو دیکھا جائے گا، مدّت معتاد کے اندر ابتداء میں بھی ماہواری اور آخر میں ماہواری بیچ میں چاہے ماہواری نہ ہو کُل مدّت ماہواری کہلائے گی اور مدّت کے اندر کہ جس کے دونوں جانب ماہواری ہو بیچ کے خالی ایام کو طہر متخلّل کہتے ہیں چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

و مَا تراہُ فی مدّتِہ المعتَادۃِ سِوی بیاضٍ خالصٍ و لو المرئَی طُہراً متخلِّلاً بین الدَّمَین فیہا حیضٌ لأنَّ العِبرۃَ لِأوَّلِہ و آخِرہ و علیہ المُتُونُ (127)

یعنی، اور عورت عادت کے دنوں میں سوائے خالص سفیدی کے جو دیکھے گی (وہ ماہواری میں شمار ہو گا) اگرچہ اِس مدت میں دو خونوں کے درمیان طُہر متخلّل ہو حیض ہے ، اِس لئے کہ اعتبار اول اور آخر کا ہوتا ہے اور اِسی پر متون (فقہ متفق) ہیں ۔ لہٰذا مدّت معتاد میں اول اور آخر کا اعتبار کرتے ہوئے کُل مدّت کہ جس میں ماہواری جاری تھی اور بیچ کا وہ زمانہ کہ جس میں ماہواری رُکی رہی سب ماہواری قرار پائی بشرطیکہ ماہواری دوبار آ کر دس دن کے اندر ختم ہو گئی ہو تو اِس صورت میں اُس عورت کا طواف حالتِ ماہواری میں واقع ہو گا، لہٰذا جب تک مکہ مکرمہ میں ہے اُن سب کا اعادہ کر لے ۔ اور اعادہ نہیں کرتی اور مکہ سے اپنے وطن کو چلی گئی تو دَم لازم ہو گا کیونکہ ماہواری جنابت کی مثل ہے (128) یعنی جو حکم حالتِ جنابت میں طواف کرنے کا ہے وہی حکم حالتِ ماہواری میں طواف کا ہے اور پھر نفلی طواف کا ان معاملات میں وہی حکم ہے جو واجب طواف کا ہے کیونکہ نفل شروع کرنے سے قبل نفل ہوتا ہے جب شروع کر دیا تو واجب ہو گیا جیسا کہ ’’در مختار‘‘ (129) میں اس کی تصریح موجود ہے کہ ہر طواف میں نجاست حکمیہ سے پاکیزگی واجب ہے اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی متوفی 1174ھ طواف کے واجبات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

یکے طہارت بدن از نجاست حکمیہ، برابر است طواف فرض باشد یا غیر آن (130)

یعنی، طواف کا پہلا واجب بدن کا نجاست حکمیہ سے پاک ہونا ہے ، برابر ہے کہ طواف فرض ہو یا غیر فرض (جیسے واجب، سنت اور نفل)۔ اس لئے حالتِ جنابت یا ماہواری میں طواف کرنے سے اعادہ لازم آتا ہے اعادہ نہ کرے تو دَم چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

أنَّ الحکمَ کذلک فی کلِّ طوافٍ ہو تطوُّعٌ، فیجبُ الدَّمُ لو طافَہ جنباً، و الصَّدَقَۃُ لو مُحدِثاً کما فی ’’الشّرنبلالیَّۃ‘‘ عن ’’الزّیلعی‘‘ (131)

یعنی، اِسی طرح حکم ہر طواف میں ہے جو نفلی ہو، پس اگر حالتِ جنابت (یا حالت ماہواری) میں طواف کیا تو دَم واجب ہے اور بے وضو کیا تو صدقہ جیسا کہ ’’شرنبلالیہ‘‘ (132) میں ’’زیلعی‘‘ (133) کے حوالے سے ہے ۔ اور ماہواری کی حالت میں حالتِ جنابت میں اور بے وضو طواف کرنا گناہ ہے او رنفلی کام کا حکم یہ ہے کہ کرے تو ثواب، نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں ، اس لئے عورتوں کو چاہئے کہ ایسے حالات میں احتیاط سے کام لیں ۔ اور اگر ماہواری کے ایام میں دوسری بار شروع ہونے والا خون دس دن سے زائد ہو جائے تو پھر پہلی بار ماہواری آئی ہے تو دس دن تک ماہواری اور زائد استحاضہ کہلاتا ہے ، چنانچہ امام شمس الدین احمد بن سلیمان ابن کمال باشا حنفی متوفی 940ھ لکھتے ہیں :

المبتَدَأَۃُ بلَغتْ مُستحاضۃً، فحَیضُہا مِن کُلِّ شہرٍ عَشَرۃُ أیّامٍ و ما زادَ علیہا استحاضۃٌ (134)

یعنی، مبتدئہ حالتِ استحاضہ میں بالغ ہوئی تو اُس کی ماہواری ہر ماہ کے دس دن ہیں اور جو اُن پر زائد ہو وہ استحاضہ ہے ۔ اور اگر پہلی بار نہیں آئی تو عادت کے دنوں سے زائد جتنے دن خون آیا وہ استحاضہ قرار پائے گا، چنانچہ علامہ ابن کمال پاشا حنفی لکھتے ہیں :

إذا کانت لہا عادۃٌ فی الحیضِ، فرضْناہا سبعۃً فرأتِ الدَّمَ اثْنَی عَشَرَ یوماً، فخمسۃُ أیامٍ بعد السّبعۃِ استحاضۃٌ (135)

یعنی، جب اُس کی حیض میں عادت ہے اور ہم فرض کریں کہ عادت سات دن ہے پھر اُس نے بارہ دن حیض دیکھا تو سات کے بعد جو پانچ دن ہیں وہ استحاضہ ہے ۔ اور استحاضہ کا حکم دائمی نکسیر وغیرہ کی مثل ہے کہ جس میں نماز، روزہ، طواف وغیرہا کچھ بھی ممنوع نہیں ہے ، چنانچہ علامہ سید احمد بن محمد بن احمد طحطاوی حنفی متوفی 1231ھ لکھتے ہیں :

و لا تُمَنعُ عن الطّوافِ إذَا أمِنَتْ مِن اللَّوثِ ’’قہستانی‘‘ عن ’’الخزانۃ‘‘ (136)

یعنی، عورت کو طواف سے نہیں روکا جائے گا، جب وہ مسجد کے آلودہ ہونے سے امن رکھتی ہو۔ (جیسا کہ) ’’قہستانی‘‘ (137) (میں ) ’’خزانہ‘‘ (کے حوالے سے ) مذکور ہے ۔ لہٰذا اگر دوسری صورت ہو تو کچھ بھی لازم نہیں ہو گا نہ اعادہ اور نہ کفّارہ، اس صورت میں شرع کا ایک ہی حکم ہے وہ یہ کہ مسجد کو آلودہ ہونے سے بچانا، تو اس کے لئے مستحاضہ کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہوں گی کہ جن سے مسجد آلودہ ہونے سے محفوظ رہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأحد، 16ذو الحجۃ 1429ھ، 14دیسمبر2008 م 494-F

حوالہ جات

125۔ سُنَن الدّار قطنی، کتاب الحیض، برقم : 797، 798، 799، 1۔2/217

126۔ الدّر المختار، کتاب الطّہارۃ، باب الحَیضِ، ص43

127۔ الدُّرُّ المختار، کتاب الطّہارۃ، باب الحیض، ص44

128۔ جیساکہ علامہ ابو منصور کرمانی حنفی نے ’’المسالک المناسک‘‘ (فصل فی کفّارۃ الجنابۃ فی الطّواف، 2/785) میں لکھا ہے ۔

129۔ الدُّ رُّ المختار، کتاب الحجّ، باب الجنایات، تحت قولہ : أو طاف للقدوم، ص167

130۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب دویم، فصل دویم، ص118

131۔ رَدُّ المحتار علی الدُّرِّ المختار، باب الجنایات، تحت قولہ : لوُجوبہ بالشّروع إلخ، 3/661

132۔ غنیۃ ذوی الأحکام فی بغیۃ دُرَرِ الحکّام، کتاب الحج، باب الجنایات، 1/242

133۔ تبیین الحقائق، کتاب الحج، باب الجنایات، 2/369

134۔ الإیضاح فی شرح الإصلاح، کتاب الطّہارات، باب الحیض، 1/74

135۔ الإیضاح فی شرح الإصلاح، کتاب الطّہارات، باب الحیض، 1/74، 75

136۔ حاشیۃ الطّحطاوی علی الدُّرِّ المختار، کتاب الطّہارۃ، باب الحیضِ، تحت قولہ : لا یمنعُ صوماً إلخ، 1/152

137۔ جامع الرّموز، کتاب الطّہارت، باب الحیض، 1/57

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button