ARTICLES

طہر متخلل میں عمرہ ادا کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرایک عورت نے ماہواری سے فارغ ہوکر غسل کرکے عمرہ ادا کیا ، عمرہ ادا کرنے کے بعد اسے دوبارہ خون اگیا اور ماہواری شروع ہونے کے دس دنوں کے اندر اندر یہ خون ایا اور دس دن پورے ہونے سے قبل بند ہوا۔تو ایا عمرہ ادا ہوگیا کہ نہیں اور دم وغیرہ لازم ایا کہ نہیں اور عورت نے اس مسئلہ سے لاعلمی کی وجہ سے عمرہ ادا کر کے بال کاٹ لئے اور احرام اتاردیا ہے اب اس کے لئے کیا حکم ہے جب کہ وہ ابھی مکہ میں ہی ہے ؟

(السائل : محمد منیب قادری، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس پر لازم ہے کہ وہ جب تک مکہ میں ہے طواف کا اعادہ کر لے ۔ اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ ماہواری کی کم ازکم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

و اقلہ ثلاثۃ ایامٍ بلیالیھا و اکثرہ عشرۃ (116)

یعنی، حیض کی کم سے کم مقدار تین دن تین راتوں کے ساتھ ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے ۔ اور عورت کو ماہواری ائے اور تین دن کے بعد کسی دن بھی رک جائے اور پھر جاری ہو کر دس دنوں کے اندر اندر رک جائے تو اخری بار رکنے تک سارا پیریڈ ماہواری کہلاتا ہے جیسا کہ کتب فقہ میں مذکور ہے ، لہٰذا مذکورہ عورت نے جو عمرہ ادا کیا وہ ایام ماہواری میں ادا کیا ہے ، اور طواف میں طہارت واجب ہے چنانچہ امام ابو البقاء محمد بن احمد ابن الضیاء حنفی متوفی 854ھ لکھتے ہیں :

و اما واجبات الطواف، فمنھا : الطھارت عند الحدث و الجنابۃ، و الحیض و النفاس (117)

یعنی، مگر طواف کے واجبات، تو ان میں سے حدث، جنابت، حیض اور نفاس کے ہونے کے وقت طہارت ہے ۔ بعض نے طواف میں طہارت کو واجب نہیں بتایا لیکن صحیح قول یہی ہے کہ واجب ہے ، چنانچہ علامہ ابن الضیاء حنفی لکھتے ہیں :

وقال ابوبکر الجصاص الرازی : انھا واجبۃ، و ھو الصحیح۔ و فی ’’الھدایۃ‘‘ : و ہو الاصح (118)

یعنی، امام ابو بکر جصاص رازی (حنفی) نے فرمایا یہ واجب ہے اور یہی صحیح ہے اور ’’ہدایہ‘‘ (119) میں ہے یہی اصح ہے ۔ اور امام سرخسی حنفی لکھتے ہیں :

وھو الصحیح من المذھب ان الطھارۃ فی الطواف واجبۃ (120)

یعنی، اور صحیح مذہب یہی ہے کہ طواف میں طہارت واجب ہے ۔ یاد رہے کہ طہارت طواف کے لئے واجب ہے شرط نہیں ہے اور نہ فرض کہ اس کے نہ پائے جانے کی صورت میں طواف شمار ہی نہ ہو، چنانچہ امام سرخسی حنفی لکھتے ہیں کہ : ان الطھارۃ فی الطواف واجبۃ ، و ان طواف المحدث معتد بہ عندنا ، ولکن افضل ان یعیدہ و ان لم یعدہ فعلیہ الدم (121) یعنی، بے شک طواف میں طہارت واجب ہے بے شک بے وضوکا طواف ہمارے نزدیک شمار کیا جاتا ہے ، لیکن افضل یہ ہے کہ اس کا اعادہ کرے اور اگر اعادہ نہیں کیا تو اس پر دم لازم ہے ۔ اور علامہ ابن الضیاء حنفی لکھتے ہیں :

و لیست بشرطٍ لجواز الطواف لا فرض، بل ھی واجبۃ، حتی یجوز الطواف بدونھا، و یقع معتدا بہ، و لکن مسیا و یجب فدیۃ علی ما نبین (122)

یعنی، طہارت جواز طواف کے لئے نہ شرط ہے اور نہ فرض بلکہ یہ واجب ہے یہاں تک کہ طواف اس کے بغیر جائز ہے ۔ (اگرچہ ترک واجب کی وجہ سے گنہگار ہوگا اور دم لازم ائے گا) اور معتد بہ واقع ہوتا ہے لیکن وہ مسی (برا کرنے والا) ہوگا اور اس پر فدیہ (یعنی دم) واجب ہوگاجیسا کہ ہم بیان کریں گے ۔ اور علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبد اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں کہ :

ولوطاف للعمرۃ کلہ او اکثرہ او اقلہ ولوشرطًا جنبًا او حائضا ا ونفسائ او محدثًا فعلیہ شاۃ (123)

یعنی، اور اگر کوئی عمرہ کا کل یااکثر یا اقل طواف اگرچہ ایک چکر حالت جنابت یا حیض یا نفاس یا بے وضو کرے تو اس پر (بطور دم) بکری لازم ہے ۔ اور دم اس صورت میں لازم ہوگا جب وہ طواف عمرہ کا اعادہ نہ کرے اور چلا جائے ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں :

و لو طاف للعمرۃ محدثًا و سعی بعدہ فعلیہ دم ان لم یعد الطواف و رجع الی اھلہ (124)

یعنی ، اگر بے وضو عمرہ کا طواف کیا اور اس کے بعد سعی کی تو اس پر دم لازم ہے اگر اس نے طواف کا اعادہ نہ کیا اور اپنے اہل کو لوٹ گیا۔ اس کے تحت ملا علی قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں کہ :

لترکہ الطھارۃ فی الطواف، و اما ما دام بمکۃ فعلیہ ان یعیدھما لسریان نقصان الطواف فی السعی الذی بعدہ، و الا فالطھارۃ مستحبۃ فی السعی (125)

یعنی، طواف میں طہارت کو ترک کرنے کی وجہ سے ، مگر جب تک مکہ میں ہے اس پر لازم ہے کہ دونوں کا اعادہ کرے نقصان طواف کے اس کے بعد سعی میں اثر کرنے کی وجہ سے ، ورنہ طہارت سعی میں مستحب ہے ۔ ان تمام عبارات سے معلوم ہوا کہ اس عورت پر طواف کا اعادہ لازم ہے ، ہاں اگر مکہ سے چلی گئی تو دم لازم ہوجائے گا اور طواف بلا احرام ہوگا کیونکہ جہاں بھی اعادہ کا ذکر کیا گیا وہاں احرام کی قید کسی نے بھی ذکر نہیں کی ہے ۔اور اگرصرف طواف کا اعادہ کرے اور سعی کا اعاد ہ نہ کرے تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی لکھتے ہیں کہ :

و لو اعاد الطواف و لم یعد السعی لاشی علیہ (126)

یعنی، اگر طواف کا اعادہ کیا اور سعی کا اعادہ نہ کیا تو اس پر کچھ لازم نہیں ہے ۔ اس کے تحت ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

و صححہ صاحب ’’الھدایۃ‘‘، وھو مختار شمس الائمۃ السرخسی و الامام المحبوبی (127)

یعنی، اسے صاحب ہدایہ (128) نے صحیح قرار دیا ہے اور یہی شمس الائمہ سرخسی (129) اور امام محبوبی (130) کا مختار ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاحد، 2 رمضان المبارک 1433ھ، 22 یولیو 2012 م 799-F

حوالہ جات

116۔ الدر المختار، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ص43

117۔ البحر العمیق ، الباب العاشر : فی دخول مکۃ … الخ، فصل : فی بیان انواع الاطوفۃ، 2/1112

118۔ البحر العمیق ، الباب العاشر : فی دخول مکۃ … الخ، فصل : فی بیان انواع الاطوفۃ، 2/1112

119۔ الھدایۃ، کتاب الحج، باب الجنایات، فصل : من طاف طواف القدوم، 1۔2/199، و فیہ : و الاصح انھا واجبۃ، لانہ یجب بترکھا الجابر، یعنی، اصح یہ ہے کہ وہ واجب ہے کیونکہ اس کے ترک پر جابر(یعنی صدقہ یا دم) واجب ہوتا ہے ۔

120۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب الطواف، 2/4/35

121۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب الطواف، 2/4/34

122۔ البحر العمیق ، الباب العاشر : فی دخول مکۃ … الخ، فصل : فی بیان انواع الاطوفۃ، 2/1112

123۔ لباب المناسک، باب الجنایات، فصل : فی الجنایۃ فی طواف العمرۃ، ص 217

ایضا جمع المناسک ، باب الجنایات، الفصل الخامس : فی الجنایات، فصل : لوطاف للعمرۃ…الخ، ص 428

124۔ لباب المناسک، باب الجنایات، فصل : فی الجنایۃ فی طواف العمرۃ، ص 217

125۔ المسلک المقتسط،باب الجنایات وانواعھا، النوع الخامس : الجنایات فی افعال الحج، فصل : فی الجنایۃ فی طواف العمرۃ، تحت قولہ : ولو طاف للعمرۃ … الخ، ص 501

126۔ لباب المناسک، باب الجنایات، فصل : فی الجنایۃ فی طواف العمرۃ، ص 217

127۔ المسلک المقتسط، باب الجنایات وانواعھا، النوع الخامس : الجنایات فی افعال الحج، فصل : فی الجنایۃ فی طواف العمرۃ، ص501

128۔ الھدایۃ، کتاب الحج، باب الجنایات، فصل : من طاف طواف القدوم، 1۔2/200، و قال : و کذا اذا اعاد الطواف و لم یعد السعی فی الصحیح، یعنی، فرمایا اور اسی طرح صحیح قول کے مطابق جب طواف کا اعادہ کیا اور سعی کا اعادہ نہ کیا۔

129۔ المبسوط للسرخسی، کتاب المناسک، باب الطواف، 2/4/37، و قال : فکذلک یستحب اعادۃ ذلک الرمل و السعی یوم النحر، و ان لم یفعل لم یضرہ و لا شی علیہ، یعنی، فرمایا، اسی طرح یوم نحر میں رمل اور سعی کا اعادہ مستحب ہے اور اگر نہ کرے تو اسے کوئی ضرر نہیں ہے اور اس پر کچھ نہیں ہے ۔

130۔ محبوبی سے مراد صاحب ’’وقایۃ الروایۃ‘‘ یا شارح ’’وقایۃ الروایۃ‘‘ صد ر الشریعہ اصغر عبید اللہ بن مسعود ہیں ، ان کے نام کے ساتھ محبوبی اس لئے اتا ہے کہ محبوب ان کے اباء میں سے کسی کا نام تھا، علامہ ابو الحسنات عبد الحی لکھنوی نے ’’عمدۃ الرعایۃ‘‘ میں جو نسب ذکر کیا ہے اس میں صحابی رسول حضرت عبادہ بن الصامت انصاری رضی اللہ عنہ کے پوتے کا نام محبوب بن الولید بن عبادہ بن الصامت تھا۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button