ARTICLESشرعی سوالات

طواف کرنے والے کے کپڑوں پر نجاست کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ہمارے ایک ساتھی نے طواف کیا اور اُس کے کپڑوں پر کوئی ناپاک چیز لگی ہوئی تھی مکمل کرنے کے بعد ہوٹل آ کر اُسے معلوم ہوا کہ اُس کے کپڑوں پر ناپاکی لگی ہوئی تھی اب اُس کے لئے کیا حکم ہو گا؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : طواف میں کپڑوں کا پاک ہونا واجب ہے یا سنّت مؤکّدہ اس میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے ، ایک روایت کے مطابق واجب ہے جب کہ دوسری روایت ہے کہ سنّت مؤکّدہ ہے اور اکثر علماء اِسی پر ہیں کہ سنّت مؤکّدہ ہے ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبد الغفور ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

اما طہارت بدن و ثیاب ملبوس و مکانِ طواف از نجاست حقیقیہ پس آن واجب است علی اَحد الروایتین و روایت دیگر آنست کہ طہارت از نجاست حقیقیہ سنّت مؤکدہ است و علیہ اکثر العلماء، لہذا ذکر خواہم کرد او در سُنَنِ طواف (143)

یعنی، مگر بدن، پہنے ہوئے کپڑوں او رمکانِ طواف کا نجاست حقیقیہ سے پاک ہونا تو وہ ایک روایت کے مطابق واجب ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ نجاست حقیقیہ سے پاکیزگی سنت مؤکّدہ ہے اور اِسی روایت پر اکثر علماء ہیں ، اِسی لئے میں اِسے سُننِ طواف میں ذکر کروں گا۔ اور اسی فصل میں سنتوں کے بیان میں لکھتے ہیں کہ :

نہم طہارت بدن و ثیاب ملبوسہ و مکان طواف از نجاست حقیقیہ کہ آن سنت است نزد اکثر، و قیل واجب است (144)

یعنی، طواف کی نویں سنّت یہ ہے کہ بدن پہنے ہوئے کپڑوں اور مکانِ طواف کا نجاست حقیقیہ سے پاک ہونا اکثر کے نزدیک سنت ہے اور کہا گیا کہ واجب ہے ۔ اور سنّت کا ترک اسائت ہے یعنی شرعاً ایسا کرنے والا بُرا کرتا ہے اور ترکِ سنّت سے اجتناب کرنا چاہئے کہ محرومی کا سبب ہے اور اُس شخص پر کچھ لازم نہ ہو گا۔ اور جب یہ مسئلہ اختلافی ہے تو افضل یہی ہے کہ اِس طواف کا اعادہ کر لے کہ اِسی میں احتیاط ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 26 ذوالقعدہ1430ھ، 14 نوفمبر2009 م 657-F

حوالہ جات

143۔حیات القلوب فی زیارت المحبوب، باب سیوم در بیان طواف و انوع آن، فصل دویم در بیان شرائط صحۃ طواف، ص118

144۔ حیات القلوب فی زیارت المحبوب، باب سیوم در بیان طواف و انواع آن، فصل دویم در بیان شرائط صحۃ طواف، ص122

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button