ARTICLES

طواف وداع کا وقت کب شروع ہوتا ہے ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ طواف وداع کا وقت کب شروع ہوتا ہے ؟، کتب فقہ کی بعض عبارات سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس کا وقت تیسرے روز یعنی بارہ تاریخ کی رمی کے بعد سے شروع ہوتا ہے ، اس لئے کوئی شخص طواف زیارت کے بعد بارہ کی رمی سے قبل طواف کر لے اور اخری رمی سے فراغت کے بعد اپنے وطن روانہ ہو جائے تو اس کا یہ طواف طواف وداع سے درست ہو جائے گا یا نہیں ؟

(السائل : حافظ محمد رضوان، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : طواف کے لئے ایک وقت جواز ہے اور دوسرا وقت استحباب، چنانچہ علامہ نظام حنفی متوفی 1161ھ اور ہند کے علمائ احناف کی ایک جماعت نے لکھا کہ :

و لہ وقتان : وقت الجواز و وقت الاستحباب (276)

یعنی، اس کے لئے دو وقت ہیں ، وقت جواز اور وقت استحباب۔ اور وقت جواز تو طواف زیارت کے بعد ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبد اللہ سندھی حنفی متوفی 993ھ لکھتے ہیں :

اول وقتہ بعد طواف الزیارۃ (277)

یعنی، اس کا اول وقت طواف زیارت کے بعد ہے ۔ اور ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

او بعد ما حل النفر ای : بعد ما طاف للزیارۃ (278)

یعنی، یا اس کے بعد کہ لوٹنا حلال ہو گیا یعنی طواف زیارت کر لینے کے بعد۔ اور علامہ نظام (279) اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ (280) لکھتے ہیں :

فالاول : اولہ بعد طواف الزیارۃ اذا کان علی عزم السفر

یعنی، پس اول، اس کا اول وقت طواف زیارت کے بعد ہے جب کہ عزم سفر پر ہو۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

و اول وقت جواز طواف وداع بعد طواف زیارت ست (281)

یعنی، طواف وداع کا اول وقت جواز طواف زیارت کے بعد ہے ۔ اور طواف وداع کا مستحب وقت وہ ہے جس وقت سفر کرنے کا ارادہ کر لے چنانچہ علامہ نظام حنفی لکھتے ہیں :

و الثانی : ان یوقعہ عند ارادۃ السفر (282)

یعنی، طواف وداع کا مستحب وقت یہ ہے کہ سفر کے ارادے کے وقت ادا کرے ۔

حتی روی عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ : انہ لو طاف ثم اقام الی العشائ، فاحب الی ان یطوف طوافا اخر، لیکون تودیع البیت اخر عہدہ، کذا فی ’’البحر الرائق‘‘ (283)

یعنی، یہاں تک کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ اس نے اگر طواف (وداع) کر لیا، پھر عشاء تک ٹھہرا تو میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ وہ دوسرا طواف کرے تاکہ بیت اللہ شریف کو وداع کرنا اس کا اخری عہد ہو، اسی طرح ’’بحر الرائق‘‘ (284) میں ہے ۔ ہاں فقہاء کرام کی بعض عبارات سے یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ طواف وداع کا وقت بارہ تاریخ کی رمی کے بعد ہے جیسے علامہ ابو منصور محمد بن مکرم بن شعبان کرمانی حنفی متوفی 593ھ کی عبارت کہ

لابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ ’’اذا حل النفر الاول، و ہو وقت الخروج من منًی لترک المبیت فیہا فقد حل لہ وقت طواف الوداع (285)

یعنی، امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک جب نفر اول کا وقت ا گیا اور وہ رات گزارنے کو چھوڑنے کے لئے منی سے نکلنے کا وقت ہے تو طواف وداع کا وقت ا گیا۔ اور علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی کی عبارت :

او بعد ما حل النفر (286)

یعنی، یا بعد اس کے کہ نفر کا وقت ا گیا۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی حنفی کی عبارت کہ :

ہمچنیں اگر طواف کرد بعد از ایام تشریق طواف مطلق یا طواف تطوع واقع گردد از طواف وداع (287)

یعنی، اسی طرح اگر ایام تشریق کے بعد طواف کیا، مطلق طواف یا نفلی طواف تو وہ طواف وداع سے واقع ہو گا۔ لیکن ان عبارات میں طواف وداع کے مستحب وقت کو بیان کیا گیا ہے نہ کہ وقت جواز کو، وقت جواز تو طواف زیارت کے بعد ہے جیسا کہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی نے ’’اللباب‘‘ میں اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی نے ’’حیات القلوب‘‘ میں دوسرے مقام پر صراحۃً لکھا ہے کہ وقت جواز طواف زیارت کے بعد ہے ۔ اسی لئے ملا علی قاری حنفی نے لکھا کہ :

و اما ما فی ’’المشکلات‘‘ من ان وقتہ بعد الفراغ من مناسک الحج، فمحمول علی وقت استحبابہ (288)

یعنی، مگر جو ’’مشکلات‘‘ میں ہے کہ بے شک طواف وداع کا وقت مناسک حج سے فراغت کے بعد ہے پس وہ طواف وداع کے وقت استحباب پر محمول ہے ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص طواف زیارت کے بعد اور طواف کر لے چاہے دس ذوالحجہ کو کرے یا گیارہ یا بارہ کو اور وداع کی نیت سے طواف کئے بغیر وطن چلا جائے تو اس کا یہ واجب ادا ہو جائے گا کیونکہ اس نے طواف اس وقت کیا جب طواف وداع کرنا جائز تھا اس لئے یہ طواف طواف وداع ہو جائے گا۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 6 ذوالحجۃ 1431ھ، 12 نوفمبر 2010 م 684-F

حوالہ جات

276۔ الفتاوی الہندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس : فی کیفیۃ اداء الحج، 1/234، مطبوعۃ : دار احیاء التراث العربی، بیروت، و 1/298، مطبوعۃ : دار الفکر، بیروت

277۔ لباب المناسک ، باب انواع الاطوفۃ، الثالث : طواف الصدر، ص109

278۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب انواع الاطوفۃ، فصل : بعد فصل : فی شرائط صحۃ الطواف مع قولہ : او بعد ما الخ، ص206

279۔ الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ اداء الحج، 1/234، مطبوعۃ : دار احیاء التراث العربی، بیروت، (1/298، مطبوعۃ : دار الفکر، بیروت)

280۔ رد المحتار علی الدر المحتار، کتاب الحج، مطلب : فی طواف الصدر، تحت قولہ : ثم اذا اراد السفر، 3/621

281۔ حیات القلوب فی زیارت المحبوب، باب سیوم : در بیان طواف و انواع ان، فصل اول : در بیان انواع طواف، ص114

282۔ الفتاوی الہندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس : فی کیفیۃ اداء الحج، 1/234 (1/298)

283۔ الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس : فی کیفیۃ اداء الحج، 1/298

284۔ البحر الرائق، کتاب الحج، باب الاحرام، تحت قولہ : فطف للصدر الخ، 2/614

285۔ المسالک فی المناسک، فصل : فی بیان انواع الاطوفۃ، 1/433

286۔ لباب المناسک ، باب انواع الاطوفۃ، فصل : فی تحقیق النیۃ، ص111

287۔ حیات القلوب فی زیارت المحبوب، باب سیوم در بیان طواف و انواع ان، فصل دویم در بیان شرائط صحۃ طواف، ص117

288۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب انواع الاطوفۃ، الثالث : طواف الصدر، تحت قولہ : و اول وقتہ بعد طواف الزیارۃ، ص252

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button