بہار شریعت

طواف میں ہونے والی غلطیوں کے کفارے

طواف میں ہونے والی غلطیوں کے کفارے

مسئلہ ۱: طواف فرض کل یا اکثر یعنی چار پھیرے جنابت یا حیض و نفاس میں کیا تو بدنہ ہے اور بے وضو کیا تو دم ‘ پہلی صورت میں طہارت کے ساتھ اعادہ واجب اگر مکہ سے چلا گیا ہو تو واپس آکر اعادہ کرے اگر چہ میقات سے بھی آگے بڑھ گیا ہو مگر بارھویں تاریخ تک اگر کامل طور پر اعادہ کرلیا تو جرمانہ ساقط اور بارھویں کے بعد کیا تو دم لازم ‘ بدنہ ساقط ۔ لہذا اگر طواف فرض بارھویں کے بعد کیا ہے توبدنہ ساقط نہ ہوگا کہ بارھویں تو گزر گئی اور اگر طواف فرض بے وضو کیا تھا تو اعادہ مستحب ‘پھر اعادہ سے دم ساقط ہو گیا اگر چہ بارھویں کے بعد کیا ہو (جوہرہ ص ۲۲۱‘ عالمگیری ص ۲۴۵ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص۲۸۱ج۲‘ تبیین ص۵۹ج۲‘ بحر ص۱۸ج۳‘ منسک ص۲۳۱)

مسئلہ ۲: چار پھیرے سے کم بے طہارت کیا تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ اور جنابت میں کیا تو دم پھر اگر بارھویں تک اعادہ کرلیا تو دم ساقط ‘ اور اگر بارھویں کے بعد اعادہ کیا تو ہرپھیرے کے بدلے ایک صدقہ(عالمگیری ص۲۴۶ج۱‘ ردالمحتار ص۲۸۱ج۲‘بحر ص۱۸ج۳‘ جوہرہ ص۲۲۱‘ تبیین ص۵۸ج۲‘ منسک ص۲۳۲)

مسئلہ ۳: طواف فرض کل یا اکثر بلا عذر چل کر نہ کیا بلکہ سواری پر یا گود میں یاگھسٹ کر یا بے سترکیا مثلاًعورت کی چہارم کلائی یا چہارم سر کے بال کھلے تھے یا الٹا طواف کیا یا حطیم کے اندر سے طواف میں گزرا یا بارھویں کے بعد کیا تو ان سب صورتوں میں دم دے اور صحیح طور پر اعادہ کرلیا تو ساقط‘ اور بغیر اعادہ کے چلا آیا تو بکری یا اس کی قیمت بھیج دے کہ حرم میں ذبح کردی جائے واپس آنے کی ضرورت نہیں (عالمگیری ص۲۴۷ج۱‘ردالمحتار ص۲۸۱ج۲‘ بحر ص۱۸ج۳‘ تبیین ص۵۹۔۶۱ ج۲‘ منسک ص۲۳۳)

مسئلہ ۴: جنابت میں طواف کرکے گھر چلا گیا تو پھر سے نیا احرام باندھ کر واپس آئے اور واپس نہ آیا بلکہ بدنہ بھیج دیا تو بھی کافی ہے مگر افضل واپس آنا ہے اور بے وضو کیا تھا تو واپس آنا بھی جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ وہیں سے بکری یا قیمت بھیج دے( عالمگیری ص۲۴۶ج۱‘ ردالمحتار ص۲۸۲ج۲‘بحرص ۱۹ج۳‘ جوہرہ ص۲۲۱۔۲۲۲‘ تبیین ص۵۹ج۲‘ منسک ص۲۳۳)

مسئلہ ۵: طواف فرض چار پھیرے کرکے چلا گیا یعنی تین یا دو یا ایک پھیرا باقی ہے تو دم واجب ‘ اگر خودنہ آیا بھیج دیا تو کافی ہے (عالمگیری ص۲۴۶ج۱‘ ردالمحتار ص۲۸۱ج۲‘ بحر ص۱۹ج۳‘ جوہرہ ص۲۲۲‘ تبیین ص۵۶ج۲‘ منسک ص۲۳۳)

مسئلہ ۶: فرض کے سوا کوئی اور طواف کل یا اکثر جنابت میں کیا تو دم دے اور بے وضو کیا تو صدقہ ‘ اور تین پھیرے یا اس سے کم جنابت میں کئے تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ پھر اگر مکہ معظمہ میں ہے تو سب صورتوں میں اعادہ کرلے کفارہ ساقط ہو جائے گا (عالمگیری ص۲۴۶ج۱‘ ردالمحتار ص۲۸۱ج۲‘ بحر ص۲۱ج۳‘ جوہرہ ص۲۲۱۔۲۲۳‘ تبیین ص ۵۹ج۲‘ منسک ص۲۳۵۔۲۳۶)

مسئلہ ۷: طواف رخصت کل یا اکثر ترک کیا تو دم لازم اور چارپھیرے سے کم چھوڑا تو ہر پھیرے کے بدلے میں ایک صدقہ اور طواف قدوم ترک کیا تو کفارہ نہیں مگر برا کیا اور طواف عمرہ کا ایک پھیرا بھی ترک کرے گا تودم لازم ہو گا اور بالکل نہ کیا اکثر ترک کیا تو کفارہ نہیں ان کا ادا کرنا لازم ہے (منسک ص۲۳۵‘عالمگیری ص۲۴۶ج۱‘ردالمحتار ص۲۸۱ج۲‘ بحر ص۲۱ج۳‘جوہرہ ص۲۲۱۔۲۲۰‘تبیین ص۶۰ج۲)

مسئلہ ۸: قارن نے طواف قدوم و طواف عمرہ دونوں بے وضو کئے تو دسویں سے پہلے طواف عمرہ کا اعادہ کرے اور اگر اعادہ نہ کیا یہاں تک کہ دسویں تاریخ کی فجر طلوع ہو گئی تو دم واجب اور طواف فرض میں رمل و سعی کرے (منسک ص۲۳۷‘ردالمحتار ص۲۸۲ج۲‘بحر ص۲۲ج۳)

مسئلہ ۹: نجس کپڑوں میں طواف مکروہ ہے کفارہ نہیں (عالمگیری ص۲۴۶ج۱‘ردالمحتار ص۲۸۱ج۲‘بحر ص۱۸ج۳‘منسک ص۲۳۷)

مسئلہ ۱۰: طواف فرض جنابت میں کیا تھا اور بارھویں تک اس کا اعادہ بھی نہ کیا اب تیر ھویں کو طواف رخصت با طہارت کیا تو یہ طواف رخصت فرض کے قائم مقام ہو جائے گا اور طواف رخصت کے چھوڑنے اور طواف فرض میں دیر کرنے کی وجہ سے اس پر دو دم لازم ‘اور اگر بارھویں کو طواف رخصت کیا ہے تو یہ طواف فرض کے قائم مقام ہو گا اور چوں کہ طواف رخصت نہ کیا لہذا ایک دم لازم اور اگر طواف رخصت دوبارہ کرلیا تو یہ دم بھی ساقط ہو گیا اور اگر طواف فرض بے وضو کیا تھا ور اب یہ با وضو تو ایک دم اور اگر طواف فرض بے وضو کیا تھا اور طواف رخصت جنابت میں تو دو دم (عالمگیری ص۲۴۶ج۱‘ردالمحتار ص۲۸۱ج۲‘بحر ص۲۱ج۳‘تبیین ص۶۰ج۲‘منسک ص۲۴۳)

مسئلہ ۱۱: طواف فرض کے تین پھیرے کئے اور طواف رخصت پورا کیا تو اس میں کے چار پھیرے اس میں محسوب کئے جائیں گے اور دو دم لازم‘ ایک طواف فرض میں دیر کرنے دوسرا طواف رخصت کے چار پھیرے چھوڑنے کا ۔ اور اگر ہر ایک کے تین تین پھیرے کئے تو کل فرض میں شمارہوں گے اور دو دم واجب (عالمگیری ص۲۴۶ج۱‘درمختار و ردالمحتار ص۲۸۳ج۲‘بحر ص۱۹ج۳‘تبیین ص۲۰ج۲‘منسک ص۲۳۴)ا س مسئلہ میں فروع کثیرہ ہیں بخوف تطویل ذکرنہ کئے۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button