ARTICLES

طواف میں دعائے ادم علیہ السلام

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ طواف میں ہم نے دعائ ادم علیہ السلام کا سنا ہے وہ کیا ہے ؟ کس پھیرے میں مانگی جائے ؟ اور اس کی فضیلت کیا ہے ؟

(السائل : محمد ریحان، لبیک حج اینڈ عمرہ سروسز)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : میرے علم کے مطابق دعائے ادم علیہ السلام ملتزم سے متعلق ہے چنانچہ علامہ ازرقی متوفی 250ھ لکھتے ہیں :

عن عبد اللہ بن ابی سلیمان مولی بنی مخزومٍ انہ قال : طاف ادم علیہ السلام سبعا بالبیت حین نزل، ثم صلی تجاہ باب الکعبۃ رکعتین، ثم اتی الملتزم، فقال : اللٰہم انک تعلم سریرتی و علانیتی فاقبل معذرتی، و تعلم ما فی نفسی و ما عندی فاغفرلی ذنوبی، و تعلم حاجتی فاعطی سولی، اللٰہم انی اسالک ایمانًا یباشر قلبی، و یقینًا صادقًا حتی اعلم انہ لن یصیبنی الا ما کتبت لی، و الرضا بما قضیت علی فاوحی اللہ تعالیٰ الیہ یا ادم قد دعوتنی بدعواتٍ فاستجبت لک، و لن یدعونی بہا احد من ولدک الا کشفت غمومہ و ہمومہ، و کففت علیہ ضیعتہ، و نزعت الفقر من قلبہ، و جعلت الغنابین عینیہ، وتجرت لہ من وراء تجارۃ کل تاجرٍ، و اتتہ الدنیا، و ہی راغمۃ و ان کان لا یریدہا، قال : فمذ طاف ادم علیہ السلام کانت سنۃ الطواف (133)

یعنی، مولی بنی مخزوم حضرت عبد اللہ بن ابی سلیمان سے مروی ہے اپ نے فرمایا : حضرت ادم علیہ السلام نے بیت اللہ شریف کا سات پھیرے طواف کیا، پھر باب کعبہ کے سامنے نماز ادا فرمائی، پھر ملتزم پر ائے اور عرض کی : ’’اے اللہ! تو میری سب چھپی اور کھلی باتیں جانتا ہے ، پس تو میری معذرت کو قبول فرما لے ، اور تو جو میرے نفس میں ہے جو میرے ہاں (خطاء سے ) ہے سب کو جانتا ہے پس تو میری خطاء کو بخش دے ، اور تو میری حاجت کو جانتا ہے ، پس تو میرے سوال کو پورا کر دے (یا میری خواہش کو پورا فرما دے ) اے اللہ! میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو میرے دل میں سما جائے اور ایسا سچا یقین کہ میں جان لوں کہ جو کچھ تو نے میری تقدیر میں رکھ دیا ہے وہی مجھے پہنچے گا اور تو نے میرے لئے فیصلہ کیا ہے اس پر راضی ہونا مانگتا ہوں ‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے ادم! تو نے مجھ سے ایسی دعا کی ہے جسے میں نے قبول کر لیا ہے ، تیری اولاد میں سے جو بھی یہ دعا کرے گا اور اس کے غم اور ھم ( وہ غم کہ جس کا سبب معلوم نہ ہو) دورکر دوں گا اوراس کا مال بڑھا کر اس کے دل سے فقر ختم کردوں گا اور مالداری اس کی انکھوں کے سامنے کر دوں گا اور ہر تاجر کی تجارت سے زیادہ تجارت اس کے لئے رکھ دوں گا اور اس کے پاس دنیا ائے گی اور وہ اس کی طرف مائل ہو گی جب کہ وہ اس کو نہیں چاہتا ہو گا، فرمایا : جب سے ادم علیہ السلام نے طواف کیا تو یہ طریقہ ہو گیا۔ اس دعا سے جو فوائد مستفاد ہوئے وہ یہ ہیں کہ جو یہ دعا کرے : 1۔ اس کے وہ غم دور ہوں کہ جن کا سبب معلوم ہو۔ 2۔ اس کے وہ غم دور ہوں کہ جن کا سبب معلوم نہیں ۔ 3۔ اہل و عیال پر کفایت حاصل ہو۔ 4۔ دل سے محتاجی کا خوف دور ہو۔ 5۔ مالداری سامنے نظر ائے ۔ 6۔ تجارت میں خوب برکت حاصل ہو۔ 7۔ دنیا کا میلان اس کی طرف ہو اور وہ دنیا سے منہ پھیرے ۔ اب اس دعا کے مانگنے کی جگہ ملتزم ہے بعض نے مقام ابراہیم کوذکر کیا ہے ، عام حالات میں ملتزم پر جانا دشوارہوتاہے اور طواف کی جگہ سے مقام ابراہیم کے پاس ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے اس لئے طواف کے نوافل ادا کر کے یہ دعا مانگ لی جائے ، اللہ تعالیٰ کرم فرمائے گا ضرور قبول ہو گی، چاہے مقام ابراہیم کے پاس ہو یا اس سے دور۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الخمیس، 19 ذو الحجۃ 1434ھـ، 24 اکتوبر 2013 م 891-F

حوالہ جات

133۔ اخبار مکۃ، ما جاء فی حج ادم علیہ السلام و دعائہ لذریتہ، 1/43۔44

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button