بہار شریعت

طواف فرض

طواف فرض

(۱۹)افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ فرض طواف کے لئے جسے طواف زیارت و طواف افاضہ کہتے ہیں مکہ معظمہ جاو بدستور مذکور پیدل با وضوو ستر عورت طواف کرو مگر اس میں اضطباع نہیں ۔

مسئلہ ۱: یہ طواف حج کا دوسرا رکن ہے اس کے سات پھیرے کئے جائیں جن میں چار پھیرے فرض ہیں کہ بغیر ان کے طواف ہوگا ہی نہیں اور نہ حج ہوگا اور پورے سات کرنا واجب ‘ تو اگر چار پھیروں کے بعد جماع کیا تو حج ہوگیا مگر دم واجب ہو گا کہ واجب ترک ہوا(عالمگیری ص ۲۳۲ج۱‘ درمختار و ردالمحتار ص ۲۵۲ج۲‘تبیین ص۳۳ج۲‘ جوہر ہ ص ۲۰۶ ‘ بحر ص۳۴۷ج۲)

مسئلہ ۲: اس طواف کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ پیشتر احرام باندھاہو اور وقوف کر چکا ہو اور خود کرے اور اگر کسی اور نے اسے کندھے پر اٹھا کر طواف کیا تو اس کا طواف نہ ہوا مگر جب کہ یہ مجبور ہو خودنہ کرسکتا ہو مثلاً بیہوش ہے (ردالمحتار ص۲۵۰ج۲‘ جوہرہ ص۲۰۵)

مسئلہ ۳: بیہوش کو پیٹھ پرلاد کر یا کسی اور چیز پر اٹھا کر طواف کرایا اور اس میں اپنے طواف کی بھی نیت کرلی تو دونوں کے طواف ہوگئے اگرچہ دونوں کے دو قسم کے طواف ہوں (عالمگیری ص۲۳۶ج۱‘درمختار و ردالمحتار ص۳۲۴ج۲‘منسک ص ۱۵۵)

مسئلہ ۴: اس طواف کا وقت دسویں کی طلوع فجر سے ہے اس سے قبل نہیں ہو سکتا(درمختار و ردالمحتار ص۲۵۱ج۲‘جوہرہ ص ۲۰۵‘ بحر ص۳۴۷‘منسک ص۱۵۵)

مسئلہ ۵: اس میں بلکہ مطلق ہر طواف میں نیت شرط ہے اگر نیت نہ ہو طواف نہ ہوا مثلاً دشمن یا درند ے سے بھاگ کر پھیرے کئے طواف نہ ہوا بخلاف وقوف عرفہ کہ وہ بغیر نیت بھی ہو جاتا ہے مگر یہ نیت شرط نہیں کہ یہ طواف زیارت ہے (جوہرہ ص۲۵۲ج۲)

مسئلہ۶: عید الاضحی کی نماز وہاں نہیں پڑھی جائے گی(ردالمحتار ص۲۵۲ج۲)

(۲۰)قارن اور مفردطواف قدوم میں اور متمتع بعد احرام حج کسی طواف نفل میں حج کے رمل وسعی دونوں یا صرف سعی کرچکے ہوں تو اس طواف میں رمل و سعی کچھ نہ کریں اور(۱) اگر اس میں رمل و سعی کچھ نہ کیا ہو یا (۲)صرف رمل کیا ہویا (۳) جس طواف میں کئے تھے وہ عمرہ کا تھا جیسے قارن یا متمتع کا پہلا طوا ف یا(۴) وہ طواف بے طہارت کیا تھا یا(۵) شوال سے پیشتر کے طواف میں کئے تھے تو ان پانچوں صورتوں میں رمل وسعی دونوں اس طواف فرض میں کریں ۔

(۲۱)کمزور عورتیں اگر بھیڑ کے سبب دسویں کو نہ جائیں تو اس کے بعد گیارھویں کو افضل ہے اور اس دن یہ بڑا نفع ہے کہ مطاف خالی ملتا ہے گنتی کے بیس تیس آدمی ہوتے ہیں عورتوں کو باطمینان تما م ہر پھیرے میں سنگ اسود کا بوسہ ملتا ہے۔

(۲۲)جو گیارہویں کو نہ جائے بارہویں کو کرلے اس کے بعد بلا عذر تاخیر گناہ ہے جرمانہ ایک قربانی کرنی ہوگی۔ ہاں مثلاً عورت کو حیض یا نفاس آگیاتو ان کے ختم کے بعد طواف کرے مگر حیض یا نفاس سے اگر ایسے وقت پاک ہوئی کہ نہا دھوکربارھویں تاریخ میں آفتاب ڈوبنے سے پہلے چار پھیرے کرسکتی تو کرنا واجب ہے نہ کرے گی گناہ گار ہوگی یونہی اگر اتنا وقت اسے ملا تھا کہ طواف کرلیتی اور نہ کیا اب حیض یا نفاس آگیا تو گنہگارہوئی(ردالمحتار ص۲۵۱۔۲۵۳ج۲‘بحر ص ۳۴۸ج۲)

(۲۳)بہر حال بعد طواف دو رکعت بدستور پڑھیں اس طواف کے بعد عورتیں حلال ہو جائیں گی اور حج پورا ہو گیا کہ اس کا دوسرا رکن یہ طواف تھا

مسئلہ ۷: اگریہ طواف نہ کیا عورتیں حلال نہ ہوں گی اگر چہ بر سیں گزر جائیں (عالمگیری ص۲۳۲ج۱‘ بحر ص ۳۴۸ج۲‘ ردالمحتار ص۲۵۲ج۲)

مسئلہ ۸: بے وضو یا جنا بت میں طواف کیا تو احرام سے باہر ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد جماع کرنے سے حج فاسد نہ ہوگا اور اگر الٹا طواف کیا یعنی کعبہ کی بائیں جانب سے تو عورتیں حلال ہوگیئں ‘مگر جب تک مکہ میں ہے اس طواف کا اعادہ کرے‘ اور اگر نجس کپڑا پہن کر طواف کیا تو مکروہ ہوا اور بقدر مانع نماز ستر کھلا رہا تو ہو جائے گا مگر دم لازم ہے (عالمگیری ص۲۳۲ج۱‘جوہرہ ص۲۰۵۔۲۰۶‘ بحر ص ۳۴۸ج۲)

(۲۴) دسویں گیارھویں بارہویں کی راتیں منی ہی میں بسرکر نا سنت ہے نہ مزدلفہ میں نہ مکہ میں نہ راہ میں ۔لہذا جو شخص دس یا گیارہ کو طواف کیلئے گیا واپس آکر رات منی میں گزارے ۔

مسئلہ ۹: اگر اپنے آپ منی میں رہا اور اسباب وغیرہ مکہ کو بھیج دیا یا مکہ ہی میں چھوڑ کر عرفات کو گیا تو اگر ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو کراہت ہے ورنہ نہیں (درمختار و ردالمحتار ص۲۵۵ج۲‘عالمگیری ص۲۳۴ج۱‘تبیین ص۳۵ج۲‘بحر ص۳۵۰ج۲‘فتح القدیر ص۲۸۶ج۲)

باقی دنوں کی رمی

(۲۵)گیارہویں تاریخ بعد نماز ظہر امام کا خطبہ سن کر پھر رمی کو چلو ان ایام میں رمی جمرہ اولی سے شروع کرو جو مسجد خیف سے قریب ہے اس کی رمی کو راہ مکہ کی طرف سے آکر چڑھائی پر چڑھو کہ یہ جگہ نسبت جمرۃ العقبہ کے بلند ہے یہاں روبقبلہ سات کنکریاں بطور مذکور مار کر جمرہ سے کچھ آگے بڑھ جاؤ اور قبلہ رو دعا میں یوں ہاتھ اٹھا ؤ کہ ہتھیلیاں قبلہ کو رہیں ۔ حضور قلب سے حمد و درود ‘ دعا و استغفار میں کم از کم بیس آیتیں پڑھنے کی قدر مشغول رہو ورنہ پون پارہ یا سورۂ بقرہ کی مقدار تک۔

(۲۶) پھر جمرۂ وسطی پر جا کر ایسا ہی کروپھر جمرۃ العقبہ پر مگر یہاں رمی کرکے نہ ٹھہرو معاًپلٹ آؤ ‘ پلٹتے میں دعا کرو

(۲۸) بعینہ اسی طرح بارہویں تاریخ بعد زوال تینوں جمرے کی رمی کرو بعض لوگ دوپہر سے پہلے آج رمی کر کے مکہ معظمہ کو چل دیتے ہیں ۔ یہ ہمارے اصل مذہب کے خلاف اور ایک ضعیف روایت ہے تم اس پر عمل نہ کرو

(۲۹) بارہویں کی رمی کرکے غروب آفتاب سے پہلے پہلے اختیار ہے کہ مکہ معظمہ کو روانہ ہو جاؤ مگر بعد غروب چلا جانا معیوب ۔ اب ایک دن اور ٹھہرنا اور تیرھویں کو بدستور دوپہر ڈھلے رمی کرکے مکہ جانا ہو گا اور یہی افضل ہے مگر عام لوگ بارہویں کو چلے جاتے ہیں تو ایک رات دن یہاں اور قیام میں قلیل جماعت کو وقت ہے ‘اور اگر تیرھویں کی صبح ہوگئی تو اب بغیر رمی کئے جانا جائز نہیں جائے گا تو دم واجب ہوگا دسویں کی رمی کا وقت اوپر مذکور ہوا گیارہویں بارہویں کا وقت آفتاب ڈھلنے سے صبح تک ہے مگر رات میں یعنی آفتاب ڈوبنے کے بعد مکروہ ہے ۔ اور تیرھویں کی رمی کا وقت صبح سے آفتاب ڈوبنے تک ہے مگر صبح سے آفتاب ڈھلنے تک مکروہ وقت ہے اس کے بعد غروب آفتاب تک مسنون ۔ لہذا اگر پہلی تین تاریخوں ۱۰،۱۱،۱۲کی رمی دن میں نہ کی ہو تو رات میں کرلے پھر اگر بغیر عذر ہے تو کراہت ہے ورنہ کچھ نہیں ‘ اور اگر رات میں بھی نہ کی تو قضا ہوگئی۔ اب دوسرے دن اس کی قضا دے اور اس کے ذمہ کفارہ واجب ‘اور اس قضا کا بھی وقت تیرھویں کے آفتاب ڈوبنے تک ہے اگر تیرھویں کو آفتاب ڈوب گیا اور رمی نہ کی تو اب رمی نہیں ہوسکتی اور دم واجب (ردالمحتار ص۲۵۴ج۲‘ عالمگیری ص۲۳۲ج۱‘ منسک ص۱۶۶‘ بحر ص۳۴۸ج۲‘ تبیین ص ۳۵ج۲)

مسئلہ ۱: اگربالکل رمی نہ کی جب بھی ایک ہی دم واجب ہو گا(منسک ص۱۶۶،بحر ص۳۴۸ج۲،ردالمحتارص۲۵۴ج۲)

مسئلہ ۲: کنکریاں چاروں دن کے واسطے لی تھیں یعنی ستر اور بارہویں کی رمی کرکے مکہ جانا چاہتا ہے تو اگر کسی اور کو ضرورت ہو تو اسے دیدے ورنہ کسی پاک جگہ ڈال دے جمروں پر بچی ہوئی کنکریاں پھینکنا مکروہ ہے اور دفن کرنے کی بھی حاجت نہیں (منسک ص۱۶۴‘ عالمگیری ص ۲۳۳ج۱ )

مسئلہ ۳: رمی پیدل بھی جائز ہے اور سوار ہو کر بھی ۔افضل یہ ہے کہ پہلے اور دوسرے جمروں پر پیدل رمی کرے اور تیسرے کی سواری پر (درمختار و ردالمحتار ص۲۵۴ج۲‘ منسک ص ۱۶۲‘ عالمگیری ص۲۳۳ج۱‘ تبیین ص۳۵ج۲‘ بحر ص۳۵۰ج۲‘ فتح القدیر ص۱۸۵ج۲)

مسئلہ ۴: اگر کنکری کسی شخص کی پیٹھ پر یا کسی چیز پر پڑی اور ہلکی رہ گئی تو اس کے بدلے کی دوسری مارے اور اگر گر پڑی اور وہاں گری جہاں اس کی جگہ ہے یعنی جمرہ سے تین ہاتھ کے فاصلے کے اندر تو جائز ہو گئی( منسک ص ۴ ۱۶‘ عالمگیری ص ۲۳۴ج۱)

مسئلہ ۵: اگر کنکری کسی شخص پر پڑی اور اس پر سے جمرہ کو لگی تو اگر معلوم ہو کہ اس کے دفع کرنے سے جمرہ پر پہنچی تو اس کے بدلے کی دوسری کنکری مارے اور معلوم نہ ہو جب بھی احتیاط یہی ہے کہ دوسری مارے ۔ یونہی اگر شک ہو کہ کنکری اپنی جگہ پر پہنچی یا نہیں تو اعادہ کر لے (عالمگیری ۳۳۴ج۱‘ منسک ص ۱۶۴)

مسئلہ ۶ : ترتیب کے خلاف رمی کی تو بہتر یہ ہے کہ اعادہ کرلے اور اگر پہلے جمرہ کی رمی نہ کی اور دوسرے تیسرے کی کی تو پہلے پر مار کر پھر دوسرے اور تیسرے پر مارلینا بہتر ہے ‘اور اگر تین تین کنکریاں ماری ہیں تو پہلے پر چار اور مار ے اور دوسرے تیسرے پر سات سات ، اور اگر چار چار ماری ہیں تو ہر ایک پر تین تین اور مارے اور بہتر یہ ہے کہ سرے سے رمی کرے ، اور اگر یوں کیا کہ ایک ایک کنکری تینوں پر مار آیا پھر ایک ایک یونہی سات بار میں سات سات کنکریاں پوری کیں تو پہلے جمرہ کی رمی ہوگئی اور دوسرے پر تین اور مارے اور تیسرے پر چھ تو رمی پوری ہوگی (عالمگیری ص ۲۳۴ج۱، منسک ص۱۶۷،بحر ص۳۴۹ج۲،ردالمحتار ص۲۵۳ج۲،فتحاالقدیرص۲۸۳ج۲)

مسئلہ ۷: جو شخص مریض ہو کہ جمرہ تک سواری پر بھی نہ جا سکتا ہو وہ دوسرے کو حکم کر دے کہ اس کی طرف سے رمی کرے اور اس کو چاہیے کہ پہلے اپنی طرف سے سات کنکریاں مارنے کے بعد مریض کی طرف سے رمی کرے یعنی جب کہ خود رمی کر چکا ہو، اور اگر یوں کیا کہ ایک کنکری اپنی طرف سے ماری پھر مریض کی طرف سے ،یونہی سات بار کیا تو مکروہ ہے ، اور مریض کے بعیر حکم رمی کردی تو جائز نہ ہوئی ،اور اگر مریض میں اتنی طاقت نہیں کہ رمی کرے تو بہتر یہ ہے کہ اس کا ساتھی اس کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رمی کرائے یونہی بیہوش یا مجنوں یا نا سمجھ کی طرف سے اس کے ساتھ والے رمی کردیں ،اور بہتر یہ ہے کہ ان کے ہاتھ پر کنکری رکھ کر رمی کرائیں (منسک ص۱۶۵۔۱۶۶‘عالمگیری ص۲۴۴ج۱،تبیین ص ۳۵ج۲، بحر ص۳۴۹ج۲، فتح ص۲۸۴ج۲)

مسئلہ ۸ : گن کر اکیس ۲۱ کنکریاں لے گیا اور رمی کرنے کے بعد دیکھتا ہے کہ چار بچی ہیں اور یہ یاد نہیں کہ کون سے جمرہ پر کمی کی تو پہلے پر یہ چار کنکریاں مارے اور دونوں پچھلوں پر سات سات ،اور اگر تین بچی ہیں تو ہر ایک پر ایک ایک اور اگر ایک یا دوہوں جب بھی ہر جمرے پر ایک ایک (فتح القدیر ص ۲۸۳ج۲، عالمگیری ص۲۳۴ج۱، بحر ص۳۴۹ج۲)

(۳۰) رمی سے پہلے حلق جائز نہیں

(۳۱) گیارھویں بارھویں کی رمی دوپہر سے پہلے اصلاً صحیح نہیں ۔

رمی میں بارہ چیزیں مکروہ ہیں

(۳۲) رمی میں یہ چیزیں مکروہ ہیں ۔(۱) دسویں کی رمی غروب آفتاب کے بعد کرنا،(۲) تیرھویں کی رمی دوپہر سے پہلے کرنا ،(۳) رمی میں بڑا پتھر مارنا ،(۴) بڑے پتھر کو توڑ کر کنکر یاں بنانا ،(۵) مسجد کی کنکریاں مارنا ،(۶)جمرہ کے نیچے جو کنکر یاں پڑی ہیں اٹھا کر مارنا کہ یہ مردود کنکریاں ہیں جو قبول ہوتی ہیں اٹھا لی جاتی ہیں کہ قیامت کے دن نیکیوں کے پلڑے میں رکھی جائیں گی ورنہ جمروں کے گرد پہاڑ ہو جاتے ۔(۷)ناپاک کنکریان مارنا(۸) سات سے زیادہ مارنا،(۹) رمی کے لئے جو جہت مذکور ہوئی اس کے خلاف کرنا ،(۱۰) جمرے سے پانچ ہاتھ سے کم فاصلہ پر کھڑا ہونا زیادہ کا مضائقہ نہیں ،(۱۱) جمروں میں خلاف ترتیب کرنا ،(۱۲) مارنے کے بدلے کنکری جمرہ کے پاس ڈال دینا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button