ARTICLES

طواف عمرہ میں جسم پر نجاست حقیقیہ کا حکم

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عمرہ کے احرام میں عمرہ کا طواف کر رہا تھا کہ مطاف میں پڑی ہوئی نجاست پاؤں پر لگ گئی، اس نے اسی طرح طواف مکمل کر لیا، اب اس کا طواف درست ہو جائے گا یا نہیں ؟

(السائل : ایک حاجی C/O عبد الحبیب برکاتی، مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : یاد رہے کہ طواف میں نجاست حقیقیہ سے پاکیزگی سنن طواف سے ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبد اللہ سندھی مکی حنفی متوفی 993ھ سنن طواف کے بیان میں لکھتے ہیں :

و الطہارۃ عن النجاسۃ الحقیقیۃ (87)

یعنی، نجاست حقیقیہ سے طہارت (سنن طواف سے ہے )۔ اس کے تحت ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

ای فی الثیاب و الاعضاء البدنیۃ، وکذا فی الاجزاء المکانیۃ (88)

یعنی، کپڑوں میں اور اعضائ بدنیہ اور اجزائ مکانیہ میں (طہارت سنن طواف سے ہے )۔ اور مخدوم محمد ہاشم بن عبد الغفور حارثی ٹھٹوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

اما طہارت بدن ثیاب ملبوس و مکان طواف از نجاست حقیقیہ پس ان واجب است علی احد الروایتین و روایت دیگر انست کہ طہارت از نجاست حقیقیہ سنت موکدہ است و علیہ اکثر العلماء ولہذا ذکر خواہم کرد او رادر سنن طواف (89)

یعنی، مگر بدن ، پہنے ہوئے کپڑوں اور طواف کی جگہ کی نجاست حقیقیہ سے پاکیزگی، دو میں سے ایک روایت کے مطابق واجب ہے جب کہ دوسری روایت یہ ہے کہ سنت موکدہ ہے ۔اور اس پر اکثر علماء ہیں اسی وجہ سے اسے ہم سنن طواف میں ذکر کریں گے ۔ اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں :

نہم طہارت بدن و ثیاب ملبوسہ و مکان طواف از نجاست حقیقیہ کہ ان سنت است نزد اکثر و قیل واجب است (90)

یعنی، طواف کی نویں سنت بدن او رپہنے ہوئے کپڑوں اور طواف کی جگہ کا نجاست حقیقیہ سے پاک ہونا ہے کہ یہ اکثر کے نزدیک سنت ہے اور کہا گیا کہ واجب ہے ۔ اس لئے اس حال میں طواف کیا کہ اس کے بدن یا جسم پر نجاست تھی تو اس پر کچھ لازم نہیں ائے گا چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی ثم مکی حنفی لکھتے ہیں :

و لو طاف فرضا او واجبا او نفلا و علیہ نجاسۃ اکثر من قدر الدرہم کرہ و لا شی علیہ (91)

یعنی، اگر فرض یا واجب یا نفل طواف اس حال میں کیا کہ اس پر درہم کی مقدار سے زیادہ نجاست تھی تو مکروہ ہے اور اس پر کچھ نہیں ۔ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

(و لو طاف) کالرکنین (او واجبا) کالصدر و النذر (او نفلا) کالقدوم و التحیۃ و التطوع (و علیہ) ای علی ثوبہ او بدنہ (نجاسۃ اکثر من قدر الدرہم کرہ) ای لترکہ السنۃ فی مراعاۃ الطہارۃ (و لا شیء علیہ) ای من الدم و الصدقہ، و ہذا قول العامۃ، و ہو الموافق لما فی ظاہر الروایۃ، کما صرح فی البدائع وغیرہ : ان الطہارۃ عن النجاسۃ لیس بواجب، فلا یجب علیہ شیء لترکہ سوی الاسائۃ، و تمامہ فی ’’شرح اللباب‘‘ (92)

یعنی، فرض طواف جیسے طواف زیارت اور طواف عمرہ، واجب طواف جیسے طواف صدر اور منت طواف، نفلی طواف جیسے طواف قدوم، طواف تحیۃ اور طواف تطوع، اس پر درہم سے زیادہ نجاست ہو یعنی اس کے کپڑے یا بدن پر نجاست ہو تو مکروہ ہے ، یعنی کراہت کی وجہ یہ ہے کہ رعایت طہارت میں سنت کو ترک کیا ہے ، اس پر دم اور صدقہ میں سے کچھ نہیں ہے اور یہ عام فقہاء کرام کا قول ہے جو ’’ظاہر الروایت‘‘ کے موافق ہے جیسا کہ اس کی تصریح ’’بدائع الصنائع‘‘ وغیرہ میں کی ہے کہ نجاست سے طہارت واجب نہیں ہے لہٰذا اس کے ترک پر سوائے اسائت کے کچھ لازم نہیں ۔ اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

ہذا النوع من الطہارۃ فی الثوب و البدن سنۃ موکدۃ ’’شرح اللباب‘‘ بل قال فی ’’الفتح‘‘ : و ما فی بعض الکتب من ان بنجاسۃ الثوب کلہ یجب الدم لا اصل لہ فی الروایۃ اھـ، و فی ’’البدائع‘‘ : انہ سنۃ، فلو طاف و علی ثوبہ نجاسۃ اکثر من الدرہم لا یلزمہ شیء، بل یکرہ لادخال النجاسۃ المسجد اھـ (93)

یعنی، طہارت کی یہ نوع کپڑے اور بدن میں سنت موکدہ ہے ’’شرح اللباب‘‘ بلکہ ’’فتح القدیر‘‘ میں کہا کہ جو بعض کتب میں ہے کہ کل کپڑا نجس ہو تو دم واجب ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے ۔ اھ ، اور ’’بدائع الصنائع‘‘ میں ہے کہ یہ (یعنی نجاست حقیقیہ سے پاکیزگی) سنت ہے پس اگر اس حال میں طواف کیا کہ اس کے کپڑے پر درہم سے زیادہ نجاست ہے تو اسے کوئی شی لازم نہ ہوگی لیکن مسجد میں نجاست داخل کرنے کی کراہت لازم ائے گی۔ اھ اور مفتی مکہ شیخ ابو اجاہت عبد الرحمن بن عیسیٰ مرشدی عمری حنفی متوفی 1037ھ لکھتے ہیں :

اما طہارۃ البدن و الثوب من النجاسات الحقیقیۃ فی الطواف فلیست بشرط بالاجماع فلا یفترض تحصیلہا، ولا یجب لکنہ سنۃ، حتی لو طاف و علی ثوبہ و بدنہ نجاسۃ اکثر من قدر الدرہم لا یلزمہ شیء لکنہ یکرہ، و ما ذکر فی بعض الکتب من ان فی نجاسۃ البدن کلہ الدم لا اصل لہ فی الروایۃ نص علیہ ابن الہمام (94)

یعنی، مگر طواف میں نجاسات حقیقیہ سے پاکیزگی پس بالاجماع شرط نہیں ہے لہٰذا اس کا حصول بھی فرض نہیں ہے اور نہ واجب ہے بلکہ سنت ہے یہاں تک کہ اگر اس حال میں طواف کیا کہ اس کے کپڑے اور بدن پر درہم کی مقدار سے زیادہ نجاست ہے تو اسے کچھ بھی لازم نہیں ائے گا لیکن مکروہ ہے اورجوبعض کتب میں لکھا ہوا ہے کہ کل بدن کی نجاست میں دم ہے روایت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اس کی ابن الہمام نے تصریح فرمائی۔ قاضی زادہ حنفی متوفی 1087ھ لکھتے ہیں :

اما طواف التطوع فالاتفاق علی ان الطہارۃ فیہ سنۃ، لا یلزمہ بترکہا شیء و ہذا علی ما فی ’’ فتاوی الظہیریۃ‘‘ اما علی ما فی ’’المحیط‘‘ وغیرہ ، فالطہارۃ عن النجاسۃ مطلقا سنۃ فی الفرض و غیرہ، و ذکرہ فی ’’البحر الرائق‘‘ و تمامہ فی شرحناہ علی ’’الاوسط‘‘ (95)

یعنی، مگر نفلی طواف تو اتفاق اس بات پر ہے کہ اس میں طہارت سنت ہے اور اس کے ترک پر کوئی شئے لازم نہیں ائے گی یہ اس بناء پر ہے جو ’’فتاویٰ ظہیریہ‘‘ میں ہے ، مگر جو ’’محیط‘‘ وغیرہ میں ہے (وہ یہ ہے کہ) نجاست سے طہارت فرض وغیرہ میں مطلقا سنت ہے اور اس کا مکمل بیان (علامہ رحمت اللہ سندھی کی کتاب) ’’الاوسط‘‘ پر ہماری شرح میں ہے ۔ لہٰذا مذکورہ شخص پر کچھ بھی لازم نہ ایا اس کا کیا ہوا طواف درست ہو گیا نہ اعادہ لازم ہوا اور نہ ہی کوئی کفارہ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاربعاء، 18 ذو الحجۃ 1434ھـ، 23 اکتوبر 2013 م 888-F

حوالہ جات

87۔ لباب المناسک و عباب المناسک، باب انواع الاطوفۃ و احکامہا، فصل : فی سنن الطواف، ص117

88۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب انواع الاطوفۃ و احکامہا، تحت قولہ : و الطہارۃ عن النجاسۃ الحقیقیۃ، ص226

89۔ حیات القلوب، باب سیوم در بیان طواف، فصل دویم دربیان شرائط صحت طواف، ص118

90۔ حیات القلوب فی زیارت المحبوب، باب سیوم در بیان طواف ، فصل : دویم دربیان شرائط صحت طواف، ص122

91۔ لباب المناسک و عباب المسالک، باب الجنایات، فصل : فی الطواف و علی ثوبہ الخ، ص218

92۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب الجنایات، النوع الخامس : الجنایات فی افعال الحج، فصل فی الطواف و علی ثوبہ او بدنۃ نجاسۃ، ص501، 502

93۔ رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، مطلب : فی فروض الحج و واجباتہ، تحت قولہ : و الاکثر علی انہ، 3/540

94۔ فتح مسالک الرمز فی شرح مناسک الکنز، کتاب الجنایات، ق 82/ا۔ب

95۔ الضوء المنیر شرح المنسک الصغیر، ……، ق12/ا

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button