ARTICLES

طواف زیارت کے بعد حلق سے قبل ہمبستری کا حکم

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حاجی اگر وقوف عرفہ سے قبل ہمبستری کرے تو اس کا حج فاسد ہو جائے گا اور اگر وقوف کے بعد حلق سے قبل ایسا کرے تو اس پر بدنہ لازم ائے گا اور اگر حلق کے بعد طواف زیارت سے قبل ایسا کر لے تو اس پر کیا لازم ائے گا؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حاجی اگر حلق کروانے کے بعد طواف زیارت سے قبل جماع کر لے تو اس پر بکری کی قربانی لازم ائے گی اور اس کا حج فاسد نہ ہو گا چنانچہ علامہ ابو الحسین احمد بن محمد قدوری حنفی متوفی 428ھ لکھتے ہیں :

و من جامع بعد الوقوف بعرفۃ لم یفسد حجہ و علیہ بدنۃ، و ان جامع بعد الحلق فعلیہ شاۃ (107)

یعنی، جس نے وقوف عرفہ کے بعد جماع کیا تو اس کا حج فاسد نہ ہوا اور اس پر بدنہ لازم ہے اور اگر حلق کے بعد جماع کیا تو اس پر بکری (ذبح کرنا) لازم ہے ۔ اور علامہ مجد الدین عبد اللہ بن محمود موصلی حنفی متوفی 683ھ لکھتے ہیں :

و ان جامع بعد الوقوف فعلیہ بدنۃ و لا یفسد حجہ، و ان جامع بعد الحلق او قبل او لمس بشھوۃٍ فعلیہ شاۃ (108)

یعنی، اگر وقوف عرفہ کے بعد جماع کیا تو اس پر بدنہ لازم ہے اور اس کا حج فاسد نہ ہو گا، اور اگر حلق کے بعد جماع کیا یا بوسہ لیا یا شہوت کے ساتھ چھوا تو اس پر بکری (ذبح کرنا) لازم ہے ۔ اور علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

و ان جامع بعد الحلق فعلیہ شاۃ لبقاء احرامہ فی حق النساء دون لبس المخیط و ما اشبہ فخفت الجنایۃ فاکتفی بالشاۃ (109)

یعنی، اور اگر حلق کے بعد جماع کیا تو اس پر (بطور دم) بکری (ذبح کرنا) لازم ہے کیونکہ عورتوں کے حق میں اس کا احرام باقی ہے سوائے سلے ہوئے کپڑے پہننے اور اس کی مثل دیگر امور کے ، پس جنایت خفیف ہو گی تو بکری کافی ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم السبت، 25 ذوالحجۃ 1433ھ، 10 نوفمبر 2012 م 812-F

حوالہ جات

107۔ مختصر القدوری، کتاب الحج، باب الجنایات، ص72

108۔ المختار الفتویٰ، کتاب الحج، باب الجنایات، ص89، 90

109۔ الھدایۃ، کتاب الحج، باب الجنایات، فصل : فان نظر الخ مع قول البدایۃ : و ان جامع الخ، 1۔2/198

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button