ARTICLES

طواف زیارت کی حج میں اہمیت

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دو میاں بیوی بہت ضعیف اور بیمار ہیں جنہوں نے اب سولہ ذوالحجہ تک طواف زیارت نہیں کیا ہے ، خود چلنے کی بھی قدرت نہیں رکھتے اور طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے پاکستان واپسی کا پروگرام ہے ، اب اس کی کیا صورت ہو گی؟ اگر طواف زیارت نہ کریں اس کی جگہ کوئی دم وغیرہ لازم ہو تو وہ دے دیں تو کفایت کرے گا یا نہیں ؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : طواف زیارت حج کا دوسرا رکن ہے (259) چنانچہ علامہ ابو منصور محمد بن مکرم بن شعبان کرمانی حنفی متوفی 597ھ لکھتے ہیں :

و الرکن الاخر : ہو طواف الزیارۃ (260)

یعنی، اور دوسرا رکن وہ طواف زیارت ہے ۔ اور علامہ عالم بن العلاء انصاری متوفی 786ھ لکھتے ہیں کہ

فنقول : رکن الحج : الوقوف بعرفۃ و طواف الزیارۃ (261)

یعنی، پس ہم کہتے ہیں کہ حج کے رکن وقوف عرفہ اور طواف زیارت ہیں ۔ قران کریم میں ہے :

{ثم لیقضوا تفثہم و لیوفوا نذورہم و لیطوفوا بالبیت العتیق} (262)

ترجمہ : پھر اپنا میل کچیل اتاریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور اس ازاد گھر کا طواف کریں ۔ (کنز الایمان) اس ایہ کریمہ کے تحت علامہ کرمانی لکھتے ہیں :

امر بالطواف بعد قضائ التفث وہو ازالۃ الدرن، و الطواف الذی یجب بعد قضائ التفث عقیبہ فی یوم النحر انما ہو طواف الزیارۃ لا غیر (263)

یعنی، اللہ تعالیٰ نے قضائ تفث کے بعد طواف کا حکم فرمایا اور قضاء تفث میل زائل کرنا ہے اور طواف جو قضائ تفث کے بعد یوم نحر میں واجب ہے وہ صرف طواف زیارت ہے نہ اور کوئی (طواف)۔ اور علامہ نظام حنفی متوفی 1161ھ اور علماء ہند کی ایک جماعت نے لکھا کہ :

ہذا الطواف یسمی طواف الزیارۃ، و طواف الرکن، و طواف یوم النحر، کذا فی ’’فتاویٰ قاضیخان‘‘ و فی ’’الحجۃ‘‘ : و یقال لہ : طواف الواجب، کذا فی ’’التتارخانیۃ‘‘ (264)

یعنی، اس طواف کا نام طواف زیارت، طواف رکن، طواف یوم نحر رکھا جاتا ہے ، اسی طرح ’’فتاویٰ قاضیخان‘‘ (265) میں ہے اور ’’فتاوی حجۃ‘‘ میں ہے کہ اسے ’’طواف واجب‘‘ کہاجاتا ہے ، اسی طرح ’’فتاویٰ تتارخانیہ‘‘ (266) میں ہے ۔ اور علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

یسمی طواف الافاضۃ و طواف یوم النحر (267)

یعنی، اس کا نام ’’طواف افاضہ‘‘ اور ’’طواف یوم نحر‘‘ رکھا جاتا ہے ۔ اور اس کی ادائیگی کے بغیر حج مکمل نہ ہو گا چنانچہ علامہ کرمانی لکھتے ہیں :

و انہ فرض لا یتم الحج بدونہ (268)

یعنی، اور یہ (طواف زیارت حج میں ) فرض ہے ، حج اس کے بغیر پورا نہ ہو گا۔ اور کوئی چیز رکن کا بدل نہیں بن سکتی اور طواف زیارت حج میں رکن ہے چنانچہ علامہ کرمانی حنفی لکھتے ہیں :

و حد الرکن ما لا یجزی عنہ البدل (269)

یعنی، رکن کی تعریف یہ ہے کہ جس سے بدل جائز نہ ہو۔ امام ابو بکر احمد جصاص رازی حنفی متوفی 370ھ لکھتے ہیں :

فاما طواف الزیارۃ فانہ لا ینوب عنہ شیئ و یبقی الحاج محرما من النسائ حتی یطوفہ (270)

یعنی، مگر طواف زیارت تو کوئی شی اس کے قائم مقام نہیں ہوتی، حاجی عورتوں کے حق میں محرم رہتا ہے یہاں تک کے طواف کرے ۔ اور علامہ عالم بن العلاء انصاری حنفی متوفی 786ھ لکھتے ہیں :

و فی ’’شرح الطحاوی‘‘ : ثم الرکن لا یجزی عنہ البدل و لا یتخلص عنہ بالدم الا باتیان عینہ، و الواجب یجزی عنہ البدل اذا ترکہ (271)

یعنی، ’’شرح الطحاوی‘‘ میں ہے کہ پھر رکن سے کوئی بدل جائز نہیں اور نہ دم کے ذریعے اس سے خلاصی حاصل ہو سکتی ہے مگر اس کے عین کو ادا کرنے سے ، اور واجب سے بدل جائز ہوتا ہے جب اسے ترک کر دے ۔ یاد رہے کہ حج کے تینوں فرائض کا یہی حکم ہے چنانچہ علامہ کرمانی حنفی لکھتے ہیں :

و الحج لا یتم بدون ہذہ الثلاثۃ، و الدم لا یقوم مقامہا و لا یجبرہا (272)

یعنی، حج ان تین (یعنی احرام، وقوف عرفہ اور طواف زیارت) کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اور دم ان کے قائم مقام نہیں ہوتا اور نہ انہیں پورا کرتا ہے ۔ لہٰذا طواف زیارت کرنا ہی ہو گا اور ان پر ایام نحر سے تاخیر کی وجہ سے دم بھی لازم ہوگاکیونکہ طواف زیارت کا ایام نحر یعنی بارہ ذوالحجہ کے غروب افتاب تک ادا کرنا واجب ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن قاضی عبد اللہ سندھی حنفی واجبات حج کے بیان میں لکھتے ہیں :

و طواف الزیارۃ فی ایام النحر (273)

یعنی، طواف زیارت کا ایام نحر میں ہونا واجب ہے ۔ طواف زیارت کا ایام نحر میں ہونا واجب ہے ، اس کا مطلب ہے کہ اس کے طواف کے اکثر پھیروں کا ایام نحر میں ادا کرنا واجب ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی اور ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

و طواف الزیارۃ ای : اکثرہ فی ایام النحر ای : علی قول الامام (274)

یعنی، اکثر طواف زیارت کا ایام نحر میں ہونا واجب ہے اور یہ امام اعظم کا قول ہے ۔ اور اس میں صرف حیض و نفاس والی عورت کو رخصت ہے اس کے علاوہ جو بھی ان ایام سے طواف زیارت کو موخر کرے گا اس پر دم لازم ائے گا، چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

و یکرہ تاخیرہ عن ہذہ الایام و ان اخرہ عنہا لزمہ دم عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ (275)

یعنی، طواف زیارت کی ان ایام سے تاخیر مکروہ ہے اور اگر ان ایام سے موخر کیا تو امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس پر دم لازم ہوا۔ اس لئے وہیل چیئر پر بٹھا کر انہیں طواف کروا دیا جائے ، کوئی مددگار نہ ملے تو مزدوری پر لوگ مل جاتے ہیں جو معذورں کو طواف و سعی کروا دیتے ہیں ، اس طرح ان کا یہ فرض ادا ہو جائے گا اور اگر سعی نہ کی وہ بھی کروا دیں کہ حج میں واجب ہے ، اور یہ لوگ افاقی ہیں لہٰذا طواف زیارت کے علاوہ ایک اور طواف بھی کروا دیا جائے جو طواف وداع ہو جائے گا کہ یہ طواف واجب ہے ۔ اگر طواف زیارت نہ کیا تو حج مکمل نہ ہو گا لازم رہے گا کہ دوبارہ مکہ معظمہ ا کر کریں اور جب تک طواف نہ کیا، عورت حلال نہ ہو گی اور طواف وداع نہ کیا اور چلے گئے تو دم لازم ائے گا، اسی طرح سعی نہ کی اور چلے گئے تو اس کا بھی دم دینا ہو گا اور دم سرزمین حرم پر ذبح کرنا لازم ہے ۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الثلاثاء، 17 ذوالحجۃ 1431ھ، 23 نوفمبر 2010 م 691-F

حوالہ جات

259۔ حج کے کل تین فرض ہیں ایک احرام، دوسرا وقوف عرفہ اور تیسرا طواف زیارت چنانچہ علامہ عالم بن العلاء انصاری حنفی متوفی 786ھ لکھتے ہیں : و فی ’’الکافی‘‘ فرض الحج : الاحرام و الوقوف بعرفۃ، و طواف الزیارۃ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الحج، الفصل الثانی : فی بیان رکن الحج و کیفیۃ وجوبہ، 3/478) یعنی، ’’کافی‘‘ میں ہے کہ حج کے فرض، احرام، وقوف عرفہ اور طواف زیارت ہیں ۔ اور ان میں سے دو رکن ہیں وقوف عرفہ اور طواف زیارت۔

260۔ المسالک فی المناسک، فصل : فی بیان فرائض الحج و سننہ الخ، 1/320

261۔ الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الحج، الفصل الثانی : فی بیان رکن الحج و کیفیۃ وجوبہ، 3/478

262۔ الحج : 22/29

263۔ المسالک فی المناسک، فصل : فی بیان فرائض الحج وسننہ الخ، 1/320

264۔ الفتاوی الہندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس : فی کیفیۃ اداء الحج، 1/232

265۔ فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیۃ، کتاب الحج، فصل : فی کیفیۃ اداء الحج، 1/396

266۔ الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الحج، الفصل الثالث : فی تعلیم اعمال الحج، الکلام فی الرمی فی مواضع، 3/533، و فیہ : ھذا ھو الطواف المفروض فی الحج، و یسمی ’’طواف الافاضۃ‘‘ و ’’طواف یوم النحر‘‘ و فی ’’الخانیۃ‘‘ و یسمی ’’طواف الزیارۃ‘‘ وفی ’’الحجۃ‘‘ : و یقال لہ : ’’الطواف الواجب‘‘ و فی ’’شرح الطحاوی‘‘ : و یسمی ’’طواف الرکن‘‘، یعنی، یہ طواف حج میں فرض ہے اور اس کا نام ’’طواف افاضہ‘‘ اور ’’طواف یوم نحر‘‘ رکھا جاتا ہے اور ’’خانیہ‘‘ میں ہے اس کا نام ’’طواف زیارت‘‘ رکھا جاتا ہے اور ’’(فتاویٰ) حجت‘‘ میں ہے کہ اسے ’’طواف واجب‘‘ کہا جاتا ہے اور ’’شرح الطحاوی‘‘ میں ہے کہ اس کا نام ’’طواف رکن‘‘ رکھا جاتا ہے ۔

267۔ الہدایۃ ، باب الاحرام، تحت قولہ : ھذا الطواف ھو الخ، 1۔2/180

268۔ المسالک فی المناسک، فصل : فی بیان انواع الاطوفۃ، 1/426

269۔ المسالک فی المناسک، فصل : فی بیان فرائض الحج و سننہ الخ، 1/320

270۔ احکام القران للرازی، سورۃ البقرۃ، القول فی الطائفین و العاکفین الخ، 1/110

271۔ الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الحج، الفصل الثانی : فی بیان رکن الحج، وکیفیۃ وجوبہ، 3/479

272۔ المسالک فی المناسک، فصل : فی بیان فرائض الحج و سنتہ الخ، 1/320

273۔ لباب المناسک مع شرحہ للقاری، باب فرائض الحج، فصل : فی واجباتہ، ص71

274۔ لباب المناسک وشرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب فرائض الحج، فصل : فی واجبات الحج، ص99

275۔ بدایۃ المبتدی، کتاب الحج، باب الاحرام، 1۔2/180

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button