ARTICLES

طوافِ وداع کس پر واجب ہے ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ہم مقامی لوگ ہیں کیا ہم پر بھی طوافِ وداع لازم ہے ؟

(السائل : ایک حاجی، از ریاض )

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : طوافِ وداع کے وجوب کا تعلق مقامی اور غیر مقامی حاجی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آفاقی اور غیر آفاقی حاجی کے ساتھ ہے یعنی یہ طواف اُن پر واجب نہیں جو مکہ یا میقات کے اندر یا میقات پر رہتے ہوں بلکہ اُن پر واجب ہے جو میقات کے باہر رہتے ہوں جب کہ وہ رُخصت ہونے کا ارادہ کریں ۔ چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

سیوم طوافِ وداع است کہ آن را طوافِ صدر نیز گویند و صدر بفتحتین بمعنی رُجوع است و آن واجب است بر آفاقی کہ مفرد بحج باشد یا متمتع یا قارن نہ بر مفرد بعمرہ نہ بر مکی و میقاتی، و اول وقت جوازِ طوافِ وداع بعد طوافِ زیارت است و نیست آخر برائے او درحق جواز بلک جمیع عمر وقت است و مستحب آن ست کہ ایقاع کند او را در حالۃ خروج برائے سفر در وقت ارادۂ رجوع بسوئے اہل خود (393)

یعنی، تیسرا طوافِ وداع ہے کہ اسے طوافِ صدر بھی کہتے ہیں اور صدر صاد اور دال کی زبر کے ساتھ بمعنی لوٹنے کے ہے او ریہ طواف آفاقی پر واجب ہے جو مفرد بالحج ہو یا قارن ہو یا متمتع ہو ۔ صرف عمرہ کرنے والے اور مکی و میقاتی پر واجب نہیں ۔ اور اس کے جواز کا اول وقت طوافِ زیارت کے بعد ہے اور اس کے جواز کا آخری کوئی وقت نہیں بلکہ تمام عمر اس کا وقت ہے اور مستحب یہ ہے کہ جب اپنے اہل کو لوٹنے کا ارادہ کرے تو نکلتے وقت طوافِ وداع کرے ۔ اور صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : جب ارادہ رخصت کا ہو طوافِ وداع بے رمل و سعی و اضطباع بجا لائے کہ باہر والوں پر (یعنی آفاقی حاجی پر) واجب ہے ۔ (394) اور طوافِ وداع کی ادائیگی کے لئے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ارکانِ حج مکمل ہونے کے بعد حاجی نے کوئی بھی نفل طواف کیا ہو تواُس سے طوافِ وداع ادا ہو جاتا ہے ۔ اور افضل یہ ہے کہ جب واپسی کا ارادہ کرے تو اہتمام کے ساتھ آخری طواف کرے اور بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ وداع کی نیت سے طواف کر لیتے ہیں پھر اُس کے بعد مکہ سے واپسی سے قبل اُن کو اور طواف کرنے کا موقع میسر آ جاتا ہے تو بھی طواف نہیں کرتے کہ ہم وداع کی نیت سے طواف کر چکے ہیں حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ جو وداع کے نیت سے طواف کر لے اور اُس کے بعد وہ اور طواف نہ کر سکتا ہو بلکہ اُسے چاہئے کہ اگر موقع میسر آتا ہے تو اور طواف بھی کر لے کہ طواف وہ عبادت ہے جو اِس مقام کے علاوہ کہیں اور نہیں ہو سکتی اور پھر نہ جانے کب یہ موقع ملے ، چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی ’’عالمگیری‘‘ (395)کے حوالے سے فرماتے ہیں : سفر کا ارادہ تھا، طوافِ رخصت کر لیا مگر کسی وجہ سے ٹھہر گیا، اگر اقامت کی نیت نہ کی تو وہی طواف کافی ہے ، مگر مستحب یہ ہے کہ پھر طواف کرے کہ پچھلا (سب سے آخری) کام طواف رہے ۔ (396)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الثلاثاء، 13ذوالحجۃ 1427ھ، 2ینایر 2007 م (340-F)

حوالہ جات

393۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم دربیان طواف وانواع اَن، فصل اول در انواع طواف، ص114

394۔ بہارِ شریعت ، حج کابیان، طوافِ رُخصت ، 1/1151

395۔ الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس فی کیفیۃ أداء الحج، 1/234

396۔ بہارِ شریعت ، حج کابیان، طوافِ رُخصت ، 1/1151

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button