بہار شریعت

طلاق کنا یہ کے متعلق مسائل

طلاق کنا یہ کے متعلق مسائل

کنایہ طلاق وہ الفاظ ہیں جن سے طلاق مراد ہونا ظاہر نہ ہو طلاق کے علاوہ اور معنوں میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہو۔

مسئلہ۱: کنایہ سے طلاق واقع ہونے میں یہ شرط ہے کہ نیت طلاق ہو یا حالت بتاتی ہو کہ طلاق مرادہے یعنی پیشتر طلاق کا ذکر تھا یا غصہ میں کہا۔ کنایہ کے الفاظ تین طرح کے ہیں بعض میں سوال رد کرنے کا احتمال ہے بعض میں گالی کا احتمال ہے اور بعض میں نہ یہ ہے نہ وہ بلکہ جواب کے لئے متعین ہیں ۔ اگر رد کا احتمال ہے تو مطلقاً ہر حال میں نیت کی حاجت ہے بغیر نیت طلاق نہیں اور جن میں گالی کا احتمال ہے ان سے طلاق ہونا خوشی اور غضب میں نیت پر موقوف ہے اور طلاق کا ذکر تھا تو نیت کی ضرورت نہیں ۔اور تیسری صورت یعنی جو فقط جواب ہو تو خوشی میں نیت ضروری ہے اور غضب و مذاکرہ کے وقت بغیر نیت بھی طلاق واقع ہے (درمختار وغیرہ)

کنا یہ کے بعض الفاظ یہ ہیں

(۱) جا۔(۲) نکل(۳)چل(۴)روانہ ہو(۵)اٹھ(۶) کھڑی ہو(۷)پردہ کر(۸)دوپٹہ اوڑھ(۹)نقاب ڈال(۱۰)ہٹ سرک(۱۱) جگہ چھوڑ(۱۲)گھر خالی کر (۱۳)دور ہو(۱۴)چل دور(۱۵)اے خالی(۱۶) اے بری(۱۷)اے جدا(۱۸)تو جداہے(۱۹)تو مجھ سے جدا ہے (۲۰)میں نے تجھے بے قید کیا(۲۱)میں نے تجھ سے مفارقت کی(۲۲)رستہ ناپ(۲۳)اپنی راہ لے (۲۴)کالامونھ کر(۲۵)چال دکھا (۲۶)چلتی بن (۲۷)چلتی نظر آ(۲۸)دفع ہو(۲۹)دال فے عین ہو(۳۰)رفوچکر ہو (۳۱)پنجرا خالی کر(۳۲)ہٹ کے سڑ(۳۳)اپنی صورت گما(۳۴)بستر اٹھا (۳۵)اپنا سوجھتا دیکھ (۳۶)اپنی گٹھری باندھ (۳۷)اپنی نجاست الگ پھیلا(۳۸)تشریف لیجائیے(۴۳) اے بے علاقہ(۳۹) تشریف کا ٹوکرا لیجائیے(۴۰) جہاں سینگ سمائے جا (۴۱)اپنا مانگ کھا(۴۲)بہت ہو چکی اب مہر بانی فرمائیے(۴۴)مونھ چھپا(۴۵)جہنم میں جا(۴۶)چولھے میں جا (۴۷) بھاڑ میں پڑ(۴۸) میرے پاس سے چل(۴۹)اپنی مراد پر فتح مند ہو(۵۰)میں نے نکاح فسخ کیا(۵۱)تو مجھ پر مثل مردار (۵۲)یا سوئریا(۵۳)شراب کے ہے ۔(نہ مثل بنگ یا افیون یا مال فلاں یا زوجہ ٔ فلاں کے ) (۵۴)تو مثل میری ماں یا بہن یا بیٹی کے ہے ( اور یوں کہا کہ تو ماں بہن بیٹی ہے تو گناہ کے سوا کچھ نہیں )(۵۵) تو خلاص ہے (۵۶)تیری گلو خلاصی ہوئی (۵۷)تو خالص ہوئی (۵۸)حلال خدا یا (۵۹)حلال مسلمانان یا(۶۰)ہر حلال مجھ پر حرام (۱۶) تو میرے ساتھ حرام میں ہے (۶۲) میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اگر چہ کسی عوض کا ذکر نہ آئے اگر چہ عورت نے یہ نہ کہا کہ میں نے خریدا(۶۳) میں تجھ سے باز آیا (۶۴)میں تجھ سے در گزر ا (۶۵) تو میرے کام کی نہیں (۶۶)میرے مطلب کی نہیں (۶۷)میرے مصرف کی نہیں (۶۸)مجھے تجھ پر کوئی راہ نہیں (۶۹)کچھ قابو نہیں (۷۰)ملک نہیں (۷۱)میں نے تیری راہ خالی کردی (۷۲)تو میری ملک سے نکل گئی (۷۳)میں نے تجھ سے خلع کیا(۷۴)اپنے میکے بیٹھ(۷۵)تیری باگ ڈھیلی کی(۷۶)تیری رسی چھوڑدی (۷۷)تیری لگام اتارلی(۷۸)اپنے رفیقوں سے جامل (۷۹)مجھے تجھ پر کچھ اختیار نہیں (۸۰)میں تجھ سے لا دعوی ہوتا ہوں (۸۱)میرا تجھ پر کچھ دعوی نہیں (۸۲)خاوند تلاش کر(۸۳)میں تجھ سے جدا ہوں یا ہوا(فقط جدا ہوں یا ہوا کافی نہیں اگر چہ نہ نیت طلاق کہا) (۸۴)میں نے تجھے جدا کر دیا (۸۵)میں نے تجھ سے جدائی کی (۸۶)تو خود مختار ہے (۸۷)تو آزاد ہے (۸۸)مجھ میں تجھ میں نکاح نہیں (۸۹)مجھ میں تجھ میں نکاح باقی نہ رہا(۹۰)میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا (۹۱)باپ یا(۹۲) ماں یا(۹۳)خاوندوں کو دیا (۹۴)خود تجھ کو دیا (اور تیرے بھائی یا ماموں یا چچا یا کسی اجنبی کو دینا کہا تو کچھ نہیں )(۹۵)مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا یا نہیں (۹۶)میں تیرے نکاح سے بیزار ہوں (۹۷) بری ہوں (۹۸)مجھ سے دور ہو(۹۹)مجھے صورت نہ دکھا (۱۰۰)کنارے ہو (۱۰۱)تو نے مجھ سے نجات پائی (۱۰۲)الگ ہو(۱۰۳)میں نے تیرا پاؤں کھولدیا(۱۰۴)میں نے تجھے آزاد کیا (۱۰۵)آزاد ہو جا(۱۰۶)تیری بند کٹی(۱۰۷)تو بے قید ہے (۱۰۸) میں تجھ سے بری ہوں (۱۰۹)اپنا نکاح کر(۱۱۰)جس سے چاہے نکاح کرلے (۱۱۱)میں تجھ سے بیزارہوا(۱۱۲)میرے لئے تجھ پر نکاح نہیں (۱۱۳)میں نے تیرا نکاح فسخ کیا(۱۱۴)چاروں راہیں تجھ پر کھولدیں ( اور اگر یوں کہا کہ چاروں راہیں تجھ پر کھلی ہیں تو کچھ نہیں جب تک یہ نہ کہے کہ جو راستہ چاہے اختیار کر)(۱۱۶)میں تجھ سے دست بردار ہوا(۱۱۷)میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا باپ یا ماں کو واپس دیا(۱۱۸)تو میری عصمت سے نکل گئی (۱۱۹)میں نے تیری ملک سے شرعی طور پر اپنانام اتار دیا(۱۲۰)تو قیامت تک یا عمر بھر میرے لائق نہیں (۱۲۱)تو مجھ سے ایسی دور ہے جیسے مکہ معظمہ مدینہ طیبہ سے یا دلی لکھنؤسے (فتاوی رضویہ )

مسئلہ۱: ان الفاظ سے طلاق نہ ہوگی اگر چہ نیت کرے مجھے تیرے حاجت نہیں ۔مجھے تجھ سے سروکار نہیں ۔تجھ سے مجھے کام نہیں ۔ غرض نہیں ۔ مطلب نہیں ۔ تو مجھے درکار نہیں ۔تجھ سے مجھے رغبت نہیں ۔میں تجھے نہیں چاہتا ۔ ( فتاوی رضویہ)

مسئلہ۲: کنایہ کے ان الفاظ سے ایک بائن طلاق ہو گی اگر بہ نیت طلاق بولے گئے اگر چہ بائن کی نیت نہ ہو اور دو(۲) کی نیت کی جب بھی وہی ایک واقع ہوگئی مگر جبکہ زوجہ باندی ہوتو دو (۲)کی نیت صحیح ہے اور تین کی نیت کی تو تین واقع ہونگی۔ (درمختار ردالمحتار)

مسئلہ۳: مدخولہ کو ایک طلاق دی تھی پھر عدت میں کہا کہ میں نے اسے بائن کر دیا یا تین تو بائن یا تین واقع ہو جائیں گی اور اگر عدت یا رجعت کے بعد ایسا کہا تو کچھ نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ۴: صریح صریح کو لاحق ہوتی ہے یعنی پہلے صریح لفظوں سے طلاق دی پھر عدت کے اندر دوسری مرتبہ طلاق کے صریح لفظ کہے تو اس سے دوسری واقع ہو گی یونہی بائن کے بعد بھی صریح لفظ سے واقع کرسکتا ہے جبکہ عورت عدت میں ہو اور صریح سے مراد یہاں وہ ہے جس میں نیت کی ضرورت نہ ہو اگر چہ اس سے طلاق بائن پڑے اور عدت میں صریح کے بعد بائن طلاق دے سکتا ہے۔ اور بائن بائن کو لاحق نہیں ہو تی جبکہ یہ ممکن ہو کہ دوسری کو پہلی کی خبر دینا کہہ سکیں مثلاًپہلے کہا تھا کہ تو بائن ہے اس کے بعد پھر یہی لفظ کہاتو اس سے دوسری واقع نہ ہو گی کہ یہ پہلی طلاق کی خبر ہے یا دوبارہ کہا میں نے تجھے بائن کر دیا ۔اور اگر دوسری کو پہلے سسے خبر دینا نہ کہہ سکیں مثلاً پہلے طلاق بائن دی پھر کہا میں نے دوسری بائن دی تو اب دوسری طلاق پڑے گی ۔ یونہی پہلی صورت میں بھی دو(۲) واقع ہونگی جبکہ دوسری سے دوسری طلاق کی نیت ہو۔ ( درمختار ردالمحتار)

مسئلہ۵: بائن کو کسی شرط پر معلق کیا یا کسی وقت کی طرف مضاف کیا اور اس شرط یا وقت کے پائے جانے سے پہلے طلاق بائن دیدی مثلاًیہ کہا اگر تو آج گھر میں گئی تو بائن ہے یا کل تجھے طلاق بائن ہے پھر گھر میں جانے اور کل آنے سے پہلے ہی طلاق بائن دیدی تو طلاق ہو گئی پھر عدت کے اندر شرط پائی جانے اور کل آنے سے ایک طلاق اور پڑیگی ۔ (درمختار)

مسئلہ۶: اگر عورت کو طلاق بائن دی یا اس سے خلع کیا اسکے بعد کہا تو گھر میں گئی تو بائن ہے تو اب طلاق واقع نہ ہوگی اوراگر دوشرطوں پر طلاق بائن معلق کی مثلاً کہا اگر تو گھر میں جائے تو بائن ہے اور اگر میں فلاں سے کلام کروں تو تو بائن ہے ان دونوں باتوں کے کہنے کے بعد اب وہ گھر میں گئی تو ایک طلاق پڑی پھر اگر اس شخص سے عدت میں شوہر نے کلام کیا تو دوسری پڑی یوہیں اگر پہلے کلام کیا پھر گھر میں گئی جب بھی دو واقع ہونگی اور اگر پہلے ایک شرط پر معلق کی پھر اس کے پائے جانے کے بعد دوسری شرط پر معلق کی دوسری کے پائے جانے پر طلاق نہ ہوگی۔( درمختار ردالمحتار عالمگیری)

مسئلہ۷: قسم کھائی کہ عورت کے پاس نہ جائے گاپھر چار مہینے گزر نے سے پہلے بہ نیت طلاق اسے بائن کہا یا اس سے خلع کیا تو طلاق واقع ہو گئی پھر قسم کھانے سے چار مہینے تک اسکے پاس نہ گیا تو یہ دوسری طلاق ہوئی اور اگر پہلے خلع کیا پھر کہا تو بائن ہے تو واقع نہ ہوگی۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۸: یہ کہا کہ میری ہر عورت کو طلاق ہے یا اگر یہ کام کروں تو میری عورت کو طلاق ہے تو جس عورت سے خلع کیا ہے یا جو طلاق بائن کی عدت میں ہے ان لفظوں سے اسے طلاق نہ ہوگی۔ (درمختار)

مسئلہ۹: جو فرقت ہمیشہ کے لئے ہو یعنی جس کہ وجہ سے اس سے کبھی نکاح نہ ہو سکتا ہو جیسے حرمت مصاہرت و حرمت رضاع تو اس عورت پر عدت میں بھی طلاق نہیں ہو سکتی یونہی اگر اس کی عورت کنیز تھی اس کو خرید لیا تو اب اسے طلاق نہیں دے سکتا کہ وہ نکاح سے بالکل نکل گئی۔ (عالمگیری)

مسئلہ۱۰: زن و شوہر میں سے کوئی معاذاللہ مرتد ہو ا مگر دارالاسلام میں رہا تو طلاق ہو سکتی ہے اور اگر دارالحرب کو چلا گیا تو اب طلاق نہیں ہو سکتی اور مرد مرتد ہو کر دارالحرب کو چلا گیا تھا پھر مسلمان ہو کر واپس آیا اور عورت ابھی عدت میں ہے تو طلاق دے سکتا ہے اور عورت اگر چہ واپس آجائے طلاق نہیں ہو سکتی ۔(ردالمحتار)

مسئلہ۱۰: خیار بلوغ یعنی بالغ ہوتے ہی نکاح سے ناراضی ظاہر کی اور خیار عتق کہ آزاد ہو کر تفریق چاہی ان دونوں کے بعد طلاق نہیں ہو سکتی ۔ (درمختار)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button