بہار شریعت

طلاق سے رجوع کرنے کے متعلق مسائل

طلاق سے رجوع کرنے کے متعلق مسائل

اللہ عزوجل فرماتا ہے ۔

وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادو آ اصلاحًا ۔

(مطلقات رجعیہ کے شوہروں کو عدت میں واپس کرلینے کا حق ہے اگر اصلاح مقصود ہو)

اور فرماتا ہے ۔

واذاطلقتم النسا ئ فبلغن اجلھن فامسکو ھن بمعروفٍ ۔

( جب عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کو خوبی کیساتھ روک سکتے ہو )

حدیث ۱: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی زوجہ کو طلاق دی تھی حضور اقدس ﷺ کو جب اسکی خبر پہنچی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا کہ ان کو حکم کرو کہ رجعت کر لیں ۔

مسئلہ۱: رجعت کے یہ معنی ہیں کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی ہو عدت کے اندر اسے اسی پہلے نکاح پر باقی رکھنا ۔

مسئلہ۲: رجعت اسی عورت سے ہو سکتی ہے جس سے وطی کی ہواگر خلوت صحیحہ ہوئی مگر جماع نہ ہوا تو نہیں ہو سکتی اگر چہ اسے شہوت کے ساتھ چھوا یا شہوت کے ساتھ فرج داخل کی طرف نظر کی ہو ۔ ( درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ۳: شوہر دعوی کرتا ہے کہ یہ عورت میری مدخولہ ہے تو اگر خلوت ہوچکی ہے رجعت کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴: رجعت کو کسی شرط پر معلق کیا یا آئندہ زمانہ کی طرف مضاف کیا مثلاً اگر تو گھر میں گئی تو میرے نکاح میں واپس ہو جائے گی یا کل تو میرے نکاح میں واپس آجائے گی تو یہ رجعت نہ ہوئی اور اگر مذاق یا کھیل یا غلطی سے رجعت کے الفاظ کہے تو رجعت ہوگئی ۔( بحر)

مسئلہ۵: کسی اور نے رجعت کے الفاظ کہے اور شوہر نے جائز کر دیا تو ہوگئی ۔( ردالمحتار)

مسئلہ۶: رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور عورت کو بھی اس کی خبر کردے کہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے اور اگر کرلیا تو تفریق کردی جائے اگرچہ دخول کر چکا ہو کہ یہ نکاح نہ ہوا ۔ اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کئے یا گواہ بھی کئے مگر عورت کو خبر نہ کی تو مکروہ خلاف سنت ہے مگر رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے۔ اسے چاہیئے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے ۔(جوہرہ)

مسئلہ۷: شوہر نے رجعت کرلی مگر عورت کو خبر نہ کی اس نے عدت پوری کرکے کسی سے نکاح کرلیا اور رجعت ثابت ہوجائے تو تفریق کردی جائے گی اگر چہ دوسر ا دخول بھی کر چکا ہو ۔( درمختار)

مسئلہ۸: رجعت کے الفاظ یہ ہیں میں نے تجھ سے رجعت کی یا اپنی زوجہ سے رجعت کی یا تجھ کو واپس لیا ۔ یا روک لیا یہ سب صریح الفاظ ہیں کہ ان میں بلا نیت بھی رجعت ہو جائیگی ۔ یا کہا تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی تھی یا تو میری عورت ہے تو اگر بہ نیت رجعت یہ الفاظ کہے ہوگئی ورنہ نہیں اور نکاح کے الفاظ سے بھی رجعت ہو جاتی ہے ۔(عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ۹: مطلقہ سے کہا تجھ سے ہزار روپے مہر پر میں نے رجعت کی اگر عورت نے قبول کیا تو ہو گئی ورنہ نہیں ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۰: جس فعل سے حرمت مصاہرت ہوتی ہے اس سے رجعت ہوجائیگی مثلاً وطی کرنا یا شہوت کے ساتھ مونہہ یا رخسار یا ٹھوڑی یا پیشانی یا سر کا بوسہ لینا یا بلاحائل بدن کو شہوت کے ساتھ چھونا یا حائل ہو تو بدن کی گرمی محسوس ہو یا فرج داخل کی طرف شہوت کے ساتھ نظر کرنا اور اگر یہ افعال شہوت کے ساتھ نہ ہوں تو رجعت نہ ہوگی اور شہوت کے ساتھ بلا قصد رجعت ہوں جب بھی رجعت ہو جائے گی ۔اور بغیر شہوت بوسہ لینا یا چھونا مکروہ ہے جبکہ رجعت کا ارادہ نہ ہو یونہی اسے برہنہ دیکھنا بھی مکروہ ہے ۔(عالمگیری‘ ردالمحتار)

مسئلہ۱۱: عورت نے مرد کا بوسہ لیا یا چھوا خواہ مرد نے عورت کو اس کی قدرت دی تھی یا غفلت میں یا زبردستی عورت نے ایسا کیایا مرد سورہا تھا یا بوہرا یا مجنون ہے اور عورت نے ایسا کیا جب بھی رجعت ہوگئی جبکہ مرد تصدیق کرتا ہو کہ اس وقت شہوت تھی اوراگر مرد شہوت ہونے یا نفس فعل ہی سے انکار کرتا ہو تو رجعت نہ ہوئی اور مرد مرگیا ہو تو اس کے ورثہ کی تصدیق یا انکار کا اعتبارہے ۔(درمختار)

مسئلہ۱۲: مجنون کی رجعت فعل سے ہوگی قول سے نہیں اوراگر مرد سورہا تھا یا مجنون ہے اور عورت نے اپنی شرمگاہ میں اس کا عضو داخل کرلیا تو رجعت ہوگئی ۔(عالمگیری)

مسئلہ۱۳: عورت نے مرد سے کہا میں نے تجھ سے رجعت کرلی تو یہ رجعت نہ ہوئی ۔( عالمگیری)

مسئلہ۱۴: محض خلوت سے رجعت نہ ہوگی اگر چہ صحیحہ ہواور پیچھے کے مقام میں وطی کرنے سے بھی رجعت ہو جائے گی اگر چہ یہ حرام اور سخت حرام ہے اور اس کی طرف بشہوت نظر کرنے سے نہ ہوگی ۔(عالمگیری ‘درمختار)

مسئلہ۱۵: عدت میں اس سے نکاح کر لیا جب بھی رجعت ہو جائے گی۔ ( درمختار)

مسئلہ۱۶: رجعت میں عورت کی رضا کی ضرورت نہیں بلکہ اگر وہ انکار بھی کرے جب بھی ہو جائے گی بلکہ اگر شوہر نے طلاق دینے کے بعد کہہ دیا ہو کہ میں نے رجعت باطل کردی یا مجھے رجعت کا اختیار نہیں جب بھی رجعت کر سکتا ہے ۔(درمختار)

مسئلہ۱۷: عورت کو مہر مؤجل بطلاق تھا ( یعنی طلاق ہونے کے بعد مہر کا مطالبہ کریگی )ایسی صورت میں اگر شوہر نے طلاق رجعی دی تو اب میعاد پوری ہوگئی عورت عدت کے اندر مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے اور رجعت کرلینے سے مطالبہ ساقط نہ ہوگا۔( درمختار)

مسئلہ۱۸: زوج و زوجہ دونوں کہتے ہیں کہ عدت پوری ہوگئی مگر رجعت میں اختلاف ہے ایک کہتا ہے کہ رجعت ہوئی اور دوسرا منکر ہے تو زوجہ کا قول معتبر ہے اور قسم کھلانے کی حاجت نہیں اور عدت کے اندر یہ اختلاف ہوا تو زوج کا قول معتبر ہے اور اگر عدت کے بعد شوہر نے گواہوں سے ثابت کیا کہ میں نے عدت میں کہا تھا کہ میں نے اسے واپس لیا یا کہا تھا کہ میں اس سے جماع کیا تو رجعت ہوگئی ۔( ہدایہ ‘بحر وغیرہ ہما)

مسئلہ۱۹: عدت پوری ہونے کے بعد کہتا ہے کہ میں نے عدت میں رجعت کرلی ہے اور عورت تصدیق کرتی ہے تو رجعت ہوگئی اور تکذیب کرتی ہے تو نہیں ۔ ( ہدایہ)

مسئلہ۲۰: زوج و زوجہ متفق ہیں کہ جمعہ کے دن رجعت ہوئی مگر عورت کہتی ہے میری عدت جمعرات کو پوری ہوئی تھی اورشوہر کہتا ہے ہفتہ کے دن تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۲۱: عورت سے عدت میں کہا میں نے تجھے واپس لیا اس نے فوراً کہا میری عدت ختم ہو چکی اور طلاق کو اتنا زمانہ ہو چکا ہے کہ اتنے دونوں میں عدت پوری ہوسکتی ہے تو رجعت نہ ہوئی مگر عورت سے قسم لی جائے گی کہ اس وقت عدت پوری ہوچکی تھی اگر قسم کھانے سے انکار کریگی تو رجعت ہو جائے گی ۔اور اگر طلاق کو اتنا زمانہ نہیں ہو ا کہ عدت پوری ہو سکے تو رجعت ہوگئی البتہ اگر عورت کہتی ہے کہ میرے بچہ پیدا ہوا اور اسے ثابت بھی کردے تو مدت کا لحاظ نہ کیا جائے گا اور اگر جس وقت شوہر نے رجعت کے الفاظ کہے عورت چپ رہی پھر بعد میں کہا کہ میری عدت پوری ہوچکی تو رجعت ہوگئی ۔( درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ۲۲: باندی کے شوہر نے عدت گزرنے کے بعد کہا میں نے عدت میں رجعت کرلی تھی مولی اس کی تصدیق کرتا ہے اور باندی تکذیب اور شوہر کے پاس گواہ نہیں یا باندی کہتی ہے میری عدت گزر چکی تھی اور شوہر و مولی دونوں انکار کرتے ہیں تو ان دونوں صورتوں میں باندی کا قول معتبر ہے اور اگر مولی شوہر کی تکذیب کرتا ہے اور باندی تصدیق تو مولی کا قول معتبر ہے ۔اور اگر دونوں شوہر کی تصدیق کرتے ہیں تو کوئی اختلاف ہی نہیں ۔ اور دونوں تکذیب کرتے ہوں تو رجعت نہیں ہوئی ۔( درمختار‘ ردالمحتار ) اور اگر مولی کہتا ہے تو نے رجعت کی ہے اور شوہر منکر ہے تو مولی کا قول معتبر نہیں ۔( جوہرہ)

مسئلہ۲۳: عورت نے پہلے کہا کہ میری عدت پوری ہو چکی اب کہتی ہے کہ پوری نہیں ہوئی تو شوہر کو رجعت کا اختیار ہے ۔( تنویر )

مسئلہ۲۴: عورت عدت پوری ہونا بتائے تو مدت کا لحاظ ضروری ہے یعنی اتنا زمانہ گزر چکا ہو کہ عدت پوری ہوسکتی ہو یعنی اس زمانہ میں تین حیض پورے ہو سکیں اوراگر وضع حمل سے عدت ہو تو اس کیلئے کوئی مدت نہیں اگر کچا بچہ ہوا جس کے اعضا بن چکے ہوں جب بھی عدت پوری ہو جائیگی مگر اس میں عورت سے قسم لی جائیگی کہ اس کے اعضا بن چکے تھے اوراگر ولادت کا دعوی کرتی ہے تو گواہ ہونے چاہیے ۔(درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۲۵: عورت سے کہا اگرمیں تجھے چھوؤں تو تجھ کو طلاق ہے اور چھوا تو طلاق ہوگئی پھر دوبارہ چھوا تو رجعت ہوگئی جبکہ یہ شہوت کے ساتھ ہو۔( عالمگیری)

مسئلہ۲۶: اپنی عورت سے کہا اگر میں تجھے چھوؤں تو تجھ کو طلاق ہے تو مراد رجعت حقیقی ہے یعنی اگر اسے طلاق دی پھر نکاح کیا تو طلاق واقع نہ ہوگی اوراگر رجعت کی تو ہو جائے گی ۔اور طلاق رجعی کی عدت میں اس سے کہا کہ اگر میں رجعت کروں تو تجھ کو تین طلاقیں اور عدت پوری ہونے کے بعد اس سے نکاح کیا تو طلاق نہیں ہوگی اور بائن کی عدت میں کہا تو ہو جائے گی۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۲۷: رجعت اس وقت تک ہے کہ پچھلے حیض سے پاک نہ ہوئی ہو اس کے بعد نہیں ہوسکتی یعنی اگر باندی ہے تو دوسرے حیض سے پاک ہونے تک اور آزاد عورت ہے تو تیسرے سے پاک ہونے تک رجعت ہے اب اگر پچھلا حیض پورے دس(۱۰)دن پر ختم ہوا ہے تو دس(۱۰)دن رات پورے ہوتے ہی رجعت کا بھی خاتمہ ہے اگر چہ غسل ابھی نہ کیا ہو۔اور دس(۱۰) دن رات سے کم میں پاک ہوئی تو جب تک نہا نہ لے یا نماز کا ایک وقت نہ گزرلے رجعت ختم نہیں ہوئی۔ اور اگر گدھے کے جھوٹے پانی سے نہائی جب بھی رجعت نہیں کر سکتا مگر اس غسل سے نماز نہیں پڑھ سکتی نہ ابھی دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے جب تک غیر مشکوک پانی سے نہا نہ لے یا نماز کا وقت نہ گزرلے ۔اور اگر وقت اتنا باقی ہے کہ نہا کر تحریمہ باندھ لے تو اس وقت کے ختم ہونے پر رجعت بھی ختم ہے ۔اور اگر اتناخفیف وقت باقی ہے کہ نہانہیں سکتی یا نہاسکتی ہے مگر غسل اور کپڑا پہننے کے بعد اللہ اکبر کہنے کا بھی وقت نہ رہے گا تو اس وقت کا اعتبار نہیں بلکہ یا نہالے یا اس کے بعد کا دوسرا وقت گزرلے۔ اور اگر ایسے وقت میں خون بند ہوا کہ وہ وقت فرض نماز کا نہیں یعنی آفتاب نکلنے سے ڈھلنے تک تو اس کا بھی اعتبار نہیں بلکہ اسکے بعد کا وقت ختم ہوجائے یعنی ظہر کا۔ اور اگر دس (۱۰) دن رات سے کم میں خون بند ہوا اور عورت نے غسل کرلیا پھر خون جاری ہو گیا اور دس دن سے تجاوز نہ ہو تو ابھی رجعت ختم نہ ہوئی تھی اور اگر عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیا تھا تو نکاح صحیح نہ ہوا۔ یونہی اگر غسل یا نمازکا وقت گزرنے سے پہلے اس صورت میں نکاح دوسرے سے کیا جب بھی نکاح نہ ہوا۔(درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ۲۸: کسی عورت کو کبھی پانچ دن خون آتا ہے اور کبھی چھ دن اور اس بار استحاضہ ہوگیا یعنی دس دن سے زیادہ آیا تو رجعت کے حق میں پانچ دن کااعتبار ہے کہ پانچ دن پورے ہونے پر رجعت نہ ہوگی اور دوسرے سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس حیض کے چھ دن پورے ہونے پر کر سکتی ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۲۹: عورت اگر کتابیہ ہے تو پچھلا حیض ختم ہوتے ہی رجعت ختم ہو گئی غسل و نماز کا وقت گزرنا شرط نہیں ۔( عالمگیری) مجنونہ اور معتوہہ کا بھی یہی حکم ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۳۰: دس دن رات سے کم میں منقطع ہو اور نہ نہائی نہ نماز کا وقت ختم ہوا بلکہ تیمم کرلیا تو رجعت منقطع نہ ہوئی ہاں اگر اس تیمم سے پوری نماز پڑھ لی تو اب رجعت نہیں ہو سکتی اگر چہ وہ نماز نفل ہواور اگر ابھی نماز پوری نہیں ہوئی ہے بلکہ شروع کی ہے تو رجعت کر سکتا ہے اور اگر تیمم کرکے قرآن مجید پڑھا یا مصحف شریف چھوایا مسجد میں گئی تو رجعت ختم نہ ہوئی ۔( فتح وغیرہ)

مسئلہ۳۱: غسل کیا اور کوئی جگہ ایک عضو سے کم مثلاً بازو یا کلائی کا کچھ حصہ یا دو ایک انگلی بھول گئی جہاں پانی پہنچنے نہ پہنچنے میں شک ہے تو رجعت ختم ہوگئی مگر دوسرے سے نکاح اس وقت کر سکتی ہے کہ اس جگہ کو دھولے یا نماز کا وقت گزر جائے ۔اور اگر یقین ہے کہ وہاں پانی نہیں پہنچاہے یا قصد ًا اس جگہ کو چھوڑ دیا تو رجعت ہو سکتی ہے اور اگر پورا عضوجیسے ہاتھ پاؤں بھولی تو رجعت ہو سکتی ہے کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا دونوں ملکر ایک عضو ہیں اور ہر ایک ایک عضو سے کم ۔ ( درمختار ردالمحتار وغیرہما)

مسئلہ۳۲: حاملہ کو طلاق دی اور اس کی وطی سے منکر ہے اور رجعت کرلی پھر چھ مہینے سے کم میں بچہ پیدا ہو مگر وقت نکاح سے چھ (۶) مہینے یا زیادہ میں ولادت ہوئی تو رجعت ہوگئی ۔ ( شرح وقایہ)

مسئلہ۳۳: نکاح کے بعد چھ (۶) مہینے یا زیادہ کے بعد بچہ پیدا ہوا پھر اسے طلاق دی اور وطی سے انکار کرتا ہے تو رجعت کر سکتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو چکا شرعاً وطی ثابت ہے اس کا انکار بیکار ہے ۔( درمختار )

مسئلہ۳۴: اگر خلوت ہوچکی ہے مگر وطی سے انکار کرتا ہے پھر طلاق دی تو رجعت کر سکتا اور اگر شوہر وطی کا اقرار کرتا ہے مگر عورت منکر ہے اور خلوت ہوچکی ہے تو رجعت کر سکتا ہے اور خلوت نہیں ہوئی تو نہیں ۔( درمختار)

مسئلہ۳۵: عورت سے کہا اگر تو جنے تو تجھ کو طلاق ہے اس کے بچہ پیدا ہو طلاق ہوگئی پھر چھ (۶) مہینے یا زیادہ میں دوسرا بچہ پیدا ہوا تو رجعت ہوگئی اگر چہ دوسرا بچہ دو (۲) برس سے زیادہ میں پیدا ہوا کہ اکثر مدت حمل دو(۲) برس ہے اور اس صورت میں عدت حیض سے ہے تو ہو سکتا ہے کہ زیادہ دنوں کے بعد حیض آیا اور عدت ختم ہونے سے پیشتر شوہر نے وطی کی ہو۔ ہاں اگر عورت عدت گزرنے کا اقرار کرچکی ہو تو مجبوری ہے۔ اور اگر دوسرا بچہ پہلے بچہ سے چھ (۶) مہینے سے کم میں پیدا ہوا تو بچہ پیدا ہونے کے بعد رجعت نہیں ۔( درمختار)

مسئلہ۳۶: طلاق رجعی کی عدت میں عورت بناؤ سنگار کرے جبکہ شوہر موجود ہو اور عورت کو رجعت کی امید ہو اور اگر شوہر موجودنہ ہو یا عورت کو معلوم ہو کہ رجعت نہ کریگا تو تزین نہ کرے ۔اور طلاق بائن اور وفات کی عدت میں زینت حرام ہے اور مطلقہ رجعیہ کو سفر میں نہ لیجائے بلکہ سفر سے کم مسافت تک بھی نہ لیجائے جب تک رجعت پر گواہ نہ قائم کرلے یہ اس وقت ہے کہ شوہر نے صراحتہً رجعت کی نفی کی ہو ورنہ سفر میں لے جانا ہی رجعت ہے ۔( درمختار وغیرہ)

مسئلہ۳۷: شوہر کو چاہیے کہ جس مکان میں عورت ہے جب وہاں جائے تو اسے خبر کردے یا کھنکار کر جائے یا اس طرح چلے کہ جوتے کی آوازعورت سنے یہ اس صورت میں ہے کہ رجعت کا اردہ نہ ہو۔ یونہی جب رجعت کا ارادہ نہ ہو تو خلوت بھی مکروہ ہے اور رجعت کا ارادہ ہے تو مکروہ نہیں اور رجعت کا ارادہ ہوتو اس کی باری بھی ہے ورنہ نہیں ۔( درمختار عالمگیری وغیرہما)

مسئلہ۳۸: عورت باندی تھی اسے طلاق دیدی اور حرہ سے نکاح کر لیا تو اس سے رجعت کر سکتا ہے ۔( عالمگیری )

مسئلہ ۳۹: جس عورت کو تین سے کم طلاق بائن دی ہے اس سے عدت میں بھی نکاح کر سکتاہے اور بعد عدت بھی اور تین طلاقیں دی ہوں یا لونڈی کو دو تو بغیر حلالہ نکاح نہیں کر سکتا اگر چہ دخول نہ کیا ہو البتہ اگر غیر مدخولہ ہو تو تین طلاق ایک لفظ سے ہوگی تین لفظ سے ایک ہی ہوگی جیسا پہلے معلوم ہو چکا۔ اور دوسرے سے عدت کے اندر مطلقاً نکاح نہیں کر سکتی تین طلاقیں دی ہوں یا تین سے کم ۔(عامہ کتب )

مسئلہ۴۰: حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت مدخولہ ہے تو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور یہ شوہر ثانی اس عورت سے وطی بھی کرلے اب اس شوہر ثانی کے طلاق یا موت کے بعد عدت پوری ہونے پر شوہر اول سے نکاح ہو سکتا ہے اور اگر عورت مدخولہ نہیں ہے تو پہلے شوہر کے طلاق دینے کے بعد فوراًدوسرے سے نکاح کر سکتی ہے کہ اس کے لئے عدت نہیں ۔( عامہ کتب)

مسئلہ۴۱: پہلے شوہر کے لئے حلال ہونے میں نکاح صحیح نافذ کی شرط ہے اگر نکاح فاسد ہوا یا موقوف اور وطی بھی ہوئی تو حلالہ نہ ہوامثلاًکسی غلام نے بغیر اجازت مولی اس سے نکاح کیا اور وطی بھی کر لی پھر مولی نے جائز کیا تو اجازت مولی کے بعد وطی کرکے چھوڑے گا تو پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے اور بلا وطی طلاق دی تو وہ پہلے کی وطی کافی نہیں ۔یونہی زنا یا وطی بالشبہ سے بھی حلالہ نہ ہوگا۔یونہی اگر وہ عورت کسی کی باندی تھی عدت پوری ہونے کے بعد مولی نے اس سے جماع کیا تو شوہر اول کے لئے اب بھی حلال نہ ہوئی اور اگر زوجہ باندی تھی اسے دو(۲)طلاقیں دیں پھر اس کے مالک سے خریدلی یا اور کسی طرح سے اس کا مالک ہو گیا تو اس سے وطی نہیں کرسکتا جب تک دوسرے سے نکاح نہ ہولے اوروہ دوسرابھی وطی نہ کرلے ۔یونہی اگر عورت معاذاللہ مرتدہ ہوکر دارالحرب میں چلی گئی پھر وہاں سے جہاد میں پکڑ آئی اور شوہر اس کا مالک ہو گیا تو اس کے لئے حلال نہ ہوئی۔ حلالہ میں جو وطی شرط ہے اس سے مراد وہ وطی ہے جس سے غسل فرض ہو جاتا ہے یعنی دخول حشفہ اور انزال شرط نہیں ۔( درمختار عالمگیری وغیرہما)

مسئلہ۴۲: عورت حیض میں ہے یا احرام باندھے ہوئے ہے اس حالت میں شوہر ثانی نے وطی کی تو یہ وطی حلالہ کے لئے کافی ہے اگر چہ حیض کی حالت میں وطی کرنا بہت سخت حرام ہے ۔ ( ردالمحتار)

مسئلہ۴۳: دوسرا نکاح مراہق سے ہوا ( یعنی ایسے لڑکے سے جو نا بالغ ہے مگر قریب بلوغ ہے اور اس کی عمر والے جماع کرتے ہیں )اور اس نے وطی کی اور بعد بلوغ طلاق دی تو وہ وطی کہ قبل بلوغ کی تھی حلالہ کے لئے کافی ہے مگر طلاق بعد بلوغ ہونی چاہیے کہ نابالغ کی طلاق واقع ہی نہ ہوگی مگر بہتر یہ ہے کہ بالغ کی وطی ہو کہ امام مالک رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک انزال شرط ہے اور نا بالغ میں انزال کہاں ۔( درمختارردالمحتار)

مسئلہ۴۴: اگر مطلقہ چھوٹی لڑکی ہے کہ وہ وطی کے قابل نہیں تو شوہر ثانی اس سے وطی کر بھی لے جب بھی شوہر اول کے لیئے حلال نہ ہوئی اور اگر نابالغہ ہے مگر اس جیسی لڑکی سے وطی کی جاتی ہے یعنی وہ اس قابل ہے تو وطی کافی ہے ۔( درمختار)

مسئلہ۴۵: اگر عورت کے آگے اور پیچھے کا مقام ایک ہو گیا ہے تو محض وطی کافی نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ حاملہ ہو جائے یوہیں اگر ایسے شخص سے نکاح ہوا جس کا عضو تناسل کٹ گیا ہے تو اس میں بھی حمل شرط ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ۴۶: مجنون یا خصی سے نکاح ہوا اور وطی کی تو شوہر اول کے لیئے حلال ہوگئی ۔ ( درمختار)

مسئلہ۴۷: کتا بیہ عورت مسلماں کے نکاح میں تھی اسے طلاق دی اور اس نے کسی کتابی سے نکاح کیا اور حلالہ کے تما م شرائط پائے گئے تو شوہر اول کیلئے حلال ہو گئی ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۸: پہلے شوہر نے تین طلاقیں دیں عورت نے دوسرے سے نکاح کیا بغیر وطی اس نے بھی تین طلاقیں دیں عورت نے دوسرے سے نکاح کیا بغیر وطی اس نے بھی تین طلاقیں دیدیں پھر عورت نے تیسرے سے نکاح کیا اس نے وطی کرکے طلاق دی تو پہلے اور دوسرے دونوں کے لئے حلال ہو گئی یعنی اب پہلے یا دوسرے جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے ۔(عالمگیری)

مسئلہ۴۹: بہت زیادہ عمر والے سے نکاح کیا جو وطی پر قادر نہیں ہے اس نے کسی ترکیب سے عضو تناسل داخل کر دیا تو یہ وطی حلالہ کیلئے کافی نہیں ہا ں اگر آلہ میں کچھ انتشار پایا گیا اور دخول ہو گیا تو کافی ہے۔( فتح وغیرہ)

مسئلہ۵۰: عورت سورہی تھی یا بیہوش تھی شوہر ثانی نے اس حالت میں اس سے وطی کی یہ وطی حلالہ کے لیئے کافی ہے ۔(درمختار)

مسئلہ۵۱: عورت کو تین طلاقیں دی تھیں اب وہ آکر شوہر اول سے یہ کہتی ہے کہ عدت پوری ہونے کے بعد میں نے نکاح کیااور اس نے جماع بھی کیا اور طلاق دیدی اور یہ عدت بھی پوری ہو چکی اور پہلے شوہر کو طلاق دیئے اتنا زمانہ گزر چکا ہے کہ یہ سب باتیں ہو سکتی ہیں تو اگر عورت کو اپنے گمان میں سچی سمجھتا ہے تو اس سے نکاح کر سکتا ہے ۔ ( ہدایہ) اور اگر عورت فقط اتنا ہی کہے کہ میں حلال ہو گئی تو اس سے نکاح حلال نہیں جب تک سب باتیں پوچھ نہ لے ۔( عالمگیری)

مسئلہ ۵۲: عورت کہتی ہے کہ شوہر ثانی نے جماع کیا ہے اور شوہر ثانی انکار کرتا ہے تو شوہر اول کو نکاح جائز ہے اور شوہر ثانی کہتا ہے کہ میں نے جماع کیا ہے اور عورت انکار کرتی ہے تو نکاح جائز نہیں اور اگر عورت اقرار کرتی ہے اور شوہر اول نے نکاح کے بعد کہا کہ شوہر ثانی نے جماع نہیں کیا ہے تو دونوں میں تفریق کردی جائے اور اگر شوہر اول سے نکاح ہو جانے کے بعد عورت کہتی ہے میں نے دوسرے سے نکاح کیا ہی نہ تھا اور شوہر کہتا ہے کہ تو نے دوسرے سے نکاح کیا اور اس نے وطی بھی کی تو عورت کی تصدیق نہ کی جائے اور اگر شوہر ثانی عورت سے کہتا ہے کہ میرا نکاح تجھ سے فاسد ہوا کہ میں نے تیری ماں سے جماع کیا ہے اگر عورت اسکے کہنے کو سچ سمجھتی ہے تو عورت شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوئی ۔(عالمگیری)

مسئلہ۵۲: کسی عورت سے نکاح فاسد کرکے تین طلاقیں دیدیں تو حلالہ کی حاجت نہیں بغیر حلالہ اس سے نکاح کر سکتا ہے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ۵۳: نکاح بشرط التحلیل جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد نکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی اور عورت تینوں گنہگار ہونگے مگر عورت اس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے لیئے حلال ہو جائیگی۔ اور شرط باطل ہے۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں ۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگر چہ نیت میں ہو تو کراہت اصلا ًنہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے ۔ ( درمختار وغیرہ)

مسئلہ۵۴ـ: اگر نکاح اس نیت سے کیا جارہا ہے کہ شوہر اول کے لئے حلال ہو جائے اور عورت یا شوہر اول کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نکاح کرکے طلاق نہ دے تو دقت ہوگی تو اس کے لئے بہتر حیلہ یہ ہے کہ اس سے یہ کہلوالیں کہ اگر میں اس عورت سے نکاح کرکے جماع کروں یا نکاح کرکے ایک رات سے زیادہ رکھوں تو اس پر بائن طلاق ہے اب عورت سے جماع کرتے ہی یا رات گزرنے پر طلاق پڑجائے گی یا یوں کرے کہ عورت یا اسکا وکیل یہ کہے کہ میں نے یا میرے مؤکلہ نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ مجھے یا اسے اپنے نفس کااختیار ہے کہ جب چاہے اپنے کو طلاق دے لے وہ کہے میں نے قبول کیا اب عورت کو طلاق دینے کا خود اختیار ہے ۔اور اگر پہلے زوج کی جانب سے الفاظ کہے گئے کہ میں نے اس عورت سے نکاح کیا اس شرط پر کہ اسے اس کے نفس کا اختیار ہے تو یہ شرط لغو ہے عورت کو اختیار نہ ہوگا۔(درمختار‘ ردالمحتار)

مسئلہ۵۵: دوسرے سے عورت نے نکاح کیا اور اس نے دخول بھی کیا پھر اس کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد شوہر اول سے اسکا نکاح ہوا تو اب شوہر اول تین طلاقوں کا مالک ہو گیا پہلے جو کچھ طلاق دے چکا تھا اس کا اعتبار اب نہ ہوگا ۔اور اگر شوہر ثانی نے دخول نہ کیا ہواور شوہر اول نے تین طلاقیں دی تھیں جب تو ظاہر ہے کہ حلالہ ہواہی نہیں پہلے شوہر سے نکاح ہی نہیں ہو سکتا اور تین سے کم دی تھی تو جو باقی رہ گئی ہے اسی کا مالک ہے تین کا مالک نہیں اور زوجہ لونڈی ہو تو اس کی دو طلاقیں حرہ کی تین کی جگہ ہیں ۔( عالمگیری درمختار)

مسئلہ۵۶: عورت کے پاس دوشخصوں نے گواہی دی کہ اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دیدیں اور شوہر غائب ہے تو عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے بلکہ اگر ایک شخص ثقہ نے طلاق کی خبر دی ہے جب بھی عورت نکاح کرسکتی ہے بلکہ اگر شوہر کا خط آیا جس میں اسے طلاق لکھی ہے اور عورت کا غالب گمان ہے کہ خط اسی کا ہے تو نکاح کرنے کی عورت کے لئے گنجائش ہے اور اگر شوہر موجود ہے اور دونوں میاں بی بی کی طرح رہتے ہیں تو اب نکاح نہیں کرسکتی ۔ ( عالمگیری ‘ردالمحتار)

مسئلہ۵۷: شوہر نے عورت کو تین طلاقیں دیدیں یا بائن طلاق دی مگر اب انکار کرتا ہے اور عورت کے پاس گواہ نہیں تو جس طرح ممکن ہو عورت اس سے پیچھا چھڑائے مہر معاف کرکے یا اپنا مال دیکر اس سے علیحدہ ہو جائے غرض جس طرح بھی ممکن ہو اس سے کنارہ کشی کرے اور کسی طرح وہ نہ چھوڑے تو عورت مجبور ہے مگر ہر وقت اسی فکر میں رہے کہ جس طرح ممکن ہو رہائی حاصل کرے اور پوری کو شش اس کی کرے کہ صحبت نہ کرنے پائے یہ حکم نہیں کہ خود کشی کرلے ۔عورت جب ان باتوں پر عمل کرے گی تو معذور ہے اور شوہر بہر حال گنہگار ہے ۔( درمختار مع زیادۃ)

مسئلہ۵۸: عورت کو اب تین طلاقیں دیں اور کہتا یہ ہے کہ اس سے پیشتر ایک طلاق دے چکا تھا اور عدت بھی ہو چکی تھی یعنی اس کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ عدت گزرنے پر عورت اجنبیہ ہوگئی لہذا یہ طلاقیں واقع نہ ہوئیں اور عورت بھی تصدیق کرتی ہے تو کسی کی تصدیق نہ کیجائے دونوں جھوٹے ہیں کہ ایسا تھا تو میاں بی بی کی طرح رہتے کیونکر تھے ہاں اگر لوگوں کو اسکا طلاق دینا اور عدت گزرجانا معلوم ہو تو اور بات ہے ۔ ( درمختار )

مسئلہ۵۹: شوہر تین طلاقیں دے کر انکاری ہو گیا عورت نے گواہ پیش کئے اور تین طلاق کو حکم دیا گیا اب کہتا ہے کہ پہلے ایک طلاق دے چکا تھا اور عدت گزر چکی تھی اور گواہ بھی پیش کرتا ہے تو گواہ بھی مقبول نہیں ۔( ردالمحتار )

مسئلہ۶۰: غیر مدخولہ کو دو(۲) طلاقیں دیں اور کہتا ہے کہ ایک پہلے دے چکا ہے تو تین قرار پائیں گی۔( درمختار)

مسئلہ۶۱: تین طلاقیں کسی شرط پر معلق تھیں اور وہ شرط پائی گئی لہذا تین طلاقیں پڑگئیں عورت ڈرتی ہے کہ اگر اس سے کہے گی تو وہ سرے سے تعلیق ہی سے انکار کر جائے گا تو عورت کو چاہیے خفیہ حلالہ کرائے اور عدت پوری ہونے کے بعد شوہر سے تجدید نکاح کی درخواست کرے۔ ( عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button