ARTICLESشرعی سوالات

صرف نیت کر لینے سے احرام نہ ہو گا؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ایک حاجی صاحب نے مدینہ شریف سے آتے ہوئے احرام پہنا، ذوالحلیفہ سے نیت کی اور تلبیہ کہنا بھول گیا اور مکہ مکرمہ آ کر عمرہ ادا کیا، اب یاد آیا کہ میں نے تلبیہ ہی نہیں کہی تو اِس صورت میں کیا حکم ہے ؟

(السائل : ایک حاجی، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : حج و عمرہ میں احرام شرط ہے چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088ھ لکھتے ہیں :

و الحجُّ فرضُہ ثلاثۃٌ الإحرامُ و ہو شرطٌ ابتدائً (38)

یعنی، اور حج کے تین فرض ہیں (اُن میں سے پہلا فرض) احرام ہے اور وہ ابتداء ً شرط ہے ۔ اور احرام میں تلبیہ شرط ہے چنانچہ علامہ زین الدین محمد بن ابی بکر رازی حنفی متوفی 666ھ تلبیہ کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

و ہی مرّۃً شرطٌ، و الزّیادۃُ سنّۃٌ (39)

یعنی، اور تلبیہ ایک بار شرط ہے اور ایک بار سے زیادہ سنّت۔ اس لئے کوئی شخص حج یا عمرہ کی نیت کر لے مگر تلبیہ نہ کہے اور نہ ہی کوئی ایسا کام کرے کہ جسے شرع مطہرہ نے تلبیہ کے قائم مقام قرار دیا ہے تو وہ احرام والا نہ ہو گا چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں :

و لا یصیرُ شارعاً فی الإحرام بمجرَّدِ النیّۃ ما لم یأتِ بالتَّلبِیۃ (40)

یعنی، اور صرف نیت کر لینے سے احرام میں شروع ہونے والا نہ ہو گا جب تک تلبیہ نہ کہے ۔ اور علامہ شمس الدین احمد بن سلیمان ابن کمال پاشا حنفی متوفی 940 لکھتے ہیں :

لا یصیرُ مُحرماً بالنیَّۃ ما لم یأتِ بالتّلبیۃ أو ما یقومُ مقامَہا مِن ذکرٍ یقصد بہ التّعظیم فارسیۃً کانتْ أو عربیۃً خلافاً للشّافعی (41)

یعنی، نیت کرنے سے مُحرم نہ ہو گا جب تک تلبیہ نہ کہے یا وہ نہ لائے جو تلبیہ کے قائم مقام ہے جیسے وہ ذکر کہ جس سے تعظیم کا قصد کیا جائے ذکر چاہے فارسی میں ہو یا عربی میں بر خلاف امام شافعی کے ۔ لہٰذا اس شخص کا عمرہ ادا نہیں ہوا اُسے چاہئے کہ وہ کسی میقات کو لوٹے وہاں سے احرام باندھ کر آئے اور عمرہ ادا کرے ، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی 993ھ لکھتے ہیں :

مَن جاوزَ وقتَہ غیرَ مُحرمٍ ثمَّ أحرمَ أو لا فعلیہ العودُ إلی وقتٍ (42)

یعنی، جو شخص اپنی میقات سے بغیر احرام کے گزر گیا پھر اُس نے احرام باندھا یا نہ باندھا تو اُسے میقات کو لوٹنا واجب ہے ۔ اور اگر وہ میقات کو نہیں لوٹتا اور حِلّ سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرتا ہے تو اس پر دَم لازم ہو گا، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی اور ملاّ علی قاری لکھتے ہیں :

و إن لم یعد أی مطلقاً فعلیہ دمٌ أی لمجاوزۃِ الوقتِ (43)

یعنی، اور اگر مطلقاً نہ لوٹا تو اس پر میقات سے بغیر احرام کے گزرنے کا دَم لازم ہے ۔ اور اگر وہ میقات کو نہ لوٹااور نہ ہی عمرہ یا حج ادا کیا تو اس پر دَم یا احرام کے لئے میقات کو جانا اور عمرہ یا حج کی ادائیگی لازم آئے گی، چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی اور ملاّ علی قاری لکھتے ہیں :

مَن دخَلَ أی مِن أہلِ الآفاقِ مکّۃ أو الحرمَ بغیرِ إحرامٍ فعلیہ أحد النّسکَین أی مِن الججِّ أو العمرۃِ، و کذا دمُ المجاوزۃ أو العود (44)

یعنی، اہل آفاق میں سے جو مکہ یا حرم بغیر احرام کے داخل ہوا تو اُس پر دو نُسُک حج یا عمرہ میں سے ایک لازم ہے اسی طرح میقات سے بغیر احرام کے گزرنے کا دَم یا میقات کو احرام کے لئے لوٹنا لازم ہے ۔ اور جو عمرہ اس نے ادا کیا وہ ادا نہ ہوا کیونکہ اُس نے عمرہ کی نیت کرتے وقت تلبیہ نہ کہی اس طرح وہ احرام والا نہ ہوا، اس لئے کہ جو عمرہ اس نے کیا وہ بغیر احرام کے تھا اور بغیر احرام کے عمرہ یا حج ادا کرنے سے (عمرہ وحج) ادا نہیں ہوتے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الإثنین، 17ذو الحجۃ 1429ھ، 15دیسمبر2008 م 495-F

حوالہ جات

38۔ الدّر المختار شرح تنویر الأبصار، کتاب الحجّ، ص156

39۔ تحفۃُ المُلوک فی فقہ مذہب الإمام أبی حنیفۃ النّعمان، کتاب الحجّ، فصل حکمُ التّلبِیَۃِ، برقم : 278، ص158

40۔ بدایۃ المبتدی مع شرحہ، کتاب الحج، باب الإحرام، 1۔2/166

41۔ الإیضاح فی شرح الإصلاح، کتاب الحجّ، 1/241

42۔ لباب المناسک ، باب المواقیت، فصل : فی مجاوزہ المیقات بغیر إحرامٍ، ص81

43۔ لباب المناسک و شرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب المواقیت، فصل : فی مجاوزہ المیقات بغیر إحرامٍ، ص119

44۔ لباب المناسک و شرحہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب المواقیت، فصل : فی مجاوزہ المیقات بغیر إحرامٍ، ص123

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button