بہار شریعت

صدقۂ فطر کے متعلق مسائل

صدقۂ فطر کے متعلق مسائل

حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوۃ فطر ایک صاع خرما یا جو غلام و آزاد و مرد وعورت چھوٹے اور بڑے مسلمانوں پر مقرر کی اور یہ حکم فرما یا کہ نماز کوجانے سے پیشتر اداکرو۔

حدیث ۲: ابودائود ونسائی کی روایت میں ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے آخررمضان میں فرمایا اپنے روزے کا صدقہ کرو اس صدقہ کو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا ایک صاع خرما یا جو یا نصف گیہوں ۔

حدیث ۳: ترمذی شریف میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جد ہٖ مروی کہ حضور اقدس ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ مکہ کے کوچوں میں اعلان کر دے کہ صدقۂ فطر واجب ہے۔

حدیث ۴: ابودائود ابن ماجہ و حاکم ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوۃ فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اورمساکین کی خورش ہو جائے۔

حدیث ۵: ویلمی و خطیب و ابن عساکر انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور نے فرمایا بندہ کا روزہ آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتا ہے جب تک صدقۂ فطر ادا نہ کرے۔

مسائل فقہیہ

صدقۂ فطر واجب ہے عمر بھر اس کا وقت ہے یعنی اگر ادا نہ کیا ہو تو اب ادا کرے۔ ادا نہ کرنے سے ساقط نہ ہو گا نہ اب ادا کرنا قضا ہے بلکہ اب بھی ادا ہی ہے اگرچہ مسنون قبل نماز عید ادا کر دینا ہے۔ (درمختارج ۲ص ۹۸،۹۹ وغیرہ)

مسئلہ ۱: صدقۂ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں لہذا مر گیا تو اس کے مال سے ادا نہیں کیا جائے گا۔ ہاں اگر ورثہ بطور احسان اپنی طرف سے ادا کریں تو ہو سکتا ہے کچھ ان پر جبر نہیں اور اگر وصیت کر گیا ہے توتہائی مال سے ضرور ادا کیا جائے گا اگرچہ ورثہ اجازت نہ دیں ۔ (جوہرہ وغیرہ)

مسئلہ ۲: عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے لہذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہو گیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یافقیر تھا غنی ہو گیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہو گیا تو فواجب ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۲)

مسئلہ ۳: صدقۂ فطر ہر مسلمان آزاد مالک نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو واجب ہے۔ اس میں عاقل بالغ اور مال نامی ہونے کی شرط نہیں ۔ (درمختارج ۲ ص ۹۹) مال نامی اور حاجت اصلیہ کے متعلق مسائل گزر چکا اس کی صورتیں وہیں سے معلوم کریں ۔

مسئلہ ۴: نابالغ یا مجنوں اگر مالک نصاب ہیں تو ان پر صدقۂ فطر واجب ہے ان کا ولی ان کے مال سے ادا کرے اگر ولی نے ادا نہ کیا اور نابالغ بالغ ہو گیا یا مجنوں کاجنوں جاتا رہا تو اب یہ خود ادا کرے اور اگر خود مالک نصاب نہ تھے اور ولی نے ادا نہ کیا تو بالغ ہونے یا ہوش میں آنے پر ان کے ذمہ ادا کرنا نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۹۹)

مسئلہ ۵: صدقۂ فطر ادا کرنے کے لئے مال کا باقی رہنا بھی شرط نہیں مال ہلاک ہونے کے بعد بھی صدقہ واجب رہے گا ساقط نہ ہو گا بخلاف زکوۃ و عشر کہ یہ دونوں مال ہلاک ہو جانے سے ساقط ہو جاتے ہیں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۰۰)

مسئلہ ۶: مردمالک نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچہ کی طرف سے واجب ہے جبکہ بچہ خود مالک نصاب نہ ہو ورنہ اس کا صدقہ اسی کے مال سے ادا کیا جائے اور مجنوں اولاد اگرچہ بالغ ہو جبکہ غنی نہ ہو تو اس کا صدقہ اس کے باپ پر واجب ہے اور غنی ہو تو خود اس کے مال سے ادا کیا جائے جنون خواہ اصلی ہو یعنی اسی حالت میں بالغ ہوا یا بعد کو عارض ہوا دونوں کاایک حکم ہے۔ (درمختار،ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۱)

مسئلہ ۷: صدقۂ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں اگر کسی عذر، سفر، مرض، بڑھاپے کی وجہ سے یا معاذ اللہ بلاعذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۱)

مسئلہ ۸: نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کر دیا اور شوہر کے یہاں اسے بھیج بھی دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقۂ فطر واجب نہیں نہ شوہر پر نہ باپ پر اور اگر قابل خدمت نہیں یا شوہر کے یہاں اسے بھیجا نہیں تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالک نصاب نہ ہو ورنہ بہرحال اس کا صدقۂ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۱)

مسئلہ ۹: باپ نہ ہو تو دادا باپ کی جگہ ہے یعنی اپنے فقیر و یتیم پوتے پوتی کی طرف سے اس پر صدقہ دینا واجب ہے ۔(درمختار ج ۲ ص ۱۰۱)

مسئلہ ۱۰: ماں پراپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ دینا واجب نہیں ۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۱)

مسئلہ ۱۱: خدمت کے غلام اور مدبروام ولد کی طرف سے ان کے مالک پر صدقۂ فطر واجب ہے اگرچہ غلام مدیون ہو اگرچہ دین میں مستغرق ہو اور اگر غلام گروی ہو اور مالک کے پاس حاجت اصلیہ کے سوا اتنا ہوکہ دین ادا کر دے اور پھر نصاب کا مالک رہے تو مالک پر اس کی طرف سے بھی صدقہ واجب ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۰۲، عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۲ وغیرہما)

مسئلہ ۱۲: تجارت کے غلام کا فطرہ مالک پرواجب نہیں اگرچہ اس کی قیمت بقدر نصاب نہ ہو۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۲)

مسئلہ ۱۳: غلام عاریۃً دے یا کسی کے پاس امانۃً رکھا تو مالک پر فطرہ واجب ہے اور اگر یہ منت کر گیا کہ یہ غلام فلاں کا کام کرے اور میرے بعد اس کا مالک فلاں ہے تو فطرہ مالک پر ہے اس پر نہیں جس کے قبضہ میں ہے ۔(درمختار ج ۲ ص ۱۰۲)

مسئلہ ۱۴: بھاگا ہوا غلام اور وہ جسے حربیوں نے قید کر لیا ان کی طرف سے صدقہ مالک پر نہیں ۔ یونہی اگر کسی نے غصب کر لیا اور غاصب انکار کرتا ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں تو اس کا فطرہ بھی واجب نہیں مگر جب کہ واپس مل جائیں تو اب ان کی طرف سے سالہائے گذشتہ کا فطرہ دے مگر حربی اگر غلام کے مالک ہو گئے تو واپسی کے بعد بھی اس کا فطرہ نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳،درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۳)

مسئلہ ۱۵: مکاتب کا فطرہ نہ مکاتب پر ہے نہ اس کے مالک پر یونہی مکاتب اور ماذون کے غلام کا اور مکاتب اگر بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز آیا تو مالک پر سالہائے گذشتہ کا فطرہ نہیں ۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳)

مسئلہ ۱۶: دو یا چند شخصوں میں غلام مشترک ہے تو اس کا فطرہ کسی پر نہیں ۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳)

مسئلہ ۱۷: غلام بیچ ڈالا اور بائع یا مشتری دونوں نے واپسی کا اختیار رکھا عیدالفطر آگئی اورمیعاد ختم نہ ہوئی تو اس کا فطرہ موقوف ہے اگر بیع قائم رہی تومشتری دے ورنہ بائع۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳)

مسئلہ ۱۸: اگر مشتری نے خیار عیب یا خیار رویت کے سبب واپس کیا تو اگر قبضہ کر لیا تھا تو مشتری پر ورنہ بائع پر۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳)

مسئلہ ۱۹: غلام کو بیچا مگر وہ بیع فاسد ہوئی اور مشتری نے قبضہ کر کے واپس کر دیا یا عید کے بعد قبضہ کر کے آزاد کر دیا تو بائع پر ہے اور اگر عید سے پہلے قبضہ کیا اور بعد عید آزاد کیا تو مشتری پر۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳)

مسئلہ ۲۰: مالک نے غلام سے کہا جب عید کا دن آئے تو آزاد ہے۔ عید کے دن غلام آزاد ہو جائے گا اور مالک پر اس کا فطرہ واجب۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳)

مسئلہ ۲۱: اپنی عورت اور اولاد عاقل بالغ کا فطرہ اس کے ذمہ نہیں اگرچہ اپاہج ہو اگرچہ اس کے نفقات اس کے ذمہ ہوں ۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۰۲ وغیرہ)

مسئلہ ۲۲: عورت یا بالغ اولاد کا فطرہ ان کے بغیر اذن ادا کر دیا تو ادا ہو گیا بشرطیکہ اولاد اس کے عیال میں ہو یعنی اولاد کا نفقہ وغیرہ اس کے ذمہ ہو ورنہ اولاد کی طرف سے بلااذن ادا نہ ہو گا اور عورت نے اگر شوہر کا فطرہ بغیر حکم ادا کر دیا ادا نہ ہوا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۲،۱۰۳ وغیرہما)

مسئلہ ۲۳: ماں باپ دادا دادی نابالغ بھائی اور دیگر رشتہ داروں کافطرہ اس کے ذمہ نہیں اور بغیر حکم ادا بھی نہیں کر سکتا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۳ جوہرہ)

مسئلہ ۲۴: صدقۂ فطر کا مقدار یہ ہے گیہوں یا اس کا آٹا یا ستو نصف صاع، کھجور یا منقے یا جو یا اس کا آٹایا ستو ایک صاع۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۰۳، عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۱)

مسئلہ ۲۵: گیہوں ، جو، کھجوریں ، منقے دیئے جائیں تو ان کی قیمت کا اعتبار نہیں مثلاً نصف صاع عمدہ جو جن کی قیمت ایک صاع جو کے برابر ہے یا چہارم صاع کھرے گیہوں جو قیمت میں آدھے صاع گیہوں کے برابر ہیں یا نصف صاع کھجوریں دیں جو ایک صاع جو یا نصف صاع گیہوں کی قیمت کی ہوں یہ سب ناجائز ہے جتنا دیا اتنا ہی ادا ہوا باقی اس کے ذمہ باقی ہے ادا کرے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۲)

مسئلہ ۲۶: نصف صاع جو اور چہارم صاع گیہوں دیئے یا نصف صاع کھجور تو بھی جائز ہے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۲، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۴)

مسئلہ ۲۷: گیہوں اور جو ملے ہوئے ہوں اور گیہوں زیادہ ہے تو نصف صاع دے ورنہ ایک صاع۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۴)

مسئلہ ۲۸: گیہوں اور جو کے دینے سے ان کا آٹا دینا افضل ہے اور اس سے افضل یہ کہ قیمت دے خواہ گیہوں کی قیمت دے یا جو کی یا کھجور کی مگر گرانی میں خود ان کا دینا قیمت دینے سے افضل ہے اور اگر خراب گیہوں یا جو کی قیمت دی تو اچھے کی قیمت سے جو کمی کرے پوری کرے۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۶)

مسئلہ ۲۹: ان چار چیزوں کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہے مثلاً چاول، جوار، باجرہ یا اور کوئی غلہ یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہو گا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جو کی قیمت کی ہو یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے گا اگرچہ گیہوں یا جو کی ہو۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۰۴، عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۲، ۱۹۱)

مسئلہ ۳۰: اعلی درجہ کی تحقیق اور احتیاط یہ ہے کہ صاع کا وزن تین سو اکاون (۳۵۱) روپے بھر ہے اور نصف صاع ایک سو پچھتر روپے (۱۷۵) اٹھنی بھر اوپر۔ (فتاوی رضویہ)

مسئلہ ۳۱: فطرہ کا مقدم کرنا مطلقاً جائز ہے جب کہ وہ شخص موجود ہو جس کی طرف سے ادا کرتا ہو اگرچہ رمضان سے پیشتر ادا کرے اور اگر فطرہ ادا کرتے وقت مالک نصاب نہ تھا پھر ہو گیا تو فطرہ صحیح ہے اور بہتر یہ ہے کہ عید کی صبح صادق ہونے کے بعد اور عید گاہ جانے سے پہلے ادا کر دے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۰۶، عالمگیری ج ۱ ص ۱۹۲)

مسئلہ ۳۲: ایک شخص کا فطرہ ایک مسکین کو دینا بہتر ہے اور چند مساکین کو دے دیا جب بھی جائز ہے یونہی ایک مسکین کو چند شخصوں کا فطرہ دینا بھی بلاخلاف جائز ہے اگرچہ سب فطرے ملے ہوئے ہوں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۷)

مسئلہ ۳۳: شوہر نے عورت کو اپنا فطرہ ادا کرنے کا حکم دیا اس نے شوہر کے فطرہ کے گیہوں اپنے فطرہ کے گیہوں میں ملا کر فقیر کو دے دئیے اور شوہر نے ملانے کا حکم نہ دیا تھا توعورت کا فطرہ ادا ہو گیا شوہر کا نہیں مگر جب کہ ملا دینے پر عرف جاری ہو تو شوہر کا بھی ادا ہو جائے گا۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۰۷)

مسئلہ ۳۴: صدقۂ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوۃ کے ہیں یعنی جن کو زکوۃ دے سکتے ہیں انہیں فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنہیں زکوۃ نہیں دے سکتے انہیں فطرہ بھی نہیں سوا عامل کے کہ اس کے لئے زکوۃ ہے فطرہ نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ص ۱۰۸)

مسئلہ ۳۵: اپنے غلام کی عورت کو فطرہ دے سکتے ہیں اگرچہ اس کا نفقہ اسی پر ہو۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۰۸)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button